۵۔ ایمان اورعمل (۱۴:۲۔۲۶)
غالباً یہ آیات یعقوؔب کے خطہ میں سب سے زیادہ مُتنازع ہیں۔ یہاں تک کہ کلیسیا کے عظیم سپُوت لُوتؔھر کا خیال تھا کہ یعقؔوب کے خط میں اَعمال کے ذریعہ راستباز ٹھہرائے جانے کی تعلیم اور پَولُسؔ کے ایمان کے وسیلے سے راستباز ٹھہرائے جانے پر زور دینے میں مَصالِحت نہیں ہو سکتی۔ اِن آیات کو عام طور پر غَلط طریقے سے اِستعمال کرتے ہُوئے اِس بِدعت کی تائید میں پیش کیا جاتا ہے کہ نجات ایمان + اَعمال سے ہے۔ اسے تعاوُنِ باہمی کا عقیدہ کہا جاتا ہے۔ بالفاظِ دیگر ہمیں مسیح پر بطور نجات دِہندہ کے ضرُور ہی ایمان رکھنا ہے لیکن یہ کافی نہیں ہے۔ ہمیں اُس کے مخلصی کے کام کے ساتھ اپنے نیک کاموں کا بھی ضرُور ہی اِضافہ کرنا ہوگا۔
ہم اِس حِصّے کا عُنوان ’’اَعمال سے راستباز ٹھہرایا جانا‘‘ رکھ سکتے ہیں، کیونکہ ایک لحاظ سے ہم اپنے کاموں سے راست باز ٹھہرائے جاتے ہیں۔ راست باز ٹھہرائے جانے کے بارے میں پُوری سچّائی کو معلُوم کرنے کے لئے ضرُوری ہے کہ ہم اِس کے چھ پہلُوؤں کو صفائی سے سمجھ لیں۔ ۱۔ ہم فضل سے راست باز ٹھہرائے جاتے ہیں (رومیوں ۲۴:۳)۔ اِس کا مطلب صِرف یہ ہے کہ ہم راست باز ٹھہرائے جانے کے حَق دار نہیں تھے۔ درحقیقت ہم اِس کے اُلٹ کے حقدار تھے۔ ۲۔ ہم ایمان سے راستباز ٹھہرائے جاتے ہیں (رومیوں۱:۵)- اِیمان، خُدا کے فضل کا اِنسانی جواب ہے۔ اِیمان سے ہم مُفت بخشِش کو قبول کرتے ہیں۔ خُدا نے جو کُچھ ہمارے لئے کِیا اُسے قبول کرنا ایمان ہے۔ ۳۔ ہم خُون سے راست باز ٹھہرائے جاتے ہیں (رومیوں۹:۵)۔ یہاں خُون وُہ قیمت ہے جو ادا کی گئی تاکہ ہمیں راست باز ٹھہرایا جا سکے۔ گُناہ کا قرض مسیح کے قیمتی خُون سے ادا کیا گیا۔ اب خُدا گنہگاروں کو راستباز ٹھہرا سکتا ہے کیونکہ ایک راست ادائیگی کی جاچُکی ہے۔ ۴۔ خُدا ہمیں راست باز ٹھہراتا ہے (رومیوں ۳۳:۸)۔ جو سچّائی یہاں ہے وُہ یہ ہے کہ خُدا ہی وُہ ہَے جو ہمیں راست باز ٹھراتا ہے (رومیوں ۳۳:۸)۔ ۵- ہم قُدرت سے راست باز ٹھہرائے گئے (رومیوں۲۵:۴)۔ ہمارے راست باز ٹھہرائے جانے کا تعلق اُس قُدرت سے ہے جِس نے مسیح کو مُردوں میں سے جِلایا۔ اُس کا جی اُٹھنا اِس بات کا ثبُوت ہے کہ خُدا مُطمئِن ہے۔ ۶۔ ہم اعمال سے راست باز ٹھہرائے جاتے ہیں (یعقوب ۲۴:۲)- اعمال ایمان کی حقیقت کو ظاہر کرتے ہیں۔ وُہ اُس بات کو جو بصُورتِ دِیگر نادِیدنی رہتی ظاہر کرتے ہیں۔ اِس سے ہم دیکھتے ہیں کہ ایک شخص فضل سے، ایمان سے، خُون سے، خُدا سے، قُدرت سے اور اَعمال سے راست باز ٹھہرایا جاتا ہے۔ اِن چھ باتوں میں قطعی کوئی تضاد نہیں ہے۔ یہ بیانات ایک ہی سچائی کے مُختلف پہلُوؤں کو بیان کرتے ہیں۔ فضل وُہ اصُول ہے جِس پر خدا راست باز ٹھہراتا ہے۔ اِیمان وُہ ذریعہ ہے جِس سے آدمی اُسے حاصِل کرتا ہے۔ خُون وُہ قیمت ہے جو نجات دہِندہ کو ادا کرنی پڑی۔ خُدا راست باز ٹھہرانے والی ہستی ہے۔ قُدرت ثبوت ہے اور کام نتیجہ ہیں۔
