۱۱۔ دُعا اور بیماروں کی شِفا (۱۳:۵۔۲۰)
اِس خط کی آخری آیات کا مضمون دُعا ہے۔ یہ لفظ اِسم یا فعل کی صُورت میں سات مرتبہ اِستعمال ہؤا ہے۔
۱۳:۵- ہمیں اپنی زِندگی کے تمام حالات میں خُداوند کے پاس دُعا میں جانا چاہئے۔ جب ہم مُصیبت میں ہوں تو ہمیں اُس کے پاس بڑی سنجیدہ اِلتماس کے ساتھ حاضر ہونا چاہئے اور خُوشی کے وقت ہمیں اپنے پُورے دِل سے خُدا کی حمد وثنا کرنی چاہئے۔ وُہ چاہتا ہے کہ ہم اُسے اپنی زندگی کے تمام بدلتے ہُوئے حالات میں جگہ دیں۔
جو کُچھ ہماری زِندگی میں واقع ہوتا ہے اُس میں ہمیں خُدا کو پہلا بڑا سبب دیکھنا چاہئے۔ اگر ہم حالات سے مغلُوب ہو جاتے یا اپنے حالات کی تبدیلی کا انتظار کرتے ہیں تو یہ شکست ہے۔ اپنے حالات میں ہمیں صِرف خُدا کا ہاتھ دیکھنا چاہئے۔
اِس خط کا اور غالباً تمام نئے عہد نامہ کا یہ حِصّہ سب سے زیادہ مُتنازع ہے۔ یہ فی زمانہ ایمان دار کی زِندگی میں الہٰی شفا کا مضمُون ہے۔
اِن آیات پر تفصیل سے غور کرنے سے پیشتر اچھّا ہوگا کہ ہم پہلے یہ دیکھیں کہ بائبل بیماری اور شِفا کے بارے میں کیا تعلیم دیتی ہے۔
الہٰی شِفا
۱۔ تمام مسیحی اِس بات سے متفِق ہیں کہ عام معنوں میں تمام بیماریاں اِس دُنیا میں گُناہ کی موجُودگی کا نتیجہ ہیں۔ اگر گُناہ دُنیا میں داخل نہ ہوتا تو پھر بیماریاں بھی نہ ہوتیں۔
۲۔ بعض اوقات ایک شخص کی زِندگی میں بیماری براہِ راست گُناہ کا نتیجہ ہوتی ہے۔ ۱- کرنتھیوں۳۰:۱۱ میں ہم بعض کرنتھیوں کے بارے میں پڑھتے ہیں کہ وُہ بِیمار تھے کیونکہ وُہ عشائے رباّنی میں اپنے آپ کو جانچے بغیر یعنی اپنی زِندگیوں میں موجود گُناہوں کا اقرار اور اُنہیں ترک کئے بغیر شامل ہوتے تھے۔
۳- ایک شخص کی زِندگی میں تمام بیماریاں براہِ راست گُناہ کا نتیجہ نہیں ہوتیں۔ ایؔوب اِس حقیقت کے باوجُود کہ وُہ کامِل اور راست باز آدمی تھا (۸:۱) بیمار تھا۔ جنم کا اندھا اپنے گُناہوں کے باعث دُکھ نہیں اُٹھا رہا تھا
(یُوحَنّا۳،۲:۹)۔ اؔپفردُتس اِس لئے بیمار تھا کہ وُہ خُداوند کی خِدمت میں بے حد مصرُوف رہتا تھا
(فلپیّوں۳۰:۲)۔
۴- بعض اوقات بیماریاں شیطانی سرگرمیوں کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ یہ شیطان ہی تھا جِس نے ایوؔب کے جِسم پر پھوڑے نکالے تھے (ایوب۷:۲)- لُوقا ۱۰:۱۳۔۱۷ میں شیطان ہی نے عورت کو کُبڑا کِیا تھا۔ چنانچہ وُہ جھُک کر چلتی تھی اور سِیدھی نہیں ہو سکتی تھی۔ اِس عورت کو ’’شیطان‘‘ نے اٹھارہ برس سے باندھ رکھا تھا (۱۶:۱۳)- شیطان نے پَولُسؔ کے جِسم میں بھی نقص پَیدا کِیا تھا جِسے وُہ ’’جِسم میں کانٹا‘‘ کہتا تھا ’’یعنی شیطان کا قاصِد تاکہ ۔۔۔ مَیں پھُول نہ جاؤں‘‘(۲۔ کرنتھیوں ۷:۱۲)۔
