زکریاہ ۱

تفسیر

۱۔ توبہ اور فرماں برداری کی نصیحت اور باپ دادا کی غلطیوںسے سبق سیکھنے کی تلقین (‏۱:‏ ۱۔۶)‏

پہلی چھے آیات تعارُفی ہیں۔ اِن میں زکریاہ بن برکیاہ کی معرفت خداوند کا پیغام ہے جس میں لوگوں کو خداوند کی طرف رجوع ہونے پر اُبھارا گیا ہے۔ آیت ۳ کتاب کے کلیدی موضوع کا اعلان ہے۔ ’’رب الافواج فرماتا ہے کہ تم میری طرف رجوع ہو‏، رب الافواج کا فرمان ہے تو مَیں تمہاری طرف رجوع ہوں گا رب الافواج فرماتا ہے۔‘‘ وہ لوگوں کو اُبھارتا ہے کہ اپنے باپ دادا کی غلطیوں سے سبق سیکھیں‏، جنہوں نے یسعیاہ‏، یرمیاہ اور ہوسیع جیسے اگلے نبیوں کی سننے سے اِنکار کیا۔ جیسا کہ خدا نے خبردار کیا تھا اُن لوگوں پر غضب نازل ہوا۔ اُس وقت اُنہوں نے احساس کیا کہ خداوند ہماری بُری رَوِشوں کے باعث ہمارے ساتھ یہ سلوک کر رہا ہے۔ 

۲۔ آٹھ رُویاؤں کا سلسلہ۔ مقصد ہے ہیکل کی تعمیر نو کی حوصلہ افزائی (‏۱:‏۷۔۶:‏۸)‏

زکریاہ کتاب کا آغاز ایک وسیع نبوتی منظرنامے سے کرتا ہے جو اُس کے اپنے زمانے سے ہزار سالہ بادشاہی کے دَور تک پھیلا ہوا ہے۔

الف۔ سرنگ گھوڑے پر سوار آدمی (‏۱:‏ ۷۔۱۷)‏

مفہوم:‏ خدا غیر قوموں سے ناراض ہے جو آرام سے بیٹھی ہیں جب کہ خدا کے لوگ دُکھ اُٹھا رہے ہیں۔ وہ اِن قوموں کو سزا دے گا اور اپنے لوگوں کو بحال اور مستحکم کرے گا۔ 

۱:‏ ۷۔۱۱ آیت ۷ سے نبی اپنے آٹھ رُویاؤں کا سلسلہ شروع کرتا ہے پہلے رُؤیا میں خداوند (‏سرنگ گھوڑے پر سوار شخص موازنہ کریں آیت ۱۱ میں خداوند کا فرشتہ)‏ اپنے کارندوں (‏غالباً فرشتوں)‏ کے ہمراہ نظر آتا ہے۔ وہ سرنگ اور کمیت اور نقرہ گھوڑوں پر سوار ہو کر ساری دُنیا کا گشت کرتے ہیں۔ نشیب یا نچلی جگہ پر مہندی کے درخت اِسرائیل کی نمائندگی کرتے ہیں جو غیر قوموں کے ماتحت اور مغلوب ہے۔ نبی اِن سواروں کا مطلب پوچھتا ہے تو ایک ترجمان فرشتہ وضاحت کرنے کا وعدہ کرتا ہے مگر خداوند (‏مہندی کے درختوں کے درمیان کھڑا شخص)‏ جواب دیتا ہے کہ اِن کا کام ساری دُنیا کا گشت کرنا ہے۔ گشت کرنے والے خداوند کو رپورٹ دیتے ہیں کہ ساری زمین میں امن و امان ہے۔ غالباً مطلب یہ ہے کہ غیر قومیں‏، اور خاص طور پر بابل آرام و سکون میں ہے جب کہ خدا کے لوگوں پر ظلم و ستم ہو رہا ہے۔ 