۱۴:۲- یعقوؔب اِصرار کرتا ہے کہ ایمان جِس کا نتیجہ نیک اعمال کی صُورت میں نہیں نِکلتا بچا نہیں سکتا۔ یہاں دو کلیدیں مِلتی ہیں جو اِس آیت کو سمجھنے میں بڑی مدد دیتی ہیں۔ پہلی یہ کہ یعقوؔب یہاں یہ نہیں کہتا کہ ’’اگر کِسی کے پاس ایمان ہے تو اُس کا کیا فائِدہ؟‘‘ بلکہ وُہ یہ کہتا ہے کہ ’’اگر کوئی کہے کہ مَیں اِیمان دارہُوں ۔۔۔۔ تو کیا فائِدہ؟‘‘ بالفاظِ دِیگر یہاں اُس آدمی کا سُوال نہیں ہے جِس کے پاس سچّا ایمان ہے لیکن اِس کے باوجُود بھی بچا ہؤا نہیں ہے۔ یعؔقوب یہاں ایسے آدمی کا ذِکر کر رہا ہے جو نام کا ایمان رکھتا ہے۔ وُہ کہتا ہے کہ میرے پاس ایمان ہے لیکن اُس کی زِندگی اِس کی تصدیق نہیں کرتی۔ دُوسری مفید کلید یہ ہے کہ ’’کیا اَیسا ایمان اُسے نجات دے سکتا ہے؟‘‘ دُوسرے لَفظوں میں کیا ایسا ’’ایمان‘‘ اُسے بچا سکتا ہے؟ اگر یہ پُوچھا جائے کہ یعقؔوب کِس قِسم کے ایمان کا ذِکر کر رہا ہے تو اِس کا جواب آیت کے پہلے حِصّے میں ملتا ہے۔ یہاں وُہ فرضی یا نام نہاد ایمان کا ذکر کر رہا ہے جِس کی تصدیق نیک اعمال سے نہیں ہوتی۔ ایسا ایمان بے فائِدہ ہے۔ یہ محض لفاظی ہے اَور کُچھ نہیں۔
۱۶-۱۵:۲- اب یہاں اَعمال کے بغیر الفاظ کی بے ثمری کی منظر کشی کی گئی ہے۔ ہم سے دو اشخاص کا تعارُف کرایا جاتا ہے۔ ایک وُہ جِس کے پاس ’’روزانہ روٹی‘‘ اور کپڑوں کی کمی ہے، اور دُوسرا وُہ جِس کے پاس یہ دونوں چِیزیں ہیں لیکن وُہ اُن میں دُوسروں کو شریک کرنے پر تیار نہیں۔ بڑا سخی بنتے ہُوئے وُہ اُس غریب بھائی سے کہتا ہے ’’جاؤ کپڑے پہنو اور خُوب سیر ہو کر کھاؤ‘‘۔ لیکن وُہ اُس کی مَدد کرنے کے لئے کُچھ نہ کرے تو ایسے الفاظ کی کیا حقیقت ہے؟ وُہ بے معنی ہیں۔ وُہ نہ تو بھُوک کو مٹاتے اور نہ ’’تَن‘‘ کو ’’گرم‘‘ کرتے ہیں۔
۱۷:۲- ’’اِسی طرح ایمان بھی اگر اُس کے ساتھ اَعمال نہ ہوں تو اَپنی ذات میں مُردہ ہے‘‘۔ ’’ایمان‘‘ جِس کے ساتھ ’’اَعمال‘‘ نہ ہوں حقیقی ایمان نہیں ہوتا۔ وُہ صِرف اَلفاظ تک محدُود ہے۔ یعقؔوب یہ نہیں کہہ رہا کہ ہم ایمان + اعمال سے بچتے ہیں۔ ایسا ایمان رکھنا خُداوند یسؔوع مسیح کے تکمیل شُده کام کی بے حُرمتی کرنا ہے۔ اگر ہم ایمان + اَعمال سے نجات پائیں تو ہمارے دو نجات دہِندہ ہوں گے، ایک یسؔوع اور دُوسرا ہم خُود ۔ لیکن نیا عہد نامہ بڑی صفائی سے بتاتا ہے کہ صِرف یسؔوع ہی واحِد نجات دہنِدہ ہے۔ یعقوؔب جِس بات پر زور دے رہا ہے وُہ یہ ہے کہ ہم محض اَلفاظ پر مُشتمِل اِیمان سے نہیں بچتے بلکہ اُس ایمان سے جِس کا نتیجہ نیک اَعمال کی صُورت میں نِکلتا ہے۔ دُوسرے لفظوں میں اَعمال نجات کی جڑ نہیں بلکہ پھَل ہیں۔ وُہ عِلّت نہیں معلُول ہیں۔
۱۸:۲- حقیقی ایمان کو نیک اَعمال سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ اِسے یعؔقوب دو آدمیوں کے درمیان گفتگُو سے دِکھاتا ہے۔ پہلا آدمی جو حقیقتاً نجات یافتہ ہے متکلّم ہے۔ دُوسرا آدمی ایمان کا اِقرار تو کرتا ہے لیکن اُس ایمان کو نیک کاموں سے ظاہر نہیں کرتا۔ پہلا آدمی دُوسرے کے سامنے چَیلنج پیش کرتا ہے جِس کا جواب وُہ دے نہیں سکتا۔ ہم اِس گُفتگو کو اپنے لَفظوں میں یُوں بیان کر سکتے ہیں۔ ہاں، تُو کہتا ہے کہ ’’تُو تو ایمان دار ہے‘‘ لیکن اِس کو ظاہر کرنے کے لئے تیرے پاس اعمال نہیں ہیں۔ میرا دعویٰ یہ ہے کہ لازِم ہے کہ ایمان نیک اعمال میں اپنا رنگ دِکھائے۔ تُو اپنے’’اِیمان‘‘ کو نیک ’’اعمال‘‘ کی زِندگی کے بغیر ثابت کر۔ تُو یہ نہیں کرسکتا۔ ایمان نادِیدنی ہے۔ لوگ صِرف اُس وقت ہی تیرے ایمان کو جانیں گے جبکہ تُو اِس کا اِظہار اپنی زِندگی سے کرے۔ ’’میں اپنا ایمان اَعمال سے تُجھے دکھاؤں گا‘‘۔ اِس آیت میں کلیدی لفظ ’’دِکھا‘‘ ہے۔ اَعمال کے بغیر ایمان ’’دِکھانا‘‘ نامُمکِن ہے۔
۲۰-۱۹:۲- یہ بحث جاری ہے۔ پہلا آدمی اَب بھی مُتکلّم ہے۔ ایک آدمی جس ایمان کا اِقرار کرتا ہے وُہ محض ذہنی قبولیت ہو سکتا ہے۔ اِس قِسم کی ذہنی قبُولیت میں شخصی ذِمّہ داری شامل نہیں ہوتی۔ اور نہ ایسا ایمان زِندگی کو تبدیل کرتا ہے۔ ’’خُدا‘‘ کی موجودگی پر ایمان رکھنا کافی نہیں ہے۔ بے شک یہ ضرُوری تو ہے لیکن کافی نہیں ہے۔ ’’شیاطین بھی ایمان رکھتے‘‘ ہیں کہ خُدا موجُود ہے اور وُہ اپنی سزا کے بارے میں جو وُہ اُنہیں دے گا سوچ سوچ کر ’’تھر تھراتے‘‘ ہیں۔ ’’شیاطین‘‘ حقیقت پر’’ایمان رکھتے ہیں‘‘ لیکن وُہ اپنے آپ کو اُس کے حوالے نہیں کرتے۔ یہ بچانے والا ایمان نہیں ہے۔ جب کوئی حقیقی طور پر خُداوند پر ایمان لاتا ہے تو وُہ اپنی رُوح، جان اور بدن اُس کے حوالے کر دیتا ہے۔ نتیجتًہ یہ حوالگی اُس کی زِندگی تبدیل کر دیتی ہے۔ ’’اعمال‘‘ کے بغیر ’’ایمان‘‘ ذہن تک محدُود ہوتا ہے، اِس لئے ’’مُردہ‘‘ ہے۔