۵۔ خُدا شِفا دے سکتا اور دیتا ہے۔ حقیقی معنوں میں تو تمام طرح کی شِفا خُدا کی طرف سے ہے۔ عہدِعتیق میں خُدا کا ایک نام ’’یہوؔواہ رفیکہ‘‘ ہے: ’’مَیں خُداوند تیرا شافی ہُوں‘‘ (خرُوج ۱۵: ۲۶)۔ ہمیں اِقرار کرنا چاہئے کہ ہر شفا میں خُدا کا ہاتھ ہوتا ہے۔
بائبل سے یہ صاف نظر آیا ہے کہ خُدا شفا دینے کے لئے مُختلف طریقے اِستعمال کرتا ہے۔ بعض اوقات وُہ جسمانی عمل کے فِطری طریقے سے شفا دیتا ہے۔ خُدا نے اِنسانی جِسم میں بحالی کی
بے پناہ قُوّت رکھی ہے۔ بعض اَوقات وُہ دَوا کے ذریعہ شِفا دیتا ہے۔ مثلاً پَولُسؔ تیمتؔھیس کو نصیحت کرتا ہے کہ ’’آئِندہ کو صِرف پانی ہی نہ پِیا کر بلکہ اپنے معدہ اور اکثر کمزور رہنے کی وجہ سے ذرا سی مَے بھی کام میں لایا کر‘‘ (۱۔ تیمتھیُس ۲۳:۵)۔ بعض اوقات وُہ دِل میں موجُود خوف، آزُردگی، خُود بینی اور مُجرم ضمیر سے خلاصی دِلا کر شِفا دیتا ہے۔ بعض اوقات وُہ ڈاکٹروں اور سرجنوں کے ذریعہ شِفا دیتا ہے۔ یسؔوع نے صاف طور سے سِکھایا کہ بیماروں کو طبیب کی ضرُورت ہے (متّی ۱۲:۹)۔ پَولُسؔ لُوؔقا کو ’’پیارا طِبیب‘‘ کہتا ہے(کُلسّیوں ۱۴:۴)۔ اِس سے یقیناً ظاہر ہوتا ہے کہ ایمانداروں کو طبیب کی ضرُورت ہے۔ خُدا، شفا دینے کی خدمت میں ڈاکٹروں کو اِستعمال کرتا ہے۔ ایک مشہُور فرانسیسی سرجن نے فرمایا ’’سرجن زخم کو باندھتا ہے۔ خُدا اُسے بھرتا ہے‘‘۔
۶۔ خُدا مُعجزانہ طور پر بھی شفا دیتا ہے۔ اناجیل میں اِس کی کئی ایک مثالیں مِلتی ہیں۔ یہ کہنا غلط ہوگا کہ خُدا عام طور پر اِس طرح شِفا دیتا ہے لیکن اِس کے ساتھ ہی ہمیں یہ بھی نہیں کرنا چاہئے کہ وُہ اِس طرح کبھی شِفا نہیں دیتا۔ بائبل میں ایسی کوئی بات نہیں جس کی بِنا پر ہم یہ خیال کریں کہ خُدا آج مُعجزانہ طور پر شِفا نہیں دے سکتا۔
۷۔ لیکن یہ بات بھی صاف ہے کہ خُدا ہمیشہ ہی شفا نہیں دیتا۔ پَولُسؔ نے ترفِؔمس کو میلؔیتُس میں بِیمار چھوڑ دیا (۲ تیمتھیس۲۰:۴)۔ خُدا نے پَولُسؔ کو اُس کے بدن میں کانٹے سے شِفا نہیں دی (۲۔ کُرنتھیوں ۷:۱۲۔۱۰)- اگر خُدا کی مرضی ہمیشہ ہی شِفا دینے کی ہو تو پھر بعض کبھی بُوڑھے نہ ہوں گے اور نہ مَریں گے۔
