میکاہ ۶

۷۔ اِسرائیل عدالت کے کٹہرے میں (‏باب ۶)‏

۶:‏ ۱۔۵ یہاں خدا مدعی اور اِسرائیل مدعا الیہ ہے۔ خدا اِسرائیل کے خلاف مقدمہ بیان کرتا ہے اور پہاڑوں کو سننے کے لئے طلب کرتا ہے۔ وہ اُن پر کی گئیں مہربانیوں کا تذکرہ کرتا ہے __ وہ اُنہیں ’’ مصر … کی غلامی‘‘ سے چھڑا لایا۔ اور بلق اور بلعام کو اُن پر لعنت نہ کرنے دی۔ 

۶:‏ ۶۔۸ اِس کے بدلے میں خدا تعالیٰ کیا طلب کرتا ہے؟ جانوروں کی دھڑا دھڑ قربانیاں نہیں! اور اِنسانی قربانی تو یقیناًہرگز نہیں! وہ طلب کرتا ہے اِنصاف‏، رحم دلی اور فروتنی۔ آٹھویں آیت بیان کرتی ہے کہ خدا کو کیا چاہئے __ اِس کی تعمیل کے لئے اِنسان کو روحانی زندگی کی ضرورت ہے۔ جو شخصی خدا پر ایمان نہیں لایا وہ اِس قسم کی راست بازی ہرگز نہیں دِکھا سکتا۔ 

۶:‏ ۹۔۱۲ خداوند کی آواز شہر کو پکارتی ہے۔ اور اُس کے گناہوں کی فہرست پیش کرتی ہے جو اُس کی مصیبت اور آفت کا باعث ہیں۔ اُس کے باشندے جھوٹے باٹ اور پیمانے استعمال کرتے تھے اور جھوٹ بولتے تھے۔ 

۶:‏ ۱۳۔۱۶ گناہ اپنے ساتھ تباہی اور ہلاکت لاتا ہے۔ ظالم اور بے رحم امیر لوگوں کے گناہوں کا نتیجہ ہو گا بیماری‏، بھوک‏، ناآسودگی‏، مایوسی اور آزردگی۔ جو چیزیں اُنہوں نے بے ایمانی اور بددیانتی سے جمع کی ہیں وہ اُن سے لطف اندوز نہ ہو پائیں گے۔ عمری کے قوانین (‏آیت ۱۶)‏ سے واضح مراد وہ بت پرستی ہے جسے عمری نے فروغ دیا (‏۱۔سلاطین ۱۶:‏ ۲۵‏،۲۶)‏۔

مقدس کتاب

۱ اب خُداوند کا فرمان سُن!اُٹھ پہاڑوں کے سامنے مُباحثہ کر اور سب ٹیلے تیری آواز سُنیں۔
۲ اے پہاڑو اور اے زمین کی مُحکم بُنیاد و خُداوند کا دعوٰی سُنو کیونکہ خُداوند اپنے لوگوں پر دعوٰی کرتا ہے اور وہ اسرائیل پر حُجت پابت کرے گا۔
۳ اے میرے لوگو میں نے تم سے کیا کیا ہے؟ اور تم کو کس بات میں آزُردہ کیا ہے؟ مُجھ پر ثابت کرو۔
۴ کیونکہ میں تم کو مُلک مصر سے نکال لایا اور غُلامی کے گھر سے فدیہ دے کر چُھڑا لایا اور تمہارے آگے موسیٰ اور ہارون اور مریم کو بھیجا۔
۵ اے میرے لوگو یاد کرو کہ شاہ موآب بلق نے کیا مشورت کی اور بلعام بن بعور نے اُسے کیا جواب دیا اور شیتم سے جلجال تک کیا کیا ہُوا تاکہ خُداوند کی صداقت سے واقف ہو جاؤ۔
۶ میں کیا لے کر خُداوند کے حُضور آوں اور خُداتعالٰی کو کیونکر سجدہ کُروں ؟ کیا سو ختنی قُربانیوں اور یکسالہ بچھڑوں کو لے کر اُس کے حُضور آوں ؟۔
۷ کیا خُداوند ہزاروں مینڈھوں سے یا تیل کی دس ہزار نہروں سے خُوش ہو گا؟ کیا میں اپنے پہلوٹھے کو اپنے گُناہ کے عوض میں اور اپنی اولاد کو اپنی جان کی خطا کے بدلہ میں دے دُوں؟۔
۸ اے انسان اُس نے تجھ پر نیکی ظاہر کر دی ہے۔ خُداوند تجھ سے اس کے سوا کیا چاہتا ہے کہ تو انصاف کرے اور رحم دلی کو عزیز رکھے اور اپنے خُدا کے حضور فروتنی سے چلے؟۔
۹ خُداوند کی آواز شہر کو پُکارتی ہے اور دانش مند اس کے نام کا لحاط رلھتا ہے۔ عصا اور اس کے مُقرر کرنے والے کی سُنو۔
۱۰ کیا شریر کے گھر میں اب تک ناجائز نفع کے خزانے اور ناقص و نفرتی پیمانے نہیں ہیں؟۔
۱۱ کیا وہ دغا کی ترازو اور جُھوٹے باٹوں کا تھیلا رکھتا ہُوا بے گُناہ ٹھہرے گا؟۔
۱۲ کیونکہ وہاں کے دولتمند ظُلم سے پُر ہیں اور اُس کے باشندے جُھوٹ بولتے ہیں بلکہ اُن کے مُنہ دغا باز زُبان ہے۔
۱۳ اس لئے میں تُجھے مُہلک زخم لگاوُں گا اور تیرے گُناہوں کے سبب سے تجھ کو ویران کر ڈالوں گا۔
۱۴ تو کھائےگا پر آسودہ نہ ہوگا کیونکہ تیرا پیٹ خالی رہے گا۔ تو چُھپائے گا پر بچا نہ سکے گا اور جُو کچھ تو بچائے گا میں اُسے تلوار کے حوالہ کُروں گا۔
۱۵ تو بُوئے گا پر فصل نہ کاٹے گا ۔ زیتون کو روندے گا پر تیل ملنے نہ پائے گا۔ تو اُنگور کو کُچلے گا پر مے نہ پئے گا۔
۱۶ کیونکہ عُمری کے قوانین اور اخی اب کے خاندان کے اعمال کی پیروی ہوتی ہے اور تم ان کی مشورت پر چلتے ہو تاکہ میں تم کو ویران کُروں اور اس کے رہنے والوں کو سُسکار کا باعث بناوں ۔ پس تُم میرے لوگوں کی رسوائی اُٹھاؤگے۔