۴۔ بیت ایل کے یہودیوں کا روزہ جاری رکھنے کے بارےمیں اِستفسار (ابواب ۷،۸)
الف۔ روزے کے متعلق سوال (۷: ۱۔۳)
ابواب ۷ اور ۸ ایک الگ حصہ ہیں جن میں روزے کے موضوع پر بات کی گئی ہے۔ بیت ایل ۱ سے ایک وفد یہ پوچھنے کو آیا کہ کیا ہم سقوطِ یروشلیم کی سالانہ یادگاری کے موقعے پر روزہ رکھیں یا نہ رکھیں۔ وہ ستر برس ایسا کرتے ہوئے آئے تھے۔
ب۔ پہلا پیغام (۷: ۴۔۷)
مفہوم: روزہ، خدا کی نہیں بلکہ اُن کی اپنی تجویز تھی۔ خداوند فقط رسم نہیں بلکہ حقیقت اور سچائی طلب کرتا ہے۔
مندرجہ بالا سوال کا جواب چار واضح پیغامات (۷: ۴۔۷؛ ۷: ۸۔۱۴؛ ۸: ۱۔۱۷؛ ۸: ۱۸۔۲۳) میں دیا گیا ہے۔ پہلے پیغام میں خدا اُنہیں یاد دلاتا ہے کہ پانچویں اور ساتویں مہینے میں روزہ تم نے خود مقررہ کیا تھا مَیں نے نہیں کیا۔ تمہارا روزے رکھنا اور عیدیں منانا اور ضیافتیں کرنا میرے لئے نہیں بلکہ خود تمہارے اپنے لئے تھا۔ یروشلیم کی بربادی سے پہلے گذشتہ نبیوں نے لوگوں کو خبردار کیا تھا کہ خدا رسموں کو نہیں بلکہ راست بازی، صداقت اور حقیقت چاہتا ہے۔
ج۔ دوسرا پیغام (۷: ۸۔۱۴)
مفہوم: لوگوں پر غضب اِس لئے نازل ہوا کیونکہ اُنہوں نے اِنصاف، راست بازی اور رحم کرنا ترک کر دیا تھا۔
دوسرے پیغام میں خدا وضاحت کرتا ہے کہ قوم پر غضب کیوں نازل ہوا۔ اُس نے
لوگوں سے کہا تھا کہ راستی، اِنصاف، رحم اور ترس کو عمل میں لائیں۔ لیکن اُنہوں نے اپنے
۱ عبرانی میں بیت ایل کا مطلب ہے، خدا کا گھر، لیکن یہاں واضح ہے کہ یہ شہر کا نام ہے۔ غالباً اِس ابہام کے تدارک کے لئے اگلی آیت میں ترجمہ رب الافواج (یہوواہ) کا گھر کیا گیا ہے۔
کانوں کو بند کیا تاکہ نہ سنیں۔ غور کریں کہ نافرمانی کا نتیجہ کیا ہوا __ خدا کی طرف سے قہر شدید، دعاؤں کا جواب نہ ملنا اور لوگوں کا ’’سب (غیر) قوموں میں … پراگندہ ہونا‘‘ اور ملک کی ویرانی۔ دوسرے لفظوں میں جس روزے کے بارے میں وہ اِستفسار کر رہے تھے وہ اُن کی اپنی خطاکاری، گناہ آلودگی اور نافرمانی کا نتیجہ تھا۔ وِلیم کیلی خبردار کرتا ہے:
’’رسومات کچھ بھی کرتی ہوں خدا کے حضور وہ ایمان کا بدل ہرگز نہیں ہو سکتیں
اور نہ عملی راست بازی (راست بازی کے کاموں) کی جگہ لے سکتی ہیں۔‘‘
مقدس کتاب
۱ دارا بادشاہ کی سلطنت کے چوتھے برس کے نویں مہینے یعنی کسلیو مہینے کی چوتھی تاریخ کوخُداوند کا کلام زکریاہ پر نازل ہُوا۔
۲ اور بیت ایل کے باشندوں نے شراضراور رجم ملک اور اُس کے لوگوں کو بھیجا کہ خُداوند سے درخواست کریں ۔
۳ اور ربُ الافواج کے گھر کے کاہنوں اور نبیوں سے پُوچھیں کہ کیا میں پانچویں مہنیے میں گوشہ نشین ہو کر ماتم کُروں جیسا کہ میں نے سالہا سال سے کیا ہے؟۔
۴ تب ربُ الافواج کا کلام مُجھ پر نازل ہُوا ۔
۵ کہ مملکت کے سب لوگوں اور کاہنوں سے کہہ کہ جب تُم نے پانچویں اور ساتویں مہینے میں ان ستر برس تک روزہ رکھا اور ماتم کیا تو کیا کیا کبھی میرے لے خاص میرے ہی لے روزہ رکھا تھا؟۔
۶ اور جب تُم کھاتے پیتے تھے تو اپنے ہی لے نہ کھاتے پیتے تھے؟۔
۷ کیا یہ وہی کلام نہیں جو خُداوند نے گذشتہ نبیوں کی معرفت فرمایا جب یروشیلم آباد اور آسودہ حال تھا اور اُس کی نواحی کے شہر اور جنُوب کی سر زمین اور میدان آباد تھے؟۔
۸ پھر خُداوند کا کلام زکریاہ پر نازل ہوا ۔
۹ کہ ربُالافواج نے یُوں فرماں تھا کہ راستی سے عدالت کرو اور ہر شخص اپنے بھائی پر کرم اور رحم کیا کرے۔
۱۰ اور بیوہ اعر یتیم اور مُسافر اور مسکین پر ظلم نہ کرو اور تُم میں سے کوئی اپنے بھائی کے خلاف دل میں بُرا منصوبہ نہ باندھے۔
۱۱ لیکن وہ شنوانہ ہُوے بلکہ اُنہوں نے گردن کشی کی اور اپنے کانوں کو بند کیا تاکہ نہ سُنیں ۔
۱۲ اور اُنہوں نے اپنے دلوں کو الماس کی مانند سخت کیا تاکہ شریعت اور اُس کلام کو سُنیں جو ربُ الافواج نے گزشتہ نبیوں پر اپنی رُوح کی معرفت نازل فرمایا تھا اس لے ربُ الافواج کی طرف سے قہر شدید نازل ہُوا۔
۱۳ اور ربُالافواج نے فرمایا تھا جس طرح میں نے پُکار کر کہا اور وہ شنوا نہ ہُوے اُسی طرح وہ پُکاریں گے اور میں نہیں سُنوں گا۔
۱۴ بلکہ اُن کو سب قوموں میں جن سے وہ ناواقف ہیں پراگندہ کروں گا۔ یُوں اُن کے بعد مُلک ویراب ہُوا یہاں تک کسی نے اُس میں آمدورفت نہ کی کیونکہ اُنہوں نے اُس دلکشا مُلک کو ویران کر دیا ۔