یَعقُوب کا عام خَط ۹

۹۔ دولتمند اور اُن پر آنے والی مُصیبتیں(۱:۵۔۶)

یہ یعقؔوب کے اِس خط کی سب سے سنجیدہ عبارت ہے۔ اِس میں وُہ دَولتمندوں کے گُناہ کی مذمّت کرتا ہے۔ اِس کے اَلفاظ ہتھوڑے کی ضرب کی طرح شدید ہیں جن سے بچنا مَحال ہے۔ درحقیقت یہ مذمّت اِتنی سخت ہے کہ اِن آیات پر بُہت کم وَعظ کِیا جاتا ہے۔

یعقؔوب، یہاں پر ایک سماجی اِنصاف کے نبی کا کِردار کرتا ہُؤا نظر آتا ہے۔ وُہ دَولتمندوں کے خِلاف آواز بُلند کرتا ہے جو اَپنے ہم جِنس اِنسانوں کی ضرُوریات کے ضِمن میں بے حِس ہیں۔ وُہ اُن کی جو اپنے مَزدُوروں کا اِستِحصال کرنے سے دَولت مند بن گئے ہیں مُذمّت کرتا ہے۔ وُہ اُن کو اپنی دَولت کو اپنی عیش وعِشرت پر خرچ کرنے کے لئے ڈانٹتا ہے۔ آخر میں وُہ دَولتمندوں کو راست بازوں پر سخت ظُلم کرنے والا دکھاتا ہے۔

۱:۵- سب سے پہلے وُہ ’’دَولت مند‘‘ کو ’’رونے اور واویلا‘‘ کرنے کو کہتا ہے کیونکہ اُن پر جلد ہی ’’مُصیبتیں‘‘ آنے والی ہیں۔ خُدا بُہت جلد اُن سے مُلاقات کرے گا۔ تب اُنہیں سخت ندامت اور شرمندگی اُٹھانی پڑے گی، اور وُہ پہچانیں گے کہ وُہ بے وَفا مُختار رہے تھے۔ اُنہوں نے جو مواقعِ گنوائے وُہ اُس پر واویلا کریں گے۔ وُہ اپنے لالچ اور خُود غرضی پر ماتم کریں گے۔ اُنہوں نے جو غَلط کام کئے وُہ اُن کو مان لیں گے۔ وُہ اپنے اُس گُناہ کو دیکھیں گے کہ اُنہوں نے خُداوند کی بجائے مادّی اَشیا میں تحفّظ تلاش کِیا۔ اور جِس طرح اُنہوں نے زِندگی بَسر کی اُس پر وُہ آنسُو بہائیں گے۔ یہاں یعقؔوب دَولتمندوں کے چار بڑے گُناہوں کا ذِکر کرتا ہے، اُن میں سے پہلا دَولت جمع کرنے کا گُناہ ہے۔

۲:۵- یعقؔوب کہتا ہے ’’تُمہاری قیمتی اَشیا تباہ ہو گئی ہیں۔ تُمہارے کپڑوں کے ذِخیرہ کو کیڑا کھا گیا ہے اور تُمہارے سونے چاندی کی چمک ختم ہوگئی ہے۔ ہاں، اُن کی چمک کا ختم ہونا تُم پر گواہی دے گا کہ تُم بدی کے ساتھ ذخیرہ اندوزی کرتے رہے ہو اور تُم اُن سے اَیسے بھاگو گے جَیسے دہکتے ہُوئے اَنگاروں سے‘‘۔

بائبل یہ کبھی نہیں کہتی کہ دَولت مند ہونا گُناہ ہے۔ مثلاً ایک شخص کو ایک ہی رات میں وراثت میں دولت مِل سکتی ہے اور یُوں امیر بننے میں اُس نے یقیناً کوئی گُناہ نہیں کیا ہے۔ لیکن بائبل یہ تعلیم ضرُور دیتی ہے کہ دولت جمع کرنا گُناہ ہے۔ خُداوند یسؔوع خاص طور پر دَولت جمع
کرنے سے منع کرتا ہے۔ اُس نے کہا ’’اپنے واسطے زمین پر مال جمع نہ کرو جہاں کیڑا اور زنگ خراب کرتا ہے اور جہاں چور نقب لگاتے اور چُراتے ہیں۔ بلکہ اپنے لئے آسمان پر مال جمع کرو جہاں نہ کیڑا خراب کرتا ہے نہ زنگ اور نہ وہاں چور نقب لگاتے اور چُراتے ہیں۔ کیونکہ جہاں تیرا مال ہے وہیں تیرا دِل بھی لگارہے گا‘‘ (متّی۱۹:۶۔۲۱)-

