ب۔ دوسرا حکم کہ سنو (باب ۴)
۴: ۱۔۳ سامریہ کی امیر عورتوں کو بسن کی گایوں سے تشبیہ دی گئی ہے۔ وہ خوب پلی ہوئی ہیں، لیکن قابو میں نہیں رہتی ہیں۔ اُن کا جرم یہ ہے کہ ’’غریبوں … اور مسکینوں‘‘ پر ظلم ڈھاتے اور اُن کو لوٹتے ہیں اور آرام و آسائش اور عیش کی زندگی بسر کرتے ہیں۔ اِس وجہ سے وہ اسیر ہو کر اسور میں جائیں گے۔ ملک افرا تفری اور خوف و ہراس کا شکار ہو گا۔ اُن کی جلاوطنی کی تصویر یوں پیش کی گئی ہے کہ دشمن اُنہیں اور اُن کی اولاد کو آنکڑے ڈال کر اور کھینچ کر لے جائیں گے اور وہ ٹوٹی ہوئی دیواروں اور فصیل کے رخنوں میں سے نکل نکل کر بھاگنے کی کوشش کریں گے۔
۴: ۴۔۱۳ خدا اُن پر طنز کرتا اور کہتا ہے کہ بت پرستی کرتے رہو اور بیت ایل (لغوی معانی خدا کا گھر) میں بتوں کے لئے ’’ہر صبح اپنی قربانیاں … لاؤ‘‘۔ اُن میں خدا کا کچھ (حصہ) نہیں۔ خدا نے اُن کو سزا دینے کے لئے کئی مصیبتیں نازل کیں __ روٹی کی کمی یعنی قحط (آیت ۶)، خشک سالی (آیات ۷،۸)، گیروئی (پودوں کی ایک بیماری)، پھپھوندی، بادِسموم (زہریلی ہوا)، ٹڈیوں کی آفت (آیت ۹)، وبا، جنگ و جدل، قتل اور خوں ریزی (آیت ۱۰)، تباہی و بربادی (آیت ۱۱)۔ لیکن اُن پر کچھ اثر نہ ہوا اور وہ توبہ پر مائل نہ ہوئے۔ اِس لئے خدا کہتا ہے کہ ’’اے اسرائیل، تُو اپنے خدا سے ملاقات کی تیاری کر‘‘۔ اب اُسے خداوند رَبُّ الافواج کے سامنے جواب دہی کرنی ہو گی۔ آیت ۱۲ اِنجیلی استدعا نہیں بلکہ عدالت (اور قہر و غضب) کا پیغام ہے۔ البتہ اگر دوسرے لحاظ سے اِستفادہ کرنا چاہیں تو اس میں اِنجیلی نقطۂ نظر سے زبردست آگاہی ہے۔ مثلاً مبلّغ ڈی۔ایل۔ مُوڈی اِس حوالے میں چار باتوں کی نشان دہی کرتا ہے: (۱) خدا (۲) ہم اُس کے سامنے جواب دِہ ہیں۔ (۳) ہمیں اُس کا سامنا کرنا پڑے گا۔ (۴) ہمیں اُس سے ملنے کی تیاری کرنے کی ضرورت ہے۔
مقدس کتاب
۱ اے بسن کی گایو جو کوہ سامریہ پر رہتی ہو اور غریبوں کوستاتی اور مسکینوں کو کُچلتی اور اپنے مالکوں سے کہتی ہو لاو ہم پیں تم یہ بات سُنو۔
۲ خُداوند خُدا نے اپنی پاکیزگی کی قسم کھائی ہے کہ تُم پر وہ دن آئیں گے جب تم کو آنکڑیوں سے اور تمہاری اولاد کوشستوں سے کھینچ لے جائیں گے۔
۳ اور خُداوند فرماتا ہے تم میں سے ہر ایک اس رخنہ سے جو اُس کے سامنے ہو گا نکل بھاگے گی اور تم قید میں ڈالی جاو گی۔
۴ بیت ایل میں آو اور گُناہ کرو اور جلجال میں کثرت سے گُناہ کرو۔ ہر صُبح اپنی قربانیاں اور ہر تیسرے روز دہ یکی لاو۔
۵ اور شُکر گزاری کا ہدیہ خمیر کے ساتھ آگ پر گُزرانو اور رضا کی قربانی کا اعلان کرو اور اُس کو مشہُور کرو کیونکہ اے نبی اسرائیل یہ سب کام تم کو پسند ہیں خُداوند خُدا فرماتا ہے۔
۶ خُداوند فرماتا ہے اگرچہ میں نے تم کو تمہارے ہر شہر میں دانتوں کی صفائی اور تمہارے ہر مکان میں روٹی کی کمی دی ہے تو بھی تم میری طرف رجوع نہ لائے ۔
۷ اور اگرچہ میں نے مینہ کو جب کہ فصل پکنے میں تین مہینے باقی تھے تم سے روک لیا اور ایک شہر پر برسایا اور دُوسرے سے روک رکھا ایک قطعہ زمین پر برسا اور دُوسرا قطعہ بارش نہ ہونے کے باعث سوکھ گیا۔
۸ اور دو تین بستیاں آوارہ ہو کر ایک بستی میں آئیں تاکہ لوگ پانی پیں پروہ آسودہ نہ ہوئے تو بھی تم میری طرف رجوع نہ لائے خُداوند فرماتا ہے۔
۹ پھر میں نےتم پر بادسموم اور گیروئی کی آفت بیجھی اور تمہارے بے شمار باغ اور تاکستان اور انجیر اور زیتون کے درخت ٹڈیوں نے کھا لے تو بھی میری طرف رجوع نہ لائے خُداوند فرماتا ہے ۔
۱۰ میں نے مصر کی سی وبا تم پر بھیجی اور تمہارے جوانوں کو تلوار سے قتل کیا۔ تمہارے گھوڑے چھین لئے اور تمہاری لشکر گاہ کی تمہارے نتھوں میں پُہنچی تو بھی تم میری طرف رجوع نہ لائے خُداوند فرماتا ہے۔
۱۱ میں نے تم میں سے بعض کو اُلٹ دیا جیسے خُدا نے سدوم اور عمورہ کو اُلٹ دیا تھا اور تم اُس لکٹی کی مانند ہُوئے جو آگ سے نکالی جائے تو بھی تم میری طرف رجوع نہ لائے خُداوند فرماتا ہے۔
۱۲ پس اے اسرائیل میں تجھ سے یُوں ہی کُروں گا اور چونکہ میں تجھ سے یُوں کُروں گا اس لئے اے اسرائیل تو اپنے خۃدا سے مُلاقات کی تیاری کر۔
۱۳ کیونکہ دیکھ اُسی نے پہاڑوں کو بنایا اور ہوا کو پیدا کیا۔وہ انسان پر اُس کے خیالات کو ظاہر کرتا ہےاور صُبح کو تاریک بنا دیتا ہےاور زمین کے اُونچے مقامات پر چلتا ہے۔ اُس کا نام خُداوند ربُ لافواج ہے۔