۲۱:۲- اَب عہدِعتیق سے دو مثالیں دی جاتی ہیں جِن میں ایمان کو کام کرتے دِکھایا گیا ہے۔ ایک ’’ابرؔہام‘‘ ہے جو کہ یہُودی تھا اور دُوسری ’’راحؔب‘‘ ہے جو غیر قَوم تھی۔ ’’ابرؔہام‘‘ ’’اعمال سے راستباز ٹھہرا‘‘ کیونکہ اُس نے ’’اپنے بیٹے اِضؔحاق کو قُربان گاہ پر قُربان کِیا‘‘۔ اِس کو اِس کے درُست پس منظر میں دیکھنے کے لئے پیدائش ۶:۱۵ سے رجُوع کریں۔ وہاں ہم پڑھتے ہیں کہ ابؔرہام خُدا پر ایمان لایا اور یہ اُس کے لئے راست بازی گِنا گیا۔ وہاں ابرؔہام ایمان سے راست باز ٹھہرتا ہے لیکن بعد میں باب ۲۲ میں ہی وُہ اپنے بیٹے کو قُربان کر رہا ہے۔ اُس وقت وُہ اعمال سے راست باز ٹھہرا۔ جُونہی وُہ خُداوند پر ایمان لایا تو وُہ خُدا کی نظر میں راست باز ٹھہرا۔ لیکن پھر سات ابواب بعد ہم اُسے اپنے بیٹے کو قُربان کرتے ہُوئے دیکھتے ہیں۔ خُدا نے ابرؔہام کے ایمان کو آزمایا۔ ابؔرہام نے اپنے بیٹے کو قُربان کرنے پر رضامند ہونے سے ظاہر کِیا کہ اُس کا ایمان حقیقی ہے۔ اُس کی فرمانبرداری ظاہر کرتی ہے کہ اُس کا ایمان ذہنی اِیمان نہیں ہے بلکہ اُس کا تعلق دِل سے ہے۔
بعض مرتبہ یہ اِعتراض کیا جاتا ہے کہ جب ابرؔہام نے اپنے بیٹے اضحؔاق کو قُربان کِیا تو وہاں کوئی بھی موجُود نہیں تھا جِس پر وُہ اپنے ایمان کی حقیقت کو ثابت کر سکتا۔ لیکن وُہ جوان جو ابرؔہام کے ساتھ گئے تھے دُور نہیں تھے۔ وُہ ابرؔہام اور اضؔحاق کا پہاڑ پر سے واپس آنے کا انتظار کر رہے تھے۔ پھر اضؔحاق وہاں تھا۔ مزید یہ کہ خُدا کے حُکم کی فرمانبرداری کرتے ہُوئے اَپنے بیٹے اضؔحاق کو قُربان کرنے کی تفصیل بائبل مُقدّس میں بھی محفُوظ ہے۔ یُوں اُس کے ایمان کی حقیقت کا اِظہار تمام نَسلوں پر ہو گیا۔
۲۳-۲۲:۲- پَس یہ صاف ظاہر ہے کہ ابرؔہام کے ایمان سے اُس کے اَعمال کو تحریک مِلی ’’اور اعمال سے ایمان کامِل ہؤا‘‘۔ حقیقی ایمان اور اَعمال کو الگ الگ نہیں کِیا جاسکتا۔ پہلا، دُوسرے کو پَیدا کرتا ہے اور دُوسرا پہلے کی تصدیق کرتا ہے۔ اضؔحاق کی قُربانی میں ہم ابرؔہام کے ایمان کا عملی اِظہار دیکھتے ہیں۔ یہ ’’نوِشتہ‘‘ کی عملی تکمیل تھی جو یہ کہتا ہے کہ ’’ابرؔہام‘‘ ایمان لانے سے راست باز ٹھہرا۔ اُس کے نیک اعمال سے ظاہر ہؤا کہ وُہ ’’خدا کا دوست‘‘ ہے۔
۲۴:۲- ہم اِس سے یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ ’’اِنسان صِرف ایمان ہی سے نہیں بلکہ اَعمال سے راستباز ٹھہرتا ہے‘‘۔ لیکن اِس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وُہ ایمان + اعمال سے راستباز ٹھرا۔ وُہ خُدا کے لحاظ سے ایمان سے راست باز ٹھہرا اور اعمال کے لحاظ سے آدمیوں کی نظر میں راست باز ٹھہرا۔ خُدا نے اُسے اُسی وقت راست باز ٹھہرا دیا جب کہ وُہ ایمان لایا۔ اِنسان کہتا ہے کہ ’’مُجھے اپنے ایمان کا حقیقی ہونا دِکھا‘‘۔ اِس کا صِرف ایک ہی طریقہ ہے اور وُہ ہے نیک اَعمال۔
