۶۔ دارا کا شاہی فرمان اور شیروں کی ماند (باب ۶)
۶: ۱۔۳ اِس باب میں بائبل مقدس کا مشہور ترین واقعہ مرقوم ہے۔ فارسی اِقتدار کا دَور ہے جس میں دانی ایل اعلیٰ عہدے پر فائز تھا۔ دارا نے ساری مملکت پر تین وزیر مقرر کئے جن میں سے ایک دانی ایل تھا۔ اِن وزیروں کے ماتحت ایک سو بیس ناظم تھے۔ چونکہ دانی ایل میں فاضل روح تھی اِس لئے دارا نے اُسے تمام ملک پر مختار ٹھہرایا۔
۶: ۴۔۸ حکومت کے اعلیٰ منصب دار دانی ایل سے جلتے تھے۔ وہ اُسے بادشاہ کی نظروں میں گرانا چاہتے تھے۔ مگر وہ جانتے تھے کہ ہم اُسے کسی بات میں قصوروار ثابت نہیں کر سکتے۔ چنانچہ اُنہوں نے بادشاہ کو ترغیب دی کہ ایک خسروانہ آئین مقرر کرے اور اِمتناعی فرمان جاری کرے کہ تیس دن تک پوری مملکت میں کوئی شخص دارا بادشاہ کے سوا کسی معبود یا آدمی سے درخواست یعنی دعا نہ کرے۔ ایک دفعہ کوئی فرمان آئین بن جاتا تو اُسے تبدیل نہیں کیا جا سکتا تھا۔ دانی ایل کی ثابت قدمی ہمارے لئے ایک چیلنج ہے (۱۔پطرس ۳: ۱۳۔۱۷)۔
۶: ۹۔۱۳ دارا بادشاہ نے اُس نوشتے اور فرمان پر دستخط کر دیئے۔ لیکن دانی ایل اپنے معمول کے مطابق دن میں تین دفعہ اپنے خدا سے دعا کرتا رہا۔ اُس کے دشمنوں نے جتنی جلدی ہو سکا بادشاہ کو جا بتایا۔
۶: ۱۴۔۱۷ دارا بادشاہ سورج ڈوبنے تک اُس (دانی ایل) کو چھڑانے کی کوشش کرتا رہا۔ لیکن فرمان تبدیل نہیں ہو سکتا تھا اِس لئے اُس نے نہایت مجبوری کے تحت حکم دے دیا کہ دانی ایل کو شیروں کی ماند میں ڈال دیا جائے۔ تاہم اُس بے دین بادشاہ نے دانی ایل کی حوصلہ افزائی کی کہ ’’جس خدا کی تُو ہمیشہ عبادت کرتا ہے تجھے چھڑائے گا‘‘۔ کیسی دلکش بات ہے کہ بعض اوقات بے ایمان لوگ بھی ایمان داروں کے ایمان اور اخلاق سے متاثر ہوتے ہیں اور اُن کے دلوں میں بھی ایمان کی چنگاری روشن ہو جاتی ہے۔ لیکن کئی دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ مسیحی ایمان اور عمل کا وہ اُونچا معیار نہیں رکھتے جس کی توقع دُنیا اُن سے رکھتی ہے اور اپنی غیر نجات یافتہ رشتہ داروں اور دوستوں کو متاثر کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔
۶: ۱۸۔۲۸ اُس رات بادشاہ نے اپنی معمول کی تفریحات سے لطف اندوز ہونے سے اِنکار کر دیا۔ دارا بادشاہ نے وہ ساری رات فاقہ کیا (روزہ رکھا)۔ صبح بہت سویرے یہ پریشان اور فکر مند بادشاہ جلدی سے شیروں کی ماند کی طرف چلا۔ اور دیکھا کہ یہودی نبی کو شیروں نے کچھ ضرر نہیں پہنچایا۔
اپنے خاص دستور کے مطابق اِس جاں نثار نبی نے خدا کی تمجید کی اور کہا میرے ’’خدا نے اپنے فرشتہ کو بھیجا اور شیروں کے منہ بند کر دیئے اور اُنہوں نے مجھے ضرر نہیں پہنچایا‘‘۔
