عامُوس ۲

ز۔ موآب (‏۲:‏ ۱۔۳)‏

چھٹی دھمکی موآب کے خلاف ہے۔ اُس نے شاہِ ادوم کی تدفین آبرومندانہ طریقے سے نہیں ہونے دی تھی (‏دیکھئے ۲۔ سلاطین ۳:‏ ۲۶‏،۲۷ جہاں پہلوٹھے بیٹے کا ذکر ہے‏، وہ غالباً شاہِ موآب کا نہیں بلکہ شاہِ ادوم کا پہلوٹھا بیٹا تھا)‏۔

ح۔یہوداہ (‏۲:‏ ۴‏، ۵)‏

اب خداوند گھر کے قریب آ رہا ہے اور فکر مندی بڑھ رہی ہے۔ اگلی دو قومیں جن پر غضب نازل ہونے والا ہے وہ ہیں یہوداہ اور اِسرائیل۔ اِنسان یہ غور کر کے چونک اُٹھتا ہے کہِ ان قوموں کو چھے غیر اقوام کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ عاموس کے زمانے کے یہودیوں کے لئے یہ اِنتہائی تذلیل تھی‏، لیکن اِس طرح خدا بتاتا ہے کہ اپنے گناہوں کے سبب سے یہوداہ اور اِسرائیل نے یہ خاص حق کھو دیا ہے کہ یہوواہ اُنہیں الگ قدردانی سے نوازے۔ یہوداہ کو اِس لئے سزا ملے گی کہ اُنہوں نے خداوند کی شریعت کو ردّ کیا اور اُس کے احکام نہ مانے اور جھوٹے معبودوں کی پیروی کی۔ 

ط۔ اِسرائیل (‏۲:‏ ۶۔۱۶)‏

۲:‏ ۶۔۸ اب تک تو اِسرائیل عاموس کی طرف سے سزا اور غضب کے اعلانات پر واہ وا! واہ وا ! کرتا رہا ہے۔ لیکن اب عاموس اُن کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور اُن کی داد و تحسین فوراً خفگی اور ناپسندیدگی میں بدل جاتی ہے۔ اِسرائیل کو اِس وجہ سے سزا ملے گی کہ اُنہوں نے صادقوں اور مسکینوں پر ظلم کیا۔ وہ ہولناک قسم کی غیر اخلاقی حرکتوں کے مرتکب ہوئے۔ اُنہوں نے گروی لئے ہوئے کپڑے رات بھر اپنے پاس رکھے اور خدا کے گھر (‏ہیکل)‏ میں وہ مے پی کر بدمست ہوئے جو رشوت اور ظلم سے حاصل کردہ پیسوں سے خریدی تھی۔ 

۲:‏ ۹۔۱۲ اِس کے ساتھ ہی خدا اُن رحمتوں کا ذکر کرتا ہے جو وہ ماضی میں اُن پر کرتا رہا۔ اُس نے اُن کے سامنے سے اموریوں کو نیست کیا جو ملکِ کنعان میں دیوداروں اور بلوطوں کی مانند رہتے تھے (‏یعنی زور آور اور مضبوط تھے)‏۔ وہ اُنہیں ملکِ مصر کی غلامی سے چھڑا لایا۔ اُس نے اُن کے درمیان سے نذیر برپا کئے جو پرہیز گاری اور دُنیا سے علیٰحدگی کا نمونہ تھے۔ لیکن اُنہوں نے نذیروں کو مے پلائی اور خراب کیا۔ مزید برآں اُنہوں نے نبیوں کو حکم دیا کہ نبوت نہ کریں۔ 

۲:‏ ۱۳۔۱۶ اِن باتوں کے نتیجے میں خدا اُنہیں کچل ڈالے گا۔ اُن کے فرار ہونے اور بچ نکلنے کے راستے بند کر دے گا۔یہاں تک کہ پہلوان اور دلاور بھی بچ نکلنے میں کامیاب نہ ہو سکیں گے اور تیز رفتار اپنی جان نہ بچا سکیں گے۔ 

