یشوؔع ۸

۸:‏۱۔۲۹ دوسری بار حملہ کرنے پر یشوع اور اُس کی فوج نے گھات لگانے کے طریقِ عمل سے عی کو فتح کر لیا۔ گو گھات کے اِس طریقِ عمل کی ساری تفصیلات کو جاننا بہت مشکل ہے‏، تاہم ظاہری منصوبہ یہ تھا:‏ اِسرائیلیوں کا ایک جتھا رات کی تاریکی میں شہر کے مغرب میں جا کر چھپ گیا۔ اگلی صبح باقی ماندہ سپاہیوں نے شمال کی طرف سے شہر پر حملہ کر دیا۔ جب عی کے رہنے والوں نے اِس کے مقابلے میں حملہ کیا تو یشوع اور اُس کے آدمی اِرادۃً پیچھے ہٹنے لگے اور یوں شہر کے باشندوں کو بہت دُور لے آئے‏، تب یشوع نے اپنا بھالا شہر کی طرف بڑھایا۔ یہ گھات میں بیٹھے لوگوں کے لئے نشان تھا کہ وہ شہر میں داخل ہو کر اُسے آگ لگا دیں۔ شہر میں آگ لگی دیکھ کر عی کے لوگ گھبرا گئے۔ اِسرائیلیوں کے لئے بہت آسان تھا کہ عی کے سپاہیوں پر دونوں اطراف سے حملہ کر کے اُنہیں برباد کر دیں۔ 

آیت ۳ میں لکھا ہے کہ گھات لگانے کے لئے شہر کی طرف تیس ہزار جنگی مرد بھیجے گئے‏، جب کہ آیت ۱۲ میں پانچ ہزار کا ذکر کیا گیا ہے۔ ممکن ہے کہ دو گھاتیں ہوں۔ لیکن گھات کے لئے تیس ہزار بہت زیادہ تعداد ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ تیس ہزار کو تیس سردار پڑھنا چاہئے‏، کیونکہ ہزار کے لئے عبرانی لفظ کا مطلب سردار بھی ہے۔ بعض ایک کا یہ خیال ہے کہ اصل تعداد پانچ ہزار ہے‏، لیکن تیس ہزار تعداد کاتب کی غلطی ہے۔ ممکن ہے کہ پانچ ہزار جنگی مردوں کو عی کے مغرب میں سوا تین کلومیٹر کے فاصلے پر بیت ایل کے لوگوں کے ممکنہ حملے کو پسپا کرنے کے لئے بھیجا گیا ہو۔ 

اِس خصوصی حملے میں یہودیوں کو اِجازت دی گئی کہ وہ مویشیوں اور مالِ غنیمت کو لے سکتے ہیں۔ اگر عکن اِنتظار کرتا تو وہ جان کے نقصان کے بغیر مالِ غنیمت حاصل کر لیتا۔ 

گذشتہ لڑائی میں اِسرائیلیوں کے۳۶آدمی مارے گئے‏، لیکن بائبلی دستاویز کے مطابق اِس دفعہ کوئی بھی نہ مارا گیا۔ اپنے آپ کو آلودگی سے پاک کرنے کے بعد ایک بار پھر وہ جنگ کے دوران محفوظ تھے۔ مسیحی زندگی میں تصادم کی عدم موجودگی فتح نہیں ہے‏، بلکہ تصادم کے دوران خداوند کی حضوری اور تحفظ کا نام فتح ہے۔ 

ز۔ سکم کے مقام پر عہد کی تجدید (‏۸:‏۳۰۔۳۵)‏

۸:‏۳۰۔۳۵ خداوند تعالیٰ کے کلام کی تعمیل (‏اِستثنا ۲۷:‏۲۔۶)‏ کے مطابق یشوع نے کوہِ عیبال پر ایک قربان گاہ بنائی‏، اور موسیٰ کی شریعت کی ایک نقل کندہ کی۔ چھے قبائل کوہِ گرزیم اور چھے کوہِ عیبال کے سامنے کھڑے ہوئے۔ یشوع نے اُن کے درمیان وادی میں کھڑے ہو کر موسیٰ کی شریعت میں لکھی ہوئی برکتوں اور لعنتوں کو یا تو خود پڑھا یا پھر لاویوں کو اِنہیں پڑھنے کے لئے کہا (‏اِستثنا ۲۷:‏۱۴)‏۔

