میکاہ ۳

۴۔حاکموں‏، جھوٹے نبیوں اور کاہنوں کو مجرم ٹھہرایا جاتا ہے (‏باب ۳)‏

۳:‏ ۱۔۴ بنی اِسرائیل کے سرداروں اور حاکموں کی مذمت کی گئی ہے کیونکہ وہ بےِ انصاف‏، لالچی تھے اور نیکی سے عداوت اور بدی سے محبت رکھتے تھے۔ وہ غریبوں سے اِنتہائی ظالمانہ سلوک کرتے تھے۔ حاکموں کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ لوگوں کے چرواہے ہوں‏، لیکن یہ سیاست دان بھیڑیئے بن گئے تھے۔ اور بھیڑوں کو ہانڈی اور دیگ کے لئے گوشت بنا دیتے تھے۔ وہ داؤد سے بالکل اُلٹ تھے جو لغوی معنوں میں بھی چرواہا تھا اور اپنی قوم کی گلہ بانی کیا کرتا تھا (‏۱۔سموئیل ۱۷:‏ ۱۵؛ ۲۔سموئیل ۵:‏ ۲؛ ۷:‏ ۷)‏۔ جب اُن (‏حاکموں )‏ پر آفت اور مصیبت آئے گی تو خدا بھی اُن کی پکار نہیں سنے گا۔ 

۳:‏ ۵۔۷ جو لوگ پیسے دیتے جھوٹے نبی اُن کے لئے سلامتی کا راگ الاپتے تھے اور جو کچھ نہیں دیتے تھے اُن کو لڑائی کی خبر دیتے تھے بلکہ خود اُن سے لڑنے کو تیار ہوتے تھے۔ اِس لئے خدا ان کو ہرگز عرفان نہ دے گا کہ میری مرضی کیا ہے۔ اُن کے لئے خدا کی طرف سے کچھ جواب نہ ہو گا۔

۳:‏ ۸۔۱۲ اِن کے مقابلے میں میکاہ ’’خداوند کی روح کے باعث قوت … اور دلیری سے معمور‘‘ تھا۔ تاکہ اِسرائیل اور یعقوب (‏یہوداہ)‏ کو خدا کا پیغام سنائے۔ کرایے کے کاہن اور نبی سوچتے تھے کہ ہم محفوظ ہیں‏، لیکن میکاہ نے اعلان کیا کہ یروشلیم کھنڈر ہو جائے گا۔ 

مقدس کتاب

۱ اور میں نے کہا اے یعقوب کے سردار اور بنی اسرائیل کے حاکموں سُنو! کیا مُناسب نہیں کہ تم عدالت سے واقف ہو؟۔
۲ تم نیکی سے عدوات اور بدی سے مُحبت رکھتے ہو اور لوگوں کی کھال اُتارتے اور اُن کی ہڈیوں پر سے گوشت نوچتے ہو۔
۳ اور میرے لوگوں کا گوشت کھاتے ہو اور اُن کی کھال اُتارتے اور اُن کی ہڈیوں کو توڑتے اور ان کو ٹکڑے ٹکڑے کرتے ہو گویا وہ ہانڈی اور دیگ کے لے گوشت ہیں۔
۴ تب وہ خُداوند کو پُکارے گےپر وہ اُن کی نہ سُنے گا۔ ہاں وہ اُس وقت ان سے مُنہ پھیر لے گا کیونکہ اُن کے اعمال بُرے ہیں۔
۵ اُن نبیوں کے حق میں جو میرے لوگوں کو گُمراہ کرتے ہیں جو لُقمہ پا کر سلامتی سلامتی پُکارتے ہیں لیکن اگر کوئی کھانے کو نہ دے تو اس سے لڑنے کو تیار ہوتے ہیں خُداوند یُوں فرماتا ہے۔
۶ کہ اب تم پر رات ہو جاے گئی جس میں رویا نہ دیکھو گے اور تم پر تاریکی چھا جائے گی اور غیب بینی نہ کر سکو گے اور نبیوں پر آفتاب غروب ہو گا اور اُن کے لے دن اندھیرا ہو جائے گا۔
۷ تب غیب بین پشیمان اور فالگیر شرمندہ ہوں گے بلکہ سب لوگ مُنہ پر ہاتھ رکھیں گے کیونکہ خُدا کی طرف سے کُچھ جواب نہ ہو گا۔
۸ لیکن میں خُداوند کی رُوح کے باعث قوت و عدالت اور دلیری سے معمور ہوں تاکہ یعقوب کو اس گناہ اور اسرائیل کو اس کی خطا جتاوں ۔
۹ اے نبی یعقوب کے سردار اور اے نبی اسرائیل کے حاکمو جو عدالت سے عدوات رکھتے ہو اور ساری راستی کو مروتے ہو اس بات کو سُنو ۔
۱۰ تم جو صیون کو خُونریزی سے اور یروشیلم کو بے انصافی سے تعمیر کرتے ہو۔
۱۱ اس کے سردار رشوت لے کر عدالت کرتے ہیں اور اُس کے کاہن اُجرت لے کر تعلیم دیتے ہیں اور اس کے نبی روپیہ لے کر فالگیری کرتے ہیں تو بھی وہ خُداوند پر تکیہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کیا خُداوند ہمارے درمیان نہیں؟ پس ہم پر کوئی بلا نہ آے گی۔
۱۲ اس لے صیون تمہارے ہی سبب سے کھیت کی طرح جُوتا جاےگا اور یروشیلم کھنڈر ہو جائے گا اور اس گھر کا پہاڑ جنگل کی اُونچی جگہوں کی مانند ہوگا۔