۲سلاطین ۴

ہ۔ الیشع کی معجزات سے بھر پور خدمت (‏ ۴:‏ ۱۔۸:‏۱۵)‏

(‏۱)‏ معجزانہ طور پر تیل مہیا کرنا (‏۴:‏ ۱۔۷)‏

ایک دین دار نبی کی غریب بیوہ کو خطرہ تھا کہ قرض کی عدم ادائیگی کی صورت میں اُس کے بیٹوں کو غلام بنا لیا جائے گا۔ اُسے معجزانہ طور پر تیل مہیا کیا گیا اور حد یہ تھی کہ وہ جتنے برتن مانگ سکے اُنہیں تیل سے بھر دیا جائے گا۔ یوں تیل بیچ کر اُس نے اپنا قرض اُتارا اور اپنے خاندان کی کفالت کی۔ یہ واقعہ مقروض کے لئے فضل کی مثال ہے کہ نہ صرف اُس کی موجودہ ضروریات پوری ہو گئیں بلکہ مستقبل میں بھی کفالت کے لئے وسائل دیئے گئے۔ خدا کا فضل ضرورت مند گنہگاروں کو قرض اور غلامی سے آزاد کرتا ہے اور جو کچھ ہمیں نئی زندگی کے لئے درکار ہے مہیا کرتا ہے۔ 

(‏۲)‏ معجزانہ پیدائش (‏۴:‏ ۸۔۱۷)‏

ایک دولت مند شونیمی عورت نے الیشع کے ساتھ غیر معمولی مہمان نوازی کا اِظہار کیا تھا‏، یہاں تک کہ اُس نے اپنے گھر کے بالا خانے میں اُس کے لئے ایک کمرہ تیار کر دیا۔ جب اُسے الیشع کی سفارش سے بادشاہ سے کسی طرح کی حمایت کی پیش کش کی گئی تو اُس نے اِنکساری سے جواب دیا کہ وہ اپنے لوگوں میں رہتے ہوئے ہی مطمئن ہے۔ نبی کے خادم جیحازی نے خیال پیش کیا کہ وہ چاہے گی کہ اُس کے بیٹا پیدا ہو‏، جو نبی کے کلام سے ایک حقیقت بن گیا۔ آئندہ بہار کے موسم میں اُس نے ایک بیٹے کو جنم دیا۔ موت (‏بانجھ کوکھ)‏ سے خداوند زندگی کو پیدا کرتا ہے‏، یہ خدا کے ہر ایک فرزند کی روحانی پیدائش کی تصویر ہے (‏اِفسیوں ۲:‏ ۱۔۱۰)‏۔

(‏۳)‏ شونیمی عورت کے بیٹے کو زندہ کرنا (‏۴:‏ ۱۸۔۳۷)‏

۴:‏ ۱۸۔۲۵ الف کئی سال بعد جب لڑکا کھیت میں تھا تو اُس کو دَورہ پڑا۔ اُسے اُٹھا کر اُس کی ماں کے پاس لایا گیا۔ لیکن دوپہر کے وقت اُس نے اُس کے ہاتھوں میں جان دے دی۔ اُس نے لڑکے کی لاش نبی کے کمرے میں رکھ دی۔ تب اُس نے وجہ بتائے بغیر اپنے خاوند سے کہا کہ وہ کوہِ کرمل پر مردِ خدا سے ملنے کے لئے جانا چاہتی ہے۔ خاوند کو نبی سے یہ ملاقات عجیب سی لگی جب کہ یہ کوئی مذہبی تہوار کا موقع نہیں تھا‏، لیکن اُس نے اُس کے جانے کے لئے ضروری اِنتظامات کر دیئے۔ وہ بڑی تیزی سے شونیم سے اسدرلُون کے میدان سے ہوتی ہوئی کوہِ کرمل پر پہنچ گئی۔ 

۴:‏ ۲۵ ب۔۲۸ اُسے آتے دیکھ کر الیشع نے جیحازی کو اُسے ملنے کے لئے بھیجا کہ اُس کی خیریت کے بارے میں دریافت کرے۔ اُس نے جیحازی کو اپنی آمد کے مقصد کے بارے میں نہ بتایا۔ درحقیقت اُس نے یہ کہہ کر اُسے ٹال دیا کہ وہ‏، اُس کا خاوند اور اُس کا بیٹا سب بخیریت ہیں۔ اُس نے براہِ راست نبی سے اپنے معاملے کے بارے میں بات کرنے کو ترجیح دی۔ جب وہ عورت الیشع سے ملی تو وہ شدتِ جذبات سے پھٹ پڑی۔ اگر نبی اُس کی شدید پریشانی کو محسوس نہ کرتا اور اُسے بولنے کی اِجازت نہ دیتا تو ممکن ہے کہ جیحازی اُسے باہر نکال دیتا۔ خداوند نے الیشع پر اُس کی آمد کے مقصد کو ظاہر نہیں کیا تھا اور نہ ہی عورت نے ظاہر کیا۔ لیکن یہ کہہ کر اُس نے ہلکا سا اِشارہ دیا‏، ’’کیا مَیں نے اپنے مالک سے بیٹے کا سوال کیا تھا؟ کیا مَیں نے نہ کہا تھا کہ مجھے دھوکا نہ دے؟‘‘ دوسرے لفظوں میں ’’ مَیں نہیں چاہتی تھی کہ مجھے دھوکا دیا جائے کہ پہلے تو مجھے بیٹا دیا جائے اور پھر مجھ سے واپس لے لیا جائے۔‘‘ شاید الیشع نے اِس سے یہ اخذ کیا کہ لڑکا بہت بیمار ہے۔ 

