دانی ایل ۷

۷۔ دانی ایل کا چار حیوانوں کا خواب جو چار عالمی سلطنتوں کیتصویر ہیں (‏باب ۷)‏

دانی ایل کے پہلے چھے ابواب زیادہ تر تاریخ ہیں جب کہ آخری چھے ابواب نبوتی ہیں۔ ابواب ۷ اور ۸ میں مندرج دانی ایل کے خواب اور رُؤیائیں مادیوں فارسیوں کے اِقتدار اور غلبے سے پہلے بابل کے بادشاہ بیلشضر کے دورِ حکومت میں رُونما ہوئے۔ 

۷:‏ ۱۔۴ باب ۷ میں دانی ایل کا رُؤیا بیان ہوا ہے جس میں اُس نے دیکھا کہ سمندر سے چار بڑے حیوان نکلے۔ (‏یہاں جس سمندر کا ذکر ہے وہ بحیرۂ روم ہے)‏۔ یہ حیوان چار عالمی سلطنتوں کو ظاہر کرتے ہیں۔ 

شیر ببر بابل کی نمائندگی کرتا ہے۔ عقاب کے سے بازو ظاہر کرتے ہیں کہ وہ بہت تیز رفتار سے فتوحات کریں گے۔ ’’پر اُکھاڑے گئے‘‘ نبوکدنصر کے پاگل پن کا اشارہ ہے۔ آیت ۵ کا باقی حصہ اُس کی بحالی اور تبدیلی کا بیان کرتا ہے۔ 

۷:‏۵ ریچھ مادی فارسی سلطنت کی تصویر ہے۔ فارسی حصہ مادیوں کی نسبت زیادہ اہمیت کا حامل ہوا۔ اُس کے دانتوں کے درمیان تین پسلیاں بابل کی سلطنت کے تین حصوں کو ظاہر کرتی ہیں۔ خورس کے دَور میں مادیوں فارسیوں نے اِن کو منسوخ کیا۔ یہ تھے مشرق میں بابل‏، جنوب میں مصر اور ایشیائے کوچک میں لُود کی مملکت۔ 

۷:‏ ۶ تیندوا یونان کا مثیل ہے۔ پرندے کے سے چار بازُو یونانی سلطنت کے تیزی سے پھیلنے کی علامت ہیں۔ چار دُنیا کا عدد ہے اور پر تیز رفتاری کا مفہوم رکھتے ہیں۔ تیرہ سال کے اندر سکندر نے دُنیا کو فتح کر لیا اور ہندوستان کے اندر تک پہنچا۔ وہ تینتیس برس کی عمر میں وفات پا گیا اور خالی ہاتھ رُخصت ہوا۔ اِس حیوان کے چار سر ظاہر کرتے ہیں کہ یہ سلطنت چار حصوں میں تقسیم ہو گی۔ تاریخ گواہ ہے کہ سکندر کی وفات کے بعد سلطنت اُس کے چار جرنیلوں میں تقسیم ہوئی۔ 

۷:‏ ۷‏،۸ چوتھا حیوان دوسرے حیوانوں سے بالکل فرق تھا۔ وہ ہولناک اور ہیبت ناک اور نہایت زبردست تھا۔ وہ متعدد حیوانی خصوصیات رکھتا تھا۔ خاص خصوصیت یہ تھی کہ اُس کے دانت لوہے کے اور بڑے بڑے تھے۔ یہ حیوان رومی سلطنت کی تصویر ہے۔ جو یونانی سلطنت کے بعد برپا ہونی‏، ختم ہونی اور پھر بہت عرصے کے بعد دوبارہ بحالی ہونی تھی۔ اِس بحال شدہ حالت میں اُس کے دس سینگ یعنی دس بادشاہ ہوں گے۔ اُن کے درمیان سے ایک اَور چھوٹا سینگ نکلا۔ یہ بحال شدہ رومی سلطنت کا مستقبل کا سربراہ یعنی مخالفِ مسیح ہے۔ 

