آستر ۵

۴۔ یہودیوں کی ہلاکت کے منصوبے میں رکاوٹ (‏ابواب ۵۔۹)‏

الف۔ آستر کی درخواست اور ہامان کا غصہ (‏باب ۵)‏

۵:‏ ۱۔۳ تیسرے دن جب روزہ ختم ہوا تو آستر نے اپنا شاہانہ لباس پہنا‏، دلیری کے ساتھ بِن بلائے اخسویرس کے حضور حاضر ہوئی۔ یہ جانتے ہوئے کہ ملکہ نے کسی اہم معاملے کے لئے اپنی جان خطرے میں ڈالی‏، بادشاہ نے سنہلا عصا اُس کی طرف اُٹھاتے ہوئے اُسے جان کی امان دی۔ اُس نے اُس سے یہ وعدہ بھی کیا کہ اُس کی درخواست قبول کی جائے گی بلکہ آدھی سلطنت تک اُسے دے دی جائے گی (‏یہ اندازِ گفتگو تھا کہ جو کچھ دیا جا سکتا ہے‏، دیا جائے گا)‏۔ مسیح خداوند اپنے فضل کا عصا ہر اُس بے ایمان کی طرف اُٹھاتا ہے جو توبہ اور ایمان کے ساتھ اُس کے پاس آتا ہے (‏دیکھیں یوحنا ۶:‏۳۷ ب)‏۔ ایمان دار کی طرف ہر وقت سنہلا عصا بڑھا ہوا ہے (‏عبرانیوں ۱۰:‏۲۲)‏۔

۵:‏ ۴۔۸ اِس مقام پر آستر نے صرف بادشاہ اور اُس کے چہیتے وزیر ہامان کو ضیافت پر بلایا (‏کتاب میں چوتھی ضیافت)‏۔ کھانے کے دوران بادشاہ نے پھر معلوم کرنا چاہا کہ ملکہ کیا چاہتی ہے۔ ایک بار پھر آستر نے تاخیر کی اور بادشاہ اور ہامان کو اگلے دن ایک اَور ضیافت کے لئے دعوت دی۔ تب وہ اپنی درخواست بتائے گی۔ اِس سلسلے میں مختلف آرا ہیں کہ درخواست بتانے سے قبل آستر نے دو دفعہ تاخیر کا منصوبہ کیوں بنایا۔

  1. وہ بادشاہ کے دل میں جگہ بنانا چاہتی تھی کیونکہ اُس پر اُس کی نظرِعنایت نہ تھی (‏۴:‏ ۱۰۔۱۲ پر تفسیر ملاحظہ فرمائیے)‏۔
  2. دونوں بار اُس کی جرأت جواب دے گئی۔
  3. وہ بادشاہ کو تذبذب میں رکھنا چاہتی تھی اور اُس پر ظاہر کرنا چاہتی تھی کہ اُس کا معاملہ کوئی عام بات نہیں بلکہ بہت اہم ہے۔
  4. وہ ہامان کے غرور کو ہوا دینا چاہتی تھی اور اُسے ایک شریر قاتل کی صورت میں بے نقاب کرنے کے لئے بے خبر رکھنا چاہتی تھی۔ شاید اِن تمام تصورات کے عناصر اُس کے لائحہ عمل میں شامل ہوں۔ 

۵:‏ ۹۔۱۴ بڑے فخر کے ساتھ ہامان خوشی خوشی ضیافت سے رُخصت ہوا۔ لیکن جب وہ محل سے نکل کر راہ میں مردکی سے ملا تو وہ آگ بگولا ہو گیا‏، لیکن اپنے آپ پر ضبط کیا اور کسی طرح کا تشدد کرنے سے باز رہا۔ اُس نے اپنے دوستوں اور بیوی زرِش کو بلا کر اُنہیں اپنی عزت افزائی کی سب باتیں بتائیں۔ لیکن صرف ایک سرکش یہودی اُسے آنکھ میں کانٹے کی طرح کھٹکتا تھا۔ اُس کی بیوی نے اُسے مشورہ دیا کہ ستّر فٹ اُونچی ایک سولی بنوا کر بادشاہ سے مردکی کو اُس پر لٹکانے کے لئے اِجازت لی جائے۔ اِس سے ہامان خوش ہو گیا اور اُس نے سولی بنوا لی۔

