۴۔ طرفداری کی مذمّت (۱:۲۔۱۳)
دُوسرے باب کا پہلا حِصّہ خاص خاص آدمیوں کو عِزّت دینے کی مذمّت کرتا ہے۔ خُداوند کی زِندگی یا نئے عہد نامہ کی تعلیم میں طرفداری کی مثال نہیں مِلتی۔ مسیحیت میں اَمارت پرستی یا دِیگر خُوبیوں کے باعث اِمتیاز کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔
۱:۲- سب سے پہلے اِسے واضح طور پر منع کیا گیا ہے۔ دیکھئے اِس فہمائش کے مخاطب اِیمان دار ہیں۔ یہ ’’اے میرے بھائیو!‘‘ کے الفاظ سے صاف ظاہر ہے۔ ’’ہمارے خُداوند ذُوالجلال یسؔوع مسیح کا ایمان‘‘ کا اِشارہ مسیحی ایمان کی طرف ہے۔ اِس ایمان کا تعلق مسیح پر بھروسا یا اُس پر اِنحصار کرنے سے نہیں بلکہ مسیحی تعلیم کے مجمُوعہ سے ہے۔ اِن تمام خیالات کو یکجا کرنے سے معلُوم ہوتا ہے کہ یعقؔوب یہ کہہ رہا ہے کہ ’’اے میرے بھائیو!‘‘ مسیحی ’’ایمان‘‘ کو بُروئے کار لاتے وقت ’’طرفداری‘‘ نہ کرو۔ امارت پرستی اور ذات پات کا اِمتیاز مسیحیت سے قطعی مُطابقت نہیں رکھتے۔ جلال کے خُداوند کی موجُودگی میں اِنسان کی عظمت کی خوشامد کے لئے جگہ نہیں ہے۔ اگر ہم کِسی کو پیدائش، نسل، جِنس یا غُربت کی وجہ سے حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں تو یہ علمی طور پر ایمان کا انکار کرنا ہے۔ یہ حُکم کہ حاکموں، مالِکوں، بزُرگوں اور والدین کی عِزّت کرو، نئے عہد نامہ کے دِیگر حِصّوں سے مُتصادم نہیں ہے۔ یقیناً ایسے تعلقات ہیں جنہیں خُدا نے مقرر کیا ہے، اُن کی ہمیں ضرُور عِزّت کرنی چاہئے (رومیوں ۷:۱۳)۔ یہاں پر لوگوں کے قیمتی کپڑوں یا دِیگر مصنُوعی اِمتیازات کی وجہ سے خوشامد کرنے سے منع کِیا گیا ہے۔
۴-۲:۲- اِسکی تصدِیق اُس واضح مثال سے ہوتی ہے جو یعقؔـوب آیات ۲۔۴ میں دیتا ہے۔ منظر مسیحیوں کی مقامی ’’جماعت‘‘ ہے۔ ایک مُعزّز سا آدمی فیشن ایبل کپڑے اور ’’سونے کی انگوٹھی‘‘ پہنے ابھی ابھی آیا ہے۔ ایک ذِمّہ دار بھائی اُس مشہُور آدمی کے سامنے جھُکتا ہے اور لے جا کر سامنے کی قطار میں ایک نمایاں نِشست پر بٹھا دیتا ہے۔ لیکن جُونہی وہ دروازے پر واپس آتا ہے تو اُسے ایک اَور آدمی آتا دِکھائی دیتا ہے۔ اِس مرتبہ ایک خستہ حال ’’غریب آدمی‘‘ آتا ہے (’’میلے کُچیلے‘‘ کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اُس آدمی کے کپڑے دُھلنے والے تھے بلکہ یہ کہ وُہ اپنی غُربت کے مُطابق کپڑے پہنے ہُوئے ہے)۔ اِس مرتبہ وُہ ذِمّہ دار بھائی جماعت کو پریشانی سے بچانے کے لئے بڑی ہوشیاری سے اِسے پِیچھے خالی جگہ میں یا دروازہ کے پاس فرش پر بِٹھا دیتا ہَے۔ یہ بات کہ کبھی کوئی شخص ایسا کر سکتا ہے ناقابلِ یقین لگتی ہے۔ شاید ہم خیال کر رہے ہوں کہ اِس تصویر میں بات کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا گیا ہے لیکن اگر ہم اپنے دِل کو ٹٹولیں تو معلُوم ہوگا کہ ہم اِس قسم کی دَرجہ بندی کرتے ہیں اور یُوں ’’بدنیت مُنصِف‘‘ بنتے ہیں۔ لیکن حقیقی مسیحیوں کو الہٰی قوانین کے ساتھ وفادار رہنا چاہئے۔ اُن کا فرض ہے کہ وُہ اِس بات کا کہ تمام ایمان دار مسیح میں ایک ہیں عملی ثبُوت پیش کریں۔
