۶۔ دوسری نبوت یا بار __مسیحِ موعود کی دوسری آمد پر زور (ابواب ۱۲۔۱۴)
الف۔ یروشلیم دوسری قوموں کے لئے باعثِ تکلیف ہو گا(۱۲: ۱۔۳)
یہاں غیر یہودی قومیں مستقبل میں کسی روز یروشلیم کے مقابل جمع ہوتی دِکھائی دیتی ہیں۔ جو اِس شہر کو پریشان کرتے ہیں اُن سب کو بڑی تکالیف اور مصائب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اِس بھاری پتھر (خراس کے پتھر) کو اُٹھانے کی کوشش کرنے والے خود اپنے آپ کو زخمی اور گھائل کر لیں گے۔
ب۔ خداوند یہوداہ کے دشمنوں کو نیست کرے گا (۱۲:۴)
اُس روز خداوند حملہ آوروں کو مارے گا۔ وہ حملہ آور سوار اور گھوڑے دونوں کو اندھا کر دے گا اور اُن پر گھبراہٹ طاری کر دے گا۔
ج۔ یہودی تسلیم کریں گے کہ خدا ہماری قوت ہے (۱۲: ۵)
یروشلیم سے باہر یہوداہ کے فرماں روا (گورنر) اپنے دل میں کہیں گے کہ یروشلیم کے باشندوں کو خداوند خدا سے توانائی حاصل ہے۔
د۔ یہوداہ اپنے دشمنوں کو کھا جائے گا اور فتح حاصل کرنے والا پہلا (ملک) ہو گا (۱۲: ۶۔۹)
اُس روز یہوداہ کے فرماں روا (گورنر) کھا جانے والی آگ کی مانند ہوں گے۔ وہ جس چیز کو چھوئیں گے جلا کر رکھ دیں گے۔ شہر سے باہر کے علاقوں کے یہوداہ کے باشندوں کو پہلے فتح حاصل ہو گی۔ چنانچہ یروشلیم اُن پر سبقت نہ لے جائے گا یعنی یروشلیم کے باشندے یہوداہ کے مقابل فخر نہ کر سکیں گے۔ خداوند یروشلیم کے باشندوں کو بچائے گا اور زور بخشے گا اور حملہ کرنے والی ساری قومیں ہلاک اور نیست ہو جائیں گی۔
ہ۔ قوم ماتم کرے گی کہ ہم نے مسیحِ موعود کو ردّ کیا (۱۲: ۱۰۔۱۴)
یہودی لوگ مسیحِ موعود پر جسے اُنہوں نے چھیدا تھا نظر کریں گے اور بہت ماتم کریں گے۔ ’’وہ اُس پر جس کو اُنہوں نے چھیدا ہے نظر کریں گے اور اُس کے لئے ماتم کریں گے جیسا کوئی اپنے اکلوتے کے لئے کرتا ہے‘‘ (آیت ۱۰ ب)۔ جس کو اُنہوں نے چھیدا وہ خداوند یسوع مسیح تھا۔ اکلوتے بیٹے کا ماتم کسی اِسرائیلی کے لئے سب سے گہرا دُکھ ہوتا تھا۔ ہدد رمون کے ماتم (آیت ۱۱) کے لئے دیکھئے ۲۔تواریخ ۳۵: ۲۰۔۲۴۔ ماتم کرنے والوں میں شاہی گھرانا، انبیا (ناتن)، کاہن (لاوی)، شرع کے عالم (سمعی) اور باقی سب لوگ شامل ہوں گے۔ بعض علما کا خیال ہے کہ سمعی دراصل شمعون ہونا چاہئے جس نے لاوی کے ساتھ مل کر سکم کے آدمیوں کے ساتھ بہت سخت سلوک کیا تھا (پیدائش ۳۴: ۲۵)۔ غور کریں کہ لفظ الگ بار بار دُہرایا گیا ہے (آیات ۱۲۔۱۴)۔ سچے اور دلی اِقرار کا تقاضا ہے کہ ہم خدا کے ساتھ اکیلے (الگ) ہوں۔
