دانی ایل ۳

۳۔ نبوکدنضر کی سونے کی مورت اور جلتی بھٹی (‏باب ۳)‏

۳:‏ ۱۔۷ نبوکدنضر نے پوجنے کے لئے سونے کی ایک مورت بنوائی۔ یہ مورت نوے فٹ (‏تقریباً ۲۸ میٹر)‏ اُونچی تھی۔ اُس نے مورت دُورا کے میدان میں نصب کرائی۔ بادشاہ نے ملک کے سارے عالی منصب افراد کو جمع کیا کہ اِس مورت کی تقدیس کے لئے حاضر ہوں۔ پوری تیاری کے بعد اُس نے حکم دیا کہ ’’جس وقت قرنا اور نَے … اور ہر طرح کے ساز کی آواز سنو تو … مورت کے آگے گر کر سجدہ کرو۔‘‘ جو شخص سجدہ نہ کرے وہ ’’آگ کی جلتی بھٹی میں ڈالا جائے گا۔‘‘

۳:‏ ۸۔۱۲ سدرک‏، میسک اور عبدنجو ایمان دار یہودی اور خدا کے وفادار تھے۔ اُنہوں نے مورت کو سجدہ نہ کیا اور چند کسدیوں نے اِس بات کی اِطلاع بادشاہ کو دی۔

۳:‏ ۱۳۔۲۱ بادشاہ نے اُنہیں موقع دیا کہ اپنا ارادہ بدلیں لیکن اُنہوں نے اِنکار کیا۔ اُن کو یقین تھا کہ خدا ہمیں بچائے گا۔ اُنہوں نے بادشاہ سے صاف کہہ دیا ’’اے بادشاہ‏، وہی ہم کو تیرے ہاتھ سے بچائے گا۔‘‘ بہت اہم بات ہے کہ اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ نہیں تو ہم تیرے معبودوں کی نہیں‏، بلکہ صرف اپنے خداوند خدا کو سجدہ کریں گے۔ چنانچہ بادشاہ نے حکم دیا کہ بھٹی کی آنچ سات گنا تیز کی جائے اور تینوں یہودیوں کو پورے لباس سمیت اُس میں ڈال دیا جائے۔ 

۳:‏ ۲۲۔۲۵ بھٹی کی آنچ اِتنی تیز تھی کہ اُن کو اُٹھا کر پھینکنے والے پہلوان شعلوں سے ہلاک ہو گئے۔ مگر جب نبوکدنضر نے بھٹی میں دیکھا تو سراسیمہ ہو گیا کیوں کہ وہاں تین کے بجائے چار شخص کھلے پھرتے نظر آ رہے تھے اور چوتھے کی صورت اِلٰہ زادہ (‏معبودوں کا بیٹا)‏ کی سی تھی۔ ہمارا ایمان ہے کہ چوتھا شخص واقعی ابنِ خدا تھا‏، بادشاہ خواہ اُسے کچھ بھی سمجھتا ہو۔ خداوند ہمیں مصیبت سے بچا لیتا ہے یا مصیبت میں ہمارے ساتھ ہوتا ہے۔ 

۳:‏ ۲۶۔۳۰ یہودیوں کو کچھ ضرر نہ پہنچا۔ آگ نے صرف اُن رسیوں کو جلا دیا جن سے وہ بندھے ہوئے تھے۔ مصیبتیں اور آفتیں خدا کے ارادے اور مقاصد پورے کرنے میں کامیاب ہوتی ہیں۔ یا ہمیں اُن باتوں سے آزاد کراتی ہیں جن میں ہم بندھے ہوں۔ بادشاہ اِتنا متاثر ہوا کہ اُس نے حکم جاری کیا کہ کوئی شخص یہودیوں کے خدا کے حق میں کوئی نامناسب کلمہ اپنی زبان پر نہ لائے۔ علاوہ ازیں اُس نے تینوں جوانوں کو صوبۂ بابل میں سرفراز کیا حالانکہ اُنہوں نے اُس کے حکم کی خلاف ورزی کی تھی۔ 

