۵۔ مردکی کی سرفرازی (باب ۱۰)
۱۰: ۱،۲ آستر کی کتاب مردکی کی سرفرازی سے اِختتام پذیر ہوتی ہے۔ مادی اور فارس کے بادشاہوں کی تواریخ میں اخسویرس کی کامیابیوں کے ساتھ ساتھ مردکی کی ترقی کا حال بھی درج ہے۔
کارل آرمرڈِنگ (Armerding)آستر پر اپنی کتاب کو اِن الفاظ سے ختم کرتا ہے:
’’یہ حقیقت ہے کہ ہمیں اُس کی موت کے بارے میں کوئی دستاویزی ثبوت نہیں ملتا، اور یہ بہت خوبصورت پہلو ہے … ہمارے ذہنوں میں یہ تاثر ہے کہ وہ ایک ایسا شخص ہے جو زندۂ جاوید ہے۔ ’جو خدا کی مرضی پر چلتا ہے وہ ابد تک قائم رہے گا‘ (۱۔یوحنا ۲:۱۷)۔‘‘
۱۰: ۳ مردکی اپنی قوم کا خیر خواہ تھا۔ سپرجن (Spurgeon) اُس کی خدمت کا مسیحیوں پر اِطلاق کرتا ہے:
’’مردکی ایک سچا محبِ قوم تھا، اِس لئے اخسویرس کے ماتحت نہایت اعلیٰ عہدے پر فائز کئے جانے پر، اُس نے اپنے وقار کو اسرائیل کی ترقی کے لئے استعمال کیا۔ یوں وہ مثیلِ مسیح تھا جو اپنے جلال کے تخت پر، اپنے اِقتدار کو اپنے لئے نہیں بلکہ اپنے لوگوں کی بہتری کے لئے استعمال کرتا ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ ہر ایک مسیحی اپنی کلیسیا کے لئے مردکی بن جائے، اور اپنی صلاحیتوں کو اُس کی ترقی کے لئے استعمال کرے۔ بعض لوگوں کو بااثر عہدے ملتے ہیں اور وہ صاحبِ ثروت بھی ہیں، اِس لئے وہ اپنے زمینی عہدوں کو اپنے خداوند کے جلال کے لئے استعمال کریں۔ اور بڑے لوگوں کے سامنے یسوع کی گواہی دیں۔ دوسرے جو بادشاہوں کے بادشاہ کے بہت قریب ہیں وہ ہر روز خداوند کے کمزور لوگوں کے لئے التجا کریں جو شک کرتے ہیں، جو آزمائش میں ہیں اور جو بے سکون ہیں۔‘‘
مقدس کتاب
۱ اور اخسویرس بادشاہ نے زمین پر اور سمندر کے جزیروں پر خراج مقرر کیا۔
۲ اور اس کے زور اور اقتدار کے سب کام اور مردکی کی عظمت کا مفصل حاں جہاں تک بادشاہ نے اسے ترقی دی تھی کیا وہ مادی اور فارس کے بادشاہوں کی تواریخ کی کتاب میں قلم بند نہیں؟۔
۳ کیونکہ یہودی مردکی اخسویرس بادشاہ سے دوسرے درجہ پر تھا اور سب یہودیوں میں معزز اور اپنے بھائیوں کی ساری جماعت میں مقبول تھا اور اپنی قوم کا خیر خواہ رہا اور اپنی ساری اولاد سے سلامتی کی باتیں کرتا تھا۔