میکاہ ۷

۸۔ قوم اپنی بدحالی پر ماتم کرتی ہے (‏۷:‏ ۱۔۱۰)‏

۷:‏ ۱‏، ۲ یہاں میکاہ قوم کے ساتھ مل جاتا ہے اور مناجات اور شفاعتی دعا کرتا ہے۔ شہر دین دار اور راست باز آدمیوں سے بالکل خالی ہو گیا ہے۔ ظلم و ستم‏، جو ر و جبر اور خوں ریزی زوروں پر ہے۔ اِس افسوس ناک حالت کو انگور توڑنے کے بعد کی خوشہ چینی سے تشبیہ دی گئی ہے‏، جب کھانے کو کوئی خوشہ نہیں ملتا۔ 

۷:‏ ۳۔۶ حاکم اور قاضی رشوت طلب کرتے ہیں۔ اُن کی سزا بھی سر پر منڈلا رہی ہے۔ کسی پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔ دوست‏، پڑوسی بلکہ قریبی رشتہ دار بھی ایک دوسرے سے دغا کرتے ہیں۔ 

۷:‏۷ ۔ ۱۰ صرف خداوند پر بھروسا کیا جا سکتا ہے۔ قوم کا ایمان دار بقیہ اپنے دشمن کو خبردار کرتا ہے کہ مجھ پر شادمان نہ ہو۔ یہ آفت لوگوں کے گناہوں کا نتیجہ ہے تو بھی خداوند اپنوں کو بحال کرے گا۔ اور اُن کے دشمن بے دل اور پامال ہوں گے۔ 

۹۔ مستقبل میں اِسرائیل کے لئے مبارک حالی (‏۷:‏ ۱۱۔۲۰)‏

۷:‏ ۱۱‏، ۱۲ اِس کے بعد یروشلیم کو مخاطب کیا گیا ہے۔ اُس کی فصیل دوبارہ تعمیر کی جائے گی اور اُس کی حدود بہت بڑھائی جائیں گی۔ جلاوطن اسیری کے ملکوں سے واپس آئیں گے اور بے دین اور بت پرست دُنیا کو اُس کی بدی اور شرارت کی سزا ملے گی۔

۷:‏ ۱۳ یہ آیت پہلی نظر میں عجیب معلوم ہوتی ہے۔ زمین کی ویرانی سے غالباً وہ نتائج مراد ہیں جو غیر قوموں کے اعمال کی عدالت کا پھل ہوں گے۔ یہ عدالت موعودہ بحالی سے بالکل پہلے ہو گی۔ 

۷:‏ ۱۴۔۱۷ آیت ۱۴ خداوند کے حضور دعا ہے جس میں خوراک اور چرواہے جیسی نگہداشت (‏گلہ بانی)‏ مانگی گئی ہے۔ خداوند اپنے لوگوں کو یقین دلاتا ہے کہ مَیں ایسے عجیب کام کروں گا کہ غیر ’’قومیں دیکھ کر … شرمندہ ہوں گی‘‘ اور میرے سامنے جھکیں گی۔

۷:‏ ۱۸۔۲۰ میکاہ نبوت کے اِختتام پر خدا کی حمد و ستائش کا گیت گاتا ہے۔ وہ خدا کے رحم معافی‏، ترس‏، شفقت اور وفاداری کی تعریف کرتا ہے۔

