۹۔ دانی ایل کا رُؤیا کہ ستّر ہفتوں تک غیر یہودیوں کو برتریحاصل رہے گی (باب ۹)
۹: ۱، ۲ اِس باب کے واقعات کا تعلق دارا مادی کے دَورِ حکومت سے ہے۔ یرمیاہ نبی کے صحیفے کے مطالعے سے دانی ایل کو یقین ہو گیا کہ ستّر سالہ اسیری ختم ہونے کو ہے۔
۹: ۳۔ ۱۹ اُس نے اپنے اور اپنے لوگوں (اُس نے ہم کا لفظ استعمال کیا) کے گناہوں کا اِقرار کیا اور خدا سے منت کی کہ یروشلیم اور یہوداہ کے لوگوں کے حق میں اپنا وعدہ پورا کرے۔ دعاؤں کے جواب میں خدا نے دانی ایل نبی کو ستّر ہفتوں کا رُؤیا عطا کیا جسے بائبل کی نبوت کی ریڑھ کی ہڈی کہا جاتا ہے۔
دانی ایل کی التماس اور منت کی بنیاد خدا کی ذاتی صفات یعنی عظمت، ہیبت، وفاداری، صداقت، مغفرت اور رحمت پر تھی۔ مزید برآں وہ خدا کی محبت کا سہارا لیتا ہے (اپنے لوگوں، اپنے شہر یروشلیم، اپنے کوہِ مقدس، اپنے مَقدِس، میں خدا کے حوالے سے لفظ ’’اپنے‘‘ پر غور کریں)۔
۹: ۲۰۔۲۳ دانی ایل دعا کر ہی رہا تھا کہ جبرائیل فرشتہ حکم کے مطابق تیز پروازی کرتا ہوا دانی ایل کے پاس آیا۔ یہ شام کی قربانی گزراننے کا وقت تھا۔ جبرائیل نے اُسے بتایا کہ’’ تُو بہت عزیز ہے‘‘۔ یہ بہت بڑا اعزاز ہے جو خود خدا کی طرف سے عطا ہوا۔ اِس کے بعد فرشتے نے اُسے ستر ہفتوں کے استعارے میں یہودی قوم کی مستقبل کی تاریخ کا خاکہ سمجھایا۔ ہر ایک ہفتے سے مراد سات سال کا عرصہ ہے۔ چونکہ خدا کے پروگرام کو سمجھنے میں یہ نبوت نہایت اہم مقام رکھتی ہے اِس لئے ہم جملہ بہ جملہ اِس پر غور کریں گے۔
۹: ۲۴ ’’تیرے لوگوں (اِسرائیل) اور تیرے مقدس شہر (یروشلیم) کے لئے ستّر ہفتے مقرر کئے گئے۔‘‘ تاریخ کے اعتبار سے نبوت کی تکمیل ثابت کرتی ہے کہ ہفتے سالوں کے ہفتے ہیں۔ یوں ستّر ہفتے ۴۹۰ سالوں کے برابر ہیں۔ ہم دیکھیں گے کہ ستّر ہفتے، سات ہفتوں اور باسٹھ ہفتوں میں اور ایک وقفے کے بعد آخری ہفتے میں تقسیم کئے گئے ہیں۔ اِن ستّر ہفتوں کے اِختتام پر ذیل کی چھے باتیں واقع ہوں گی:
’’خطا کاری اور گناہ کا خاتمہ‘‘۔ عام مفہوم میں اِس کا اطلاق اسرائیل کی گناہ آلود رَوِشوں پر ہوتا ہے۔ البتہ خاص مفہوم میں مطلب ہے قوم کا مسیحِ موعود کو ردّ کرنا۔ مسیح کی دوسری آمد پر ایک بقیہ ایمان کے ساتھ مسیح کی طرف رجوع ہو گا اور قوم کی خطاکاری اور گناہ معاف کئے جائیں گے۔
’’بدکرداری کا کفارہ‘‘۔ اِس کفارہ (میل ملاپ) کی بنیاد کلوری پر رکھی گئی، لیکن اِس کا اِشارہ اُس وقت کی طرف ہے جو تاحال مستقبل میں ہے جب اِسرائیل قوم کا ایمان دار حصہ مسیح کے نجات کے مکمل کام سے اِستفادہ کرے گا اور اِس سے فیض یاب ہو گا۔
’’ابدی راست بازی قائم ہو‘‘۔ یہ بھی دوسری آمد اور ہزار سالہ دَور کی طرف اِشارہ ہے جب (مسیح) بادشاہ صداقت (راستی) سے حکومت کرے گا۔ ابدی راست بازی کا مطلب ہے کہ یہ ابدیت تک جاری یا قائم رہے گی۔