۵:۲۔۶(الف)-طَرف داری مسیحی ایمان کے ساتھ مُطابقت نہیں رکھتی۔ یعقؔوب اِس کا اِظہار آیات ۵۔۱۳میں کرتا ہے۔ وُہ چار ٹھوس وجُوہات بیان کرتا ہے کہ یہ ایک ایمان دار کے لئے کیوں نامُناسب ہے کہ وُہ دَولت مندوں کی تو طرف داری کرے اور غریبوں کو حِقارت سے دیکھے۔
پہلی وجہ، اِس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اُس آدمی کی جس کی عِزّت خُدا کرتا ہے عِزّت نہیں کرتے۔ ’’خُدا نے اِس جہان کے غرِیبوں کو‘‘ چُن لیا ہے کہ وُہ ’’اِیمان میں دَولت مند اور اُس بادشاہی کے وارِث‘‘ ہوں جِس کا ’’اُس نے اپنے محبّت کرنے والوں سے وعدہ کیا ہے‘‘۔ غرِیب آدمی خُدا کے برگُزیدہ، ممتاز افراد، خُدا کے وارِث اور خُدا کو پیار کرنے والے ہیں۔ کلامِ مُقدّس میں ہم بار بار پڑھتے ہیں کہ یہ غریب ہی ہیں نہ کہ امیر جو خُدا کے جھنڈے کے گِرد جمع ہیں۔ ہمارے خُداوند نے خُود فر مایا : ’’غرِیبوں کو خُوشخبری سُنائی جاتی ہے‘‘ (متّی۵:۱۱)۔ وُہ عام لوگ تھے جنہوں نے اُسے خُوشی سے سُنا نہ کہ دَولت مند یا اشراف طبقہ (مرقس ۳۷:۱۲)۔ اشراف کو نہیں بُلایا گیا بلکہ بیوقوفوں، کمزوروں، رذیلوں، حقیروں اور بے وجُودوں کو
(۱۔ کرنتھیوں۲۶:۱۔۲۹)۔ عام طور پر دَولتمند ایمان میں غریب ہوتے ہیں کیونکہ وُہ خُداوند پراعتقاد رکھنے کی بجائے دولت پر ایمان رکھتے ہیں۔ دُوسری طرف خُدا نے غریبوں کو ’’چُن لیا‘‘ کہ ’’ایمان میں دولتمند‘‘ ہوں۔ اگر آسمان کے شہریوں کا سروے کِیا جائے تو معلُوم ہوگا کہ اِن میں اکثریت غرِیبوں کی ہے۔ خُدا کی بادشاہی میں وُہ دَولت اور جَلال سے مالا مال ہوں گے۔ پس ایسے لوگوں کو حِقارت کی نظر سے دیکھنا جو ایک دِن ہمارے خُداوند اور نجات دہندہ کی بادشاہی میں سرفراز کئے جائیں گے سخت بیوقُوفی اور خطرناک بات ہے۔
(ب)۶:۲- دُوسری وجہ کہ ’’دَولتمندوں‘‘ کی طرف داری کرنا کیوں بیوقُوفی ہے یہ ہے کہ اکثر یہی وہ لوگ ہیں جو عام طور پر خُدا کے لوگوں کو دباتے ہیں۔ اِس مَوقع پر بحث قدرے پیچیدہ بن جاتی ہے۔ اِس سے پیشتر اِس باب میں جِس امیر آدمی کا ذِکر ہے وُہ بِلاشُبہ ایمان دار ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جِن دَولت مَندوں کا ذِکر آیت ۶ میں ہے وُہ بھی ایمان دار ہیں۔ جوکُچھ یعقوؔب یہاں کہہ رہا ہے اِس کا مطلب صِرف یہ ہے کہ لوگوں کی طرف داری محض اِس لئے کیوں کی جائے کہ وُہ دَولتمند ہیں؟ اگر آپ کرتے ہیں تو یہی وُہ لوگ ہیں جو سب سے پہلے آپ کو ڈراتے، دھمکاتے اور پھر’’عدالتوں میں گھسیٹ کر‘‘ لے جاتے ہیں۔ کیلؔون اِس نکتے کو یُوں بیان کرتا ہے : ’’اپنے جَلاّدوں کی عِزّت کیوں کرتے ہو؟‘‘