مقدس کتاب

۱ اور تیسرے دن ایسا ہوا کہ آستر شاہانہ لباس پہنکرشاہی محل کی بارگاہ اندرونی میں شاہی محل کے سامنے کھڑی ہو گئی اور بادشاہ اپنے شاہی محل میں اپنے تخت سلطنت کے مقابل کے دروازہ پر بیٹگا تھا۔
۲ اور ایسا ہوا کہ جب بادشاہ نے آستر ملکہ کو بارگاہ میں کھڑی دیکھا تو وہ اسکی نظر میں مقبول ٹھہری اور بادشاہ نے وہ سنہلا عصا جو اسکے ہاتھ میں تھا آستر کی طرف بڑھایا۔سو آستر نے نزدیک جا کر عصا کی نوک کو چھوا۔
۳ تب بادشاہ نے اس سے کہا آستر ملکہ !تو کیا چاہتی ہے اور کس چیز کی درخواست کرتی ہے؟آدھی سلطنت تک وہ تجھے بخشی جائیگی۔
۴ آستر نے عرض کی اگر بادشاہ کو منظور ہو تو بادشاہ اس جشن میں جو میں نے اسے لئے تیار کیا ہے ہامان کو ساتھ لیکر آج تشریف لائے۔
۵ بادشاہ نے فرمایا کہ ہامان کو جلد لاؤ تاکہ آستر کے کہے کے موافق کیا جائے سو بادشاہ اور ہامان اس جشن میں آئے جسکی تیاری آستر نے کی تھی۔
۶ اور بادشاہ نے جشن میں مے نوشی کے وقت آستر سے پوچھا کہ تیرا کیا سوال ہے؟۔وہ منظور ہوگا۔تیری کیا درخواست ہے؟۔ آدھی سلطنت تک وہ پوری کی جائیگی۔
۷ آستر نے جواب دیا میرا سوال اور میری درخواست یہ ہے۔
۸ اگر میں بادشاہ کی نظر میں مقبول ہوں اور بادشاہ کو منظور ہو کہ میرا سوال قبول اور میری درخواست پوری کرے تو بادشاہ اور ہامان میرے جشن میں جو میں انکے لئے کرونگی۔
۹ اس دن ہامان شادمان اور خوش ہو کر نکلا پر جب ہامان نے بادشاہ کے پھاٹک پر مردکی کو دیکھا کہ اسکے لئے نہ کھڑا ہوا نہ ہٹا تو ہامان مردکی کے خلاف غصہ سے بھر گیا۔
۱۰ تو بھی ہامان اپنے آپ کو ضبط کے کے گھر گیا اور لوگ بھیجکر اپنے دوستوں کو اور اپنی بیوی زرش کو بلوایا۔
۱۱ اور ہامان انکے آگے اپنی شان و شوکت اور فرزندوں کی کثرت کا قصہ کہنے لگا اور کس کس طرح بادشاہ نے اسکی ترقی کی اور اسکو امرا اور بادشاہی ملازموں سے زیادہ سرفراز کیا۔
۱۲ ہامان نے یہ بھی کہا دیکھو آستر ملکہ نے سوا میرے کسی کو بادشاہ کے ساتھ اپنے جشن میں جو اس نے تیار کیا تھا آنے نہ دیا اور کل کے لئے بھی اس نے بادشاہ کے ساتھ مجھے دعوت دی ہے۔
۱۳ تو بھی جب تک مردکی کی یہودی مجھے بادشاہ کے پھاٹک پر بٹھا دکھائی دیتا ہے ان باتوں سے مجھے کچھ حاصل نہیں۔
۱۴ تب اسکی بیوی زرش اور اسکے سب دوستوں نے اس سے کہا کہ پچاس ہاتھ اونچی سولی بنائی جائے اور کل بادشاہ سے عرض کر کہ مردکی اس پر چٹھایا جائے تب خوشی خوشی بادشاہ کے ساتھ جشن میں جانا۔یہ بات ہامان کو پسند آئی اور اس نے ایک سولی بنوائی۔