’’رُؤیا و نبوت پر مُہر‘‘۔ پرانے عہدنامے کی اکثر و بیشتر نبوت کا محور و مرکز مسیح کا جلال کے ساتھ زمین پر واپس آنا اور سلطنت قائم کرنا ہے۔ اِس لئے نبوت کا بہت بڑا حصہ ستّر ہفتوں کے بعد پورا ہو گا۔
’’پاک ترین مقام ممسوح کیا جائے‘‘۔ ہزار سالہ دَور کے شروع میں یروشلیم میں اُس مقدس (مسکن) کی تقدیس کی جائے گی جس کا ذکر حزقی ایل ابواب ۴۰ تا ۴۴ میں ہے۔ خداوند کی ذات کی صورت میں جلال واپس آئے گا (حزقی ایل ۴۳: ۱۔۵)۔
۹: ۲۵ ’’پس تُو معلوم کر اور سمجھ لے کہ یروشلیم کی بحالی اور تعمیر کا حکم صادر ہونے سے …‘‘ یہ ۴۴۵ ق م میں ارتخششتا بادشاہ کا فرمان ہے (نحمیاہ ۲: ۱۔۸)۔
’’ممسوح فرماں روا تک‘‘۔ یہ نہ صرف مسیح کی پہلی آمد کی طرف بلکہ خصوصیت سے اُس کی موت کی طرف اِشارہ ہے (دیکھئے آیت ۲۶ الف)۔
سات ہفتے (۴۹ برس) اور باسٹھ ہفتے (۴۳۴ برس) ہوں گے۔ اُنہتّر ہفتوں کو دو مدتوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ساٹھ ہفتے اور باسٹھ ہفتے۔
مصیبت کے ایام میں بھی شہر اپنے بازار اور فیصل سمیت دوبارہ تعمیر کیا جائے گا۔ یروشلیم (پہلے سات ہفتوں کے دوران) عام بازار اور حفاظتی خندق /کھائی سمیت دوبارہ تعمیر ہو گا، لیکن بہت مخالفت اور ہنگامہ اور فساد بھی ہو گا۔
۹: ۲۶ ’’پھر باسٹھ ہفتوں کے بعد وہ ممسوح قتل کیا جائے گا۔‘‘ یہاں یقینی حوالہ ہے کہ ہمارا منجی صلیبی موت مرے گا۔ ایک صدی ہوئی کہ سررابرٹ اینڈرسن نے اپنی کتاب ’’The Coming Prince‘‘ میں اُنہتر ہفتوں کا تفصیلی حساب پیش کیا تھا۔ اُس نے نبوتی سالوں، لیپ کے سالوں، کیلنڈر میں غلطیوں وغیرہ کا لحاظ رکھا تھا۔ وہ اِس نتیجے پر پہنچا تھا کہ اُنہتّر ہفتے عین اُس دن ختم ہوئے جب یسوع اپنی موت سے پانچ دن پہلے شاہانہ انداز میں یروشلیم میں داخل ہوا تھا۔
’’اور اُس کا کچھ نہ رہے گا‘‘۔ مراد یہ ہے کہ وہ قتل کیا جائے گا، لیکن اپنے لئے یا اپنی خاطر نہیں۔ مطلب یہ بھی ہے کہ اُس کو اِسرائیلی قوم سے جس کی خاطر وہ آیا تھا کچھ حاصل نہ ہوا۔ یا یہ کہ بظاہر اُس کی نسل باقی نہ رہی (یسعیاہ ۵۴:۸)۔ علاوہ ازیں یہ اُس کی اِنتہائی غریبی کا اِشارہ بھی ہو سکتا ہے۔ اُس نے سوائے اپنے تن کے کپڑوں کے کچھ پیچھے نہ چھوڑا۔
’’اور ایک بادشاہ آئے گا جس کے لوگ‘‘۔ یہ آنے والا بادشاہ بحال شدہ رومی سلطنت کا سربراہ ہو گا۔ بعض علما اِسے مخالفِ مسیح قرار دیتے ہیں۔ وہ بڑی مصیبت کے دوران برسرِ اِقتدار آئے گا۔
’’… شہر اور مَقدِس کو مسمار کریں گے‘‘۔ رومیوں نے ططس کے ماتحت ۷۰ء میں شہر یروشلیم کو اور اُس کی سفید سنگِ مرمر اور سونے سے آراستہ ہیکل کو مسمار کیا۔