۴:‏ ۲۹۔۳۱ پہلے تو نبی نے جیحازی کو بھیجا کہ وہ مُردہ لڑکے پر اُس کا عصا رکھے۔ وہ راستے میں کسی کو سلام نہ کرے کیونکہ مشرقی انداز کے سلام میں بہت زیادہ وقت ضائع ہوتا ہے۔ عورت نے محسوس کیا کہ یوں بات نہیں بنے گی اِس لئے اُس نے اِصرار کیا کہ الیشع خود اُس کے ساتھ چلے۔ جب وہ شونیم کے قریب پہنچے تو جیحازی اُنہیں ملا اور یہ خبر دی کہ لڑکا نہیں جاگا۔

۴:‏ ۳۲۔۳۷ تب الیشع کمرے میں گیا جہاں لڑکے کی لاش پڑی تھی۔ اُس نے دروازہ بند کر لیا‏، دعا کی اور اپنے آپ کو لڑکے پر پسارا۔ اُس کے منہ پر اپنا منہ اور اُس کی آنکھوں پر اپنی آنکھیں اور اُس کے ہاتھوں پر اپنے ہاتھ رکھ لئے۔ پھر نبی اُٹھا اور ٹہلنے لگا اور ایک بار پھر اپنے آپ کو لڑکے پر پسارا۔ اِس بار لڑکا سات بار چھینکا اور اپنی آنکھیں کھولیں۔ شکرگزار ماں کو اُس کا بیٹا زندہ واپس مل گیا۔ لڑکے کو زندہ کرنے کے لئے الیشع نے پورے طور پر خود کو جوان لڑکے کے مشابہ بنا لیا‏، اُس کے منہ سے منہ‏، آنکھوں کے ساتھ آنکھیں اور ہاتھوں کے ساتھ ہاتھ رکھے۔ اُس کے عصا سے کوئی تبدیلی واقع نہ ہوئی‏، لیکن جب اُس نے اپنے آپ کو لڑکے پر پسارا اور اپنی زندگی کو اُس لڑکے میں داخل کیا تو لڑکا زندہ ہو گیا۔

(‏۴)‏ زہریلی لپسی کے زہر کے اثر کو زائل کرنا (‏۴:‏ ۳۸۔۴۱)‏

اِس کے بعد جس معجزے کا ذکر ہے وہ جلجال میں ہوا۔ کال کے ایام میں (‏شاید سات سالہ کال جس کا باب ۸ میں ذکر ہے)‏ الیشع نے اپنے خادموں کو حکم دیا کہ انبیا زادوں کے لئے لپسی پکائیں۔ غلطی سے کوئی زہریلی بُوٹی دیگ میں ڈال دی گئی۔ لیکن جب غلطی کا علم ہوا تو الیشع نے کچھ آٹا لے کر دیگ میں ڈال دیا اور لپسی کھانے کے قابل بن گئی۔ 

(‏۵)‏ معجزانہ طور پر روٹی مہیا کرنا (‏۴:‏ ۴۲۔۴۴)‏

ایک اَور دفعہ کا ذکر ہے کہ الیشع نے جَو کے بیس گردے اور اناج کی ہری ہری بالیں لے کر ایک سو آدمیوں کو سیر کیا۔ خداوند کے وعدے کے مطابق لوگوں نے سیر ہو کر کھایا اور کچھ بچ بھی گیا۔ الیشع نے خود غرضی کا مظاہرہ نہیں کیا بلکہ جو اُس کا حق تھا‏، اُس نے اُسے دوسرے کو دے دیا۔ جب ہم دوسروں کو اپنے مال میں شریک کرتے اور نتائج خداوند کے ہاتھوں میں دے دیتے ہیں تو وہ ہماری اور دوسروں کی ضروریات کو پورا کرتا ہے بلکہ زائد بچ بھی جاتا ہے (‏اَمثال ۱۱:‏ ۲۴‏،۲۵)‏۔