۸- چونکہ خُدا نے یہ وعدہ نہیں کِیا ہے کہ وُہ ہر ایک بِیمار کو شِفا دے گا، اِس لئے شِفا کوئی ایسی شَے نہیں ہے کہ ہم اُس سے ہمیشہ ہی اِس کا تقاضا کر سکیں۔ فلپّیوں۲۷:۲ میں شِفا کو ’’رحم‘‘ بتایا گیا ہے نہ کہ ایسی چیز جِس کی اُمّید کا ہم حق رکھتے ہوں۔
۹- عام معنوں میں تو یہ درُست ہے کہ شِفا ’’کفّارہ‘‘ میں شامِل ہے لیکن اِس کے باوجُود بھی خُدا نے کفّارہ میں شامل تمام برکات ہمیں نہیں دی ہیں۔ مثلاً بدن کی مخلصی ہمارے لئے مسیح کے کام میں شامل تھی لیکن یہ ہمیں اُس وقت تک نہیں مِلے گی جب تک کہ مسیح اپنے مُقدّسوں کو لینے نہیں آئے گا (رومیوں ۸ : ۲۳)۔ اُس وقت ہم مکمّل طور پر تمام بیماریوں سے بھی شِفا پالیں گے۔
۱۰۔ یہ سچ نہیں ہے کہ شِفا کا نہ مِلنا ایمان کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو اِس کا مطلب یہ ہوتا کہ بعض سدا زِندہ رہیں گے لیکن اَیسا نہیں ہوتا۔ پَولُسؔ اور ترفِمسؔ کو شِفا نہیں مِلی
لیکن اِس کے باوجُود بھی اُن کا ایمان پُرزور اور سرگرم تھا۔
۱۵،۱۴:۵- اب ہم پھر باب ۵ کی طرف متوّجہ ہوتے ہیں۔ باقی ماندہ بائبل جو کُچھ شفا کے متعلق تعلیم دیتی ہے، یہ اُس کے ساتھ پُوری مُطابقت رکھتا ہے۔
’’اگر تُم میں کوئی بیمار ہو تو کلیسیا کے بزُرگوں کو بُلائے اور وُہ خُداوند کے نام سے اُس کو تیل مَل کر اُس کے لئے دُعا کریں۔ جو دُعا ایمان کے ساتھ ہو گی اُس کے باعث بیمار بچ جائے گا اور خُداوند اُسے اُٹھا کھڑا کرے گا اور اگر اُس نے گناہ کئے ہوں تو اُن کی بھی مُعافی ہو جائے گی‘‘۔
اگر بائبل میں شِفا کے موضُوع پر صِرف یہی آیات ہوتیں تو ہم یہ قیاس کر سکتے کہ زِندگی میں جو بِیماریاں ایک ایماندار پر آتی ہیں وُہ اُن سے یقیناً بچ سکتا ہے بشرطیکہ وُہ اُن شرائِط کو جو یہاں دی گئی ہیں پُورا کرے۔ لیکن ہم نے کلام کے دُوسرے حِصّوں سے یہ دیکھا ہے کہ خُدا کی ہمیشہ ہی یہ مرضی نہیں ہوتی کہ بیمار کو شفا ملے۔ پس ہمیں مجبُوراً یہ نتیجہ نِکالنا پڑتا ہے کہ یعقوب یہاں ہر قِسم کی بِیماریوں کے متعلق نہیں کہہ رہا بلکہ کِسی خاص بیماری کے بارے میں جو خاص حالات کا نتیجہ ہوتی ہے۔ اِس حوالہ کو سمجھنے کی کلید اِن الفاظ میں ملتی ہے ’’اگر اُس نے گُناہ کِئے ہوں تو اُن کی بھی مُعافی مِل جائے گی‘‘۔ اِس حِصّے میں شِفا کا تعلق گُناہوں کی مُعافی سے ہے۔