’’اور اِس کا انجام گویا طوفان سے ہو گا‘‘۔ شہر کو ڈھا کر ایسا ہموار کر دیا گیا جیسے کوئی زبردست سیلاب آیا ہو۔ مثال کے طور پر ہیکل کا کوئی پتھر دوسرے پتھر پر نہ رہنے دیا گیا۔ ططس نے اپنے سپاہیوں کو ہیکل کو نذرِ آتش کرنے سے منع کیا تھا، لیکن سونا حاصل کرنے کی دُھن میں اُنہوں نے حکم عدولی کی اور یوں سونا پگھلا دیا۔ اِس سونے کو کامیابی سے حاصل کرنے کی خاطر اُنہیں ایک ایک پتھر اُکھاڑنا پڑا۔ اِس طرح دانی ایل کی پیش گوئی اور متی ۲۴: ۱،۲ میں مسیح کے الفاظ تکمیل کو پہنچے۔
’’اور آخر تک لڑائی رہے گی‘‘۔ بربادی مقرر ہو چکی ہے۔ اِس کے بعد سے یروشلیم شہر کی تاریخ جنگ و جدل اور تباہی و بربادی کی تاریخ رہی ہے۔ یہاں آخر تک کا مطلب ہے غیر قوموں کے وقت (دَور) کا اِختتام ہے۔
۹: ۲۷ اب ہم ستّرویں ہفتے پر آتے ہیں۔ جیسا کہ اُوپر ذکر ہوا اُنہتّرویں اور ستّرویں ہفتے کے درمیان ایک عرصے کا وقفہ ہے۔ یہ درمیانی عرصہ کلیسیائی دَور ہے جو پنتکست سے کلیسیا کے آسمان پر اُٹھائے جانے (یا ہوا میں مسیح کا اِستقبال کرنے) تک کے عرصے پر محیط ہے۔ پرانے عہدنامے میں اِس کا کبھی واضح بیان نہیں ہوا۔ یہ راز تھا جو دُنیا کی اِبتدا سے خدا میں پوشیدہ مگر نئے عہدنامے کے زمانے میں رسولوں اور نبیوں کی معرفت ظاہر کیا گیا۔ البتہ اِس وقفے کا اصول ہمارے خداوند نے ناصرت کے عبادت خانے میں عمدگی اور وضاحت سے بیان کیا (لوقا ۴: ۱۸،۱۹)۔ یسوع نے یسعیاہ ۶۱: ۱،۲ کا اِقتباس کیا اور ’’خداوند کے سالِ مقبول کی منادی کروں‘‘ (پہلی آمد) کے بعد کا حصہ چھوڑ دیا کہ ’’ اپنے خدا کے اِنتقام کے روز کا اِشتہار دوں‘‘ (یسعیاہ ۶۱: ۲ ب) کیونکہ یہ دوسری آمد پر عدالت کا بیان ہے اور پورا درمیانی عرصہ کلیسیائی دَور ہے۔
اور وہ (رومی بادشاہ) ’’بہتوں سے عہد قائم کرے گا۔‘‘ یہاں بہتوں سے مراد ہے اِسرائیلی قوم کے بے ایمان افراد جو اکثریت میں ہوں گے۔ ایک ہفتہ بڑی مصیبت کے سات سال ہیں۔ یہ دوستی کا معاہدہ، ظلم اور زیادتی نہ کرنے کا معاہدہ ہو گا۔ یا اِسرائیل پر کسی دوسری قوم کے حملہ کرنے کی صورت میں فوجی امداد دینے کا معاہدہ ہو گا۔
اور ’’نصف ہفتے میں وہ ذبیحہ اور ہدیہ موقوف کرے گا۔‘‘ رومی فرماں روا اِسرائیل کا مخالف اور دشمن ہو جائے گا اور یہوواہ کے لئے قربانی اور ہدیئے چڑھانے سے روک دے گا۔
’’فصیلوں پر اُجاڑنے والی مکروہات رکھی جائیں گی۔‘‘ متی ۲۴:۱۵ سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ وہ ہیکل میں بت پرستی کی مکروہات کھڑی کرے گا اور اُنہیں سجدہ کرنے کا حکم دے گا۔
’’یہاں تک کہ بربادی کمال کو پہنچ جائے گی۔‘‘ وہ بت کو سجدہ کرنے سے اِنکار کرنے والوں کو اذیتیں دے گا اور ہلاک کرے گا۔
’’اور وہ بلا جو مقرر کی گئی ہے اُجاڑنے والے پر واقع ہو گی۔‘‘ ستّرویں ہفتے کے نصف آخر میں یہودیوں پر ظلم و ستم اور ایذارسانی جاری رہے گی۔ اِن دونوں کو بڑی مصیبت کے ایام کہا جاتا ہے۔ پھر جیسا خدا نے فرمایا اور ٹھہرایا ہے وہ رومی فرماں روا یعنی وہ اُجاڑنے والا، ہلاک کیا اور آگ کی جھیل میں ڈالا جائے گا (مکاشفہ ۱۹:۲۰)۔
