ب۔ بڑی مصیبت (باب ۱۲)
۱۲: ۱۔۳ آیت میں اُس بڑی مصیبت کا اِشارہ ہے جو مسیح کی دوسری آمد سے پہلے ساڑھے تین برس تک ہو گی۔ بعض لوگ زندہ کئے جائیں گے کہ ہزار سالہ بادشاہی میں مسیح کے ساتھ ہوں۔ شریر ہزار سالہ بادشاہی کے اِختتام پر زندہ کئے جائیں گے (آیت ۲ بحوالہ مکاشفہ ۲۰:۵)۔ اِس بڑی مصیبت میں جو لوگ عقل مندی کریں گے اور خداوند کے فرماں بردار رہیں گے اور دوسروں کو ایمان اور صداقت یعنی راست بازی کی راہ دِکھائیں گے وہ ابدی جلال میں ستاروں کی مانند روشن ہوں گے۔
کئی مفسرین آیت ۲ کو جسمانی قیامت (جی اُٹھنا) نہیں بلکہ بہ حیثیت قوم اِسرائیل کی بحالی اور کردار کی اصلاح قرار دیتے ہیں۔ خدا کی قدیم قوم ملک میں دوبارہ جمع کی جائے گی۔ اُس وقت اُن میں ایمان کی کمی ہو گی لیکن ایک بقیہ اِنجیل پر توجہ دے گا اور ہزار سالہ دَور میں داخل ہو گا۔ یہ لوگ ہیں جو حیاتِ ابدی کے لئے اُٹھیں گے۔ باقی سارے جو مخالفِ مسیح کی پرستش کرتے ہیں وہ رُسوائی اور ذلتِ ابدی کی سزا پائیں گے۔ اِسرائیل جو صدیوں سے غیر اقوام کے درمیان گویا دفن رہا قوم کی حیثیت سے بحال ہو گا۔ اُس وقت ایمان دار بقیہ کو اُس روحانی قیامت (جی اُٹھنے) کا تجربہ ہو گا جس کا ذکر یسعیاہ ۲۶: ۱۹ اور حزقی ایل باب ۳۷ میں کیا گیا ہے۔
۱۲: ۴ دانی ایل کو حکم ہوا کہ اِن نبوتوں کو کتاب میں سربمہر کر دے۔ آیت ۴ ب کا عموماً یہ مطلب سمجھا جاتا ہے کہ سائنسی علوم میں اور ذرائع آمد و رفت، ذرائع ابلاغ اور ذرائع نقل و حمل میں بے پناہ ترقی ہو گی۔ لیکن غالباً اِس کا مطلب یہ نہیں ہے۔ ڈاربی (Darby) لکھتا ہے کہ ’’بہت سے لوگ جاں فشانی سے تحقیق و تفتیش کریں گے۔‘‘ ٹریگلیز کہتا ہے کہ ’’بہت سے لوگ کتاب کو اوّل تا آخر جانچیں گے‘‘ یعنی اِس کے معانی جاننے اور سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ پتا چلتا ہے کہ بہت سے لوگ نبوتی کلام کا بغور مطالعہ کریں گے اور اِس طرح بڑی مصیبت کے ایام میں کلام کے بارے میں دانش افزوں ہو گی۔
۱۲: ۵۔۱۰ اِن آیات میں دو شخصوں (جن کی شناخت نہیں دی گئی) اور کتانی لباس والے شخص کے درمیان ایک مکالمہ یا بحث مرقوم ہے۔ بحث کا موضوع یہ ہے کہ آخری وقت آنے میں کتنی مدت باقی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ’’ ایک دَور اور دَور اور نیم دَور‘‘ یعنی ساڑھے تین سال ہے۔ دانی ایل اِن باتوں کو سمجھ نہیں پاتا تو اُسے بتایا گیا کہ یہ رُؤیا اُس وقت تک واضح نہ ہو گی (سمجھ میں نہ آئے گی) جب تک پوری نہ ہو جائے۔ مزید برآں اُسے یقین دلایا گیا کہ راست باز ’’لوگ پاک کئے جائیں گے … لیکن شریر شرارت کرتے رہیں گے‘‘ اور اِن باتوں کو نہیں سمجھیں گے بلکہ صرف دانشور سمجھیں گے۔ بڑی مصیبت کے شروع سے آخر تک ’’ایک دَور اور دَور اور نیم دَور‘‘ (ساڑھے تین سال یا ۱۲۶۰ دن ہوں گے)۔