۷:‏ ۹۔۱۴ آیت ۹ میں دانی ایل پانچویں اور آخری عالمی سلطنت کی تصویر پیش کرتا ہے‏، اور وہ ہے خداوند یسوع مسیح کی جلالی سلطنت۔ اُسے عالم گیر اِختیار اور غلبہ دیا جائے گا۔ یہاں قدیم الایام کا بیان مکاشفہ باب ۱ میں مسیح کے بیان سے مشابہ ہے۔ لیکن یہ شناخت آیت ۱۳ میں قدرے مبہم ہو جاتی ہے جہاں ’’ایک شخص آدم زاد کی مانند … قدیم الایام تک پہنچا۔‘‘ اِس سے مفہوم یہ بنتا ہے کہ مسیح خود اپنے پاس آیا۔ شاید یہ سمجھنا ہی بہتر ہے کہ قدیم الایام خدا باپ ہے۔ اِس صورت میں آدم زاد کی مانند ایک شخص خداوند یسوع ہو گا۔ وہ باپ کے پاس پہنچا تاکہ اُسے بادشاہی عطا کی جائے۔ 

قدیم الایام عدالت میں منصف کی حیثیت سے بیٹھتا ہے (‏آیات ۱۰‏، ۲۶)‏۔ وہ چھوٹا سینگ اور اُس کی سلطنت نیست و نابود کی جاتی ہے (‏آیت ۱۱)‏۔ دوسری عالمی سلطنتیں بھی نابود ہوتی ہیں۔ لیکن قومیں اور لوگ باقی رہتے ہیں (‏آیت ۱۲)‏۔ سلطنت اور حشمت اور مملکت یعنی عالم گیر اِقتدار اور غلبہ خداوند یسوع کو دیا جاتا ہے۔ یہ سلطنت ابدی اور لازوال ہے (‏آیت ۱۴)‏۔

۷:‏ ۱۵۔۱۸ دانی ایل نے پریشانی اور اُلجھن کا اظہار کیا تو کسی نے (‏جس کی شناخت نہیں کرائی گئی)‏ مطلب سمجھایا کہ چار بڑے حیوان چار بادشاہ ہیں جو دُنیا پر حکمران ہوں گے۔ ’’لیکن حق تعالیٰ کے مقدس لوگ سلطنت لے لیں گے‘‘۔ اِس دُنیا کی ساری سلطنتیں جاتی رہیں گی‏، لیکن خدا کے مقدسوں کی سلطنت دائمی اور ابدی سلطنت ہو گی۔ آیت ۳ میں حیوان سمندر سے نکلتے ہیں۔ عام طور سے یہ غیر قوموں کی تصویر ہوتی ہے۔ آیت ۱۷ میں وہ زمین پر برپا ہوتے ہیں۔ اِس کا مطلب ہے کہ اُن کے اخلاقی نظریات زمینی یا دُنیوی ہوں گے اور اُن کا کردار غیر روحانی ہو گا۔ 

۷:‏ ۱۹۔۲۲ دانی ایل نے چوتھے حیوان کے بارے میں بڑی خصوصیت سے پوچھا جو ظلم و ستم اور تُندی میں دوسرے حیوانوں سے بڑھ کر تھا۔ مزید برآں وہ دس سینگوں اور اُس سینگ کے بارے میں بھی جاننا چاہتا تھا جس کے آگے تین (‏سینگ)‏ گر گئے تھے۔ اُس نے دیکھا کہ چھوٹا سینگ بڑی مصیبت کے دَور کے مقدسوں سے جنگ کرتا ہے جب تک کہ قدیم الایام نہ آیا اور اُن کے دُکھوں کا خاتمہ کیا اور سلطنت اُن کو دی۔ 

۷:‏ ۲۳۔۲۸ اُسی گمنام ترجمان نے چوتھے حیوان‏، دس سینگوں اور رُعب دار چھوٹے سینگ کی وضاحت کی۔ وہ چھوٹا سینگ حق تعالیٰ کے خلاف باتیں کرے گا مقدسوں کو تنگ کرے گا اور ساڑھے تین سال کے لئے یہودی کیلنڈر کو بدلنے کی کوشش کرے گا (‏یہ بڑی مصیبت ہے جس کا ذکر خداوند یسوع نے متی ۲۴:‏ ۲۱ میں کیا ہے)‏۔ لیکن اُس کی ساری طاقت چھین لی جائے گی اور ہمارے خداوند کی جلالی اور ابدی سلطنت قائم کی جائے گی۔ دانی ایل اِن باتوں سے گھبرایا اور پریشان ہو گیا۔ 

