یَعقُوب کا عام خَط ۶

۶- زُبان ـــــــ اِس کا درُست اور غَلط اِستعمال

باب ۳ کی پہلی بارہ آیات کا تعلق زُبان سے ہے (اس کا ذِکر ۱۹:۱، ۲۶؛۱۲:۲؛۱۱:۴؛۱۲:۵میں بھی مِلتا ہے)۔ جِس طرح پُرانے زمانہ کے ڈاکٹر بیمار کی زُبان دیکھ کر تشخیص کیا کرتے تھے، اِسی طرح یعقؔوب ایک شخص کی رُوحانی صِحّت کا اَندازہ اُس کی گفتگو سے لگاتا ہے۔ اپنی تشخیص کی اِبتدا بات چیت کے گُناہوں سے ہوتی ہے۔ یعقؔوب ایک جدید دانِشور سے اتفاق کرے گا جِس نے کہا کہ ’’اپنی زُبان کی خبر گیری کریں۔ وُہ گِیلی جگہ میں ہے جہاں سے آسانی سے پھِسل سکتی ہے‘‘۔

۱:۳- وُہ موضُوع کا تعارُف جلد بازی سے خُدا کے کلام کا اُستاد بننے کے بارے میں تنبیہ سے کرتا ہے۔ اگرچہ یہاں پر خاص طور پر زُبان کا ذِکر تو نہیں ہؤا ہے تاہم بین اُلسُّطُور خیال یہ ہے کہ جو اپنی زُبان کو خُدا کا کلام سِکھانے کے لئے اِستعمال کرتا ہے وُہ خُدا اور اِنسان کے سامنے زیادہ ذِمّہ دار بن جاتا ہے۔ اِن الفاظ کو کہ ’’تُم میں سے بُہت سے اُستاد نہ بنیں‘‘۔ اپنے اَلفاظ میں یُوں بیان کر سکتے ہیں: ’’خواہ مخواہ اُستاد بننے کے خواہش مند نہ ہو‘‘۔ اگر کِسی کو خُدا نے اُستاد بننے کے لئے بُلایا ہے تو اُسے اپنی نِعمت کو اِستعمال کرنے کے خِلاف اِسے ممانِعت نہیں سمجھنا چاہئے۔ یہ ایک سادہ سی تنبیہ ہے کہ ہمیں اِس خِدمت کو ہلکا نہیں سمجھنا چاہئے۔ وُہ لوگ جو کلامِ حق کو سِکھاتے ہیں اگر خُود اُس پر عمل نہیں کرتے تو وُہ زیادہ ’’سزا‘‘ پائیں گے۔

بائبل کی تعلیم دینا ایک بُہت بڑی ذمّہ داری ہے۔ اُستاد کو جو کُچھ وُہ کلام میں دیکھتا ہے اُس پر عمل کرنے کے لئے تیار رہنا چاہئے۔ جہاں تک اُس نے عمل کِیا ہے اُس سے آگے وُہ دُوسروں کو سِکھانے کی اُمیّد نہیں کر سکتا۔ دُوسروں پر اُس کے اثر کا اندازہ اِس سے لگایا جائے گا کہ اُس نے خُود کہاں تک ترقی کی ہے۔ اُستاد دُوسروں کو اپنی صُورت پر پیدا کرتا ہے۔ وُہ اُنہیں اپنی شبیہ کی مانند بناتا ہے۔ اگر وُہ کلام کے کِسی حِصّے کو ہلکا کر کے پیش کرتا ہے یا درُست تشریح نہیں کرتا تو وُہ اپنے طُلباء کی ترقی میں رُکاوٹ بن جاتا ہے۔ اگر وُہ کِسی قِسم کے گُناہ کی چشم پوشی کرتا ہے تو ناپاک زِندگیوں کی پرورش کرتا ہے۔ جِتنا زیادہ دعویٰ نیا عہد نامہ اپنے قارئین کی زِندگیوں پر کرتا ہے کوئی اَور کتاب نہیں کرتی۔ یہ تقاضا کرتا ہے کہ ہم اپنی زِندگی پُوری طرح مسیح کی تحویل میں دے دیں۔ وُہ اِصرار کرتا ہے کہ مسیح کو ایک ایماندار کی زِندگی کے ہر شُعبہ کا مالِک ہونا چاہئے۔ اِس قِسم کی کتاب سے تعلیم دینا بڑی سنجیدہ بات ہے۔