یہاں ایک آدمی ہے جو کِسی گُناہ کا مُرتکِب ہؤا، جِس سے غالباً مقامی کلیسیا کی گواہی پر بھی دَھبّا لگا۔ اِس کے تھوڑے عرصہ بعد اُسے بیماری نے آدبوچا۔ اُس نے محسُوس کیا کہ یہ بِیماری اُس گُناہ کا براهِ راست نتیجہ ہے۔ خُدا اُسے تنبیہ کر رہا ہے تاکہ اُسے پھِر واپس رفاقت میں لے آئے۔ وُہ اپنے گُناہ سے توبہ کرتا اور اُس کا خُدا کے سامنے اقرار کرتا ہے۔ لیکن چُونکہ اِس سے تمام جماعت کی تمام گواہی پر بھی داغ لگا تھا، اِس لئے وُہ ’’کلیسیا کے بزرگوں‘‘ کو بُلاتا ہے اور وُہ اُن کے سامنے بھی اِقرار کرتا ہے۔ وُہ ’’خُداوند کے نام سے اُس کو تیل مل کر اُس کے لئے دُعا‘‘ کرتے ہیں۔ ’’ایمان کے ساتھ‘‘ اِس ’’دُعا‘‘ سے بیمار’’بچ‘‘ جاتا ہے اور ’’خُداوند اُسے اُٹھا کھڑا‘‘ کرتا ہے۔ خُداوند کا یہ حتمی وَعدہ ہے کہ جہاں بیماری گُناہ کا براہِ راست نتیجہ ہے اور جہاں گُناہ کا مندرجہ بالا طریقہ سے اِقرار کیا جاتا اور اُسے ترک کیا جاتا ہے وہاں خُدا شفا دے گا۔
کوئی کہہ سکتا ہے کہ ’’آپ کیسے جانتے ہیں کہ اُس آدمی نے گُناہ کئے اور اُس کی توبہ اور اِقرار تک نوبت پُہنچی؟‘‘ جواب یہ ہے کہ آیت ۱۵ کا آخری حِصّہ اُس کے ’’گناہوں‘‘ کی ’’مُعافی‘‘
کے بارے میں بتاتا ہے۔ اور ہم جانتے ہیں کہ گُناہ صِرف اِقرار کے نتیجے ہی میں مُعاف ہوتے ہیں۔ کوئی اَور اعتراض کر سکتا ہے کہ یہاں یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ اُس نے گُناہ کئے ہیں بلکہ یہ کہ ’’اگر اُس نے گُناہ کِئے ہوں‘‘۔ یہ درُست ہے لیکن کُل متن کا تعلق گناہوں کے اِقرار اور ایک برگشتہ کی بحالی سے ہے۔ درجِ ذیل پر غور کیجئے: ’’ایک دُوسرے سے اپنے گناہوں کا اِقرار کرو اور ایک دُوسرے کے لئے دُعا کرو تاکہ شِفا پاؤ‘‘۔ آیات ۱۸،۱۷ میں جِس خُشک سالی کا ذِکر ہے وُہ بنی اِسرائیل کے گناہ پر خُدا کی عدالت کا نتیجہ تھی۔ یہ اُس وقت ختم ہوئی جب وُہ خُداوند کی طرف دوبارہ پھِرے اور اُسے سچّے خُدا کے طور پر قبُول کِیا (۱۔ سلاطین ۳۹:۱۸)- آیات ۲۰،۱۹ صاف طور پر برگشتہ کی بحالی کے مُتعلق بتاتی ہیں جیسے کہ ہم دیکھیں گے۔
یعقُوب ۱۳:۵۔۲۰ کے کُل متن کا مطلب یہ ہے کہ خُدا نے جس شفا کا وعدہ کیا وُہ اُس شَخص کے لئے ہے جِس کی بِیماری گُناہ کا نتیجہ ہے اور جو اپنے گُناہ کا اِقرار ’’بزُرگوں‘‘ کے سامنے کرتا ہے۔ ’’بزرگوں‘‘ کی ذِمّہ داری یہ ہے کہ وُہ ’’اُس کو تیل مَل کر اُس کے لئے دُعا کریں‘‘۔ بعض لوگ ’’تیل‘‘ کی تشریح یہ کرتے ہیں کہ یہ دَوا کے اِستعمال کو ظاہر کرتا ہے کیونکہ جس وقت یعقؔوب نے خط لکھا اُس زمانہ میں تیل دَوا ہی کی ایک قِسم تھی (لُوقا ۳۴:۱۰)۔ ایک اَور نظریہ یہ ہے کہ یہاں تیل کا مطلب اُس کا رسمی طور پر اِستعمال ہے۔ اِس نظریہ کو اِن الفاظ سے ’’خُداوند کے نام سے‘‘ تقویت مِلتی ہے۔ بالفاظِ دیگر تیل اُس کے اختیار سے اور اُس کے کلام کی فرمانبرداری کرتے ہوئے مَلا جائے۔ بعض اَوقات رسُولوں نے بھی مُعجزانہ شِفا دیتے وقت تیل کو استعمال کیا (مرقُس ۱۳:۶)- تیل میں شِفا کی قُوّت نہیں تھی لیکن تیل اُس کی شِفا کی خِدمت میں رُوحُ القُدس کا نِشان ہے (۱۔ کرنتھیوں ۹:۱۲)-
بعض اِعتراض کرتے ہیں کہ تیل کا رسمی اِستعمال فضل کے زمانہ سے مُطابقت نہیں رکھتا کیونکہ وُہ رسموں کو تَرک کرنے کو کہتا ہے۔ لیکن ہم عشائے ربّانی میں مسیح کے بَدن اور خُون کے نِشان کے طور پر روٹی اور مے کو اور بپتسمہ میں پانی کو اِستعمال کرتے ہیں۔ پھر خواتین بھی مَردوں کی اطاعت کے طور پر جماعت میں سَر کو ڈھانپتی ہیں۔ تو پھر ہم تیل کے رسمی اِستعمال پر اعتراض کیونکر کر سکتے ہیں؟
’ایمان کے ساتھ‘‘ مانگی گئی دُعا کے جواب میں خُدا بیمار کو شِفا دے گا۔ یہ ’’ایمان کے ساتھ‘‘ دُعا ہے کیونکہ اُس کی بُنیاد خُدا کے کلام کے وعدے پر ہے۔ یہاں بزرگوں کے ایمان کا یا بیمار کِتنا ایمان رکھتا ہے کا سُوال نہیں ہے۔ بُزرگ مکمل ایمان کے ساتھ دُعا کر سکتے ہیں کیونکہ خُدا نے وعدہ کیا ہے
کہ وُہ بِیمار کو اُٹھا کھڑا کرے گا بشرطیکہ جو شرائط بیان ہُوئی ہیں پُوری کی جائیں۔
المختصر، ہم ایمان رکھتے ہیں کہ آیات ۱۵،۱۴ کا اِطلاق ایسے شخص پر ہوتا ہے جِس کی بیماری کِسی گُناہ کا براہِ راست نتیجہ ہے۔ جب وُہ اِس بات کو محسُوس کرتا اور توبہ کرتا ہے تو وُہ ’’کلیسیا کے بزُرگوں کو بلائے‘‘ اور اُن کے سامنے اپنے گُناہ کا مکمّل اِقرار کرے۔ پھر’’وُہ خُداوند کے نام سے اُس کو تیل مَل کر اُس کے لئے دُعا کریں‘‘۔ وُہ ایمان میں اُس کے لئے دعا کر سکتے ہیں کیونکہ یہاں خُدا نے اُسے شِفا دینے کا وعدہ کیا ہے۔
۱۶:۵(الف)- ’’ایک دُوسرے سے اپنے اپنے گُناہوں کا اِقرار کرو اور ایک دُوسرے کے لئے دُعا کرو تاکہ شِفا پاؤ‘‘۔ اِس بیان کو سرسری نظر سے پڑھنے سے یہ تاثر مِل سکتا ہے کہ ہمیں دُوسروں کو اپنے پوشِیدہ گُناہوں کے بارے میں بھی بتانا چاہئے۔ لیکن یہاں یہ خیال نہیں ہے۔ بُنیادی طور پر یعقؔوب کا مطلب یہ ہے کہ جب ہم کِسی بھائی کے خِلاف گناہ کرتے ہیں تو ہمیں فوراً اُس بھائی کے پاس جاکر اپنے گُناہ کا اقرار کرنا چاہئے۔
