یَعقُوب کا عام خَط
تعارُف
’’یعقُوؔب ایک ایسا مُبلّغ ہے جو انبیا کی طرح کلام کرتا ہے ۔۔۔ وُہ ایسی زبان میں کلام کرتا ہے جس کے زور کی ابتدائی مسیحی ادب میں (یسؔوع مسیح کے سوا) کوئی مثال نہیں مِلتی‘‘۔ تھیوڈور ذَاؔہن
۱- فہرستِ مُسلّمه میں مُنفرِد مقام
مارٹن لُوتھؔر کا یہ فرمان کہ ’’یعقؔوب کا خَط بھوسے کا‘‘ ہے قطعاً غَلط ہے۔ اُس زمانے میں مُصلحِین کی اُن لوگوں سے زبردست لڑائی ہو رہی تھی جو یہ تعلیم دیتے تھے کہ نجات اِیمان اور عمل دونوں سے ہے، چنانچہ لُوتؔھر کو یعؔقوب کی نیک اعمال کی تعلیم کی وجہ سے غلَط فہمی ہُوئی۔ اِس اوّلین مسیحی خط کے بارے میں صِرف اُسے ہی غلطی نہیں لگی۔ بعض نے اِس خط کے مُتعلق کہا کہ یہ صِرف اچھے طریقے سے بیان کردہ چند ایک پَیروں کا بے ترتیب مجمُوعہ ہے جِن کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے۔ لیکن حقیقت اِس کے برعکس ہے۔ یہ چھوٹی کِتاب نصیحت آمیز تحریر کا ایک شاہکار ہے۔ یہ کافی حد تک یہُودی رنگ میں رنگی ہُوئی ہے۔ یہاں تک کہ وُہ مسیحی جماعت کے لئے یُونانی میں ’’سُناگوگے‘‘ کا لفظ اِستعمال کرتا ہے (۲:۲)- یُونانی میں یہ لفظ جماعت کے لئے اِستعمال ہوتا تھا لیکن جلد ہی یہ یہُوری جماعت کے لئے مخصُوص لَفظ بن گیا۔ یعقُوؔب اپنے پانچ مختصر اَبواب میں رُوحانی سچائی کو بیان کرنے کے لئے تیس مرتبہ فطرت کی مِثال دیتا ہے۔ اِس سے ہمارے خُداوند کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔
یہ ایک عملی خط ہے۔ اِس میں چند غیر مقبُول مَوضُوعات پر خیال آرائی کی گئی ہے۔ مثلاً اپنی زُبان کو قابُو میں رکھنا، دَولتمندوں کے سامنے جھُکنے کا خطرہ، اور اپنی زندگیوں سے یہ ظاہر کرنے کی ضرُورت کہ ہمارا ایمان حقیقی ہے۔
۲- مُصَنِّف
نام ’’یعقُوؔب‘‘ یہُودیوں میں بہُت مقبول تھا۔ نئے عہد نامہ میں اِس نام کے چار شخص مِلتے ہیں۔ کِسی نہ کِسی وقت اُن میں سے ہر ایک کے متعلق کہا گیا کہ وُہی اِس خط کا مُصنِّف ہے۔
۱۔ زبؔدی کا بیٹا اور یُوؔحَنّا رسُول کا بھائی یعقوؔب رسُول (متّی ۲۱:۴)- اگر یعقوؔب رسُول اِس خط کا مُصنِّف ہوتا تو اِتنے عرصہ تک اُسے قبُول کرنے کے بارے میں کوئی ہچکچاہٹ نہ ہوتی (نیچے دیکھئے)۔ پھِر یعقوؔب کو سن۴۴ء میں شہید کر دیا گیا تھا اور اُس وقت تک غالباً یہ خط تحریر نہیں ہُؤا تھا۔
۲۔ حلؔفئ کا بیٹا یعقوؔب (متّی ۳:۱۰)۔ یہ تقِریباً گُمنام ہے ماسوا یہ کہ اُس کا نام رسُولوں کی فہرِست میں ہے۔ یہ حقیقت کہ مُصنِّف نے اپنے آپ کو صِرف ’’یعقؔوب‘‘ ظاہر کِیا اور اِس کے ساتھ کوئی امتیازی لقب نہیں لگاتا، ظاہر کرتی ہے کہ وُہ خاصا مشہُور آدمی تھا۔
۳- یہؔوداہ (اسکریوتی نہیں، لُوقا ۱۶:۶) کا باپ یعقؔوب – یہ شخص اَور بھی زیادہ گُمنام تھا اِس لئے آسانی سے رَدّ کیا جا سکتا ہے۔