۲:۳- یعقؔوب اب تعلیم دینے کی خاص خِدمت سے ہَٹ کر عام گُفتگو کی طرف آتا ہے۔ ہم سب ’’اکثر‘‘ شُعبوں میں ’’خَطا کرتے ہیں‘‘۔ لیکن اگر کوئی اپنی زبان پر کنٹرول کرے تاکہ وُہ زبان کے مُختلِف گُناہوں کا مُرتکِب نہ ہو تو ایسا شخص واقعی ایمان میں پُختہ اور منضبط ہے۔ اگر ایک شخص اپنی گفتگو کو کنٹرول کر سکتا ہے تو پھر اُسے اپنی زِندگی کے دیگر شُعبوں میں اپنے آپ کو کنٹرول کرنے میں مُشکل پیش نہیں آنی چاہئے۔ بِلاشُبہ، صِرف خُداوند یسؔوع مسیح ہی ایک ایسی ہستی ہے جِس نے اِس پر مکمّل عمل کیا، لیکن ایک لِحاظ سے ہم بھی ’’کامِل‘‘ یعنی پُختہ، اور خُوب منضبط بن سکتے ہیں۔

۳:۳- یہاں پر زُبان کو پانچ چِیزوں سے تشبیہ دی گئی ہے۔ سب سے پہلے اِس کا لگام سے موازنہ کیا گیا ہے۔ ’’لگام‘‘ گھوڑے کا ایک ساز ہے جو اُس کے سر کے دونوں طرف سے گُزرتا ہے اور جِس کے ساتھ کُچلی یا دھاتی دہانہ جُڑا ہوتا ہے۔ اُسے گھوڑے کے مُنہ میں رکھا ہؤا ہوتا ہے۔ اگرچہ کُچلی لوہے کا چھوٹا سا ٹکڑا ہوتا ہے، تاہم اُس سے گھوڑے کے رویّہ کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ اِسی طرح زبان زِندگی کی راہنمائی کرتی ہے ــــــــــ خواہ نیکی کے لئے، خواہ بدی کے لئے۔

۴:۳- دُوسری تصویر ’’پتوار‘‘ کی ہے۔ ’’پتوار‘‘ جہاز کے مُقابلے میں ’’نہایت چھوٹی‘‘ ہوتی ہے۔ اِس کا وَزن جہاز کے وزن سے سینکڑوں گُنا کم ہوتا ہے۔ مثلاً کوئین الزؔبتھ جہاز کا وزن ۸۳،۶۷۳ ٹن تھا جبکہ پتوار کا وزن صرف ۱۴۰ ٹن تھا۔ یُوں وُہ کُل وزن سے تقریباً چھ سو گُنا کم تھی۔ اِس کے باوجُود بھی جب ’’پتوار‘‘ کو گھُمایا جاتا ہے تو وُہ جہاز کی سَمت کو کنٹرول کرتی ہے۔ یہ بات ناقابلِ یقین ہے کہ ایک آدمی اِتنے عظیم اُلجُثّہ جہاز کو اِتنے چھوٹے پُرزے سے کنٹرول کرے۔
لیکن حقیقت یہی ہے۔ پَس ہمیں بھی زبان کے حجم سے اِس کا غلط اندازہ نہیں لگانا چاہئے۔ اگرچہ زبان بَدن کا بُہت ہی چھوٹا حِصّہ ہے اور مُقابلتاً پوشیدہ بھی ہے تاہم وُہ بڑے اچھّے اور نہایت بُرے کام کر سکتی ہے۔