۷:۲- تِیسری وجہ یہ ہے کہ اکثر امیرعادتاً مسیح کے نام کا ذِکر کرتے وقت سخت یا بُرے الفاظ اِستعمال کرتے ہیں۔ یہ وُہ ’’بزُرگ نام‘‘ ہے جس سے مسیح کے پَیروکار ’’نامَزد‘‘ ہیں یعنی وُہ مسیحی کہلاتے ہیں۔ اگرچہ مسیح کے نام پر کُفر بکنے کی اِجارہ داری صِرف اِمیروں ہی کی نہیں ہے، تاہم یہ سچ ہے کہ اکثر یہی لوگ مسیحیوں کو ستاتے ہیں۔ وُہ اکثر نجات دِہندہ کے خِلاف شرمناک زُبان استعمال کرتے ہیں۔ پس ایمان دار کیوں کسی شخص کی اِس لئے طرفداری کریں کہ وُہ امیر ہے۔ امیروں کی عام خصُوصیّت یہی ہے کہ خُداوند یسؔوع کی عِزّت نہیں کرتے۔ اِس اِصطلاح کا کہ ’’بزُرگ نام … جِس سے تُم نامزَد ہو‘‘ ترجمہ یُوں بھی کِیا جاسکتا ہے ’’وُہ بزُرگ نام جِس سے تُمہیں نامزد کیا گیا ہے‘‘۔ بعض اِس میں مسیحی بپتِسمہ کا حوالہ دیکھتے ہیں۔ اِیمان داروں کو خُداوند یسؔوع کے نام میں بپتسمہ دیا جاتا ہے۔ اور یہی وُہ نام ہے جس کے بارے میں دَولت مند عادِتاً ’’کُفر‘‘ بکتے ہیں۔
۸:۲- چوتھی وجہ یہ ہے کہ دَولتمند کی طرف داری کرنے سے اِس ’’شریعت‘‘ کو توڑا جاتا ہے کہ تُو’’اپنے پڑوسی سے اپنی مانند محبّت رکھ‘‘۔ یہ ’’بادشاہی شریعت‘‘ کہلاتی ہے کیونکہ یہ بادشاہ کی ہے اور تمام شریعت کی بادشاہ ہے۔ اگر ہم سچ مُچ اپنے پڑوسی سے اپنی مانند محبّت رکھتے ہیں تو پھر ہم سب کے ساتھ ویسا ہی سلُوک کریں گے جیسا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے ساتھ کیا جائے۔ یہ یقینی بات ہے کہ ہم کبھی یہ نہیں چاہیں گے کہ غرِیب ہونے کے باعِث ہم سے حِقارت کی جائے۔ بائبل کی تمام تعلیمات سے یہ حُکم کہ ’’اپنے پڑوسی سے اپنی مانند محبّت رکھ‘‘ یقیناً سب سے اِنقلابی ہے۔ ذرا سوچئے! اِس کا مطلب یہ ہے کہ ہم دُوسروں کے لئے بھی ویسے ہی فکر مند ہوں جیسے کہ اپنے لئے ہوتے ہیں۔ ہم دُوسروں کو جو ہماری طرح خُوشحال نہیں ہیں اپنے دنیاوی مال و دَولت میں شریک کرنے پر رضا مند ہوں۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہم اپنی پُوری کوشش کریں کہ اُنہیں بھی مُبارک خُداوند کو جاننے کا موقع مِل جائے۔ اکثر ہمارے فیصلوں کا اِنحصار اِس بات پر ہوتا ہے کہ ہمیں اُن سے کیا فائِدہ ہوتا ہے۔ ہم ’’خُود غرض‘‘ ہیں۔ ہم امیروں کے ساتھ اچھّا سلُوک اِس لئے کرتے ہیں کیوں کہ ہمیں سماجی یا مادّی مُعاوضہ کی توقع ہوتی ہے۔ ہم غریبوں کو اِس لئے نظر انداز کرتے ہیں کیونکہ وُہ ہمیں اِس قِسم کا فائدہ پُہنچا نہیں سکتے۔ ’’بادشاہی شریعت‘‘ ہمیں دُوسروں کو اِس طرح اِستعمال کرنے سے منع کرتی ہے۔ یہ ہمیں سِکھاتی ہے کہ ہم اپنے ’’پڑوسیوں‘‘ سے ’’اپنی مانند محبّت‘‘ رکھیں۔ اگر ہم یہ معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ ہمارا پڑوسی کون ہے تو ہم نیک سامری کی تمثیل
