۲۔ اِسرائیل کا جرم اور سزا (ابواب ۳۔۶)
الف۔ پہلا حکم کہ سنو (باب ۳)
۳: ۱، ۲ خداوند پھر خبردار کرتا ہے کہ مَیں بنی اِسرائیل کو سزا دوں گا۔ چونکہ وہ یہوواہ کے ساتھ بے مثال قریبی رشتہ رکھتے تھے اِس لئے اُن کا گناہ زیادہ شدید اور سنجیدہ تھا اور اِسی نسبت سے سزا بھی زیادہ سنگین اور سخت ہو گی۔ وہ اُن کی ساری بدکرداری کی سزا دے گا۔
۳: ۳۔۸ غضب بے وجہ نازل نہیں ہو گا۔ ہر نتیجے کا کوئی سبب ہوتا ہے۔ عاموس سبب اور نتیجے کے سات سوال پوچھتا ہے جن کا نقطۂ عروج خداوند کی طرف سے شہر پر بلا نازل ہونا ہے۔ یہ بلا ناگہان نہیں آئے گی کیونکہ خدا نے اپنے نبیوں کی معرفت پہلے ہی ظاہر کر دیا ہے۔
۳: ۹۔۱۲ اشدود (فلستین) اور مصر کو بلایا گیا ہے کہ آئیں، دیکھیں اور گواہ ہوں کہ سامریہ میں ظلم و ستم، بے اِنصافی اور لوٹ مار کا بازار گرم ہے۔ اِن گناہوں کے باعث اسور ملکِ اِسرائیل پر چڑھائی کرے گا۔ اِسرائیل کا بالکل تھوڑا سا بقیہ بچے گا۔ اِس کی واضح تصویر اِس مثال سے پیش کی گئی ہے کہ شیر ببر کے منہ سے بھیڑ کی دو ٹانگیں یا کان کا ایک ٹکڑا چھڑا لیا جائے اور پوری بھیڑ کو وہ کھا جائے۔
۳: ۱۳۔۱۵ بیت ایل وہ شہر ہے جہاں اسرائیلی سنہرے بچھڑے کی پوجا کرتے تھے اور اُس کے لئے قربانیاں کرتے تھے۔ چنانچہ اُن کے مذبحے بالکل نیست و نابود کئے جائیں گے۔ وہ بچھڑا اسور میں پہنچایا جائے گا (ہوسیع ۱۰: ۵، ۶)۔ دولت مندوں کے بڑے بڑے اور شان دار مکان ویران ہو جائیں گے۔
مقدس کتاب
۱ اے بنی اسرائیل ! اے سب لوگوں جن کو میں مُلک مصر سے نکال لایا یہ بات سُنو جو خداوند تمہاری بابت فرماتا ہے۔
۲ دُنیا کے سب گھرانوں میں سے میں نے صرف تم کو برگزیدہ کیا ہے اس لے میں تم کو تمہاری ساری بدکرداری کی سزا دُوں گا۔
۳ اگر وہ شخص باہم مُتفق نہ ہوں تو کیا اکٹھے چل سکیں گے؟۔
۴ کیا شیر جنگل میں گرجے گا جب کہ اُس کو شکار نہ ملا ہو؟ اور اگر جوان شیر نے کُچھ نہ پکڑا ہو تو کیا وہ غار میں سے اپنی آواز کو بُلند کرے گا؟۔
۵ کیا کوئی چڑیا زمین پر دام میں پھنس سکتی ہے جبکہ اُس کے لے دام ہی نہ بھچایا گیا ہو؟کیا پھندا جب تک کہ کُچھ نہ کُچھ اُس میں پھنسا نہ ہو زمین پر سے اُچھلے گا؟ ۔
۶ کیا یہ مُمکن ہے کہ شہر میں نر سنگا پُھونکا جائے اور لوگ نہ کاپنیں یا کوئی بلا شہر پر آے اور خُداون نے اُسے نہ بھیجا ہو؟۔
۷ یقینا خُداوند خُدا کچھ نہیں کرتا جب تک کہ اپنا بھید اپنے خدمت گُزار نبیوں پر پہلے آشکارانہ کرے
۸ شیر ببر گرجا ہے۔ کُون نہ ڑرے گا؟خُداوند خُدا نے فرمایا ہے ۔ کون نبُوت نہ کرے گا؟۔
۹ اشدود کے قصروں میں اور مُلک مصر کے قصروں میں مُنادی کرو اور کہو سامریہ کے پہاڑوں پر جمع ہو جاو اور دیکھو اُس میں کیسا ہنگامہ اور ظُلم ہے۔
۱۰ کیونکہ وہ نیکی کرنا نہیں جانتتے خُداوند فرماتا ہے جو اپنے قصروں میں ظُلم اور لُوٹ کو جمع کرتے ہیں۔
۱۱ اس لئے خُداوند خُدا یُوں فرماتا ہے کہ دُشمن مُلک کا مُحاصرہ کرے گا اور تیری قُوت کو تجھ سے دُور کرے گا اور تیرے قصر لُوٹے جائیں گے۔
۱۲ خُداوند یُوں فرماتا ہے کہ جس طرح سے چرواہا دو ٹانگیں یا کان کا ایک تُکڑا شیر ببر کے مُنہ سے چُھڑا لیتا ہے اُسی طرح بنی اسرائیل جو سامریہ میں پلنگ کے گوشی میں اور یشمین فرش پر بیھٹے رہتے ہیں چھڑا لے جائیں گے۔
۱۳ خُداوند خُدا ربُ الا فواج یُوں فرماتا ہے سُنو اور بنی یعقوب کے خلاف گواہی دو۔
۱۴ کیونکہ جب میں اسرائیل کے گُناہوں کی سزا دُوں گا تو بیت ایل کے مزبحوں کو بھی دیکھ لُوں گا اور مذبح کے سینگ کٹ کر زمین پر گر جائیں گے۔
۱۵ اور خُداوند فرماتا ہے میں زمستانی اور تابستانی گھروں کو برباد کُروں گا اور ہاتھی دانت کے گھر مسمار کئے جائیں گے اور بُہت سے مکان ویران ہوں گے۔