۶،۵:۳- زُبان کو تِیسری تشبیہ آگ سے دی گئی ہے۔ بے پروائی سے پھینکی گئی ایک جَلتی ہُوئی ماچس کی تیلی جھاڑی کو آگ لگا سکتی ہے۔ پھِر اُس سے ’’جنگل‘‘ میں آگ لگ جاتی ہے اور اپنے پِیچھے عظیم تباہی و بربادی چھوڑ جاتی ہے۔ ایک چھوٹی سی تیلی سے تباہی و بربادی کے کِتنے اِمکانات ہوتے ہیں! تارِیخ کا ایک عظیم المیّہ سن۱۸۷۱ء کی شِؔکاگو کی آگ تھا۔ روایت کے مُطابق آگ اُس وقت لگی جبکہ مِسز اوؔلیری کی گائے نے اُس کی لالٹین کو لات ماری۔ خواہ یہ روایت درُست ہے یا نہیں، آگ تِین دِن تک بھڑکتی رہی یہاں تک کہ اُس نے شہر کا آدھا مُربع میل عِلاقہ جَلا کر خاکستر کر دیا۔ ۲۵۰ آدمی ہلاک اور دس ہزار بے گھر ہُوئے اور سترہ کروڑ پچاس لاکھ ڈالر کی جائیداد تباہ ہوگئی۔ زُبان بھی ماچِس کی ایک جلتی ہوئی چھوٹی تیلی یا ایک روشن لالٹین کی مانند ہے جو گِر کر اُلٹ گئی ہو۔ اِس کی بدی کی اہلیت بے حَد ہے۔ یعقؔوب اُسے ’’ہمارے اَعضا میں شرارت کا ایک عالَم‘‘ کہتا ہے۔ یہاں پر لَفظ ’’عالَم‘‘ وُسعت کو بیان کرنے کے لئے اِستعمال ہؤا ہے۔ ہم بھی بعض اَوقات اِسے اِنہی معنوں میں اِستعمال کرتے ہیں مثلاً وہاں پر تماشا دیکھنے کے لئے ایک عالَم جمع تھا۔ اِس کا مطلب بے اِنتہا لوگ ہے۔ اگرچہ زُبان ایک چھوٹا سا عضُو ہے تاہم یہ بے انداز شرارت پَیدا کر سکتی ہے۔

’’زُبان … سارے جِسم کو‘‘ نا پاک کرتی ہے۔ آدمی، اپنی تمام شخصیّت کو چُغلی،گالی، جھُوٹ، کُفرگوئی اور قَسمیں کھانے سے بگاڑ سکتا ہے۔ چیؔپل لِکھتا ہے :

نُکتہ چین اپنے آپ کو زخمی کرتا ہے ۔۔۔ کِیچڑ اُچھالنے والا اپنے دِلپسند شُغل میں اپنے پر بھی کیچڑ اُچھالے بغیر مصرُوف نہیں رہ سکتا۔ وُہ کیچڑ جو وُہ دُوسروں پر اُچھالتا ہے اُس سے اُس کے اپنے ہاتھے اور دِل بھی آلُودہ ہو جاتے ہیں۔ ہمیں اکثر مرتبہ آلُودگی کے اِحساس کا تجربہ ہوتا ہے، تاہم ہمارا اِرادہ ہرگز یہ نہیں ہوتا۔ ہم دُوسروں پر کیچڑ اُچھالنے سے یہ بے فائِدہ اُمیّد رکھتے ہیں کہ اِس طرح ہم لوگوں کو زیادہ صاف سُتھرے نظر آئیں گے۔ اَیسا اِعتقاد رکھنا کہ دُوسروں کو گرا کر ہم خُود کو تعمیر کریں گے بیوقوفی ہَے۔ اگر ہم یہ خیال کرتے ہیں کہ اپنے پڑوسی کے گھر کی بنیادوں میں ڈائِنا مائٹ رَکھنے سے ہم اپنی بنیادوں کو مضبُوط کریں گے تو یہ صرِیحاً اندھا پن ہے۔ اَیسا کبھی نہیں ہوتا۔ ممکن ہے کہ ہم دُوسروں کو زخمی کرنے میں کامیاب ہو جائیں لیکن ہم اِس سے کہیں زیادہ گہرے زخم خُود اپنے آپ کو لگاتے ہیں۔ زُبان، ’’دائرہ دُنیا کو آگ لگا دیتی ہے‘‘۔ یہ پہیہ پَیدائش سے گردش کرنے لگتا ہے۔ گندی زبان آدمی کی نہ صِرف شخصی زِندگی کو آلوُدہ کرتی ہے بلکہ اُس کی تمام سرگرمیوں کو بھی۔ ایک شرارتی زبان ’’جہنم کی آگ سے جلتی رہتی ہے‘‘۔ تمام بُری باتوں کا منبع وہاں ہی ہے۔ یہ اَپنے کردار میں جہنمی ہَے۔