۱:‏ ۱۲۔۱۷ خداوند کا فرشتہ رب الافواج سے یروشلیم اور یہوداہ کی شفاعت کرتا ہے جو ستر برس سے اُجاڑ اور ویران پڑے ہیں۔ اُسے حوصلہ افزا جواب ملتا ہے تو ترجمان فرشتہ نبی سے کہتا ہے کہ بلند آواز سے اعلان کرے کہ خدا اپنے لوگوں کی خاطر مداخلت کرے گا۔ دوسری قوموں نے یہوداہ پر ظلم کرنے سے خدا کو ناراض کر دیا تھا۔ خدا یروشلیم میں واپس آئے گا اور ہیکل دوبارہ تعمیر ہو گی۔ یہاں سوت کھینچتا کا مطلب ازسرِنو تعمیر ہے جب کہ ۲۔ سلاطین ۲۱:‏ ۱۳ میں اِس (‏رسی)‏ کا مطلب بربادی ہے۔ نبی کو چاہئے کہ لوگوں کو بتائے کہ خدا یہوداہ کے شہروں کو دوبارہ خوش حالی عطا کرے گا‏، صیون کو تسلی بخشے گا اور یروشلیم کو قبول فرمائے گا۔ 

ب۔ چار سینگ اور چار کاری گر (‏۱:‏ ۱۸۔۲۱)‏

مفہوم:‏ چار غیر یہودی عالمی طاقتوں کی بربادی

اِس دوسرے رُؤیا کی پوری تکمیل مستقبل میں ہو گی۔ بتایا گیا ہے کہ چارسینگ چار قومیں ہیں جنہوں نے یہوداہ‏، اسرائیل اور یروشلیم کو پراگندہ کیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ بابل‏، مادی فارس‏، یونان اور روم کی غیر قوم عالمی سلطنتیں ہیں۔ یہ نہیں بتایا گیا کہ چار کاری گر کون ہیں۔ لیکن صاف ظاہر ہے کہ یہ ذرائع یا آلاتِ کار ہیں جنہیں خدا نے اِس لئے برپا کیا کہ یہوداہ کو پراگندہ کرنے والی غیر قوم طاقتوں کو برباد اور نیست کریں۔ جی۔ کولمین لک (‏Coleman Luck)‏ نے یوں وضاحت کی ہے:‏

’’خدا کے یہ چار آلاتِ کار (‏ذرائع)‏ کیا ہیں؟ ایک رائے یہ ہے کہ یہ خدا کی طرف سے وہ چار بڑی بلائیں ہیں جن کا ذکر حزقی ایل ۱۴:‏ ۲۱ اور مکاشفہ ۶:‏ ۱۔۸ میں آیا ہے __ یعنی جنگ‏، کال‏، جنگلی درندے اور وبا۔ دوسری رائے جو زیادہ قرینِ قیاس معلوم ہوتی ہے یہ کہ یہ یکے بعد دیگرے اُبھرنی والی چار طاقتیں ہیں جنہوں نے پچھلے رُؤیا میں مذکور چار سلطنتوں کا تختہ اُلٹا یعنی مادی فارس نے بابل کو تباہ کیا۔ یونان نے مادی فارس کو برباد کیا اور بحال شدہ رومی سلطنت مسیحِ موعود کی بادشاہی کے ہاتھوں نیست ہو گی۔ عمومی سچائی یقیناًواضح ہے کہ خدا کے لوگوں کے خلاف اُٹھنے والی ہر شریر طاقت بالآخر اُلٹ جائے گی۔ بعض علما کے مطابق چار کا عدد مخالفت کی مکمل تباہی اور نیستی کا آئینہ دار ہے جیسا کہ آٹھویں رویا میں یہ عدد چاروں اطراف کو ظاہر کرتا ہے۔ البتہ قدیم تفسیر میں خاص قوموں کا فرداً فرداً حوالہ دیا گیا ہے۔ ‘‘