پھر ہمیں ’’ایک دُوسرے کے لئے دُعا‘‘ بھی کرنی چاہئے۔ دِل میں ایک دُوسرے کے بارے میں تَلخی رکھنے اور آزُردگی کو بڑھنے کی اِجازت دینے کی بجائے ہمیں اِقرار اور دُعا کے باعث اُن سے رفاقت کو قائم رکھنا چاہئے۔
جسمانی شِفا کا تعلق رُوحانی بحالی کے ساتھ ہے۔ دیکھئے کہ کِس طرح یعقؔوب اِقرار، دُعا اور شِفا کو ایک دُوسرے سے مُنسلک کرتا ہے۔ یہ ایک صاف اِشارہ ہے کہ جِسم اور رُوح میں بڑا اہم تعلق ہے۔ اِنسان تین حِصّوں پرمُشتمل ہے ــــــــ رُوح، جِسم اور جان (۱- تھِسلُنیکیوں ۲۳:۵)۔ تِینوں میں سے ایک پر پڑنے والا اثر دُوسرے دو کو بھی متاثر کرتا ہے۔ عہدِعتیق میں کاہن طبیب بھی ہوتا تھا۔ یہ وُہی تھا جو کوڑھ کی تشخیص کیا کرتا اور اُس کے صحت مند ہونے کی تصدیق کرتا تھا۔ یُوں کاہِن اور ڈاکٹر کے کام کو ایک شخص میں یکجا کرنے سے خُداوند نے رُوح اور جسم میں قریبی تعلق کو ظاہر کر دیا۔ جِسمانی طِب اِس تعلق کو مانتی ہے اور اُن شخصی مسائل کو تلاش کرتی ہے جو جِسمانی تکالیف کا باعث بنتے ہیں۔ لیکن طِبِ جدید میں گُناہ کا عِلاج نہیں ہے۔ مجُرم ضمیر، آلودگی اور گناہ کی سزا سے رہائی صِرف مسیح سے خُون کی بُنیاد پر اور خُدا اور اِنسان دونوں کے سامنے اِقرار کرنے سے مِلتی ہے۔ ہم ماننے کو تو تیار نہیں لیکن مُتعدد بیماریاں گُناہ کی وجہ سے آتی ہیں، مثلاً بِسیار خوری، فِکر مندی، غُصّہ، مُعاف نہ کرنے والی رُوح، بے اعتدالی، حَسد، خود غرضی اور تکّبر۔ گُناہ بیماری لاتا ہے اور بعض اوقات مَوت بھی (۱۔ کُرنتھیوں ۳۰:۱۱)۔ جُونہی ہمیں اپنی زِندگی میں گُناہ کا علم ہو، ہمیں فوراً اِس کا اقرار کرنا اور اُسے ترک کردینا
چاہئے۔ ہمیں تمام گُناہوں کا خُدا کے سامنے اِقرار کرنا چاہئے۔ اور مزید یہ کہ ہم نے جو گُناہ دُوسروں کے خِلاف کئے ہیں اُن کا اِقرار اُن کے سامنے بھی کرنا چاہئے۔ یہ ہماری رُوحانی صِحّت کے لئے اہم اور جسمانی صِحّت کے لئے فائِدہ مَند ہے۔
۱۶:۵ (ب) – ۱۸-ایک نیک آدمی کی سنجیدگی سے مانگی گئی دُعا میں بے اِنتہا قوت ہوتی ہے۔ کیا آپ کو ایلؔیاہ یاد ہے؟ وُہ ہماری طرح کا اِنسان تھا۔ اُس نے بڑے خلُوص دِل سے دُعا کی کہ مینہ نہ پڑے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ ساڑھے تین سال تک مُلک میں ایک بُوند بھی نہ گِری۔ پھر اُس نے دوبارہ دُعا کی۔ خُدا نے مینہ برسایا اور پہلے کی طرح سبزی اُگائی (جے ۔ بی ۔ پی)۔ یہ واقعہ ۱۔ سلاطین۱:۱۷۔ ۱۰:۱۹میں مرقوُم ہے۔ اُس وقت اِسرائیل کا بادشاہ اخیؔ اب تھا۔ اپنی بیوی ایزبل کی وجہ سے وُہ بعؔل کا پجاری بن گیا اور اپنے لوگوں کو سخت بُت پرستی میں مُبتلا کر دیا۔ ’’اخیؔ اب نے اِسرائیل کے سب بادشاہوں سے زیادہ جو اُس سے پہلے ہُوئے تھے خُداوند اِسرائیل کے خُدا کو غُصّہ دِلانے کے کام کئے“ (۱۶ : ۳۲)۔ یہ اِس گُناہ کا براہ راست نتیجہ تھا کہ اِسرائیل ساڑھے تین سال خُشک سالی کی لپیٹ میں رہا۔
تب ایلؔیاہ کا کوہِ کرؔمل پر بَعؔل کے پُجاریوں کے ساتھ مشہور زمانہ مُقابلہ ہؤا۔ جب خُداوند کی آگ نازل ہُوئی اور اُس نے سوختنی قُربانی، مذبح اور پانی کو بھَسم کر دیا تولوگ قائِل ہو گئے اور خُداوند کی طرف پھِرے ۔ ایلؔیاہ نے پھر ’’دُعا کی‘‘ اور خُشک سالی ختم ہوگئی۔ ’’ایلیؔاہ‘‘ کی مثال ہماری حَوصلہ افزائی کے لئے دی گئی ہے تاکہ ہم اُن کے لئے جِنہوں نے گُناہ کِیا اور خُدا کی رفاقت سے دُور ہو گئے ہیں دُعا کریں۔ مبادا کہ ہم یہ خیال کرنے لگیں کہ ایسا آدمی ہم سے افضل مخلوق ہے۔ یعقؔوب ہمیں یاد دِلاتا ہے کہ اؔیلیاہ ’’ہمارا ہم طبیعت اِنسان تھا‘‘۔ وُہ محض بَشر تھا جِس میں دُوسرے آدمیوں کی طرح کمزوریاں پائی جاتی تھیں۔
۱۹:۵- گُزشتہ آیت میں ہم نے دیکھا کہ گُناہ کے مرتکب مُقدّسین کی بحالی کے لئے کلیسیا کے بُزرگوں کو اَِستعمال کیا گیا۔ اور ہم نے یہ بھی دیکھا کہ خُدا نے ایک برگشتہ قَوم کی بحالی (جُزوی اور عارضی) کے لئے ایلیؔاہ کو اِستعمال کیا۔ اور اب ہمیں نصیحت کی گئی ہے کہ ہم اِس دُوررس نتائج کی حامِل خِدمت کے لئے اپنے آپ کو وَقف کر دیں۔
آیت ۱۹ میں ایک مسیحی بھائی کے مُتعلق بیان کِیا گیا ہے جو شاید تعلیمی لحاظ سے یا عمل کے
لحاظ سے ’’راہِ حق‘‘ سے گُمراہ ہو گیا تھا۔ ایک دُوسرا بھائی اِس بات کو جانفشانی اور ایمان سے دُعا کا موضُوع بنا لیتا ہے، اور یُوں اُسے پیار کے ساتھ مسیح میں اُس کے بہن بھائیوں اور خُدا کے ساتھ رفاقت میں ’’پھیرلاتا‘‘ ہے۔ اِس خدمت کی زبردست اہمّیت ہے۔ پہلی بات یہ کہ وُہ اُس کو خُدا کے ہاتھ کے نیچے وقتِ مقررہ سے پیشتر مرنے سے بچا لیتا ہے۔ پھر وُہ ’’بُہت سے گُناہوں پر پَردہ ڈالے گا‘‘۔ خُدا نے انہیں مُعاف اور فراموش کر دیا ہے۔ پھر اُس کے ساتھی ایمان داروں نے بھی معاف کر دِئے ہیں اور پھِر وُہ باہر کی دُنیا کی گہری نظروں سے بھی پوشیدہ ہو گئے ہیں۔ آج ہمیں بھی اِس خِدمت کی ضرُورت ہے۔ شاید گُمراہوں کو مسیح کے پاس لانے کے جوش میں ہم مسیح کی اُن بھیڑوں پر زیادہ توجہ نہیں دیتے جو گلہ سے بھٹک گئی ہیں۔ ایک مرتبہ پھِر یعقؔوب ہمارے ضمیر کو مسیحی زِندگی کے مُختلف شعُبوں کے بارے میں جھنجھوڑتا ہے۔ مثلاً وُہ ہم سے دریافت کرتا ہے : کیا آپ زمین پر مال جمع کر رہے ہیں؟ کیا آپ کے بزنس کرنے کے طریقے مُطلقاً دیانتدار نہ ہیں؟ مثلاً اپنے انکم ٹیکس کے حساب کتاب میں؟ کیا آپ عیش وعشرت کی زِندگی بسر کرتے ہیں یا قُربانی کی تاکہ دُوسرے مسیح کے پاس آسکیں؟ جب آپ کِسی دُوسرے شخص کے گناہ کے مُرتکب ہوتے ہیں تو کیا آپ اُس کے پاس جا کر اُس سے مُعافی مانگنے کو تیار رہتے ہیں؟ جب آپ بِیمار ہوتے ہیں تو سب سے پہلے کِس سے رابطہ قائم کرتے ہیں؟ ڈاکٹر سے یا خُدا سے؟ جب آپ کِسی بھائی کو گرتے دیکھتے ہیں تو کیا آپ اُس پر نکتہ چِینی کرتے ہیں یا اُسے بحال کرنے کی کوشِش کرتے ہیں؟
اب ہم اِس مُختصر عملی خط کے اِختتام تک پُہنچ گئے ہیں۔ ہم نے دیکھا کہ ایمان کی آزمائِش زِندگی کی مشکلات سے، ناپاک آزمائِشوں سے، اور خُدا کے کلام کی فرمانبرداری کرنے سے کی گئی۔ ایک شخص جو یہ کہتا ہے کہ وُہ ایمان رکھتا ہے اُسے، اِس کو طرف داری نہ کرنے اور نیک زِندگی بسر کرنے سے ثابت کرنے کو کہا گیا ہے۔ ایک شخص کے ایمان کو اُس کی گفتگو میں دیکھا جا سکتا ہے۔ اِیمان دارد اپنی زُبان کو مسیح کے کنٹرول میں دینا سِیکھ لیتا ہے۔ حقیقی اِیمان کا ساتھی حقیقی حِکمت ہوتی ہے اور حَسد اور جھگڑے کی زِندگی خُدا پرستی میں بدل جاتی ہے۔
ایمان، باہمی جھگڑوں اور کشاکش سے بچتا ہے جو لاچ اور دُنیاوی خواہشات سے پَیدا ہوتے ہیں۔ وُہ نکتہ چینی کی رُوح سے بھی دُور رہتا ہے۔ وُہ اُس خُود اِنحصاری سے جو زِندگی کے منصُوبوں سے خُدا کو نکال دیتی ہے دُور بھاگتا ہے۔ جِس طریقے سے ہم پیسہ کماتے اور خرچ کرتے ہیں اُس سے بھی ایمان کی آزمائِش ہوتی ہے۔ ایماندار ظُلم و تشدد کے باوجُود بھی، خُداوند کی آمدِثانی کے پیش نظر صَبر اور برداشت کا مظاہرہ کرتا ہے۔ اُس کی گفتگو دیانت دارانہ ہوتی ہے اور اُسے سچ ثابت کرنے کے لئے قَسم کھانے کی ضرُورت نہیں ہوتی۔ اِیمان، زِندگی کے بَدلتے ہُوئے حالات میں خُدا سے رجُوع کرتا ہے۔ بِیماری میں وُہ اُس کی رُوحانی وجُوہات کی طرف دیکھتا ہے، اور اُن مُمکنہ وجُوہات کو خُدا کے اور جِن کا قصُور کِیا اُن کے سامنے اِقرار کرنے سے دُور کر دیتا ہے۔ پھر ایمان پیار اور محبّت میں اُن کے پاس جاتا ہے جو برگشتہ ہو گئے ہیں۔
میرا اور آپ کا ایمان ہر روز آزمایا جاتا ہے۔ مُنصِف کا فیصلہ کیا ہے؟