۷:۳- چوتھی تصوِیر میں زُبان کو جنگلی اور ناقابلِ تربیّت جانوروں سے تشبیہ دی گئی ہے۔ تمام قِسم کے حیوانوں، پرنِدوں، سانپوں اور آبی جانوروں کو تربیّت دی جاسکتی ہے۔ ہم عام طور پر پالتُو ہاتھی، شیر، شِکاری پرِندے، سانپ اور یہاں تک کہ مچھلیاں دیکھتے ہیں۔ پلیؔنی ایسے جانوروں کی فہرست پیش کرتا ہے جنہیں اُس کے زمانہ میں آدمیوں نے تربیّت دی۔ مثلاً ہاتھی، شیر، شیرِ بَبر، عُقاب، افعی اور دِیگر سانپ، مگرمچھ اور مُختلِف مچھلیاں۔ اَب یہ کہنا کہ ہر قِسم کے جانور کو حقیقتاً تربیّت نہیں دی گئی، یعقوؔب کی بحث کے نُکتے سے صرفِ نظر کرنا ہے۔ ہمیں اس بات کا یقین نہ کرنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ اگر آدمی کو وقت اور اِستقلال مُیّسر ہو تو وُہ ہر ایک جانور کو تربیّت دے سکتا ہے۔

رابؔرٹ لی نے اِسے بڑے شاندار طریقے سے بیان کیا ہے :

اِنسان نے بھاری بھر کم ہاتھیوں کے ساتھ کیا کِیا؟ اُس نے اُن کے جنگلوں پر حملہ کیا، سَینکڑوں کو پکڑا اور اُنہیں شہتیروں کو اُٹھا کر لے جانے، بھَری ہُوئی وَزنی ویگنوں کو دھکیلنے اور ہر قِسم کی محنت مُشقّت کرنے کی تربیّت دی۔ اِنسان نے سبز آنکھوں والے بنگال کے شیر کے ساتھ کیا کِیا؟ اُس نے اُنہیں پکڑا، تربیّت دی اور اپنے ساتھ کھیلنے والا بنالِیا۔ اِنسان نے تُندخُو اور طاقتور افریقی شیر ببروں کے ساتھ کیا کِیا؟ اُس نے لا تعداد کو پکڑا اور اُنہیں جب آدمی چابک مارتے ہُوئے اُنہیں حُکم دے تو اُس کا حُکم مانتے ہُوئے آگ کے دائِرہ میں سے کُودنے، گھوڑے کی پُشت پر سوار ہونے، اُونچے اسٹولوں پر بیٹھنے، جب بھُوکے ہوں تو اُس گوشت کو جو اُن کے سامنے رکھا گیا مُنہ نہ لگانے، لیٹنے، کھڑے ہونے، دَوڑنے اور گرجنے کی تربیّت دی۔ ایک مرتبہ مَیں نے سرکس میں ایک شیر کو بھُوکوں کی طرح اپنا غار نما مُنہ کھولتے اور اُس میں اُس کے تربیّت دینے والے کو اپنا سَر ڈالتے ہُوئے دیکھا۔ اُس نے اپنا سَر اُس کے مُنہ کے اندر پُورے ایک مِنٹ رکھا۔ اِنسان نے اژدہا کے ساتھ جو اپنے شِکار کو جکڑ کر مار دیتا ہے کیا کِیا؟ کِسی سرکس میں جاکر دیکھیں کہ ایک نرم و نازک چھوٹی لڑکی بِلا خَوف ایک خوفناک اژدہا کو اپنے جِسم کے اِرد گِرد لپیٹے کھڑی ہے۔ کِسی جانوروں کے شومیں جا کر دیکھیں کہ اِنسان نے کِس طرح داغدار چِیتے اور خُونخوار جیگوار کو بے ضرر اور گونگا بنا دیا ہے۔ کِسی شو میں جاکر تربیّت یافتہ بھُوکے گیدڑ کو برّے کے ساتھ لیٹے ہُوئے، فاختہ اور عُقاب کو ایک ہی گھونسلے میں بیٹھے ہُوئے اور خرگوش اور بھیڑئے کو ایک ساتھ کھیلتے ہُوئے دیکھیں۔