مقدس کتاب
۱ دارا بن اخسویرس جو مادیوں کی نسل سے تھا اور کسدیوں کی ممُلکت پر بادشاہ مُقرر ہُوا اس کے پہلے سال میں ۔
۲ یعنی اُس کی سلطنت کے پہلے سال میں دانی ایل نے کتابوں میں اُن برسوں کا حساب سمجھا جن کی بابت خُداوند کا کلام پر میاہ نبی پر نازل ہُوا کہ یروشیلم کی بربادی پر ستر برس پُورے گُزریں گے۔
۳ اور میں نے خُداوند خُدا کی طرف رُخ کیا اور میں منت اور مُناجات کر کے اور روزہ رکھ کر اور ٹاٹ اوڑھ کر اور راکھ پر بیٹھ کر اُس کا طالب ہُوا۔
۴ اور میں نے خُداوند اپنے خُدا سے دُعا کی اور اقرار کیا اور کہا کہ اے خُداوند عظیم اور مُہیب خُدا تو اپنے فرمانبردار مُحبت رکھنے والوں کے لے اپنے عہد و رحم کو قائم رکھتا ہے۔
۵ ہم نے گُناہ کیا۔ ہم بر گشتہ ہُوئے ۔ ہم نے شرارت کی۔ ہم نے بغاوت کی بلکہ ہم نے تیرے احکام و آئین کو ترک کیا ہے۔
۶ اور ہم تیرے خدمت گُزار نبیوں کے شنوا نہیں ہُوئے جنہوں نے تیرا نام لے کر ہمارے بادشاہوں اور اُمرا سے اور ہمارے باپ دادا اور مُلک کے سب لوگوں سے کلام کیا۔
۷ اے خُداوند صداقت تیرے لے ہے اور رُسوائی ہمارے لے جیسے اب یہُوداہ کے لوگوں اور یروشلیم کے باشندوں اور دُور دُور نزدیک کے تمام بنی اسرائیل کے لے ہے جن کو تو نے تمام ممُالک میں ہانک دیا کیونکہ اُنہوں نے تیرے خلاف گُناہ کیا۔
۸ اے خُداوند رُسوائی ہمارے لے ہے۔ ہمارے بادشاہوں ہمارے اُمرا اور ہمارے باپ دادا کے لے کیونکہ ہم تیرے گُنہگار ہُوئے۔
۹ ہمارا خُداوند ہمارا خُدا رحیم و غفور ہے اگرچہ ہم نے اُس سے بغاوت کی۔
۱۰ ہم خُداوند اپنے خُدا کی آواز کے شنوا نہیں ہُوئے کہ اُس کی شریعت پر جو اُس نے اپنے خدمت گُزار نبیوں کی معرفت ہمارے لے مُقرر کی عمل کریں۔
۱۱ ہاں تمام بنی اسرائیل نے تیری شریعت کو توڑا اور برگشتگی اختیار کی تا کہ تیری آواز کے شنوا نہ ہُوں ۔ اس لئے وہ لُغت اور قسم جوخُدا کے خادم مُوسٰی کی توریت میں مرقوم ہیں ہم پُوری ہُوئیں کیونکہ ہم اس کے گُنہگار ہُوئے۔
۱۲ اور اس نے جو کچھ ہمارے اور ہمارے قاضیوں کے خلاف جو ہماری عدالت کرتے تھے فرمایا تھا ہم پر بلای عظیم لا کر ثابت کر دکھایا کیونکہ جو کُچھ یروشیلم سے کیا گیا وہ تمام جہان میں اور کہیں نہیں ہوا۔
۱۳ جیسا موسٰی کی توریت میں مرقوم ہے یہ تمام مُصیبت ہم پر آئی تو بھی ہم نے خُداوند اپنے خُدا سے التجا نہ کی کہ ہم اپنی بدکرداری سے باز آتے اور تیری سچائی کو پہچانتے۔
۱۴ اس لے خُداوند نے بلا کو نگاہ میں رکھا اور اُس کو ہم پر نازل کیا کیونکہ خُداوند ہمارا خُدا اپنے سب کاموں میں جو وہ کرتا ہے صادق ہے لیکن ہم اس کی آواز کے شنوا نہ ہُوئے۔
۱۵ اور اب اے خُدا وند ہمارے خُدا جو زور آور بازُو سے اپنے لوگوں کو مُلک مصر سے نکال لایا اور اپنے لے نام پیدا کیا جسیا آج کے دن ہے ہم نے گُناہ کیا۔ ہم نے شرارت کی۔