مقدس کتاب

۱ دارا کے دوسرے برس کے آٹھویںمہینے میں خدا وند کا کلام زکریاہ نبی بن برکیاہ بن عرو پر نازل ہُوا۔
۲ کہ خداوند تمہارے باپ دادا سے سخت ناراض رہا۔
۳ اس لے تو اُن سے کہہ ربُ الاافوج یوں فرماتا ہے کہ تم میری طرف رجوع ہُو رب الافواج کا فرمان ہے تو میں تمہاری طرف رجوع ہوں گا ربُ الا فواج فرماتا ہے ۔
۴ تُم اپنے باپ دادا کی مانند نہ بنو جن سے اگلے نبیوں نے بآواز بلند کہا ربُ الافواج یُوں فرماتا ہے کہ تُم اپنی بُری روش اور بداعمالی سے باز آو پر اُنہوں نے نہ سُنا اور مجھے نہ مانا خُداوند فرماتا ہے۔
۵ تمہارے باپ دادا کہاں ہیں؟ کیا انبیا ہمیشہ زندہ رہتے ہیں؟۔
۶ لیکن میرا کلام اور میرے آئین جو میں نے اپنے خدمت گزار نبیوں کو فرماے تھے کیا وہ تُمہارے باپ دادا پر پُورے نہیں ہُوے؟ چُنانچہ اُنہوں نے رجوع لا کر کہا کہ رب الافواج نے اپنے ارادہ کے مطابق ہماری عادات اور ہمارے اعمال کا بدلہ دیا ہے۔
۷ داراکے دُوسرے برس اور گیارھویں مہنیے یعنی ماہ سباط کی چوبیسویں تاریخ کو خدا وندکا کلام زکریاہ نبی بن برکیاہ بن عد وپر نازل ہوا۔
۸ کہ میں نے رات کو رویا میں دیکھا کہ ایک شخص سُرنگ گھوڑے پر سوار مہندی کے درختوں کے درمیان نشیب میں کھڑا تھا اور اُس کے پیچھےسُرنگ اورکُمیت اور نقرہ گھوڑے تھے۔
۹ تب میں نے یہ کہا اے میرے آقا یہ کیا ہیں؟ اس پر فرشتے نے جو مُجھ سے گفتگو کرتا تھا کہا میں تجھے دیکھاوں گا کہ یہ کیا ہیں۔
۱۰ اور جو شخص مہندی کے درختوں کے درمیان کھڑا تھا کہنے لگا یہ وہ ہیں جن کو خداوند نے بھیجا ہے کہ ساری دُنیا میں سیر کریں۔
۱۱ اور اُنہوں نے خداوند کے فرشتہ سے جو مہندی کے درختوں کے درمیان کھڑا تھا کہا ہم نے ساری دُنیا کی سیر کی ہے اور دیکھا کہ ساری زمین میں امن و امان ہے۔
۱۲ پھر خدا وند کے فرشتے نے کہا اے رب الافواج تُو یروشیلم اور یُہوداہ کے شہروں پر جن سے تُو ستر برس سے ناراض ہے کب تک رحم نہ کرے گا؟۔
۱۳ اور خداوند نے اُس فرشہ کو جو مُجھ سے گفتگو کرتا تھا مُلائم اور تسلی بخش جواب دیا۔
۱۴ تب اُس فرشہ نے جو مجھ سے گفتگو کرتا تھا مجھ سے کہا بُلند آواز سے کہہ رُب الافواج یُوں فرماتا ہے کہ مُجھے یروشیلم اور صیون کے لے بڑی غیرت ہے۔
۱۵ اور میں اُن قوموں سے جو آرام میں ہیں نہایت ناراض ہوں کیونکہ جب میں تھوڑا ناراض تھا تُو اُنہوں نے اُس آفت کو بُہت زیادہ کر دیا۔
۱۶ اس لے خداوند یوں فرماتا ہے کہ میں رحمت کے ساتھ یروشیلم کو واپس آیا ہوں۔ اُس میں میرا مسکن تعمیر کیا جاے گا ربُ الافواج فرماتا ہے اور یروشیلم پر پھر کھینچا جاے گا۔
۱۷ پھر بُلند آواز سے کہہ ربُ الافواج ی؃وں فرماتا ہے کہ میرے شہر دوبارہ خُوشحالی سے معمُور ہوں گے کیونکہ خُداوند پھر ڈیون کو تسلی بخشے گا اور یروشیلم کو قبول فرماے گا۔
۱۸ پھر میں نے آنکھ اُٹھا کر نگاہ کی اور کیا دیکھتا ہُوں کہ چار سینگ ہیں۔
۱۹ اور میں نے اُس فرشتہ سے جو مجھ سے گفتگو کرتا تھا پوھا کہ یہ کیا ہیں؟ اُس نے مجھے جواب دیا یہ وہ سینگ ہیں جنہوں نے یُہوداہ اور اسرائیل اور یروشیلم کو پراگندہ کیا ہے۔
۲۰ پھر خداوند نے مُجھے چار کاریگر دکھاے۔
۲۱ تب میں نے کہا یہ کیوں آے ہیں؟ اُس نے جواب دیا یہ وہ سینگ ہیں جنہوں نے یہُوداہ کو ایسا پراگندہ کیا کہ کوئی سر نہ اُٹھا سکا لیکن یہ اس لے آے کہ اُن کو ڈرائیں اور اُن قوموں کے سینگوں کو پست کریں جنہوں نے یہُوداہ کے مُلک کو پراگندہ کرنے کے لے سینگ اُٹھایا۔