د۔ مردکی کی ترقی اور یہودیوں کی مخلصی (باب ۸)
۸: ۱،۲ ہامان کا گھر آستر کو اور اُس کا عہدہ مردکی کو دے دیا گیا۔
۸: ۳۔۸ ہامان کو تو راستے سے ہٹا دیا گیا، لیکن اُس کا تیار کردہ تباہی کا منصوبہ ابھی قابلِ عمل تھا۔ ایک بار پھر آستر اپنی جان کی پروا کئے بغیر بِن بلائے بادشاہ کے پاس گئی اور رو رو کر اپنی قوم کی جان بخشی کے لئے التجا کی۔ ایک بار پھر رحم کا عصا اُس کی طرف اُٹھایا گیا۔ آیت ۳ میں درخواست کا خلاصہ پیش کیا گیا اور آیات ۵ اور ۶ میں ہوبہو وہ الفاظ دیئے گئے ہیں۔ اُس نے درخواست کی کہ پہلے حکم کو منسوخ کر دیا جائے۔ لیکن آئین کے مطابق جب کسی فرمان پر فارس کا بادشاہ دستخط کر کے اُس پر مُہر لگا دیتا تو اُسے تبدیل نہیں کیا جا سکتا تھا۔ تاہم آستر کو یہ یاد دلانے پر کہ اُس کے لئے پہلے ہی اُس نے کیا کچھ کیا ہے، بادشاہ نے اُسے اور مردکی کو اِجازت دی کہ ایک اَور فرمان تحریر کریں جو پہلے فرمان کو منسوخ کر دے۔
۸: ۹۔۱۴ بادشاہ کے مُنشیوں کو بلایا گیا اور مردکی نے اُنہیں ایک فرمان لکھوایا، جس میں یہودیوں کو یہ حق دیا کہ وہ اپنی جان کی حفاظت کریں۔ تیز رفتار شاہی گھوڑوں پر سلطنت کے ہر ایک حصے میں یہ خبر پہنچائی گئی۔ شیطان کی سلطنت میں بدی کی قوتوں سے اِنسان کی مخلصی کے لئے کس قدر تیزی سے خبر پہنچانے کی ضرورت ہے۔
۸: ۱۵۔۱۷ اپنے ٹاٹ کو اُتار کر مردکی عالی شان لباس پہنے ہوئے محل سے نکلا۔ جب یہودیوں نے سنا کہ اچانک کس طرح حالات کا رُخ مُڑ گیا تو وہ خوشی سے پھولے نہ سمائے، جب کہ باقی لوگ ابھی تک خوف زدہ تھے۔ دشمنوں کی صف میں شمار نہ ہونے کے لئے بہت سے غیر قوم اُس وقت یہودی مذہب میں نومرید بن گئے۔
مقدس کتاب
۱ اسی دن اخسویرس ادشاہ نے یہودیوں کے دشمن ہامان کا گھر آستر ملکہ کو نخشا اور مردکی بادشاہ کے سامنے آیا کیونکہ آستر نے بتادیا تھا کہ اسکا اس سے کیا رشتہ تھا۔
۲ اور بادشاہ نے اپنی انگوٹھی جو اس نے ہامان سے لے لی تھی اتار کر مردکی کو دی اور آستر نے مردکی کو ہامان کے گھر پر مختار بنادیا۔
۳ اور آستر نے پھر بادشاہ کے حضور عرض کی اور اسکے قدموں پر گری اور آنسو بہا بہا کر اسکی منت کی کہ ہامان اجاجی کی بدخواہی اور بارش کو جو اس نے یہودیوں کے بر خلاف کی تھی باطل کردے۔
۴ تب بادشاہ نے استر کی طرف سنہلا عصا بڑھایا۔سو آستر بادشاہ کے حضور اٹھ کھڑی ہوئی۔
۵ اور کہنے لگی کہ اگر بادشاہ کو منظور ہوا اور میں اسکی نظر میں مقبول ہوں اور یہ بات بادشاہ کو مناسب معلوم ہو اور اسکی نگاہ میں پیاری ہوں تو ان فرمانوں کو منسوخ کرنے کو لکھا جائے جنکو اجاجی ہمداتا کے بیٹے ہامان نے ان سب یہودیوں کو ہلاک کرنے کے لئے جو بادشاہ کے سب صوبوں میں بستے ہیں تجویز کیا تھا۔