۲۵:۲- عہدِعتیق کی دُوسری مثال ’’راحب فاحشہ‘‘ ہے۔ وُہ یقیناً اپنے اچھّے چال چلن کے ذریعہ سے نہیں بچائی گئی تھی (وُہ بازاری عَورت تھی)۔ وُہ ’’اعمال سے … راست باز ٹھہری‘‘ کیونکہ ’’اُس نے قاصِدوں (جاسُوسوں) کو اپنے گھر میں اُتارا اور دُوسری راہ سے رُخصت کیا‘‘۔ راحؔب کنعانی تھی اور یؔریحُو شہر میں رہائِش پذیر تھی۔ اُس نے سُنا کہ ایک فتح مند فوج اُس کے شہر کی طرف بڑھ رہی ہے، اور اُس فوج کے مُقابلہ میں کوئی بھی اب تک کامیاب نہیں ہؤا۔ اِس سے اُس نے یہ نتیجہ اخذ کِیا کہ عِبرانیوں کا خُداسچّا خُدا ہے اور فیصلہ کیا کہ وُہ اُس خُدا کو قبول کرے گی خواہ اِس کی کتنی ہی بڑی قیمت کیوں نہ ادا کرنی پڑے۔
جب جاسُوس شہر میں داخِل ہُوئے تو وُہ اُن کی مَدد کرنے لگی۔ یہ کرنے سے اُس نے سچّے اور زِندہ خُدا پر اپنے ایمان کو ثابت کیا۔ وُہ اِس لئے نہیں بچی کہ اُس نے جاسُوسوں کو پناہ دی بلکہ اِس لئے کہ اُس کے مہربانی کے اِس عمل نے ثابت کر دیا کہ وُہ سچّی ایمان دار ہے۔
بعض لوگ اِس حوالے کو غَلط طور پر اِستعمال کر کے یہ سِکھاتے ہیں کہ نجات میں نیک اعمال کا بھی حِصّہ ہے۔ لیکن اِن اَعمال سے اُن کی مُراد سخاوت کرنا، اپنا قرض ادا کرنا، سچ بولنا اور چرچ جانا ہوتا ہے۔ لیکن کیا ابرؔہام اور راحؔب کے یہی نیک اعمال تھے؟ یقیناً نہیں۔ ابرؔہام کے مُعاملے میں یہ تھا کہ وُہ اپنے بیٹے کو قُربان کرنے پر رضا مند تھا، اور راحؔب کے مُعاملے میں غدّاری تھی۔ اگر اِن کاموں سے ایمان کو نکال دیا جائے تو وُہ نیک کاموں کی بجائے بُرے کام بن جاتے ہیں۔
۲۶:۲- یعقؔوب اِس حوالہ کو اِس بیان سے ختم کرتا ہے : ’’جَیسے بدن بغیر رُوح کے مُردہ ہے وَیسے ہی ایمان بھی بغیر اَعمال کے مُردہ ہے‘‘۔ یہاں اِس بات کا اِختصار بڑی خُوبصورتی سے پیش کِیا گیا ہے۔ یعقؔوب ’’ایمان‘‘ کا موازنہ اِنسانی ’’بدن‘‘ سے کرتا ہے۔ وُہ ’’اعمال‘‘ کو ’’رُوح‘‘ سے تشبیہ دیتا ہے۔ ’’بَدن بغیر رُوح کے مُردہ‘‘ بیکار اور بے قدر ہے۔ ’’وَیسے ہی ایمان بھی بغیراَعمال کے مُردہ‘‘ غیر مؤثر اور بے فائِدہ ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ حقیقی ایمان نہیں بلکہ جَعلی ہے۔
یعقؔوب ہمارے ایمان کو مُندرجہ ذیل سُوالات سے پرکھتا ہے: کیا مَیں ابرؔہام کی طرح اپنی زِندگی میں سب سے عزیز شَے خُدا کو دینے کو تیار ہُوں؟ کیا مَیں راحؔب کی طرح مسیح کا وفادار رہنے کے لئے دُنیا کا غدّار بننے پر رَضامندہ ہُوں؟