۱۲: ۱۱ شاید بڑی مصیبت شروع ہونے سے تیس دن پہلے اُجاڑنے والی مکروہ چیز یروشلیم کی ہیکل میں نصب کی جائے گی۔ اِس سے ایک ہزار دو سو نوے دن کی وضاحت ہو جاتی ہے۔
۱۲: ۱۲ جہاں تک ایک ہزار تین سو پینتیس روز کا تعلق ہے اِس کی وضاحت یوں کی گئی ہے کہ مدت ہمیں اُس واقعے سے آگے لے جاتی ہے جب مسیح آئے گا اور اپنی بادشاہی کے شروع میں اپنے دشمنوں کی عدالت کرے گا۔
۱۲: ۱۳ دانی ایل آرام کرے گا (موت میں) اور قیامت میں اُٹھ کھڑا ہو گا اور اپنی میراث سے لطف اندوز ہو گا یعنی مسیحِ موعود (مسایاح) خداوند یسوع مسیح کی ہزار سالہ برکات میں اُس کے ساتھ ہو گا۔
مقدس کتاب
۱ اور اُس وقت میکائیل مُقرب فرشتہ جو تیری قوم کے فرزند وں کی حمایت کے لے کھڑا ہے اُٹھے گا اور وہ ایسی تکلیف کا وقت ہوگا کہ ابتدائی اقوام سے اُس وقت تک کبھی نہ ہُوا ہوگا اور اُس وقت تیرے لوگوں میں سے ہر ایک جس کا نام کتاب میں لکھا ہوگا رہائی پائے گا۔
۲ اور جو خاک میں سو رہے ہیں اُن میں سے بُہیترے جاگ اُٹھیں گے ۔ بعض حیات ابدی کے لئے اور بعض رُسوائی اور ذلت ابدی کے لئے۔
۳ اور اہل دانش نُور فلک کی مانند چمکیں گے اور جن کی کوشش سے بُہیترے صادق ہو گے ستاروں کی مانند ابدالآباد تک روشن ہوں گے۔
۴ لیکن تو اے دانی ایل ان باتوں کو بند کر رکھ اور کتا پر آخری زمانہ تک مُہر لگا دے ۔ بُہیترے اس کی تفتیش و تحقیق کریں گے اور دانش افزوں ہو گی۔
۵ پھر میں دانی ایل نے نظر کی اور کیا دیکھتا ہُوں کہ دو شخص اور کھڑے تھے۔ ایک دریا کے اس کنارہ پر اور دوسرا دریا کے اُس کنارہ پر۔
۶ اور ایک نے اس شخص سے جو کتانی لباس پہنے تھا اور دریا کے پانی پر کھڑا تھا پُوچھا کہ ان عجائب کے انجام تک کتنی مُدت ہے؟۔
۷ اور میں نے سُنا کہ اُس شخص نے جو کتانی لباس پہنے تھا جو دریا کے پانی کے اُوپر کھڑا تھا دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اُٹھا کر حُیّ القُیوم کی قسم کھائی اور کہا کہ ایک دور اور دور نیم دور۔ اور جب وہ مقدس لوگوں کے اقتدار کو نیست کر چُکیں گے تو یہ سب کچھ پُورا ہو جائے گا۔
۸ اور میں نے سُنا پر سمجھ نہ سکا۔ تب میں نے کہا اے میرے خُداوند ان کا انجام کیا ہوگا؟۔
۹ اُس نے کہا اے دانی ایل تو اپنی راہ لے کیونکہ یہ باتیں آخری وقت تک بندو سر بُمہر رہیں گی۔
۱۰ اور بُہت لوگ پاک کئے جائیں گے اور صاف و براق ہوں گے لیکن شریر شرارت کرتے رہیں گے اور شریروں میں سے کوئی نہ سمجھے گا پر دانش ور سمجھیں گے۔
۱۱ اور جس وقت سے دائمی قربانی موقوف کی جائے گی اور وہ اُجاڑنے والی مُکروہ چیز نصب کی جائے گی ایک ہزار دوسو نوے دن ہو گے۔
۱۲ مُبارک ہی وہ جو ایک ہزار تین سو پینتیس روز تک انتظار کرتا ہے۔
۱۳ پر تو اپنی راہ لے جب تک کہ مُدت پُوری نہ ہو کیونکہ تو آرام کرے گا اور ایّام کے اختتام پر اپنی میراث میں اُٹھ کھڑا ہو گا۔