مقدس کتاب

۱ نبُوکدنضر بادشاہ نے ایک سونے کی مُورت بنوائی جس کی لمبائی ساٹھ ہاتھ اور چوڑائی چھ ہاتھ تھی اور اُسے دُرا کے میدان صُوبہ بابل میں نصب کیا۔
۲ تب نبُوکدنضر بادشاہ نے لوگوں کو بھیجا کہ ناظموں اور حاکموں اور سرداروں اور قاضیوں اور خزانچیوں اور مشیروں اور مُفتیوں اور تمام صُوبوں کے منصب داروں کو جمع کریں تا کہ وہ اُس مُورت کی تقدیس پر حاضر ہوں جس کو نبُوکدنضر بادشاہ نے نصب کیا تھا۔
۳ تب ناظم اور حاکم اور سردار اور قاضی اور خزانچی اور مُشیر اور مُفتی اور صُوبوں کے تمام منصب دار اُس مُورت کی تقدیس کے لے جسے نبُوکدنضر بادشاہ نے نصب کیا تھا جمع ہُوئے اور وہ اُس مُورت کے سامنے جس کو نبُوکدنضر نے نصب کیا تھا کھڑے ہُوئے۔
۴ تب ایک مُناد نے بلند آواز سے پُکار کر کہا اے لوگو! اے اُمتو اور اے مُختلف زُبانیں بولنے والو! تمہارے لے یہ حُکم ہے کہ۔
۵ جس وقت قرنا اور نے اور ستار اور باب اور بربط اور چغانہ اور ہر طرح کے ساز کی آواز سُنو تو اُس مُورت کے سامنے کس کو نبُوکدنضر بادشاہ نے نصب کیا ہے گر کر سجدہ کرو۔
۶ اور جو کوئی گر کر سجدہ نہ کرے اآسی وقت آگ کی جلتی ہُوئی بھٹی میں ڈالا جائے گا۔
۷ اس لے جس وقت سب لوگوں نے قرنا اور نے اور ستار اور رباب اور بربط اور ہر طرح کے ساز کی آواز سُنی تو سب لوگوں اور اُمتوں اور مُختلف زُبانیں بولنے والوں نے اُس مُورت کے سامنے جس کو نبُوکدنضر بادشاہ نے نصب کیا تھا گر کر سجدہ کیا۔
۸ پس اُس وقت چند کسدیوں نے آکر یہُوداہ پر الزام لگایا۔
۹ اُنہوں نے نبُوکدنضر بادشاہ سے کہا اے بادشاہ ابد تک جیتا رہ۔
۱۰ اے بادشاہ تو نے یہ فرمان جاری کیا ہے کہ جو کوئی قرنا اور نے اور ستار اور رباب اور بربط اور چغانہ اور ہر طرح کے ساز کی آواز سُنے گر کر سونے کی مُورت کو سجدہ کرے۔
۱۱ اور جو کوئی سجدہ نہ کرے آگ کی جلتی بھٹی میں ڈالا جائے گا۔
۱۲ اب چند یہُودی ہیں جن کو تونے بابل کے صُوبہ کی کار پر دازی پر مُعین کیا ہے یعنی سدرک اور میسک اور عبد نجو۔ ان آدمیوں نے اے بادشاہ تیری تعظیم نہیں کی۔ وہ تیرے معبودوں کی عبادت نہیں کرتے اور اُس سونے کی مُورت کو جسے تو نے نصب کیا سجدہ نہیں کرتے۔
۱۳ تب نبُوکدنضر نے قہر و غضب سے حُکم کیا کی سدرک اور میسک اور عبد نجو کو حاضر کریں اور انُہوں نے اُن آدمیوں کو بادشاہ کے حضُور حاضر کیا ۔
۱۴ نبُوکدنضر نے اُن سے کہا اے سدرک اور میسک اور عبد نجو کیا یہ سچ ہے کہ تم میرے معبُودوں کی عبادت نہیں کرتےاور اُس سونے کی مُورت کو جسے میں نے نصب کیا سجدہ نہیں کرتے ؟۔
۱۵ اب اگر تم مُستعد رہو کہ جس وقت قرنا اور نے ستار اور رباب اور بربط اور چغار اور ہر طرح کے ساز کی آواز سُنو تو اُس مُورت کے سامنے جو میں نے بنوائی ہے گر کر سجدہ کروتو بہتر پر اگر سجدہ نہ کرو گے تو اُسی وقت آگ کی جلتی بھٹی میں ڈالے جاو گے اور کون سا معبُود تم کو میرے ہاتھ سے چُھڑائے گا؟۔