یعقؔوب دَولت کو چار صُورتوں میں بیان کرتا ہے : ’’مال‘‘، ’’پوشاک‘‘، سونا اور چاندی۔ جب یعقؔوب یہ کہتا ہے کہ ’’تُمہارا مال بِگڑ گیا‘‘ تو غالباً اُس کا مطلب ہے کہ تُمہارے غّلے کو کیڑا لگ گیا اور تُمہارا تیل بدبُودار ہو گیا ہے۔ نکتہ یہ ہے کہ یہ چیزیں اِتنی زیادہ جمع کر لی گئیں کہ وُہ خراب ہو گئیں۔ ایک وقت تھا کہ اُنہیں بھوکوں کو سیر کرنے کے لئے اِستعمال کیا جا سکتا تھا مگر اب وُہ بیکار ہو گئی ہیں۔ وُہ کہتا ہے ’’تُمہاری پوشاکوں کو کیڑا کھا گیا‘‘۔ اگر کپڑوں کو متواتر اِستعمال کیا جائے تو ایسا نہیں ہوتا۔ لیکن اگر الماری پوشاکوں سے بھری ہُوئی ہو تو اُنہیں بہت کم اِستعمال کِیا جاتا ہے اور وُہ آسانی سے کیڑوں کا شِکار بن جاتی ہیں۔ یعقؔوب کے نزدیک اِس طرح کپڑے جمع کرنا اخلاقی طور پر غلط ہے جبکہ دُنیا میں ایسے بُہت سے لوگ ہیں جنہیں اِن کی سخت ضرُورت ہے۔

۳:۵- وُہ اپنا بیان جاری رکھتے ہُوئے کہتا ہے :’’تُمہارے سونے چاندی کو زنگ لگ گیا اور وُہ زنگ تُم پر گواہی دے گا اور آگ کی طرح تمہارا گوشت کھائے گا‘‘۔ ’’سونے اور چاندی‘‘ کو زنگ نہیں لگتا لیکن اُن کی چمک مدّھم پڑ جاتی ہے اور وُہ بَد رنگ ہو جاتے ہیں۔ اور اگر اُنہیں نامُناسب حالت میں جمع کیا جائے تو وُہ گھُل یا گھِس سکتے ہیں۔ اپنے روپے کو گردش میں لانے، بھُوکوں کو خوراک مُہّیا کرنے، بے سہاروں کو کپڑے پہنانے، بیماروں کو دَوا مہّیا کرنے اور انجیل کو پھیلانے میں استعمال کرنے کی بجائے وُہ کِسی ’’آڑے وقت‘‘ کے لئے رکھ چھوڑتے ہیں۔ اُس سے کِسی کو فائدہ نہیں پُہنچتا اور بالآخر خراب ہو جاتا ہے۔

’’زنگ لگ گیا‘‘ اِستعمال نہ کرنے اور بگڑنے کی طرف اشارہ ہے اور وُہ سزا کے لئے امیروں کے خِلاف گواہی دے گا۔ اگر یہ یعقؔوب کے دِنوں میں دولت مَندوں کے بارے میں درُست تھا تو یہ ہمارے زمانہ میں اُن کے مُتعلق کِتنا زیادہ درُست کیوں نہ ہو گا؟ اگر ہمارے پاس انجیل کو پھیلانے کے ذرائع ہیں لیکن ہم اُنہیں استعمال نہیں کرتے یا جب ہم مادّی اشیا جمع کرتے جبکہ اُنہیں رُوحوں کی نجات کے لِئے اِستعمال کیا جا سکتا ہے تو ہماری سَزا کیا ہوگی؟ ’’زنگ … آگ کی طرح تُمہارا گوشت کھائے گا‘‘ کا مطلب ہے کہ اُن کا اپنے مال کو دُوسروں کی بھلائی کے لئے
اِستعمال نہ کرنا اُن کے دُکھ اور مُصیبت کا باعث بنے گا۔ جب اُن کی آنکھیں اپنی خود غرضی اور لالچ (بیش قیمت زیورات، قیمتی کپڑوں، شاندار گھروں، قیمتی کاروں) سے ظُلم کے لئے کھُل جائیں گی تو یہ اُن کے لئے ایک نہایت تکلیف دہ اور دُکھ بھرا تجربہ ہوگا۔