مقدس کتاب

۱ شاہ بابل بیلطشضر کے پہلے سال میں دانی ایل نے اپنے بستر پر خواب میں اپنے سر کے دماغی خیالات کی رویا دیکھی۔ تب اُس نے اُس خواب کو لکھا اور اُن حالات کا مجمل بیان کیا۔
۲ دانی ایل نے یُوں کہا کہ میں نے رات کو ایک رویا دیکھی اور کیا دیکھتا ہُوں کہ آسمان کی چاروں ہوائیں سمندر پر زور سے چلیں ۔
۳ اور سُمندر سے چار بڑے حیوان جو ایک دُوسرے سے مُختلف تھے نکلے۔
۴ پہلا شیر ببر کی مانند تھا اور عقاب کے سے بازو رکھتا تھا اور میں دیکھتا رہا جب تک اُس کے سر پر اُکھاڑے گئے اور وہ زمین سے اُٹھایا گیا اور آدمی کی طرح پاوں پر کھڑا کیا گیا اور انسان کا دل اُسے دیا گیا۔
۵ اور کیا دیکھتا ہُوں کہ ایک دُوسرا حیوان ریچھ کی مانند ہے اور وہ ایک طرف سیدھا کھڑا ہُوا اور اُس کے مُنہ میں اُس کے دانتوں کے درمیان تین پسلیاں تھیں اور اُنہوں نے اُسے کہا کہ اُٹھ اور کثرت سے گوشت کھا۔
۶ پھر میں نے نظر کی اور کیا دیکھتا ہُوں کہ ایک اور حیوان تیندوے کی مانند اُٹھا جس کی پیٹھ پر پرندے کے سے چار بازو تھے اور اُس حیوان کے چار سر تھے اور سلطنت اُسے دی گئی۔
۷ پھر میں نے رات کو رویا میں دیکھا اور کیا دیکھتا ہُوں کی چوتھا حیوان ہولناک اور ہیبت ناک اور نہایت زبردست ہے اور اُس کے دانت لوہے کے بڑے بڑے تھے۔ وہ نگل جاتا اور ٹکرے ٹکرے کرتا تھا اور جو کُچھ باقی بچتا اُس کو پاوں سے لتاڑتا تھا اور یہ اُن سب پہلے حیوانوں سے مُختلف تھا اور اُس کے دس سینگ تھے۔
۸ میں نے اُن سینگوں پر غور سے نظر کی اور کیا دیکھتا ہُوں کہ اُن کے درمیان سے ایک اور چھوٹا سا سینگ نکلا جس کے آگے پہلوں میں تین سینگ جڑ سے اُکھاڑے گئے اور کیا دیکھتا ہُوں کہ اُس سینگ میں انسان کی سی آنکھیں ہیں اور ایک مُنہ ہے جس سے گھمنڈ کی باتیں نکلتی ہیں۔
۹ میرے دیکھتے ہُوئے تخت لگائے گئے اور قدیم الایّام بیٹھ گیا۔ اُس کا لباس برف سا سفید تھا اور اُس کے سر کے بال خالص اُون کی مانند تھے۔ اُس کا تخت آگ کے شُعلہ کی مانند تھا اور اُس کے پہیے جلتی آگ کی مانند تھے۔
۱۰ اُس کے حضُور سے ایک آتشی دریا جاری تھا۔ ہزاروں ہزار اُس کی خدمت میں حاضر تھے اور لاکھوں لاکھ اُس کے حضور کھڑے تھے۔ عدالت ہو رہی تھی اور کتابیں کھلی تھیں۔
۱۱ میں دیکھ ہی رہا تھا کہ اُس کے سینگ کی گھمنڈ کی باتوں کی آواز کے سبب سے میرے دیکھتے ہُوے وہ حیوان مارا گیا اور اُس کا بدن ہلاک کر کے شُعلہ زن آگ میں ڈالا گیا۔
۱۲ اور باقی حیوانوں کی سلطنت بھی اُن سے لے لی گئی لیکن وہ ایک زمانہ اور ایک دور زندہ رہے۔
۱۳ میں نے رات کو رویا میں دیکھا اور کیا دیکھتا ہُوں کہ ایک شخص آدم زاد کی مانند آسمان کے بادلوں کے ساتھ آیا اور قدیم الایّام تک پُہنچا۔ وہ اُسے اُس کے حضُور لائے۔