مقدس کتاب

۱ اور خداوند نے یشوع سے کہا خوف نہ کھا اور نہ ہراسان ہو۔ سب جنگی مردوں کو ساتھ لے اور اُٹھ کر عیپر چڑھائی کر۔ دیکھ میں نے عی کے بادشاہ اور اس کی رعیّت اور اس کے شہر اور اس کے علاقہ کو تیرے قبضہ میں کر دیا ہے۔
۲ اور تُو عی اور اس کے بادشاہ سے وہی کرنا جو تو نے یریحو اور اس کے بادشاہ سے کیا ۔فقط وہاں کے مالِ غنیمت اور چوپایوں کو تُم اپنے لئے لُوٹ کے طور پر لینا ۔ سو تُو اس شہر کے لئے اسی کے پیچھے اپنے آدمی گھات میں لگا دے۔
۳ پس یشوع اور سب جنگی مرد عی پر چڑھائی کرنے کو اُٹھے اور یشوعنے تِیس ہزار مردجو زبردست سُورما تھے چُن کر رات ہی کو اُن کو روانہ کیا۔
۴ اور ان کو یہ حکم دیا کہ دیکھو! تم اس شہر کے مقابل شہر ہی کے پیچھے گھات میں بیٹھنا۔ شہر سے بہت دورنہ جانا بلکہ تم سب تیار رہنا۔
۵ اور میں ان سب آدمیوں کو لے کر جو میرے ساتھ ہیںشہر کے نزدیک آونگااور ایسا ہو گا کہ جب وہ ہمارا سامنا کرنے کو پہلے کی طرح نکل آئینگے تو ہم ان کے سامنے سے باگینگے۔
۶ اور وہ ہمارے پیچھے پیچھے نکلے چلے آئینگے یہاں تک کہ ہم ان کو شہر سے دور نکال لے جائےنگے کیونکہ وہ کہینگے کہ یہ تو پہلے کی طرح ہمارے سامنے سے بھاگے جاتے ہیں ۔ سو ہم اُن کے آگے سے بھاگینگے۔
۷ اور تم گھات میں سے اُٹھ کر شہر پر قبضہ کر لینا کیونکہ خداوندتمہارا خدا اسے تمہارے قبضہ میں کر دے گا۔
۸ اور جب تم اس شہر کو لے لو تواسے آگ لگا دینا ۔ خداوند کے کہنے کے مطابق کام کرنا ۔ دیکھو میں نے تم کو حکم کر دیا۔
۹ اور یشوع نے ان کو روانہ کیااور وہ کمِین گاہ میں گئے اور بیتایل اور عی کے درمیان عی کے مغرب کی طرف جا بیٹھے لیکن یشوع اس رات کو لوگوں کے بیچ ٹِکا رہا۔
۱۰ اور یشوع نے صبح سویرے اُٹھ کر لوگوں موجودات لی اور وہ بنی اسرائیل کے بزرگوں کو ساتھ لے کر لوگوں کے آگے آگے عی کی طرف چلا۔
۱۱ اور سب جنگی مرد جو اس کے ساتھ تھے چلے اور نزدیک پہنچ کر شہر کے سامنے آئے اور عی کے شمال میں ڈیرے ڈالے اور یشوع اور عی کی بیچ ایک وادی تھی ۔
۱۲ تب اس نے کوئی پانچ ہزار مردوں کو لے کر بیت ایل اور عی کے درمیان شہر کے مغرب کی طرف اُنکو کمین گاہ میں بٹھایا۔
۱۳ سو اُنہوں نے لوگوں کو یعنی ساری فوج کو جو شہر کے شمال میں تھی اور اُن کو جو شہر کی مغربی طرف گھات میں تھے ٹھکانے پر کردیا اوریشوع اُسی رات اُس وادی میں گیا۔
۱۴ اور جب عی کے بادشاہ نے یہ دیکھا تو اُنہوں نے جلدی کی اور سویرے اُٹھے اور شہر کے آدمی یعنی وہ اور اُس کے سب لوگ نکل کر مُعین وقت پر لڑائی کے لئے بنی اِسرائیل کے مقابل میدان کے سامنے آئے اور اُسے خبر نہ تھی کہ شہر کے پیچھے اُس کی گھات میں لوگ بیٹھے ہوئے ہیں ۔
۱۵ تب یشوع اور سب اسرائیلیوں نے ایسا دکھایا گویا اُنہوں نے ان سے شِکست کھائی اور بیابان کے راستے ہوکر بھاگے۔
۱۶ اور جتنے لوگ شہر میں تھے وہ ان کا پیچھاکرنے کے لئے بُلائے گئے اور اُنہوں نے یشوعکا پیچھا کیا اور شہر سے دور نکلے چلے گئے۔
۱۷ اور عی اور بیتایل میں کوئی مرد باقی نہ رہا جو اسرئیلیوں کے پیچھے نہ گیا ہواور انہوں نے شہر کو کھُلا چھوڑ کر اسرائیلیوں کا پیچھا کیا ۔
۱۸ تب خداوند نے یشوع سے کہا جو برچھا تیرے ہاتھ میں ہے اسے عی کی طرف بڑھا دے کیونکہ میں اسے تیرے قبضہ میں کر دوں گا اور یشوع نے اس برچھے کو جو اس کے ہاتھ میں تھا شہر کی طرف بڑھایا ۔