مقدس کتاب

۱ خُداوند یُوں فرماتا ہے کہ مُوآب کے تین بلکہ چار گُناہوں کے سبب سے میں اُس کو بے سزا نہ چھوڑوں گا کیونکہ اُس نے شاہ اُودم کی ہڈیوں کو جلا کر چُونا بنا دیا ہے۔
۲ پس میں مُوآب پر آگ بھُیجوں گا اور وہ قریوت کے قصروں کو کھا جائے گی ار مُوآب للکار اور نرسنگے کی آواز اور شور و غوغا کے درمیان مرے گا۔
۳ اور میں قاضی کو اُس کے درمیان سے کاٹ ڈالوں گا اور اُس کے تمام اُمرا کو اُس کے ساتھ قتل کُروں گا خُداوند یُوں فرماتا ہے۔
۴ خُداوند یُوں فرماتا ہے کہ یہُوداہ کے تین بلکہ چار گُناہوں کے سبب سے میں اُس کو بے سزا نہ چھوڑوں گا کیونکہ اُنہوں نے خُداوند کی شریعت کو رد کیا اور اُس کے احکام کی پیروی نہ کی اور اُن کے جُھوٹے معبُودوں نے جن کی پیروی اُن کے باپ دادا نے کی اُن کو گُمراہ کیا ہے۔
۵ پس میں یہُوداہ پر آگ بھیُجوں گا جویروشلیم کے قصروں کو کھا جائے گی ۔
۶ خُداوند یُوں فرماتا ہے کہ اسرائیل کے تین بلکہ چار گُناہوں کے سبب سے میں اُس کو بے سزا نہ چھوڑوں گا کیونکہ اُنہوں نے صادق کو رُوپیہ کی خاطر اور مسکین کو جُوتیوں کے جوڑے کی خاطر بیچ ڈالا۔
۷ وہ مسکینوں کے سر پر کی گرد کا بھی لالچ رکھتے ہیں اور حلیموں کو اُن کی راہ سے گمراہ کرتے ہیں اور باپ بیٹا ایک ہی عورت کے پاس جانے سے میرے مُقدس نام کی تکفیر کرتے ہیں۔
۸ اور وہ ہر مذبح کے پاس گرو لئے ہُوئے کپڑوں پر لیٹتے ہیں اور اپنے خُدا کے گھر میں جُرمانہ سے خریدی ہُوئی مے پیتے ہیں۔
۹ حالانکہ میں ہی نے اُن کے سامنے سے اموریوں کو نیست کیا جو دیوداروں کی مانند بُلند اور بُلوطوں کی مانند مضُبوط تھے۔ ہاں میں ہی نے اُوپر سے اُن کا پھل برباد کیا اور نیچے سے اُن کی جڑیں کاٹیں۔
۱۰ اور میں ہی تُم کو مُلک مصر سے نکال لایا اور چالیس برس تک بیابان میں تمہارے رہبری کی تاکہ تم اموریوں کے مُلک پر قابض ہو جاؤ ۔
۱۱ اور میں نے تمہارے بیٹوں میں سے نبی اور تمہارے جوانوں میں سے نذیر برپا کئے۔ خُداوند فرماتا ہے اے نبی اسرائیل کیا یہ سچ نہیں ؟۔
۱۲ لیکن تم نے نذیروں کو مے پلائی اور نبیوں کو حُکم دیا کہ نُبوت نہ کریں۔
۱۳ دیکھو میں تم کو ایسا دباوں گا جیسے پولُوں سے لدی ہوئی گاڑی دباتی ہے ۔
۱۴ تب تیز رفتار سے بھاگنے کی طاقت جاتی رہے گی اور زور ور آور کا زور بیکار ہوگا اور بہُادر اپنی جان نہ بچا سکے گےگا۔
۱۵ اور کمان کھینچنے والا کھڑا نہ رہے گا اور تیز قدم اور سوار اپنی جان نہ بچا سکیں گے۔
۱۶ اور پہلوانوں میں سے جو کوئی دلاور رہے ننگا نکل بھاگے گا خُداوند فرماتا ہے۔