(لوقا ۳۷:۲۹:۱۰) سے سیکھتے ہیں کہ ہر ضرُورت مند جِس کی ہم مدد کر سکتے ہیں ہمارا پڑوسی ہے۔
۹:۲- ’’طرف داری کرنا‘‘ بادشاہی شریعت کی خِلاف ورزی ہے۔ یہ ’’گُناہ‘‘ اور ’’قصُور‘‘ دونوں ہے۔ ’’گُناہ‘‘، خُدا کی مرضی سے مُطابقت نہ رکھنا یعنی اُس کے معیار پر پُورا نہ اُترنا ہے۔ قصُور وُہ ہے جہاں ہم معلُومہ شریعت کو توڑتے ہیں۔ بعض کام گُناہ آلُودہ ہیں کیونکہ وُہ بُنیادی اور پیدائِشی طور پر غلط ہیں، لیکن وُہ اُس وقت قصُور بنتے ہیں جبکہ کوئی خاص حُکم اُنہیں کرنے سے منع کرتا ہے۔ طرف داری گُناه آلُودہ ہے کیونکہ وُہ اپنے آپ میں بنیادی طور پر غلط ہے۔ لیکن یہ قصُور بھی ہے کیونکہ اُس کے خِلاف حُکم دیا گیا ہے۔
۱۰:۲- شریعت کے کِسی ’’ایک‘‘ حُکم کو توڑنا شریعت کی ’’سب باتوں میں قصُور وار ٹھہرنا‘‘ ہے۔ شریعت دس کڑیوں کی ایک زنجیر کی مانند ہے۔ خُدا ہمیں یہ اجازت نہیں دیتا کہ جِس حُکم کو ہم پَسند کریں اُسے تو مانیں اور باقیوں کو توڑ دیں۔
۱۱:۲- وُہ خُدا جِس نے ’’زِنا‘‘ کرنے سے منع کِیا، وہی ’’خُون‘‘ کرنے سے بھی منع کرتا ہے۔ ممکِن ہے ایک شخص نے ’’زِنا‘‘ نہ کیا ہو لیکن وُہ ’’خُون‘‘ کرنے کا مُرتکب ہوتا ہے۔ کیا وُہ ’’شریعت کا عُدُول کرنے والا‘‘ ہے؟ یقیناً ہے۔ شریعت کی رُوح یہ ہے کہ ہم اپنے پڑوسی سے اپنی مانند محبّت رکھیں۔ ’’زِنا‘‘ یقیناً اِس کی خِلاف ورزی ہے لیکن اِسی طرح ’’خُون‘‘ کرنا بھی۔ اور یہی حال احساسِ برتری، خُود پسندی اور اِمتیاز پسندی کا ہے۔ اگر ہم اِس میں سے کوئی بھی گُناہ کرتے ہیں تو ہم شریعت کے احکام کی پَیروی کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔
دس اَحکام
آئیے ذرا ایک بُنیادی مشکل پر غور کریں جو یہاں پیدا ہوتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ’’کیا مسیحی شریت کے ماتحت ہیں یا نہیں‘‘؟ اَیسا لگ رہا ہے کہ یعقؔوب مسیحی ایمان داروں پر دس احکام لاگُو کر رہا ہے۔ وُہ خاص طور پر چھَٹے اور ساتویں حُکم کا حوالہ دیتا ہے جو زنا کاری اور قتل سے منع کرتے ہیں۔ پھر وُہ آخری پانچ اَحکام کا خُلاصہ اِن الفاظ میں پیش کرتا ہے کہ ’’تُو اپنے پڑوسی سے اپنی مانند محبّت رکھ‘‘۔ لیکن اگر ایمانداروں کو شریعت کے ماتحت کِیا جائے تو یہ نئے عہد نامہ کے دِیگر حِصّوں سے مُتصادم ہے۔ مثلاً رومیوں ۱۴:۶ ’’تُم شریعت کے ماتحت نہیں بلکہ فضل کے ماتحت ہو‘‘۔ رومیوں ۶:۷: ’’اَب ہم شریعت سے .. چھُوٹ گئے ۔۔۔۔۔ ہیں‘‘۔ رومیوں۴:۷: ’’تُم بھی مسیح کے بَدن کے وسیلہ سے شریعت کے اِعتبار سے ۔۔۔۔ مُردہ بن گئے‘‘ (مزید دیکھئے گلتیوں ۱۹:۲؛۱۳:۳، ۲۴، ۲۵؛۱۔ تیمتھُیس ۸:۱، ۹؛ عبرانیوں۱۹:۷)۔