۱۶ اے خُدا وند میں تیری منت کرتا ہُوں کہ تو اپنی تمام صداقت کے مطابق اپنے قہر و غضب کو اپنے شہر یروشیلم یعنی اپنے کوہ مُقدس سے مُوقوف کر کیونکہ ہمارے گُناہوں اور ہمارے باپ دادا کی بدکرداری کے سبب سے یروشیلم اور تیرے لوگ اپنے سب آس پاس والوں کے نزدیک جای ملامت ہُوئے۔
۱۷ پس اب اے ہمارے خُدا اپنے خادم کی دُعا اور التماس سُن اور اپنے چہرہ کو اپنی ہی خاطر اپنے مقدس پر جو ویران ہے جلوہ گر فرما۔
۱۸ اے میرے خُدا کان لگا کر سُن اور آنکھیں کھول کر ہمارے ویرانوں کو اور اُس شہر کو جو تیرے نام سے کہلاتا ہے دیکھ کہ ہم تیرے حضُور اپنی راست بازی پر نہیں بلکہ تیری بے نہایت رحمت پر تکیہ کر کے مُناجات کرتے ہیں۔
۱۹ اے خُداوند سُن ۔ اے خُداوند مُعاف فرما۔ اے خُداوند سُن لے اور کُچھ کر۔ اے میرے خُدا اپنے نام کی خاطر دیرنہ کر کیونکہ تیرا شہر اور تیرے لوگ تیرے ہی نام سے کہلاتے ہیں۔
۲۰ اور جب میں یہ کہتا اور دُعا کرتا اور اپنے اور اپنی قوم اسرائیل کے گُناہوں کا اقرار کرتا تھا اور خُداوند اپنے خُدا کے حضُور اپنے خُدا کے کوہ مُقدس کے لے مُناجات کر رہا تھا۔
۲۱ ہاں میں دُعا میں یہ کہہ ہی رہا تھا کہ وہی شخص جبرائیل جسے میں نے شروع میں رویا دیکھا تھا حُکم کے مُطابق تیز پروازی کرتا ہُوا آیا اور شام کی قربانی گُزراننے کے وقت کے قریب مُجھے چُھوا۔
۲۲ اور اُس نے مُجھے سمجھایا اور مُجھ سے باتیں کیں اور کہا سے دانی ایل میں اب اس لے آیا ہُوں کہ تجھے دانش و فہم بخُشوں ۔
۲۳ تیری مُناجات کے شُروع ہی میں حُکم صادر ہُوا اور میں آیا ہُوں کہ تجھے بتاوں کیونکہ تو بہت عزیز ہے۔ پس تو غور کر اور رویا کو سمجھ لے۔
۲۴ تیرے لوگوں اور تیرے مُقدس شہر کے لے سترّ ہفتے مُقرر کے گے کہ خطا کاری اور گُناہ کا خاتمہ ہو جاے ۔ بدکردای کا کفارہ دیا جائے۔ ابدی راست بازی قائم ہو۔ رویا نبُوت پر مُہر ہو اور پاکترین مقام ممسُوح کیا جائے۔
۲۵ پس تو معلوم کر اور سمجھ لے کہ یروشیلم کی بحالی اور تعمیر کا حُکم صادر ہونے سے ممسوح فرمانروا تک سات ہفتے اور باسٹھ ہفتے ہوں گے۔ تب پھر بازار تعمیر کئے جائیں گے اور فصیل بنائی جائے گی مگر مُصیبت کے ایّام میں ۔
۲۶ اور باسٹھ ہفتوں کے بعد وہ ممسوح قتل کیا جائے گا اور اُس کا کچھ نہ رہے گا اور ایک بادشاہ آے گا جس کے لوگ شہر اور مقدس کو مسمار کریں گے اور اُس کا انجام گویا طُوفان کے ساتھ ہوگا اور آخر تک لڑائی رہے گی۔ بربادی مُقرر ہو چُکی ہے۔
۲۷ اور وہ ایک ہفتے کے لے بُہتوں سے عہد قائم کرے گا اور نصف ہفتہ میں ذبیحہ اور ہدیہ موقوف کرے گا اور فصیلوں پر اُجاڑنے والی مکُروہات رکھی جائیں گی یہاں تک کہ بربادی کمال کو پُہنچ جائے گی اور وہ بلا جو مُقرر کی گئی ہے اُس اجاڑ نے والے پر واقع ہو گئی۔