مقدس کتاب

۱ مُجھ پر افسوس ! میں تابستانی میوہ جمع ہونے اور اُنگور توڑنے کے بعد کی خوشہ چنیی کی مانند ہُوں ۔ نہ کھانے کو کوئی خوشہ اور نہ پہلاپکا دل پسند انجیرہے۔
۲ دیندار آدمی دُنیا سے جاتے رہے۔ لوگوں میں کوئی راستباز نہیں۔وہ سب کے سب گھات میں بیھٹے ہیں کہ خُون کریں۔ ہر شخص جال نچھا کر اپنے بھائی کا شکار کرتا ہے۔
۳ اُن کے ہاتھ بدی میں پُھریتلے ہیں۔ حاکم رشوت مانگتا ہے اور قاضی بھی یہی چاہتا ہے اور بڑے آدمی اپنے دل کی حرص کی باتیں کرتے ہیں اور یُوں سازش کرتے ہیں۔
۴ ان میں سب سے اچھا تو اُونٹ کٹارے کی مانند ہے اور سب سے راستبازخاردار جھاڑی سے بدتر ہے۔اُن کے نگہبانوں کا دن ہاں اُن کی سزا کا دن آگیا ہے۔ اب اُن کو پریشانی ہوگی۔
۵ کسی دوست پر اعتماد نہ کرو۔ ہمراز پر بھروسا نہ رکھوّ۔ ہاں اپنے مُنہ کا دروازہ اپنی بیوی کے سامنے بند رکھو۔
۶ کیونکہ بیٹا اپنے باپ کو حقیر جانتا ہے اور بٹیی اپنی ماں کے اور بہو انپی ساس کے خلاف ہوتی ہے اور آدمی کے دُشمن اس کے گھر ہی کے لوگ ہیں۔
۷ لیکن میں خُداوند کی راہ دیکھوں گا اور اپنے نجات دینے والے خُدا کا انتظار کُروں گا میرا خُدا میری سُنے گا۔
۸ اے میرے دُشمن مُجھ پر شادمان نہ ہو کیونکہ جب میں گروں گا تو اُتھ کھڑا ہوں گا۔ جب اندھیرے میں بیٹھوں گا۔ تو خداوند میرا نور ہوگا۔
۹ میں خُداوند کے قہر کی برداشت کُروں گا کیونکہ میں نے اس کا گناہ کیا جب تک وہ میرا دعویٰ ثابت کر کے میرا انصاف نہ کرے ۔ وہ مُجھے روشنی میں لائے گا اور میں اُس کی صداقت کو دیکھو گا۔
۱۰ تب میرا دُشمن جو مُجھ سے کہتا تھا خُداوند تیرا خُدا کہاں ہے یہ دیکھ کر رُسوا ہوگا ۔ میری آنکھیں اُسے دیکھیں گی۔ وہ گلیوں کی کیچ کی مانند پایمال کیا جائے گا۔
۱۱ تیری فصیل کی تعمیر کے روز تیری حُدود بڑھائی جائیں گی۔
۱۲ اُسی روز اسور سے اور مصر کے شہروں سے اور مصر سے دریای فرات تک اور سُمندر سے سُمندر تک اور کوہستان سے کوہستان تک لوگ تیرے پاس آئین گے ۔
۱۳ اور زمین اپنے باشندوں کے اعمال کے سبب سے ویران ہوگی۔
۱۴ انپے عصا سے اپنے لوگوں یعنی اپنی میراث کی گٰلہ بانی کر۔ جو کرمل کے جنگل میں تنہا رہتے ہیں اُن کو بسن اور جلعاد میں پہلے کی طرح چرنے دے۔
۱۵ جیسے تیرے مُلک مصر سے نکلتے وقت ویسے ہی اب میں اُس کو عجائب دکھاوں گا۔
۱۶ قومیں دیکھ کر اپنی تمام توانائی سے شرمندہ ہوںگی ۔ وہ مُنہ پر ہاتھ رکھیں گی اور اُن کے کان بہرے ہو جائیں گے۔
۱۷ وہ سانپ کی مانند خاک چاٹیں گی اور اپنی چُھپنے کی جگہوں سے زمین کے کیڑوں کی مانند تھرتھراتی ہُوئی آئیں گی۔ وہ خُداوند ہمارے خُدا کے حُضور ڈرتی ہوئی آئیں گی ہاں وہ تجھ سے ہراساں ہوں گی۔
۱۸ تجھ سا خُدا کون ہے جو بدکرداری مُعاف کرے اور اپنی میراث کے بقیہ کی خطاوں سے در گُزرے؟ وہ اپنا وقہر ہمیشہ تک نہیں رکھ چھوڑتا کیونکہ وہ شفقت کرنا پسند کرتا ہے۔
۱۹ وہ پھر ہم پر رحم فرمائے گا۔ وہی ہماری بدکرداری کو پایمال کرے گا اور اُن کے سب گُناہ سمندر کی تہ میں ڈال دے گا۔
۲۰ تو یعقوب سے وفاداری کرے گا اور ابرہام کو وہ شفقت دکھائے گا جس کی بابت تو نے قدیم زمانہ میں ہمارے باپ دادا سے قسم کھائی تھی۔+