یہ حقیقت که مسیحی دس اَحکام کے ماتحت نہیں ۲- کرنتھیوں ۷:۳۔۱۱ میں صفائی سے بیان کی گئی ہے۔ تو پھر یعقؔوب کیوں اِس فضل کے زمانہ میں ایمان داروں پر شریعت پر عمل کرنے کے لئے زور دیتا ہے؟ پہلی بات یہ ہے کہ بطورہ ضابطہ حیات وُہ شریعت کے ماتحت نہیں ہیں۔ شریعت نہیں بلکہ مسیح ایمان داروں کی زِندگی کی بُنیاد ہے۔ جہاں شریعت ہے وہاں سزا بھی ہے۔ شریعت توڑنے کی سزا موت ہے۔ مسیح شریعت کی عُدولی کی سزا اُٹھانے کے لئے ہی مَرا۔ چنانچہ وُہ لوگ جو مسیح میں ہیں شریعت اور اُس کی سَزا سے محفُوظ ہیں۔ لیکن شریعت کے بعض اصُول دائمی نوعیت کے ہیں۔ یہ ہرعُمر کے لوگوں کے لئے ہیں۔ بُت پرستی، زِنا، قتل اور چوریاں بنیادی طور پر غلط ہیں۔ مزید برآں دس میں سے نَو کو خطوط میں دُہرایا گیا ہے۔ ایک جِس کا ذِکر نہیں مِلتا اُس کا تعلق سبت سے ہے۔ مسیحیوں کو کہیں بھی سبت یا ہفتہ کے ساتویں دِن کو ماننے کا حُکم نہیں دیا گیا کیونکہ یہ رسمی نوعیّت کا ہے اخلاقی نہیں ہے۔ بنیادی طور پر تو ایک یہُودی کے لئے ساتویں دِن کام کرنا غلط نہیں تھا۔ یہ صِرف اِس لئے غلط تھا کہ خُدا نے اِس دِن کو الگ کیا تھا۔ آخری بات یہ ہے کہ نو حُکم جن کا اِعادہ خطُوط میں کیا گیا ہے وُہ بطور شریعت نہیں دِئے گئے بلکہ خُدا کے لوگوں کے لئے راست بازی کے سِلسلے میں بطور ہدایات ہیں۔ بالفاظِ دِیگر خُدا مسیحیوں سے یہ نہیں کہتا کہ ’’اگر تُم چوری کرو گے تو تُم موت کے وارِث ہو گے‘‘۔ یا ’’اگر تُم حرامکاری کرو گے تو نجات سے ہاتھ دھو بیٹھو گے‘‘ بلکہ یہ کہتا ہے ’’مَیں نے تُمہیں اپنے فضل سے بچایا ہے۔ اَب مَیں چاہتا ہُوں کہ تُم مُجھ سے محبّت رکھنے کے سبب سے پاک زِندگی بَسر کرو۔ اگر تُم یہ جاننا چاہتے ہو کہ مَیں تُم سے کیا اُمیّد رکھتا ہُوں تو یہ تُمہیں نئے عہد نامہ میں نظر آئے گا۔ وہاں تُمہیں نو حُکم مِلیں گے۔ لیکن اِس کے ساتھ تُمہیں وہاں خُداوند یسؔوع کی تعلیم بھی ملے گی جو درحقیقت شریعت کے تقاضے سے کہیں بُلند کِردار کا تقاضا کرتی ہے‘‘۔ پس درحقیقت یعقؔوب ایمان داروں کو شریعت اور اُس کی سزا کے ماتحت نہیں لا رہا ہے۔ وُہ یہ نہیں کہہ رہا کہ ’’اگر تُم آدمیوں کی عِزّت کرتے ہو تو شریعت کو توڑتے ہو اور یُوں مَوت کے وارِث بن جاتے ہو‘‘۔