۴۔ خُداوند یُؔسوع کا سوتیلا بھائی یعقؔوب (متّی۵۵:۱۳؛ گلتیوں ۱۹:۱)۔ غالباً یہی اِس خط کا مُصنِّف تھا۔ چونکہ وُہ مسیح کے ساتھ اپنی جسمانی رشتے داری کا ذِکر نہیں کرتا (یہُؔوداہ کے خط کا تعارُف بھی دیکھئے) جِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کافی مشہور لیکن فروتن تھا۔ یہی ، یروشؔلیم کی کونسل کا صدر تھا اور اپنی موت تک اِسی عُہدے پر فائز رہا۔ وُہ اپنے طور طریقوں اور طرز زِندگی میں بڑا کٹڑ یہُودی مسیحی مانا جاتا تھا۔ اُس کا اِس قسم کا خط لِکھنا اُس کے بارے میں تارِیخ (یوسیفؔس) اور مسیحی رِوایت کی گواہی کے عَین مُطابق ہے۔
خارجی شہادت
یعقؔوب کے خط کی خارجی شہادت سب سے کمزور ہے کیونکہ آبائے کلیسیا نے اُس کی تعریف تو کی لیکن اُس کا کوئی حوالہ نہ دِیا۔ پھر یہ مرتوروی فہرستِ مُسلّمہ (عہدِ جدید) میں بھی شامِل نہیں۔ غالباً اِس کی وجہ یہ ہے کہ یہ یروشلؔیم سے مشرقی یہُودیوں کو لِکھا گیا تھا اور بعض کو ایسا نظر آتا تھا کہ وُہ ایمان سے راست باز ٹھہرنے پر پَولُسؔ کی تردید کرتا تھا۔ تاہم یعقوب کے خط کا حوالہ یروشلؔیم کے قُورلؔوس، نزؔیانز کے گریگوؔری، اثناؔسُِّیں اور جیرؔوم نے دیا ہے۔ یُوسؔیِبّیُس ہمیں بتاتا ہے کہ بعض مسیحی سمجھتے تھے کہ یہ خط اِلہامی نہیں ہے لیکن وُہ خُود اِسے پاک نوِشتوں میں شُمار کرتا ہے۔
داخِلی شہادت
یعقُوب کے خط کی داخِلی شہادت بڑی مضبُوط ہے۔ اعمال اور گلتیوں کے نام خط میں ہمیں جو یعقؔوب کے بارے میں معلُوم ہے اِس خَط کے اندراجات اُس سے میل کھاتے ہیں۔ نیز دِیگر ذرائع سے ہم جو پراگندگی کی تارِیخ کے بارے میں جانتے ہیں یہ اِس سے مُطابقت رکھتا ہے۔ اِس قِسم کی کتاب گھڑنے کی کوئی وجہ دِکھائی نہیں دیتی۔ اِس کی بُنیادی تعلیم میں بھی کوئی اِضافہ نظر نہیں آتا (جیسے کہ دُوسری صدی عِیسوی میں جعلسازی کی جاتی تھی)۔ یہُودی مُورّخ یوؔسیفس بتاتا ہے کہ یعقؔوب، یہُودیوں میں شِریعت کا بڑا کٹڑ پیروکار مانا جاتا تھا لیکن جب مسیح کی منادی کرنے پر پابندی لگائی گئی تو اُسے مسیح کی گواہی دینے کی وجہ سے شہید کر دیا گیا۔ وُہ کہتا ہے کہ یعقؔوب کو سردار کاہن حننؔیاہ کے حُکم سے سنگسار کیا گیا۔ یؔوسیبُیں کہتا ہے کہ اُسے ہَیکل کے کنگُرے سے نِیچے گرا دیا گیا اور آخرمیں ڈنڈوں سے ہلاک کیا گیا۔ ہگِسپُؔس اِن دونوں روایات کی تصدیق کرتا ہے۔
یہ دلیل کہ یعقؔوب کے خط کا یُونانی طرز ایک فلسطینی یہُوری کے لئے ناقابلِ تصُّور ہے ظاہر کرتی ہے کہ ایسے لوگ خُدا کے برگُزیدہ لوگوں کی حیران کُن ذہانت سے آگاہ نہیں ہیں۔
۳- تاریخِ تصنیف
یُوسؔیفس کہتا ہے کہ یعقؔوب کو سن۶۲ میں شہید کیا گیا، اِس لئے یہ اُس سے پہلے کا ہے۔ چونکہ اِس خط میں یروشلؔیم کی کونسل کی میٹنگ کا کوئی ذِکر نہیں مِلتا( سن ۴۹ یا سن ۴۹) جِس کا صدر خُود یعقوؔب تھا
(اعمال باب ۱۵) اور جِس میں شریعت کے بارے میں فیصلہ کیا گیا اِس لئے اِس کی تاریخِ تصنیف عام طور پر سن۴۵ اور سن ۴۸ کے درمیان مانی جاتی ہے۔
۴۔ پَس منظر اور مضامِین