اِس کے بعد دانی ایل کی شکایت کرنے والوں کو شیروں کی ماند میں ڈال دیا گیا اور شیروں نے اُن کو چبا ڈالا۔ ساری باتوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ دارا بادشاہ نے سب لوگوں اور قوموں اور اہلِ لغت کو ایک اَور فرمان جاری کیا کہ وہ ’’دانی ایل کے خدا کے حضور ترسان و لرزاں ہوں۔‘‘
مقدس کتاب
۱ دارا کو پسند آیا کہ ممُلکت پر ایک سو بیس ناظم مُقرر کرے جو تمام مملکت پر حکومت کریں۔
۲ اور اُن پر تین وزیر ہو جن میں سے ایک دانی اٰیل تھا تا کہ ناظم اُن کو حساب دیں اور بادشاہ خسارت نہ اُٹھائے۔
۳ اور چُونکہ دانی ایل میں فاضل رُوح تھی اس لئے وہ اُن وزیروں اور ناظموں پر سبقت لے گیا اور بادشاہ نے چاہا کہ اُسے تمام مُلک پر مُختار ٹھہرائے۔
۴ تب اُن وزیروں اور ناظموں نے چاہا کہ مُلک داری میں دانی ایل پر قصُور ثابت کریں لیکن وہ کوئی یا قصُور نہ پا سکے کیونکہ وہ دیانت دار تھا اور اُس میں کوئی خطا یا تقصیر نہ تھی۔
۵ تب انُہوں نے کہا کہ ہم اس دانی ایل کو اُس کے خُدا کی شریعت کے سوا کسی اور بات میں قصور وار نہ پائیں گے۔ تب اُنہوں نے کہا کہ ہم اس دانی ایل کو اُس کے خُدا کی شریعت کے سوا کسی اور بات میں قصور وار نہ پائیں گے۔
۶ پس یہ وزیر اور ناظم بادشاہ کے حضُور جمع ہُوئے اور اُس سے یُوں کہنے لگے کہ اے دارا بادشاہ ابد تک جیتا رہ۔
۷ مملکت کے تمام وزیروں اور حاکموں اور ناظموں اور مُشیروں اور سرداروں نے باہم مشورت کی ہے کہ ایک خُسروانہ آئین مُقرر کریں اور ایک امتناعی فرمان جاری کریں تا کہ اے بادشاہ تیس روز تک جو کوئی تیرے سوا کسی معبُود یا آدمی سے کوئی درخواست کرے شیروں کی ماند میں ڈال دیا جائے۔
۸ اب اے بادشاہ اس فرمان کو قائم کر اور نوشتہ پر دستخط کرتا کہ تبدیل نہ ہو جیسے مادیوں اور فارسیوں کے آئین جو تبدیل نہیں ہوتے۔
۹ پس دارا بادشاہ نے اُس نوشتہ اور فرمان پر دستخط کر دے۔
۱۰ اور جب دانی ایل نے معلوم کیا کہ اُس نوشتہ پر دستخط ہو گئے تو اپنے گھر میں آیا اور اُس کی کوٹھری کا دریچہ یروشلیم کی طرف کُھلا تھا وہ دن میں تین مرتبہ حسب معمول گھنٹے ٹیک کر خُدا کے حضُور دُعا اور اُس کی شکر گُزاری کرتا رہا۔
۱۱ تب یہ لوگ جمع ہُوئے اور دیکھا کہ دانی ایل اپنے خُدا کے حضُور دُعا اور التماس کر رہا ہے ۔
۱۲ پس انُہوں نے بادشاہ کے پاس آکر اُس کے حُضور اُس کے فرمان کا یُوں ذکر کیا کہ اے بادشاہ کیا تو نے اس فرمان پر دستخط نہیں کئے کہ تیس روز تک جو کوئی تیرے سوا کسی معبُود یا آدمی سے کوئی درخواست کرے شیروں کی ماند میں ڈال دیا جائے گا؟ بادشاہ نے جواب دیا کہ مادیوں اور فارسیوں کے لا تبدیل آئین کے مُطابق یہ بات سچ ہے۔
۱۳ تب اُنہوں نے بادشاہ کے حضُور عرض کی کہ اے بادشاہ یہ دانی ایل جو یہُوداہ کے اسیروں میں سے ہے نہ تیری پروا کرتا ہے اور نہ اُس امتناعی فرمان کو جس پر تونے دستخط کئے ہیں خاطر میں لاتا ہے بلکہ ہر روز تین بار یہ دُعا کرتا ہے۔