۴:۵- دُوسرا گُناہ جِس پر یعقؔوب حملہ کرتا ہے وہ مزدُور کو اُس کی مزدُوری ادا نہ کر کے دولت جمع کرنا ہے۔ ’’جِن مزدُوروں نے تُمہارے کھیت کاٹے‘‘ اُن کو اُن کی مزدُوری سے محرُوم رکھا گیا۔ اگرچہ مزدُور احتجاج تو کر سکتے ہیں لیکن وُہ اپنی شکایت کا مداوا کرنے میں بالکُل بے بس ہیں۔ زمِین پر کوئی شخص ایسا نہ تھا جو کامیابی سے اُن کی وکالت کرتا۔ تاہم ’’خُداوند ربُّ الافواج‘‘ نے اُن کی ’’فریاد‘‘ سُنی۔ وُہ جو آسمان کی فَوجوں پر اختیار رکھتا ہے وُہ زمین کے مظلُوم لوگوں کی پُشت پناہی کرتا ہے۔ قادرِ مُطلق خُداوند خُدا اُن کی مدد کرے گا اور اُن کو بدلہ دے گا۔ یُوں بائبل نہ صِرف مال جمع کرنے کی مذمّت کرتی ہے بلکہ بد دیانتی سے روپیہ جمع کرنے کی بھی۔ پُوری مزدُوری نہ دینے کے ساتھ یعقوؔب اِنکم ٹیکس میں دھوکا دہی، ناپ تول میں کمی، حُکّام کو رِشوت دینے، جھُوٹی اِشتہاربازی اور حساب کتاب میں گھپلا کرنے کا ذِکر بھی کر سکتا تھا۔

۵:۵- پھِر یعقؔوب دَولت مندوں کی عیش و عشرت کی زِندگی بسر کرنے کی بھی مذمّت کرتا ہے۔ وُہ اپنے لئے بیش قیمت زیورات، قیمتی پوشاکوں، لذِید اور مرغّن خوراک اور عالیشان گھروں پر اپنی دَولت کیسے خرچ کر سکتے ہیں جبکہ بیشمار لوگ ایسے ہیں جو بے حد ضرُورت مند ہیں؟ یا اِسے اپنی سطح پر لاتے ہُوئے، ہم اپنی کلیسیاؤں اور مسیحیوں کی دَولت مندی کو کیسے جائز قرار دے سکتے ہیں؟ ہم ایسی دُنیا میں رہتے ہیں جبکہ ہر روز ہزاروں بھُوک سے مَر جاتے ہیں۔ دُنیا کی آدھی سے زیادہ آبادی نے خُداوند یسؔوع مسیح کے بارے میں کبھی نہیں سُنا ہے۔ اِس قِسم کی دُنیا میں ہم قیمتی اَشیا کیسے خرید سکتے ہیں؟ ہم خُداوند کے پَیسے کو اپنی تن پَروری پر کیسے خرچ کرسکتے ہیں؟ کلام کی صاف تعلیم، دُنیا کی ہولناک ضرُورت، نجات دہندہ کا نمُونہ اور محبّت کی سادہ سی جبلّت ہمیں بتاتی ہے کہ جب تک اِس دُنیا میں ایک بھی رُوح ایسی ہے جِس نے خُوشخبری کو نہیں سُنا تو اُس وقت تک آرام دِہ اور عیش و عشرت کی زِندگی بَسر کرنا غَلط ہے۔

وُہ لوگ جو ’’عیش و عشرت‘‘ کی زِندگی بَسر کر کے ’’مزے‘‘ اُڑاتے ہیں اُن کا اُن لوگوں سے تعلق ہے جنہوں نے ’’اپنے دِلوں کو ذبح کے دِن موٹا تازہ کِیا‘‘ ــــــــــــ جانوروں کی مانند جو ذبح ہونے سے پیشر اپنے آپ کو فربہ کرتے ہیں یا اُن سپاہیوں کی طرح جو اپنا وقت لوٹ مار میں صَرف کرتے ہیں جبکہ
اُن کے اِرد گرد دُوسرے تباہ ہو رہے ہوتے ہیں۔

۶:۵- دَولت مندوں پر آخری اِلزام یہ ہے کہ وُہ ’’راست باز شخص کو قصُوروار‘‘ ٹھہراتے اور’’قتل‘‘ کرتے ہیں جبکہ وُہ اُن کا ’’مُقابلہ نہیں کرتا‘‘ بعض کا خیال ہے کہ یہ راست باز یسؔوع مسیح ہے۔ لیکن اُس کی مَوت کے ذمّہ دار مَذہبی لوگ تھے نہ کہ دَولت مند۔ مناسب یہ ہے کہ یہاں عام بے قصُور لوگوں کو ’’راست باز‘‘ سمجھا جائے۔ یعقؔوب، اُن ظالِمانہ طریقوں کے بارے میں سوچ رہا ہے جو دَولت مندوں کی خصُوصیت ہے اور جو وُہ اپنے ماتحتوں کے ساتھ سلوک میں اِختیار کرتے ہیں۔ وُہ اُن کو جھُوٹے اِلزامات، سخت زبان اور دھمکیوں کے ذریعہ قصُور وار ٹھہراتے ہیں۔ اُنہوں نے اُن کو قتل کیا، غالباً براہِ راست نہیں بلکہ زیادہ کام لینے اور پُوری مزدُوری نہ دینے سے۔ اِن معصُوموں نے مُقابلہ نہ کِیا۔ اور اگر وُہ احتجاج کرتے تو اُنہیں مزید ظُلم کا نِشانہ بنایا جاتا یا ملازمت سے ہاتھ دھونے پڑتے۔