۱۲:۲- یعقؔوب یہ کہہ رہا ہے کہ بطور ایمان دار تُم غُلامی کی شریعت کے ماتحت نہیں رہے بلکہ ’’آزادی کی شریعت‘‘ کے ماتحت ہو یعنی ہر درُست کام کرنے کی ’’آزادی‘‘- مُوسوی شریعت تُمہیں اپنے پڑوسی سے محبّت کرنے کو کہتی ہے لیکن تُمہیں قُوّت نہیں دیتی اور اگر اس سے قاصر رہو تو سَزا کا حُکم سُناتی ہے۔ فضل کے تحت اپنے پڑوسی سے محبّت کرنے کے لئے تُمہیں قُوّت دی جاتی ہے اور جب تُم محبّت کرتے ہو تو اَجر دیا جاتا ہے۔ تُم نجات پانے کے لئے محبّت نہیں کرتے بلکہ اِس لئے کہ نجات یافتہ ہو۔ تُم سزا کے خوف کی وجہ سے محبّت نہیں کرتے بلکہ مسیح کے ساتھ محبّت رکھنے کی وجہ سے جو تُمہارے لئے مؤا اور پھِر جی اُٹھا۔ جب تم مسیح کے تختِ عدالت کے سامنے کھڑے ہو گے تو اِس معیار کے مُطابق اجر ملے گا یا نُقصان اُٹھاؤ گے۔ وہاں سُوال نجات کا نہیں ہوگا بلکہ اجر کا۔ اُن لوگوں کی طرح ’’کلام بھی کرو اور کام بھی‘‘۔ کلام اور زِندگی دونوں میں مُطابقت ہونی چاہئے۔ ایمان داروں کو اپنے کام اور کلام میں طرف داری سے احتراز کرنا چاہئے۔ آزادی کی شریعت کی اِس قِسم کی خِلاف وَرزی کا مسیح کے تختِ عدالت کے سامنے جواب دینا پڑے گا۔
۱۳:۲- آیت ۱۳ کو سیاق و سباق کی روشنی میں سمجھنا چاہیئے۔ یعقؔوب ایمان داروں سے مخاطب ہے۔ یہاں اَبدی سزا کا سُوال نہیں ہے۔ وُہ سزا ایک ہی مرتبہ کلوؔری کی صلیب پر اُٹھالی گئی ہے۔ یہاں پر سُوال یہ ہے کہ خُدا ہمیں فرزَند جان کر ہمارے ساتھ اِس دُنیا میں کیسا سلُوک کرتا ہے۔ اگر ہم دُوسروں پر ’’رحم‘‘ نہیں کرتے تو ہم خُدا کے ساتھ رفاقت میں نہیں چل رہے اور ہمیں اِس کے نتائج بھگتنے پڑیں گے۔
’’رحم اِنصاف پر غالب آتا ہے‘‘ کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ خُدا ہمیں سَزا دینے کی بجائے ہم پر رحم کرنا زیادہ پَسند کرتا ہے (میکاہ ۱۸:۷)۔ اِس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہم عدالت کے با وجُود خُوشی منا سکتے ہیں بشرطیکہ ہم نے دُوسروں پر رحم کیا۔ لیکن اگر ہم نے اُن پر جنہیں ہم انصافاً قصُور وار ٹھہرا سکتے تھے رحم نہیں کِیا تو ہم پر بھی رحم نہ کیا جائے گا۔ یا ’’رحم اِنصاف پر غالب آتا ہے‘‘ کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ رحم ہمیشہ ہی اِنصاف سے بڑا ہے۔ بہر حال اِس فِقرے کا عام مطلب یہ معلُوم ہوتا ہے کہ اگر ہم دُوسروں پر رحم کرتے ہیں تو وُہ سزا جو بصُورتِ دیگر ہماری ہوتی رحم میں بدل جائے گی۔
پَس آئیے ہم طرف داری کے اہم موضُوع پر اپنے آپ کو پرکھیں۔ کیا آپ اُن لوگوں کی نسبت جو معمُولی شکل وصُورت کے یا غیر جاذبِ نظر ہیں خوبصُورت لوگوں سے زیادہ مِلتے ہیں؟ کیا آپ غیر معرُوف لوگوں کے مُقابلے میں مشہُور لوگوں سے دوستی کرنے کے زیادہ خواہاں رہتے ہیں؟ کیا آپ معزُوروں سے بچتے اور صحّت مَند اور تُوانا لوگوں سے ہم نشینی کی تلاش میں رہتے ہیں؟ کیا ہم غرِیبوں کے مُقابلہ میں امیروں کی طرف داری کرتے ہیں؟
جب ہم اِن سُوالوں کا جواب دیں تو یاد رکھیں کہ گر ہم کسی چھوٹے سے چھوٹے اِیماندار کے ساتھ یہ سلوک کرتے ہیں تو ہم اپنے نجات دہندہ کے ساتھ کرتے ہیں (متّی۴۰:۲۵)۔