۸۔ دانی ایل کا مینڈھے اور بکرے کی مانند سلطنتوں کا رُؤیا(باب ۸)
۸: ۱۔۴ دو سال کے بعد دانی ایل نے مینڈھے اور بکرے کا رُؤیا دیکھا۔ مینڈھا فارس تھا اور دو سینگ مادی اور فارس کے بادشاہ تھے۔ ایک سینگ دوسرے سے بڑا تھا۔ فارس کا بادشاہ زیادہ طاقتور تھا۔ مینڈھا مغرب و شمال و جنوب کی طرف تُندی سے فتوحات کرتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اُس کی مزاحمت کرنا ممکن نہیں۔
۸: ۵۔۸ پھر ایک بکرا (یونان) مغرب کی طرف سے آیا۔ وہ تابڑ توڑ حملے کر رہا تھا۔ اُس کا ایک نمایاں اور عجیب سینگ (سکندرِ اعظم) تھا۔ بکرے نے مینڈھے کو مارا یعنی شکست دی اور زبردست فتوحات کرتا چلا گیا۔ سکندرِاعظم کی وفات کے بعد اُس کی سلطنت چار حصوں میں تقسیم ہوئی۔ یہ بات رُؤیا میں اِس طرح ظاہر کی گئی ہے کہ ’’بڑا سینگ ٹوٹ گیا اور اُس کی جگہ چار عجیب سینگ زمین کی چاروں ہواؤں کی طرف نکلے۔‘‘
۸: ۹۔۱۴ اِن میں سے ایک پر بعد میں ایک چھوٹا سینگ (انطاکس اپیفینس) حکومت کرنے لگا۔ انطاکس اپیفینس کی فوجی فتوحات اُسے جنوب اور مشرق تک اور پھر فلستین (جلالی ملک) میں لے گئیں۔ آیت ۱۰ میں یہودیوں پر اُس کے مظالم کا بیان ہوا ہے۔ اُس نے خداوند کی تکفیر کی اور یروشلیم میں قربانی موقوف کرا دی اور ہیکل کو ناپاک کیا (آیات ۱۱،۱۲)۔ دانی ایل کو بتایا گیا کہ ہیکل کو ناپاک کرنے کا یہ سلسلہ دو ہزار تین سو دن تک چلے گا۔ یہ باتیں ۱۷۱ ق م اور ۱۶۵ ق م کے دوران وقوع پذیر ہوئیں۔
۸: ۱۵۔۱۷ جبرائیل فرشتہ کو حکم ہوا کہ دانی ایل کو ’’اِس رُؤیا کے معانی سمجھا دے۔‘‘
۸: ۱۸۔۲۶ دانی ایل اگرچہ خدا پرست اور جرأت مند آدمی تھا مگر فرشتے کی حضوری میں ایسا ہوا کہ منہ کے بل زمین پر گر پڑا اور اُس پر گہری نیند طاری ہو گئی۔ یہاں شاید خدا کی قدرت اور تقدس پر زور دیا گیا ہے جو اُس کے فرشتوں کی حضوری میں بھی شدت سے محسوس ہوتی ہے۔ رُؤیا کا مطلب آیات ۱۹۔۲۲ میں بتایا گیا۔ البتہ آیت ۲۳ ہم اِنطاکس اپیفینس سے آگے مستقبل میں اُس کے ہم پلّہ شخص کو دیکھتے ہیں __ ایک بادشاہ جو تُرش رُو ہو گا۔ وہ بڑی مصیبت کے ایام میں مقدس لوگوں کو بے دریغ ستائے گا اور ہلاک کرے گا۔ وہ عیار، متکبر، فریب کار ہو گا اور بادشاہوں کے بادشاہ (خداوند یسوع مسیح) سے بھی مقابلہ کرنے کو اُٹھ کھڑا ہو گا۔ لیکن خدا مداخلت کرے گا اور اُس کو ہلاک کرے گا۔ دانی ایل کو بتایا گیا کہ اِس رُؤیا کا ’’علاقہ مستقبل میں بہت دُور کے ایام سے ہے۔‘‘