۱۴ جب بادشاہ نے یہ باتٰیں سُنیں تو نہایت رنجیدہ ہُوا اور اُس نے دل میں چاہا کہ دانی ایل کو چُھڑائے اور سورج ڈُوبنے تک اُس کے چُھڑانے میں کوشش کرتا رہا ۔
۱۵ پھر یہ لوگ بادشاہ کے حُضور فراہم ہُوئے اور بادشاہ سے کہنے لگے کہ اے بادشاہ تو سمجھ لے کہ مادیوں اور فارسیوں کا آئین یُوں ہے کہ جو فرمان اور قانُون بادشاہ مُقرر کرے کبھی نہیں بدلتا۔
۱۶ تب بادشاہ نے حُکم دیا اور وہ دانی ایل کو لائے اور شیروں کے ماند میں ڈال دیا پر بادشاہ نے دانی ایل سے کہا تیرا خُدا جس کی تو ہمیشہ عبادت کرتا ہے تجھے چُھڑائے گا۔
۱۷ اور ایک پتھر لا کر اُس کے مُنہ پر رکھ دیا گیا اور بادشاہ نے اپنی اور اپنے امیروں کی مُہر اُس پر کر دی تا کہ وہ بات جو دانی ایل کے حق میں ٹھہرائی گئی تھی تبدیل نہ ہو۔
۱۸ تب بادشاہ اپنے قصر میں گیا اور اُس نے ساری رات فاقہ کیا اور مُوسیقی کے ساز اُس کے سامنے نہ لائے اور اُس کی نیند جاتی رہی۔
۱۹ اور بادشاہ صُبح بُہت سویرے اُٹھا اور جلدی سے شیروں کی ماند طرف چلا۔
۲۰ اور جب ماند پر پُہنچا تو غم ناک آواز سے دانی ایل کو پُکارا۔ بادشاہ نے دانی ایل کو خطاب کر کے کہا اے دانی ایل زندہ خُدا کے بندے کیا تیرا خُدا جس کی تو ہمیشہ عبادت کرتا ہے قادر ہُوا کہ تجھے شیروں سے چُھڑائے؟۔
۲۱ تب دانی ایل نے بادشاہ سے کہا اے بادشاہ ابد تک جیتا رہ۔
۲۲ میرے خُدا نے اپنے فرشتہ کو بھیجا اور شیروں کے مُنہ بند کر دے اور اُنہوں نے مُجھے ضرر نہیں پُہنچایا کیونکہ میں اُس کے حُضور بے گُناہ ثابت ہُوا اور تیرے حُضور بھی اے بادشاہ میں نے خطا نہیں کی۔
۲۳ پس بادشاہ نہایت شادمان ہُوا اور حُکم دیا کہ دانی ایل کو اُس ماند سے نکالیں ۔ پس دانی ایل اُس ماند سے نکالا گیا اور معلوم ہُوا کہ اُسے کُچھ ضرر نہیں پُہنچا کیونکہ اُس نے اپنے خُدا پر توکل کیا تھا۔
۲۴ اور بادشاہ نے حُکم دیا اور وہ اُن شخصوں کو جہنوں نے دانی ایل کی شکایت کی تھی لائے اور اُن کے بچوں اور بیویوں سمیت اُن کو شیروں کی ماند میں ڈال دیا اور شیر اُن پر غالب آے اور اس سے پیشتر کہ ماند کی تہ تک پُہنچیں شیروں نے اُن کی سب ہڈیوں توڑ ڈالیں۔
۲۵ تب دارا بادشاہ نے سب لوگوں اور قوموں اور اہل لُغت کو جو رُوی زمین پر بستے تھے نامہ لکھا۔ تمہاری سلامتی افزون ہو۔
۲۶ میں یہ فرمان جاری کرتا ہُوں کہ میری ممُلکت کے ہر ایک صُوبہ کے لوگ دانی ایل کے خُدا کے حضُور ترسان و لرزان ہوں کیونکہ وُہی زندہ خُدا ہے اور ہمیشہ قائم ہے اور اُس کی سلطنت لازوال ہے اور اُس کی ممُلکت ابد تک رہے گی۔
۲۷ وُہی چُھڑاتا اور بچاتا ہے اور آسمان اور زمین میں وہی نشان اور عجائب دکھاتا ہے اُسی نے دانی ایل کو شیروں کے پنجوں سے چُھڑایا ہے ۔
۲۸ پس یہ دانی ایل دارا کی سلطنت اور خورس فارسی کی سلطنت میں کامیاب رہا۔