میکاہ ۲

۲۔ دولت مند ظالموں کا انجامِ بد (‏۲:‏ ۱۔۱۱)‏

۲:‏ ۱۔۵ یہاں قہر و غضب نازل ہونے کی وجوہات بیان ہوئی ہیں۔ دولت مند لوگ ظلم و تشدد کر کے غریبوں کے گھر اور کھیت (‏زمین)‏ چھین لیتے تھے۔ نتیجہ یہ ہو گا کہ اجنبی لوگ (‏غیر اقوام)‏ حملہ کر کے دولت مندوں سے جائیدادیں چھین لیں گے اور اُن کے پاس کچھ نہ بچے گا۔ 

۲:‏ ۶‏،۷ لوگوں نے میکاہ کو کہا کہ ایسی ناگوار نبوت نہ کرے کیونکہ ہم پر رُسوائی نہیں آئے گی۔ مگر میکاہ نے جواب دیا کہ تمہیں نہیں کہنا چاہئے کہ ’’کیا خداوند کی روح قاصر ہو گئی؟‘‘ اور ’’کیا اُس کے یہی کام ہیں‘‘؟ یعنی قہر اور غضب نازل کرنا __ کیا اُس (‏خدا)‏ کی ’’باتیں راست رَو کے لئے مفید نہیں‘‘؟

۲:‏ ۸۔۱۱ اپنے گناہوں کے سبب سے خدا کے لوگ گویا یہوواہ کے دشمن بن گئے تھے۔ وہ پُراَمن اور صلح جُو لوگوں سے لباس تک چھین لیتے تھے۔ وہ عورتوں اور بچوں کو اُن کے گھروں سے نکال دیتے تھے۔ اُن کو اُٹھایا اور اسیری میں دھکیل دیا جائے گا کیونکہ جس ملک کو اُنہوں نے ناپاک کیا وہی اُن کو برباد کر دے گا۔ جو جھوٹا نبی شراب اور نشے کی وکالت کرے اُسے یہ لوگ فوراً قبول کر لیتے تھے۔ 

۳۔ بحالی کا وعدہ (‏۲:‏ ۱۲‏،۱۳)‏

عدالت اور قہر و غضب کے بعد خدا اِسرائیل کے بقیہ کو دوبارہ جمع کرے گا اور جلاوطنی سے واپس لائے گا۔ ایک توڑنے والا (‏خداوند)‏ ہر اُس چیز کو توڑ ڈالے گا جو اُن کی بحالی میں رکاوٹ بنے گی۔

مقدس کتاب

۱ ان پر افسوس جو بد کرداری کے مُنصوبے باندھتے اور بستر پر پڑے پڑے شرارت کی تدبیریں ایجاد کرتے ہیں اور صبح ہوتے ہی اُن کو عمل میں لاتے ہیں! کیونکہ اُن کو اس کا اختیار ہے۔
۲ وہ لالچ سے کھیتوں کو ضبط کرتے اور گھروں کو چھین لیتےہیں اور یُوں آدمی اور اُس کے گھر پر ہاں مرد اور اس کی میراث پر ظلم کرتے ہیں۔
۳ اس لئے خُداوند یُوں فرماتا ہے کہ دیکھ میں اس گھرانے پر آفت لانے کی تدبیر کرتا ہُوں جس سے تُم اپنی گردن نہ بچا سکو گے اور گردن کشی سے نہ چلو گے کیونکہ یہ بُرا وقت ہو گا۔
۴ اس وقت کوئی تم پر یہ مثل لائے گا اور پُردرد نوحہ سے ماتم کرے گا اور کہے گا ہم بالکل غارت ہُوئے اس نے میرے لوگوں کا بخرہ بدل ڈالا ۔ اُس نے کیسے اس کو مُجھ سے جُدا کر دیا!اس نے ہمارے کھیت باغیوں کو بانٹ دے۔
۵ اس لے تم میں سے کوئی نہ بچے گا جو خُداوند کی جماعت میں پیمایش کی رسی ڈالے۔
۶ بکواس کہتے ہیں بکواس نہ کرو۔ ان باتوں کی بابت بکواس نہ کرو۔ ایسے لوگوں سے رُسوائی جُدا نہ ہوگی۔
۷ اے بنی یعقوب کیا یہ کہا جائے گا کہ خُداوند کی روح قاصر ہوگی؟ کیا اس کے یہی کام ہیں؟ کیا میری باتیں راست رو کے لے مفید نہیں؟۔
۸ ابھی کل کی بات ہے کہ میرے لوگ دُشمن کی طرح اُٹھے ۔ تُم پسند و بے فکر راہ گیروں کی چادر اتار لتیے ہو۔
۹ تم میرے لوگوں کی عورتوں کو ان کے مرغوب گھروں سے نکال دیتے ہو اور تم نے میرے جلال کو اُن کے بچوں پر سے ہمیشہ کے لے دُرو کر دیا۔
۱۰ اُٹھو اور چلے جاو کیونکہ لا علاج و مہلک ناپاکی کے سبب سے یہ تُمہاری آرام گاہ نہیں ہے۔
۱۱ اگر کوئی جُھوٹ اور بطالت کا پیرو کہے کہ میں شراب و نشہ کی باتیں کُروں گا تو وہی ان لوگوں کا نبی ہو گا۔
۱۲ اے یعقوب میں یقینا تیرے سب لوگوں کو فراہم کُروں گا۔ میں یقینا اسرائیل کے بقیہ کو جمع کُروں گا۔ میں ان کو بصراہ کی بھیڑوں اور چراگاہ کے گلہ کی مانند اکٹھا کُروں گا اور آدمیوں کا بڑا شور ہو گا۔
۱۳ توڑنے والا ان کے آگے آگے گیا ہے۔ وہ توڑتے ہُوے پھاٹک تک چلے گے اور اس میں سے گُزر گے اوران کا بادشاہ ان کے آگے آگے گیا یعنی خُداوند ان کا پیشوا۔