مقدس کتاب
۱ بیلطشضر بادشاہ کی سلطنت کے تیسرے سال کی مجھ کو ہاں مُجھ دانی ایل کو ایک رویا نظر آئی یعنی میری پہلی رویا کے بعد۔
۲ اور میں نے عالم رویا میں دیکھا اور جس وقت میں نے دیکھا ایسا معلوم ہُوا کہ کہ میں قصر سوسن میں تھا جو صُوبہ عُیلام میں ہے ۔ پھر میں نے عالم رویا ہی میں دیکھا کہ میں دریای اُولائی کے کنارہ پر ہُوں ۔
۳ تب میں نے آنکھ اُٹھا کر نظر کی اور کیا دیکھتا ہُوں کہ دریا کے پاس ایک مینڈھا کھڑا ہے جس کے دو سینگ ہیں۔ دونوں سینگ اُونچےتھے لیکن ایک دُوسرے سے بڑا تھا اور بڑا دُوسرے کے بعد نکلا تھا۔
۴ میں نے اُس مینڈھے کو دیکھا کہ مغرب و شمال و جنوب کی طرف سینگ مارتا ہے یہاں تک کہ نہ کوئی جانور اُس کے سامنے کھڑا ہو سکا اور نہ کوئی اُس سے چُھڑا سکا پر وہ جو کُچھ چاہتا تھا کرتا تھا یہاں تک کہ وہ بُہت بڑا ہو گیا۔
۵ اور میں سوچ ہی رہا تھا کہ ایک بکرا مغرب کی طرف سے آ کر تمام رُوی زمین پر ایسا پھرا کہ زمین کو بھی نہ چُھوا اور اُس بکرے کی دونوں آنکھوں کے درمیان ایک عجیب سینگ تھا۔
۶ اور وہ اُس دو سینگ والے مینڈھے کے پاس جسے میں نے دریا کے کنارے کھڑا دیکھا آیا اور اپنے زور کے قہر سے اُس پر حملہ آور ہُوا۔
۷ اور میں نے دیکھا کہ وہ مینڈھے کے قریب پُہنچا اور اُس کا غضب اُس پر بھڑکا اور اُس نے مینڈھے کو مارا اور اُس کے دونوں سینگ توڑ ڈالے اور مینڈھے میں اُس کے مُقابلہ کی تاب نہ تھی ۔ پس اُس نے اُسے زمین پر پٹک دیا اور اُسے لتاڑ اور کوئی نہ تھا کہ مینڈھے کو اُس سے چُھڑا سکے۔
۸ اور وہ بکرا نہایت بُرگ ہُوا اور جب وہ نہایت زور آور ہُوا تو اُس کا بڑا سینگ ٹُوٹ گیا اور اُس کی جگہ چار عجیب سینگ آسمان کی چاروں ہواوں کی طرف نکلے۔
۹ اور اُن میں سے ایک سے ایک چھوٹا سینگ نکلا جو جُنوب اور مشرق اور جلالی مُلک کی طرف بے نہایت بڑھ گیا۔
۱۰ اور وہ بڑھ کر اجرام فلک تک پُہنچا اور اُس نے بعض اجرام فلک اور ستاروں کو زمین پر گرا دیا اور اُن کو لتاڑا۔
۱۱ بلکہ اُس نے اجرام کے فرما نروا تک اپنے آپ کو بُلند کیا اور اُس سے دائمی قُربانی کو چھین لیا اور اُس کا مُقدس گرا دیا ۔
۱۲ اور اجرام خطا کاری کے سبب سے دائمی قربانی سمیت اُس کے حوالہ کئے گئے اور اُس نے سچائی کو زمین پر پٹک دیا اور وہ کامیابی کے ساتھ یُوں ہی کرتا رہا ۔