۱۴ اور سلطنت اور حشمت اور مملکت اُسے دی گئی تا کہ سب لوگ اور اُمتیں اور اہل لُغت اُس کی خدمت گُزاری کریں ۔ اُس کی سلطنت ابدی سلطنت ہے جو جاتی نہ رہے گی اور اُس کی مملکت لازوال ہو گئ۔
۱۵ مجھ دانی ایل کی رُوح میرے بدن میں ملُول ہُوئی اور میرے دماغ کے خیالات نے مُجھے پریشان کر دیا۔
۱۶ س جو میرے نزدیک کھڑے تھے اُن میں سے ایک کے پاس گیا اور اُس سے ان سب باتوں کی حقیقت دریافت کی۔ پس اُس نے مُجھے بتایا اور ان باتوں کا مطلب سمجھا دیا۔
۱۷ یہ چار بڑے حیوان چار بادشاہ ہیں جو زمین پر برپا ہوں گے۔
۱۸ لیکن حق تعالیٰ کے مُقدس لوگ سلطنت لے لیں گے اورابد تک ہاں ابد الاآباد تک اُس سلطنت کے مالک رہیں گے۔
۱۹ تب میں نے چاہا کہ چوتھے حیوان کی حقیقت سُمجھوں جو اُن سب سے مختلف اور نہایت ہولناک تھا۔ جس کے دانت لوہے کے ناخن پیتل کے تھے۔ جو نگلتا اور ٹکرے ٹکرے کرتا اور جو کچھ باقی بچتا اُس کو پاوں سے لتاڑتا تھا۔
۲۰ اوردس سینگوں کی حقیقت جو اُس کے سر پر تھے اور اُس سینگ کی جو نکلا اور جس کے آگے تین گر گئے یعنی جس سینگ کی آنکھیں تھیں اور ایک مُنہ تھا جو بڑے گھمنڈ کی باتیں کرتا تھا اور جس کی صُورت اُس کے ساتھیوں سے زیادہ رُعب دار تھی۔
۲۱ میں نے دیکھا کہ وہی سینگ مُقدسوں سے جنگ کرتا اور اُن پر غالب آتا رہا۔
۲۲ جب تک کہ قدیم الایّام نہ آیا اور حق تعالیٰ کے مُقدسوں کا انصاف نہ کیا گیا اور وقت آنہ پُہنچا کہ مُقدس لوگ سلطنت کے مالک ہوں۔
۲۳ اُ س نے کہا کہ چوتھا حیوان دُنیا کی چوتھی سلطنت ہے جو تمام سلطنتوں سے مُختلف ہے اور تمام زمین کو نگل جائے گی اور اُسے لتاڑ کر ٹکرے ٹکرے کرے گی۔
۲۴ اور وہ دس سینگ دس بادشاہ ہے جو اس سلطنت پر برپا ہوں گے اور اُن کے بعد ایک اور برپا ہو گا اور وہ پہلوں سے مُختلف ہو گا اور تین بادشاہوں کو زیر کرے گا۔
۲۵ اور وہ حق تعالٰی کے مُقدسوں کو تنگ کرے گا اور مُقررہ اُوقات و شریعت کو بدلنے کی کوشش کرے گا اور وہ ایک دور اور دوروں اور نیم دور تک اُس کے حوالہ کئے جائیں گے۔ تب عدالت قائم ہوگی اور اُس کی سلطنت اُس سے لے لیں گے کہ اُسے ہمیشہ کے لے نیست و نابُود کریں ۔
۲۶
۲۷ اور تمام آسمان کے نیچے سب مُلکوں کی سلطنت اور ممُلکت اور سلطنت کی حشمت حق تعالٰی کے مُقدس لوگوں کو بخشی جائے گی ۔ اُس کی سلطنت ابدی سلطنت ہے اور تمام مُملکتیں اُس کی خدمت گُزار اور فرما نبردار ہوں گی۔
۲۸ یہاں پر یہ امر تمام ہُوا۔ میں دانی ایل اپنے اندیشوں سے نہایت گھبرایا اور میرا چہرہ مُتغیر ہُوا لیکن میں نے یہ بات دل ہی میں رکھی۔