آستر ۳

۳۔ یہودیوں کی ہلاکت کا منصوبہ (‏ابواب ۳‏،۴)‏

الف۔ ہامان کی بادشاہ سے گفتگو (‏باب ۳)‏

۳:‏ ۱ یہ الفاظ ’’اِن باتوں کے بعد‘‘ باب ۲ اور ۳ کے مابین ۵ سال کے وقفے کو ظاہر کرتے ہیں۔ آستر کے ڈرامے میں پہلی آیت میں آخری اہم کردار ہمداتا کا بیٹا ہامان سٹیج پر آتا ہے۔ ہمیں یہ نہیں بتایا گیا کہ اُسے کیوں ترقی دی گئی‏، لیکن بالآخر تاریخ اِس اَمر کی وضاحت کرتی ہے کہ بادشاہ کے ہاتھ کے پیچھے شیطان کا ہاتھ تھا۔ ہامان ایک اجاجی تھا‏، یعنی عمالیقیوں کے بادشاہوں کی نسل سے تھا (‏اجاج ایک شاہی خطاب تھا)‏۔ خداوند نے عمالیقیوں کے خلاف مسلسل جنگ کا حکم دیا تھا (‏خروج ۱۷:‏ ۸۔۱۶)‏۔ آستر کی کتاب میں اِس جنگ کی ایک آخری لڑائی کا بیان ہے (‏دیکھیں ۱۔سموئیل ۱۵:‏ ۳۲؛ ۳۰:‏ ۱۔۱۰؛ ۱۔تواریخ ۴:‏ ۴۳)‏۔ 

۳:‏ ۲۔۶ سرکاری فرمان کے تحت اَب ہامان‏، سلطنت میں بادشاہ سے دوسرے درجے پر تھا‏، اور اُسے خراجِ تحسین پیش کیا جانا تھا۔ لیکن مردکی نے محض ایک اِنسان اور وہ بھی ایک عمالیقی کے سامنے جھکنے سے اِنکار کر دیا۔ اِنسان کے خوف کی نسبت خدا کا خوف غالب آ گیا۔ موسیٰ کی شریعت میں اِختیار والوں کی تعظیم سے کہیں منع نہیں کیا گیا‏، لیکن اِس سے ضرور منع کیا گیا کہ خدا کے علاوہ کسی اَور کو سجدہ کیا جائے۔ مشرقی بادشاہ عموماً ایسے سجدے کا تقاضا کرتے تھے۔ مردکی کے ساتھیوں نے ہامان کی حمایت حاصل کرنے کے لئے اُس کے نہ جھکنے کی نشان دہی کی۔ ہامان پرلے درجے کا اَنا پرست تھا۔ مردکی کے تعظیم نہ کرنے سے وہ آگ بگولا ہو گیا۔ صرف اکیلے مردکی کو سزا دینے کے بجائے اُس نے یہ منصوبہ بنایا کہ سب یہودیوں کو موت کے گھاٹ اُتار دیا جائے۔ 

۳:‏ ۷۔۱۱ ہامان کا پہلا قدم یہ تھا کہ اُس نے قرعہ ڈالا کہ یہودیوں کے قتلِ عام کی کون سی مناسب تاریخ ہو گی۔ یہ محض اتفاق تھا کہ تاریخ ایک سال کے بعد کی نکلی۔ جیسا کہ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ ’’ تو ہم کو الٰہی رتھ کے پہیوں کے ساتھ باندھ دیا گیا تھا۔ خدا نے ہامان کے منصوبے کو روکنے کے لئے کافی وقت دے دیا‘‘۔ ’’قرعہ گود میں ڈالا جاتا ہے پر اُس کا سارا اِنتظام خداوند کی طرف سے ہے‘‘ (‏اَمثال ۱۶:‏ ۳۳)‏۔ اِس کے بعد ہامان نے یہودیوں کے خلاف بادشاہ کو ایک اِشتعال انگیز رپورٹ دی اور اُسے بتایا کہ وہ سلطنت کے لئے خطرناک ہیں۔ اُس نے اِصرار کیا کہ ایک فرمان جاری کیا جائے کہ اُنہیں قتل کیا جائے۔ مادیوں اور فارسیوں کے مطابق ایک قانون یا فرمان جب جاری کر دیا جائے اُسے نہ تو تبدیل کیا جا سکتا اور نہ منسوخ ہی کیا جا سکتا تھا۔ ہامان نے ایک اَور لالچ دیا کہ وہ چاندی کے دس ہزار توڑے خزانے میں جمع کروائے گا کیونکہ یونان میں بادشاہ کے خزانے کو بُری طرح دھچکا لگا تھا۔ اخسویرس نے اپنی انگوٹھی سے مُہر ثبت کر دی جس کے تحت ہزاروں معصوم مردوں‏، عورتوں اور بچوں کو ہامان کے غرور کے مذبح پر قربان کیا جانا تھا۔ آیت ۱۱ کا یہ بھی مطلب ہو سکتا ہے کہ مقتولوں سے حاصل ہونے والی رقم ہامان کی ملکیت ہو گی۔ 

۳:‏ ۱۲۔۱۵ سزائے موت کی اِن نقول کو بڑی تیزی سے ملک کے طول و عرض میں بھیج دیا گیا اور اِس ظلم کے لئے بارھویں مہینے کی تیرھویں تاریخ مقرر کر دی گئی۔ محل میں بادشاہ اخسویرس اور ہامان بڑے سکون سے مے نوشی کر رہے تھے‏، لیکن شہر میں بڑی پریشانی تھی۔ اِروِنگ جینسن (‏Irving Jensen)‏ اِس کی یوں تشریح کرتا ہے:‏

