عامُوس ۱

تفسیر

۱۔ آٹھ قوموں پر قہر و غضب کی دھمکیاں (‏ابواب ۱‏، ۲)‏

الف۔ تعارُف (‏۱:‏ ۱‏، ۲)‏

پہلے دو ابواب میں عاموس آٹھ قوموں کے خلاف قہر و غضب کا اعلان کرتا ہے۔ ہر اعلان کا آغاز اِن الفاظ سے ہوتا ہے ’’… (‏قوم کا نام)‏ کے تین بلکہ چار گناہوں کے سبب سے …‘‘جے۔ سِڈلو بیکسٹر (‏Sidlow Baxter )‏ نے اِس عبرانی محاورے کی یوں تشریح کی ہے:‏

’’ اِن الفاظ کو ریاضی کے مفہوم میں نہیں سمجھنا چاہئے کہ گنتی کے لحاظ سے تین یا چار ہے بلکہ محاورے کے طور پر دیکھنا چاہئے جس کا مطلب ہے کہ پیمانہ بھر چکا ہے بلکہ چھلک گیا ہے۔ اِن قوموں کا گناہ حد سے بڑھ گیا ہے۔ اب رَتی بھر گنجائش نہیں رہی۔‘‘

ب۔ دمشق (‏۱:‏ ۳۔۵)‏

پہلی دھمکی دمشق یعنی ارام کی ریاست کے خلاف ہے۔ ارامی دریائے یردن کے مشرق میں اڑھائی قبیلوں (‏جلعاد)‏ کے خلاف لڑتے رہے۔ اُن کا ظلم اور بربریت حد سے بڑھی ہوئی تھی جیسا کہ آہنی اوزار کے الفاظ سے ظاہر ہے۔ ارام کے لوگوں کے لئے سزا یہ ہے کہ وہ اسیر ہو کر قیر کو جائیں گے۔ 

ج۔ غزہ (‏۱:‏ ۶۔۸)‏

دوسری دھمکی غزہ کے خلاف ہے‏، جہاں فلستیوں نے قیدی اِسرائیلیوں کو ادومیوں کے حوالے کیا تھا۔ فلستین کے دوسرے اہم شہر جن کو سزا ملے گی وہ اشدود‏، اسقلون اور عقرون ہیں۔ نتیجہ یہ ہو گا کہ ’’ فلستیوں کے باقی لوگ (‏بھی)‏ نیست ہو جائیں گے۔‘‘

د۔ صور (‏۱:‏ ۹‏، ۱۰)‏

تیسری دھمکی صور کے خلاف ہے۔ صوریوں نے بھی قیدیوں (‏اسیروں)‏ کو ادوم کے حوالے کیا تھا اور اِسرائیل کے ساتھ برادرانہ عہد توڑ دیا تھا۔ پیش گوئی کی گئی ہے کہ صور پر آگ نازل ہو گی۔ 

ہ۔ ادوم (‏۱:‏ ۱۱‏، ۱۲)‏

چوتھی دھمکی ادوم کے خلاف ہے۔ ادومی اپنے بھائیوں (‏عیسو یعقوب کا بھائی تھا)‏ کے دائمی اور ستم گر دشمن رہے۔ ان کے بے رحم سلوک اور سنگ دِلانہ نفرت کے باعث اُن کے شہروں __ تیمان اور بصرہ کو سخت سزا ملے گی۔ 

و۔ عمون (‏۱:‏ ۱۳۔۱۵)‏

پانچویں دھمکی عمون کے خلاف ہے۔ عمونیوں نے جلعاد کا علاقہ فتح کرنے کے دوران نہایت سفاکی اور بہیمیت سے کام لیا تھا۔ اُنہوں نے حاملہ عورتوں کے پیٹ چاک کرنے سے بھی دریغ نہ کیا۔ چنانچہ عمون کے بادشاہ اور اُمرا اسیر ہوں گے اور اُن کے شہروں میں لڑائی اور آگ بھڑکے گی۔