۱۳ تب میں نے ایک قُدسی کو کلام کرتے سُنا اور دُوسرے قدسی سے جو کلام کرتا تھا پوچھا کہ دائمی قربانی اور ویران کرنے والی خطاکاری کی رویا جس میں مقدس اور اجرام پایمال ہوتے ہیں کب تک رہے گی؟۔
۱۴ اور اُس نے مُجھ سے کہا کہ دو ہزار تین سو صُبح و شام تک اُس کے بعد مقدس پاک کیا جائے گا۔
۱۵ پھر یُوں ہُوا کہ جب میں دانی ایل نے یہ رویا دیکھی اور اُس کی تعبیر کی فکر میں تھا تو کیا دیکھتا ہُوں کہ میرے سامنے کوئی انسان صُورت کھڑا ہے۔
۱۶ اور میں نے اُولائی میں سے آدمی کی آواز سُنی جس نے بُلند آواز سے کہا کہ اے جبرائیل اس شخص کو اس رویا کے معنی سمجھا دے۔
۱۷ چُنانچہ وہ جہاں میں کھڑا تھا نزدیک آیا اور اُس کے آنے سے میں ڈر گیا اور مُنہ کے بل گرا پر اُس نے مُجھ سے کہا اے آدم زاد! سمجھ لے کہ یہ رویا آخری زمانہ کی بابت ہے ۔
۱۸ اور جب وہ مُجھ سے باتیں کر رہا تھا میں گہری نیند میں مُنہ کے بل زمین پر پڑا تھا لیکن اُس نے مُجھے پکڑ کر سیدھا کھڑا کیا۔
۱۹ اور کہا دیکھ میں تُجھے سمجھاوں گا کہ قہر کے آخر میں کیا ہوگا کیونکہ یہ امر آخری مُقررہ وقت کی بابت ہے ۔
۲۰ جو مینڈھا تو نے دیکھا اُس کے دونوں سینگ مادی اور فارس کے بادشاہ ہیں۔
۲۱ اور وہ جسیم بکرا یُونان کا بادشاہ ہے اور اُس کی آنکھوں کے درمیان کا بڑا سینگ پہلا بادشاہ ہے۔
۲۲ اور اُس کے ٹوٹ جانے کے بعد اُس کی جگہ جو چار اور نکلے وہ چار سلطنتیں ہیں جو اُس کی قوم میں قائم ہوں گی لیکن اُن کا اقتدار اُس کا سانہ ہو گا۔
۲۳ اور اُن کی سلطنت کے آخری ایّام میں جب خطا کار لوگ حد تک پُہنچ جائیں گے تو ایک رُو اور رمز شناس بادشاہ ہو گا۔
۲۴ یہ بڑا زبردست ہو گا لیکن اپنی قوت سے نہیں اور عجیب طرح سے برباد کرے گا اور برومند ہو گا اور کام کرے گا اور زور آوروں اور مُقدس لوگوں کو ہلاک کرے گا۔
۲۵ اور اپنی چترائی سے ایسے کام کرے گا کہ اُس کی فطرت کے منصوبے اُس کے ہاتھ میں خُوب انجام پائیں گے اور دل میں بڑا گھمنڈ کرے گا اور صُلح کے وقت میں بہتیروں کو ہلاک کرے گا۔ وہ بادشاہوں کے بادشاہ سے بھی مُقابلہ کرنے کے لے اُٹھ کھڑا ہو گا لیکن بے ہاتھ ہلائے ہی شکست کھائے گا۔
۲۶ اور یہ صُبح و شام کی رویا بیان ہُوئی یقینی ہے لیکن تو اس رویا کو بند کر رکھ کیونکہ اس کا علاقہ بُہت دُور کے ایّام سے ہے ۔
۲۷ اور مجھ دانی ایل کو غش آیا اور میں چند روز تک بیمار پُڑا رہا۔ پھر میں اُٹھا اور بادشاہ کا کاروبار کرنے لگا اور میں رویا سے پریشان تھا لیکن اس کو کوئی نہ سمجھا۔