۸:۳- لیکن جنگلی جانوروں کے سِلسلے میں اِنسان کی کامیابی اُس کی اپنی ’’زُبان‘‘ کا اِحاطہ نہ کر سکی۔ اگر ہم دیانت دار ہیں تو ہمیں ماننا پڑے گا کہ ہماری زِندگی کا بھی یہی حال ہے۔ گُناہ میں گرنے کے باعث ہم گوشت کے اِس چھوٹے سے ٹکڑے پر اِختیار کھو بیٹھے ہیں۔ اِنسانی فِطرت میں اِتنی قوت یا قابلیّت نہیں کہ بدن کے اِس چھوٹے سے عُضو پر قابُو پاسکے۔ صِرف خُدا ہی اِسے کنٹرول کر سکتا ہے۔

پھر یعقؔوب زُبان کو ’’ایک بَلا‘‘ کہتا ہے جو کبھی رُکتی ہی نہیں۔ پھر وُہ اِسے ’’زہرِ قاتِل‘‘ کے نام سے یاد کرتا ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ اِس وقت یعقؔوب کے ذہن میں نہایت زہریلا سانپ ہے جس کے زہر کی ایک یا دو بُوندیں مَوت کا سبب بن سکتی ہیں۔ بعینہ زبان، اذہان کو زہرِیلا اور کردار کو قتل کر سکتی ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ دُوسروں کے بارے میں گپ بازی کِتنی آسان ہے۔ کِتنی ہی مرتبہ ہم دُوسروں پر کیچڑ اُچھالنے لگتے ہیں تاکہ اُن کی کِسی فرضی زیادتی کا حِساب چُکا دیا جائے۔ اور اکثر اوقات ہم بِلا وجہ دُوسروں کو بُرے اَلفاظ سے یاد کرتے، اُن پر نُکتہ چینی کرتے اور اُن کا مرتبہ گھٹانے لگتے ہیں۔ کون اُس نقصان کا، بہائے گئے آنسوؤں کا اور شکستہ دِلی اور بے عِزّتی کا اندازہ لگا سکتا ہے؟ اور کون اُس پریشانی کو ناپ سکتا ہے جو اِس سے ہمیں اور ہمارے خاندانوں کو ہُوئی؟ ہمارے دِلوں میں کڑواہٹ پَیدا ہُوئی، ہمیں مُعافی مانگنے کی شرمندگی اُٹھانا پڑی اور ہماری صِحّت پر بُرا اثر پڑا۔ وُہ والدین جو اپنے ساتھی ایمان داروں پر نُکتہ چینی کرتے رہے اُنہوں نے بعد میں دیکھا کہ اُن کے بچّوں میں بھی وُہی نکتہ چِینی کی رُوح پَیدا ہو گئی جِس کے باعث وُہ کلیسیائی رفاقت سے دُور ہوتے گئے۔ ہمیں اپنی بے قابُو زبان کی جو قیمت ادا کرنی پڑتی ہے وُہ بے حد ہے۔

اِس کا عِلاج کیا ہے؟ ہر روز دُعا کریں کہ خُداوند ہمیں گپ بازی، عیب جوئی اور سخت گفتگو سے بچائے۔ کِسی کے خِلاف باتیں نہ کریں۔ محبّت، بُہت سے گُناہوں پر پَردہ ڈال دیتی ہے (۱۔ پَطرس۸:۴)۔ اگر ہمیں کِسی سے شکایت ہے تو ہم براہِ راست اُس کے پاس جائیں، اُس سے محبّت میں اِس کے بارے میں گفتگو کریں اور مِل کر دُعا کریں (متّی۱۵:۱۸؛ لُوقا ۳:۱۷)۔ آئیے ہم اپنے بھائی میں کمزوریاں تلاش کرنے کی بجائے اُس میں مسیح کو دیکھنے کی کوشِش کریں۔ اگر ہم کوئی سخت یا بے فائِدہ بات کہنے لگے ہیں تو بِیچ میں ہی رُک جائیں کیونکہ یہ ترقّی کا باعث نہیں ہوگی۔ بعض باتوں کو مکمّل کئے بغیر ہی چھوڑ دینا بہتر ہوتا ہے۔