۱۹ تب اس کے ہاتھ بڑھاتے ہی جو گھات میں تھے اپنی جگہ سے نکلے اور دَوڑ کر شہر میں داخل ہوئے اور اسے سر کر لیا اور جلد شہر میں آگ لگا دی۔
۲۰ اور جب عی کے لوگوں نے پیچھے مُڑ کر نظر کی تو دیکھا کہ شہر کا دُھواں آسمان کی طرف اُٹھ رہا ہے اور ان کا بس نہ چلاکہ اِدھر یا اُدھر بھاگیں اور جو لوگ بیابان کی طرف بھاگے تھے وہ پیچھا کرنے والوں پر اُلٹ پڑے۔
۲۱ اور جب یشوع اور سب اسرائیلیوں نے دیکھا کہ گھات والوں نے شہر لے لیا اور شہر کا دھواں اُٹھ رہا ہے اور انہوں نے پلٹ کر عی کو لوگوں کو قتل کیا۔
۲۲ اور وہ دوسرے بھی ان کے مقابلہ کو شہر سے نکلے۔ سو وہ سب کے سب اسرائیلیوں کے بیچ میں جو کچھ تواِدھر اور اُدھر تھے پڑگئے اور اُنہوں نے اُن کو مارا یہاں تک کہ کسی کو نہ باقی چھوڑا نہ بھاگنے دیا۔
۲۳ اور وہ عی کے بادشاہ کو زندہ گرفتار کر کے یشوع کے پاس لائے ۔
۲۴ اور جب اسرائیلی عی کے سب باشندوں کو میدان میں اس بیابان کے درمیان جہاں انہوں نے ان کا پیچھا کیا تھا قتل کر چکے اور وہ سب تلوار سے مارے گئے یہاں تک کہ بالکل فنا ہو گئے توسب اسرائیلی عی کو پھرے اور اسے تہ تیغ کردیا۔
۲۵ چنانچہ وہ جو اس دن مارے گئے مرد اور عورت ملا کر بارہ ہزار یعنی عیکے سب لوگ تھے۔
۲۶ کیونکہ یشوع نے اپنا ہاتھ جس سے وہ برچھے کو بڑھائے ہوئے تھا نہیں کھینچا جب تک کہ اس نے عی کے سب رہنے والے کو بالکل ہلاک نہ کر ڈالا۔
۲۷ اور اسرائیلیوں نے خداوند کے حکم کے مطابق جو اس نے یشوع کو دیا تھا اپنے لئے فقط شہر کے چوپایوں اور مالِ غنیمت کو لُوٹ میں لیا ۔
۲۸ پس یشوع نے عی کو جلا کرہمیشہ کے لئے اُسے ایک ڈھیر اور ویرانہ بنا دیا جو آج کے دن تک ہے۔
۲۹ اور اس نے عی کے بادشاہ کوشام تک درخت پر ٹانگ کر رکھا اور جوں ہی سورج ڈوبنے لگا انہوں نے یشوع کے حکم سے اس کی لاش کو درخت سے اُتار کر شہر کے پھاٹک کے سامنے ڈال دیا اور اس پر پتھروں کا ایک بڑا ڈھیر لگا دیا جو آج کے دن تک ہے۔
۳۰ تب یشوع نے کوہِ عیبالپر خداوند اسرائیل کے خدا کے لئے ایک مذبح بنایا ۔
۳۱ جیسا خداوند کے بندہ موسیٰ نے بنی اسرائیل کو حکم دیا تھا اور جیسا موسیٰ کی شریعت کی کتاب میں لکھا ہے یہ مذبح بے گھڑے پتھروں کا تھا جس پرکسی نے لوہا نہیں لگایا تھا اور انہوں نے سا پر خداوند کے حضور سوختنی قربانیاں اور سامتی کے ذبِیحے گذرانے۔
۳۲ اور اس نے وہاں ان پتھروںپر موسیٰ کی شریعت کی جو اس نے لکھی تھی سب بنی اسرائیل کے سامنے ایک نقل کندہ کی۔
۳۳ اور سب بنی اسرئیلی اور ان کے بزرگ اور منصب دار اور قاضی یعنی دیسی اور پردیسی دونوں لاوی کاہنوں کے آگے جو خداوند کے عہد کے صندوق کے اُٹھانے والے تھے صندوق کے اِدھر اور اُدھر کھڑے ہوئے۔ ان میں سے آدھے تو کوہِ گرزیم کے مُقابل اور آدھے کوہ ِ عیبال کے مُقابل تھے جیسا خداوند کے بندہ موسیٰ نے پہلے حکم دیا تھا کہ وہ اسرئیلی لوگوں کو برکت دیں۔
۳۴ اس کے بعد اس نے شریعت کی سب باتیں یعنی برکت اور لعنت جَیسی وہ شریعت کی کتاب میں لکھی ہوئی ہیں پڑھ کر سنائیں۔ چنانچہ جو کچھ موسیٰ نے حکم دیا تھا اس میں سے ایک بات بھی ایسی نہ تھی جسے یشوع نے بنی اسرئیل کی ساری جماعت اور عورتوں اور بال بچوں اور ان مسافروں کے سامنے جو اُن کے ساتھ مل کر رہتے تھے نہ پڑھا ہو۔
۳۵