مقدس کتاب

۱ تقُوع کے چرواہوں میں سے عامُوس کا کلام جو اُس پر شاہ یہُوداہ عز یاہ اور شاہ اسرائیل یُربعام بن یُوآس کے ایّام میں اسرائیل کی بابت بُھونچال سے دو سال پہلے رویا میں نازل ہُوا۔
۲ اُس نے کہا کہ خُداوند صیون سے نعرہ مارے گااور یروشیلم سے آواز بُلند کرے گااور چرواہوں کی چراگاہیں ماتم کریں گی اور کرمل کی چوٹی سُوکھ جائے گی۔
۳ خُداوند یُوں فرماتا ہے کہ دمشق کے تین بلکہ ار گُناہوں کے سبب سے میں اُس کو بے سزا نہ چھوڑوں گا کیونکہ اُنہوں نے جلعاد کوکھلیہان میں داو نے کے آہنی اوزار سے روندہ ڈالا ہے۔
۴ اور میں حزائیل کے گھرانے میں آگ بُھیجوں گا جو بن ہدد کے قصروں کو کھا جائے گی۔
۵ اور میں دمشق کا اڑبنگا توڑوں گا اور وادی آون کے باشندے اور بیت عدن کے فرما نروا کو کاٹ ڈالوں گا اور ارام کے لوگ اسیر ہو کر قبر کو جائیں گے خُداوند فرماتا ہے۔
۶ خُداوند یُوں فرماتا ہے کہ عُزہ کے تین بلکہ چار گُناہوں کے سبب سے میں اس کو بے سزا نہ چھوڑوں گا کیونکہ وہ سب لوگوں کو اسیر کر کے لے گئے تا کہ اُن کو اُدوم کے حوالہ کریں۔
۷ پس میں غزہ کی شہر پناہ پر آگ بھُیجوں گا جو اُس کے قصروں کو کھا جائے گی۔
۸ اور اشدود کے باشندوں اور اسقلون کے فرمانروا کو کاٹ ڈالوں گا اور عقرون پر ہاتھ چلاوں گا اور فلستیوں کے باقی لوگ نیست ہو جائیں گے خُداوند فرماتا ہے۔
۹ خُداوند یُوں فرماتا ہے کہ صُور کے تین بلکہ چار گُناہوں کے سبب سے میں اُس کو بے سزا نہ چھوڑوں گا کیونکہ اُنہوں نے سب لوگوں کو اُدوم کے حوالہ کیا اور برادرانہ عہد کو یاد نہ کیا۔
۱۰ “>پس میں صور کی شہر پناہ پر آگ بھُیجوں گا جو اُس کے قصروں کو کھا جائے گی۔
۱۱ خُداوند یُوں فرماتا ہے کہ اُدوم کے تین بلکہ چار گُناہوں کے سبب میں اُس کو بے سزا نہ چھوڑوں گا کیونکہ اُس نے تلوار لے کر اپنے بھائی کو رگیدا اور رحمدلی کو ترک کر دیا اور اُس کا قہر ہمیشہ پھاڑتا رہا اور اُس کا غضب موقوف نہ ہوُا۔
۱۲ پس میں تیمان پر آگ بھیُجوں گا اور وہ بصراہ کے قصروں کو کھا جائے گا۔
۱۳ خُداوند یُوں فرماتا ہے کہ نبی عُمون کے تین بلکہ چار گُناہوں کے سبب سے میں اُس کو بے سزا نہ چھوڑوں گا کیونکہ اُنہوں نے اپنی حدُد کو بڑھانے کے لے جلعادکی بار دار عورتوں کے پیٹ چاک کیے۔
۱۴ پس میں ربّہ کی شہر پناہ پر آگ بھڑکاوں گا جو اُس کے قصروں کو لڑائی کے دن للکار اور آندھی کے دن گردباد کے ساتھ کھا جائے گی۔
۱۵ اور اُن کا بادشاہ بلکہ وہ اپنے اُمرا کے ساتھ اسیر ہو کر جائے گا خُداوند یُوں فرماتا ہے۔