۱۰-۹:۳- زبان کو نیک اور بَد دونوں مقاصد کے لئے اِستعمال کرنا بے میل اور بے جوڑ بات ہے۔ یہ قطعاً غیر فطری ہے۔ فطؔرت میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی۔ ایک لمحہ تو وُہ اپنی زبان سے خُدا کو مُبارک کہتا ہے لیکن اگلے ہی لمحہ وُہ اُن کو جو ’’خُدا‘‘ کی صُورت پر ’’پَیدا ہُوئے‘‘ بَد دُعا دیتا ہے۔ یہ کتنی بے محل اور بے جوڑ بات ہے کہ ایک ہی منبع سے دو مُتضاد نتائج نکلیں! ایسی حالت کو قائم نہیں رہنا چاہئے۔ وُہ زُبان جو خُدا کو مُبارک کہتی ہَے اُسے دُوسروں کو نُقصان پُہنچانے کی بجائے مدد کا باعث بننا چاہئے۔ جو کُچھ ہم کہتے ہیں اُسے تہری کسوٹی پر پُورا اُترنا چاہئے : کیا یہ سچ ہے؟ کیا یہ پُر محبّت ہے؟ کیا یہ ضرُوری ہے؟ ہمیں خُداوند سے متواتر درخواست کرتے رہنا چاہئے کہ وُہ ہمارے ہونٹوں پر پہرہ بٹھائے ( زبُور۳:۱۴۱)۔ ہم دُعا کریں کہ ہمارے مُنہ کا کلام اور دِل کے خیال اُس کی نظر میں جو ہماری قُوت اور نجات دہندہ ہے مقبول ٹھہریں (زبُور ۱۴:۱۹)۔ ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ رومیوں ۱:۱۲ میں ہمارے جِس بَدن کا ذکر ہے اُس میں ہماری زُبان بھی شامِل ہے۔

۱۱:۳- کِسی بھی ’’چشمہ‘‘ میں بیک وقت ’’مِیٹھا اور کھاری پانی‘‘ نہیں نِکلتا۔ پَس زُبان کو بھی اَیسا نہیں ہونا چاہئے۔ مُنہ سے جو بات بھی نِکلے اُسے یکساں طور پر اچھّا ہونا چاہئے۔

۱۲:۳- چَشمے کا پانی تاندگی کا باعث ہوتا ہے اور ’’انجیر کے درخت‘‘ کا پھَل تقویت بخش ہے۔ ’’انجیر کے درخت میں‘‘ ’’زیتُون‘‘ نہیں لگتے اور نہ ’’انگُور‘‘ میں ’’انجیر‘‘ پَیدا ہوتے ہیں۔ فِطرت میں ایک درخت صِرف ایک ہی قِسم کا پھَل پَیدا کرتا ہے۔ پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ زُبان دو قِسم کے یعنی اچھّے اور بُرے پھَل پیدا کرے؟

کِسی بھی ’’چشمے‘‘ سے بیک وقت ’’کھاری‘‘ اور’’میٹھا‘‘ پانی نہیں نِکل سکتا۔ وُہ یا تو میٹھا ہوگا یا کھاری۔ فِطرت کی مثال ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہماری گفتگو متواتر اچھّی ہونی چاہئے۔

یُوں یعقؔوب ہمیں جہاں تک ہماری گفتگو کا تعلق ہے کسَوٹی پر رکھ دیتا ہے۔ اِس حِصّہ کو ختم کرنے سے پیشتر آئیے ہم خُود سے درجِ ذیل سُوال پُوچھیں۔ کیا مَیں دُوسروں کو ایسی باتیں سِکھاتا ہُوں جِن پر خُود عمل نہیں کرتا؟ کیا میں دُوسروں کی پِیٹھ پیچھے اُن پر نکتہ چِینی کرتا ہُوں؟ کیا میری گفتگو ہمیشہ ہی صاف سُتھری اور مہربان ہوتی اور ترقی کا باعث بنتی ہے؟ کیا مَیں خُدا کا نام بے فائِدہ لیتا ہُوں؟ سنجیدہ میٹِنگ کے بعد کیا مَیں غیر سنجیدہ گفتگو یا سپورٹس مثلاً کِرکٹ میچ کے بارے میں باتیں کرنے لگتا ہُوں؟ کیا مَیں کلام کا مزاحیہ اِستعمال کرتا ہُوں؟ کہانی بیان کرتے وقت کیا مَیں لوگوں کو متاثر کرنے کے لئے اُسے بڑھا چڑھا کر بیان کرتا ہُوں؟ کیا مَیں عادتاً سچ بولتا ہُوں، خواہ اِس کی وجہ سے مُجھے شرمندگی کیوں نہ اُٹھانی پڑے یا دوستوں کو چھوڑنا پڑے یا مالی نُقصان اٹھانا پڑے؟