۶ کیونکہ میں اس بلاکو جو میری قوم پر نازل ہوگی کیونکہ دیکھ سکتی ہوں؟ یا کیسے میں اپنے رشتہ داروں کی ہلاکت دیکھ سکتی ہوں؟۔
۷ تب اخسویرس بادشاہ نے آستر ملکہ اور مردکی یہودی سے کہا کہ دیکھو میں نے ہامان کا گھر آستر کو بخشا ہے اور اسے انہوں نے سولی پر ٹانگ دیا ہے اسلئے کہ اس نے یہودیوں پر ہاتھ چلایا۔
۸ تم بھی بادشاہ کے نام سے یہودیوں کو جیسا چاہتے ہو لکھو اور اس پر بادشاہ کی انگوٹھی سے مہر کرو کیونکہ جو نوشتہ بادشاہ کے نام سے لکھا جاتا ہے اور اس پر بادشاہ کی انگوٹھی سے مہر کی جاتی ہے اسے کوئی منسوخ نہیں کرسکتا۔
۹ سو اسی وقت تیسرے مہینے یعنی سیوان مہینے کی تیسویں تاریخ کو بادشاہ کے منشی طلب کئے گئے اور جو کچھ مردکی نے ہندوستان سے کوش تک ایک سوستائیس صوبوں کے یہودیوں اور نوابوں اور حاکموں اور صوبوں کے امیروں کو حکم دیا وہ سب ہر صوبہ کو اسی کےحروف اور ہر قوم کو اسی کی زبان اور یہودیوں کو انکے حروف اور انکی زبان کے مطابق لکھا گیا۔
۱۰ اور اس نے اخسویرس بادشاہ کے نام سے خط لکھے اور بادشاہ کی انگوٹھی سے ان پر مہر کی اور انکو سوار ہرکاروں کے ہاتھ روانہ کیا جو عمدہ نسل کے تیز رفتار شاہی گھوڑوں پر سوار تھے۔
۱۱ ان میں بادشاہ نے یہودیوں کو جو ہر شہر میں تھے اجازت دی کہ اکٹھے ہو کر اپن بچانے کے لئے مقابلہ پر اڑجائیں اور اس قوم اور اس صوبہ کی ساری فوج کو جوان پر اور انکے چھوٹے بچوں اور یہودیوں پر حملہ آور ہو ہلاک اور قتل کریں اور نیست ونابود کردیں اور انکا مال لوٹ لیں۔
۱۲ یہ اخسویرس بادشاہ کے سب صوبوں میں بارھویں مہینے یعنی ادار مہینے کی تیرھویں تاریخ کو ایک ہی دن میں ہو۔
۱۳ اس تحریر کی ایک ایک نقل سب قوموں کے لئے شائع کی گئی کہ اسفرمان کا اعلان ہر صوبہ میں کیا جائے تاکہ یہودی اس دن اپنے دشمنوں سے اپنا انتقام لینے کو تیار ہیں۔
۱۴ سو وہ ہر کارے جو تیز رفتار شاہی گھوڑوں پر سوار تھے روانہ ہوئے اور بادشاہ کے حکم کی وجہ سے تیز نکلے چلے گئے اور وہ فرمان قصر سوسن میں دیافیا۔
۱۵ اور مردکی بادشاہ کے حضور سے آسمانی اور سفید کا شاہانہ لباس اور سونے کا ایک بڑا تاج اور کتانی اور ارغوانی خلعت پہنے نکلا اور سوسن شہر نے نعرہ مارا اور خوشی منائی۔
۱۶ یہودیوں کو رونق اور خوشی اور شادمانی اور عزت حاصل ہوئی۔
۱۷ اور ہر صوبہ اور ہر شہر میں جہاں کہیں بادشاہ کا حکم اور اسکا فرمان پہنچا یہودیوں کو خرمی اور شادمانی اور عید اور خوشی کا دن نصیب ہوا اور اس ملک کے لوکوں میں سے بہتیرے یہودی ہو گئے کیونکہ یہودیوں کا خوف ان پر چھایا گیا تھا۔