مقدس کتاب
۱ اسرائیل کی بابت خُداوند کی طرف سے بارنُبوت خُداوند جو آسمان کو تانتا اور زمین کی بُنیاد ڈالتا اور انسان کے اندر اُس کی رُوح پیدا کرتا ہے اور یُوں فرماتا ہے۔
۲ دیکھو میں یروشیلم کو اردگرد کے سب لوگوں کے لے لڑ کھڑااہٹ کا پیالہ بناوں گا اور یروشیلم کے مُحاصرہ کے وقت یہُوداہ کا بھی یہی حال ہوگا۔
۳ اور میں اُس روز یروشیلم کو سب قوموں کے لے ایک بھاری پتھر بنا دوں گا اور اُسے اُٹھائیں گے سب گھایل ہوں گے اور دُنیا کی سب قومیں اُس کے مُقابل جمع ہوں گی۔
۴ خُداوند فرماتا ہے میں اُس روز ہر گھوڑے کو حیرت زدہ اور اُس کے سوار کو دیوانہ کر دوں گا لیکن یہُوداہ کے گھرانے پر نگاہ رکھوں گا اور قوموں کے سب گھوڑوں کو اندھا کردوں گا۔
۵ تب یہُوداہ کے فرما نروادل میں کہیں گے کہ یروشیلم کے باشندے اپنے خُدا ربُ الافواج کے سبب سے ہماری توانائی ہیں۔
۶ میں اُس روز یہُوداہ کے فرما نرواوں کو لکڑیوں میں جلتی انگیٹھی اور پُولوں میں مشعل کی مانند بناوں گا اور وہ دہنے بائیں اور اردگرد کی سب قوموں کو کھا جائیں گے اور اہل یروشیلم پھر اپنے مقام پر یروشیلم ہی میں آباد ہوں گے۔
۷ اور خُداوند یہُوداہ کے خیموں کو پہلے رہائی بخشے گا تاکہ داود کا گھرانا اور یروشیلم کے باشندے یہُوداہ کے خلاف فخر نہ کریں۔
۸ اُس روز خُداوند یروشیلم کے باشندوں کی حمایت کرے گا اور اُن میں کاسب سے کمزور اُس روز داود کی مانند ہوگا اور داود کا گھرانا خُداکی مانند یعنی خُداوند کے فرشتہ کی مانند جو اُن کے آگے چلتا ہو۔
۹ اور میں اُس روز یروشیلم کی سب مُخالف قوموں کی ہلاکت کا قصد کُروں گا۔
۱۰ اور میں داود کے گھرانے اور یروشیلم کے باشندوں پر فضل اور مُناجات کی رُوح نازل کُروں گا اور وہ اُس پر جس کو اُنہوں نے چھیدا ہے نظر کریں گے اور اُس کے لے ماتم کریں گے جیسا کوئی اپنے اکلوتے کے لے کرتا ہے اور اُس کے لے تلخ کام ہوں گے جیسے کوئی اپنے پہلوٹھے کے کے ہوتا ہے۔
۱۱ اور اُس روز یروشیلم میں بڑا ماتم ہوگا۔یدرمون کے ماتم کی مانند جو مجدون کی وادی میں ہوا۔
۱۲ اور تمام مُلک ماتم کرے گا۔ ہرایک گھرانا الگ۔ داود کا گھرانا الگ اور اُن کی بیویاں الگ۔ ناتن کا گھرانا الگ اور اُن کی بیویاں الگ۔
۱۳ لاوی کا گھرانا الگ اور اُن کی بیویاں الگ۔ سمعی کا گھرانا الگ اور اُن کی بیویاں الگ۔
۱۴ باقی سب گھرانے الگ الگ اور اُن کی بیویاں الگ الگ۔