ممکِن ہے یہ نئے عہد نامہ کی پہلی کتاب ہو، چنانچہ اِس میں بُہت زیادہ یہُودی رنگ پایا جاتا ہے۔ ہمیں اِس کی تعلیم کو کِسی اور زمانہ پر چَسپاں نہیں کرنا چاہئے۔ اِس کی تعلیم کا اطلاق اِس زمانہ میں ہم پر بھی ہوتا ہے اور اِس کی سخت ضرُورت بھی ہے۔
یعقؔوب پہاڑی وعظ میں خُداوند یسؔوع کی تعلیمات پر بُہت زیادہ اِنحصار کرتا ہے۔ اِس کو درجِ ذیل موازنہ سے بخُوبی دیکھا جا سکتا ہے :
| مضمُون | یعقُوب | پہاڑی وعظ |
| ۱۔ مُصیبت میں پڑنا | ۲:۱، ۱۲؛۱۰:۵ | متّی ۱۰:۵۔۱۲ |
| ۲۔ دُعا | ۵:۱؛۳:۴؛۱۳:۵۔۱۸ | متّی۶:۶۔۱۳؛۷:۷۔۱۶ |
| ۳۔ دُرست آنکھ | ۸:۱؛۸:۴ | مَتّی ۲۲:۶۔۲۳ |
| ۴۔ دولت | ۱۱،۱۰:۱؛۷،۶:۲ | متّی۱۹:۶۔۲۴،۲۱۔۳ |
| ۵۔غضب | ۲۰،۱۹:۱؛۱:۴ | متّی ۲۲:۵ |
| ۶۔ شریعت | ۲۵:۱؛۱۳،۱۲،۱:۲ | متّی ۱۷:۵۔۴۴ |
| ۷۔ محض پیشہ/ شُغل | ۲۷،۲۶:۱ | متّی ۱:۶۔۱۸ |
| ۸۔ شاہی شریعت | ۸:۲ | متّی ۱۲:۷ |
| ۹۔ رحم | ۱۳:۲ | متّی ۷:۵ |
| ۱۰۔ ایمان اور عمل | ۱۴:۲۔۲۶ | متّی ۱۵:۷۔۲۷ |
| ۱۱۔ جڑ اور پھل | ۱۱:۳۔۱۲ | متّی ۱۶:۷۔۲۰ |
| ۱۲۔ حقیقی حکمت | ۱۳:۳ | متّی ۲۴:۷ |
| ۱۳۔ صُلح کرانے والے | ۱۷:۳۔۱۸ | متّی ۹:۵ |
| ۱۴۔ دُوسروں پر اِلزام لگانا | ۱۲،۱۱:۴ | متّی ۱:۷۔۵ |
| ۱۵۔ بِگڑا مال | ۲:۵ | متّی ۱۹:۶ |
| ۱۶۔ قَسم کھانا | ۱۲:۵ | متّی ۳۳:۵۔۳۷ |
اِس خط میں شریعت کا باربار حوالہ دیا گیا ہے۔ اُسے ’’کامِل شریعت‘‘ (۲۵:۱)، ’’بادشاہی شریعت‘‘ (۸:۲)، اور آزادی کی شریعت‘‘ (۱۲:۲) کہا گیا ہے۔ یعقؔوب کا خط یہ تعلیم نہیں دیتا کہ اِس کے قارئین نجات کے لئے شریعت کے ماتحت ہیں یا شریعت زِندگی کا اصُول ہے۔ بلکہ وُہ لوگ جو فضل کے ماتحت ہیں اُن کی ہدایت کے لئے وُہ شریعت کے حِصّوں کو پیش کرتا ہَے۔
اِس خط میں بُہت سی باتیں امتثال کی کتاب سے بھی مُطابقت رکھتی ہیں۔ امثال کی طرح اِس کا طرز بھی کھُردرا، شوخ، واضِح اور ایسا ہے جِس کو بیان کرنا مُشکِل ہے۔ لفظ ’’حِکمت‘‘ بار بار اِستعمال ہؤا ہے۔
یعقُوب کے خَط میں ایک اَور کلیدی لَفظ ’’بھائی‘‘ ہے۔ یہ پندرہ مرتبہ آیا ہے اور یاد دِلاتا ہے کہ یعقؔوب یہ خط ایمان داروں کو لِکھ رہا ہے، حالانکہ بعض اَوقات ایسا محسُوس ہوتا ہے کہ وُہ بے ایمانوں سے مخاطب ہے۔ دُوسرے مُصنّفین کی نِسبت یعقوؔب افراط سے ہِدایات دیتا ہے۔ ۱۰۸ آیات میں وُہ ۵۴ احکامات دَرج کرتا ہے۔
| خاکہ | |||
| ۱۔ | سلام ودُعا | ۱:۱ | |
| ۲۔ | آزمائشیں | ۲:۱۔۱۷ | |
| ۳۔ | کلامِ خُدا | ۱۸:۱۔۲۷ | |
| ۴۔ | طرفدار کی مَذّمت | ۱:۲۔۱۳ | |
| ۵۔ | ایمان اور عمل | ۱۴:۲۔۲۶ | |
| ۶۔ | زُبان ۔ اِس کا درست اور غلط استعمال | ۱:۳۔۱۲ | |
| ۷۔ | حِکمت: حقیقی اور باطل | ۱۳:۳۔۱۸ | |
| ۸۔ | خواہش: اِس کی وجہ اور علاج | باب ۴ | |
| ۹۔ | امیر اور اُن کی آنے والی مُصیبت | ۱:۵۔۶ | |
| ۱۰۔ | صبر کے لئے نِصیحت | ۷:۵۔۱۲ | |
| ۱۱۔ | دُعا اور بیماروں کی شِفا | ۱۳:۵۔۲۰ | |