۱۶ سدرک اور میسک اور عبد نجو بے بادشاہ سے عرض کی کہ اے نبُوکدنضر اس امر میں ہم تجھے جواب دینا ضروری نہیں سمجھتے ۔
۱۷ دیکھ ہمارا خُدا جس کی ہم عبادت کرتے ہیں ہم کو آگ کی جلتی ہُوئی بھٹی سے چھُڑانے کی قدرت رکھتا ہے اور اے بادشاہ وہی ہم کو تیرے ہاتھ سے چُھڑائے گا۔
۱۸ اور نہیں تو اے بادشاہ تجھے معلُوم ہو کہ ہم تیرے معبُودوں کی عبادت نہیں کریں گے اور اُس سونے کی مُورت کو جو تونے نصب کی ہے سجدہ نہیں کریں گے۔
۱۹ تب نبُوکدنضر قہر سے بھر گیا اور اُس کے چہرہ کا رنگ سدرک اور میسک اور عبد نجو پر مُبدل ہُوا اور اُس نے حُکم دیا کہ بھٹی کی آنچ معمول سے سات گُنا زیادہ کریں ۔
۲۰ اور اُس نے اپنے لشکر کے چند زور آور پہلوانوں کو حُکم کیا کہ سدرک اور میسک اور عبد نجو کو باندھ کر آگ کی جلتی ہُوئی بھٹی میں ڈال دیں ۔
۲۱ تب یہ مرد اپنے زیر جاموں قمیضوں اور عماموں سمیت باندھے گئے اور آگ کی جلتی بھٹی میں پھینک دے گئے۔
۲۲ پس چُونکہ بادشاہ کا حکم تاکیدی تھا اور بھٹی کی آنچ نہایت تیز تھی اس لے سدرک اور میسک اور عبد نجو کو اُٹھانے والے آگ کے شُعلوں سے ہلاک ہو گئے۔
۲۳ اور یہ تین مرد یعنی سدرک اور میسک اور عبد نجو بندھے ہُوئے آگ کی جلتی بھٹی میں جا پڑے۔
۲۴ تب نبُوکدنضر بادشاہ سراسیمہ ہو کر جلد اُٹھا اور ارکان دولت سے مُخاطب ہو کر کہنے لگا کیا ہم نے تین شخصوں کو بندھوا کر آگ میں نہیں ڈلوایا؟ اُنہوں نے جواب دیا کہ بادشاہ نے سچ فرمایا ہے۔
۲۵ اُس نے کہا دیکھو میں چار شخص آگ میں کھلے پھرتے دیکھتا ہُوں اور اُن کو کُچھ ضرر نہیں پُہنچا اور چوتھے کی صُورت الہٰ زادہ کی سی ہے۔
۲۶ تب نبُوکدنضر نے آگ کی جلتی بھٹی کے دروازہ پر آ کر کہا اے سدرک اور میسک اور عبد نجو خُدا تعالیٰ کے بندہ! باہر نکلو اور ادھر آو۔ پس سدرک اور میسک اور عبد نجو آگ سے نکل آے۔
۲۷ تب ناظموں اور حاکموں اور سرداروں اور بادشاہ کے مُشیروں نے فراہم ہو کر اُن شخصوں پر نظر کی اور دیکھا کہ آگ نے اُن کے بدنوں پر کچھ تاثیر نی کی اور اُن کے سر کا ایک بال بھی نہ جلایا اور اُن کی پوشاک میں مُطلق فرق نہ آیا اور اُن سے آگ سے جلنے کی بُو بھی نہ آتی تھی۔
۲۸ پس نبُوکدنضر نے پُکار کر کہا کہ سدرک اور میسک اور عبد نجو کا خُدا مُبارک ہو جس نے اپنا فرشتہ بھیج کر اپنے بندوں کو رہائی بخشی جہنوں نے اُس پر توکل کر کے بادشاہ کے حُکم کو ٹال دیا اور اپنے بدنوں کو نثار کیا کہ اپنے خُدا کے سوا کسی دُوسرے معبُود کی عبادت اور بندگی نہ کریں۔
۲۹ اس لئے میں یہ فرمان جاری کرتا ہوں کہ جو قوم یا اُمت یا اہل لُغت سدرک اور میسک اور عبد نجو کے خُدا کے حق میں کوئی بامُناسب بات کہیں اُن کے ٹکرے ٹکرے کئے جائیں گے اور اُن کے گھر مزبلہ ہو جائیں گے کیونکہ کوئی دُوسرا معبُود نہیں جو اس طرح رہائی دے سکے۔
۳۰ پھر بادشاہ نے سدرک اور میسک اور عبد نجو کو صُوبہ بابل میں سرفراز کیا۔