’’تیسرے باب کی آخری آیت کا یہ جملہ نہایت معنی خیز ہے۔ ’’پر سوسن شہر پریشان تھا۔‘‘ نہ صرف یہودی بلکہ غیر یہودی بھی تشدد اور ظلم کی اِس مثال پر بہت پریشان تھے۔ بعض اوقات عوام غلط ہوتے ہیں‏، لیکن ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا۔ یہاں ایسی صورتِ حال ہے کہ ایک بادشاہ اور اُس کا وزیر اعلیٰ اپنے وسیع اِختیارات کے ساتھ غلطی کی مرتکب ایک قلیل سی اقلیت ہیں … بادشاہ کا فرمان جاری ہو گیا اور اُس کی منادی کر دی گئی لیکن حتمی فیصلہ بادشاہوں کے بادشاہ کا ہوتا ہے۔‘‘ 

مقدس کتاب

۱ ان باتوں کے بعد اخسویرس بادشاہ نے اجاجی ہمداتا کے بیٹے ہامان کو ممتاز اور سرفراز کیا اور اسکی کرسی کو سب امرا سے جو اسکے ساتھ تھے برتر کیا۔
۲ اور بادشاہ کے سب ملازم جو بادشاہ کے پھاٹک پر تھے ہامان کے آگے جھک کر اسکی تعظیم کرتے تھے کیونکہ بادشاہ نے اسکے بارے میں ایسا ہی حکم کیا تھا پر مردکی نہ جھکتا نہ اسکی تعظیم کرتا تھا۔
۳ تب بادشاہ کے ملازموں نے جو بادشاہ کے پھاٹک پر تھے مردکی سے کہا تو کیوں بادشاہ کے حکم کو توڑتا ہے؟۔
۴ جب وہ اس سے روز کہتے رہے اور اس نے انکی نہ مانی تو انہوں نے ہامان کو بتا دیا تا کہ دیکھیں کہ مردکی کی بات چلیگی یا نہیں کیونکہ اس نے ان سے کہہ دیا تھا کہ میں یہودی ہوں۔
۵ جب ہامان نے دیکھا کہ مردکی نہ جھکتا نہ میری تعظیم کرتا ہے تو ہامان غصہ سے بھر گیا۔
۶ لیکن فقط مردکی ہی پر ہاتھ چلانا اپنی شان سے نیچے سمجھا کیونکہ انہوں نے اسے مردکی کی قوم بتادی تھی اسلئے ہامان نے چاہا کہ مردکی کی قوم یعنی سب یہودیوں جو جو اخسویرس کی پوری مملکت میں رہتے تھے ہلاک کرے۔
۷ اور اخسویریں بادشاہ کی سلطنت کے بارھویں برس کے پہلے مہینے سے جو نیسان مہیہ ہے وہ روزبرروز اور ماہ بماہ بارھویں مہینے یعنی ادار کے مہینے تک ہامان کے سامنے پوری یعنی قرعہ ڈالتے رہے۔
۸ اور ہامان نے اخسویرس بادشاہ سے عرض کی کہ حضور کی مملکت کے سب صوبوں میں ایک قوم سب قوموں کے درمیان پراگندہ اور پھیلی ہوئی ہے اسکے دستور ہر قو سے نرالے ہیں اور وہ بادشاہ کے قوانین نہیں مانتے ہیں۔ سو انکو رہنے دینا بادشاہ کے لئے فائدہ مند نہیں۔
۹ اگر بادشاہ کو منظور ہو تو انکو ہلاک کرنے کا حکم لکھا جائے اور یں تحصیلداروں کے ہاتھ میں شاہی خزانوں میں داخل کرنے کے لئے چاندی کے دس ہزار توڑے دونگا۔
۱۰ وار بادشاہ نے اپنے ہاتھ سے انگوٹھی اتار کر یہوفیوں کے دشمن اجاجی ہمداتاکے بیٹے ہامان کو دی۔
۱۱ اور بادشاہ نے ہامان سے کہا کہ وہ چاندی تجھے بخشی گئی اور وہ لوگ بھی تاکہ جو تجھے اچھا معلوم ہو ان سے کرے۔
۱۲ تب بادشاہ کے منشی پہلے مہینے کی تیرھویں تاریخ کو بلائے گئے جو کچھ ہامان نے بادشاہ کے نوابوں اور ہر صوبہ کے حاکموں اور ہر قوم کے سرداروں کو حکم کیا اسکے مطابق لکھا گیا۔صوبہ کے حروف اور قوم قوم کی زبان میں شاہ اخسویرس کے نام سے یہ لکھا گیا اور اس پر بادشاہ کی انگوٹھی کی مہر کی گئی۔
۱۳ اور ہرکاروں کے ہاتھ بادشاہ کے سب صوبوں میں خط بھجیے گئے کہ بارھویں مہینے یعنی ادار مہینے کی تیرھویں تاریخ کو سب یہودیوں کو کیا جوان کیا بڈھے کیا بچے کیا عورتیں ایک ہی دن میں ہلاک اور قتل کریں اور نابود کردیں اور انکا مال لوٹ لیں۔
۱۴ اس تحریر کی ایک ایک نقل سب قوموں کے لئے شائع کی گئی کہ اس فرمان کا اعلان ہر صوبہ میں کیا جائے تاکہ اس دن کے لئے تیار ہو جائیں۔
۱۵ بادشاہ کے حکم سے ہر کارے فورأ روانہ ہوئے اور وہ حکم قصر سوسن میں دیا گیا اور بادشاہ اور ہامان مے نوشی کرنے کو بیٹھ گئے پر سوسن شہر پریشان تھا۔