مقدس کتاب

۱ اور انبیاء زادوں کی بیویوںمیں سے ایک عورت نے الیشع سر فریا د کی اور کہنے لگی کہ تیرا خادم میرا شوہر مر گیا ہے اور تُو جانتا ہے کہ تیرا خادم خُداوند سے ڈرتا تھا ۔ سو اب قرضخواہ آیا ہے کہ میرے دونوں بیٹوں کو لے جائے تاکہ وہ غُلام بنیں ۔
۲ الیشع نے اُس سے کہا میں تیرے لیے کیا کروں ؟ مجھے بتا تیرے پاس گھر میں کیا ہے؟اُس نے کہا تیری لونڈی کے پاس گھر میں ایک پیالہ تیل کے سِوا کچھ نہیں ۔
۳ تب اُس نے کہا تُو جا اور باہر سے اپنے سب ہمسایوں سے برتن عاریت لے۔ وہ برتن خالی ہوں اور تھوڑے برتن نہ لینا۔
۴ پھر تُو اپنے بیٹوں کو ساتھ لیکر اندر جانا اور پیچھے سے دروازہ بنر کر لینا اور اُن سب برتنوں میں تیل انڈیلنا اور جو بھر جائے اُسے اُٹھا کر الگ رکھنا ۔
۵ سو وہ اُس کے پاس سے گئی اور اُس نے اپنے بیٹوں کو اندر ساتھ لیکر دروازہ بند کر لیا اور وہ اُسکے پاس لاتے جاتے تھے اور وہ انڈیلتی جاتی تھی ۔
۶ جب ہ برتن بھر گئے تو اُس نے اپنے بیٹے سے کہا میرے پاس ایک اور برتن لا ۔ اُس نے اُس سے کہا اور تو کوئی برتن رہا نہیں ۔ تب تیل موقوف ہو گیا ۔
۷ تب اُس نے آکر مردِخُدا کو بتایا ۔ اُس نے کہا جا تیل بیچ اور قرض ادا کر اور جو باقی رہے اُس سے تُو اور تیرے فرزند گُذران کریں۔
۸ اور ایک روز ایسا ہُوا کہ الیشع شونیم کو گیا ۔ وہاں ایک دولتمند عورت تھی اور اُس نے اُسے روٹی کھانے پر مجبور کیا۔ پھر تو جب کبھی اُدھر سے گذرتا روٹی کھانے کے لیے وہیں چلا جاتا تھا ۔
۹ سو اُس نے اپنے شوہر سے کہا دیکھ مجھے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مردِ خُدا جو اکثر ہماری طرف آتا ہے مُقدس ہے۔
۱۰ ہم اُسکے لیے ایک پلنگ اور کوٹھری دیوار پر بنا دیں اور اُس کے لیے ایک پلنگ اور میز اور چوکی اور شمعدان لگا دیں ۔ پھر جب کبھی وہ ہمارے پاس آئے تو وہیں ٹھہرے گا ۔
۱۱ سو ایک دن ایسا ہوا کہ وہ اُوھر گیا اور اُس کوٹھری میں جا کر وہیں سویا ۔
۱۲ پھر اُس نے اپنے خادم جیحازی سے کہا کہ اِس شونیمی عورت کو بُلا لے ۔ اُس نے اُسے بُلالیا اور وہ اُسکے سامنے کھڑی ہوئی۔
۱۳ پھر اُس نے اپنے خادم سے کہا تُو اُس سے پوچھ کہ تُو نے جو ہمارے لیے اِس قدر فکریں کیں تو تیرے لیے کیا کِیا جائے؟ کیا تُو چاہتی ہے کہ بادشاہ سے یا فوج کے سردار سے تیری سفارش کی جائے؟ اُس نے جواب دیا میں تو اپنے ہی لوگوں میں رہتی ہوں ۔
۱۴ پھر اُس نے اُس سے کہا اُس کے لیے کیا کِیا جائے؟ تب جیحازی نے جواب دیا کہ واقعی اُس کے کوئی فرزند نہیں اور اُسکا شوہر بُڈھا ہے ۔
۱۵ تب اُس نے اُس سے کہا اُسے بُلا لے اور جب اُس نے اُسے بُلایا تو وہ دروازہ پر کڑی ہوئی ۔
۱۶ تب اُس نے کہا موسمِ بہار میں وقت پورا ہونے پر تیری گود میں بیٹا ہوگا ۔ اُس نے کہا نہیں اے میرے مالک اے مردِ خُدا اپنی لونڈی سے جھوٹ نہ کہہ ۔
۱۷ سو وہ عورت حاملہ ہوئی او ر جیسا الیشع نے اُس سے کہا تھا موسمِ بہار میں وقت پورا ہونے پر اُسکے بیٹا ہوا ۔
۱۸ اور جب وہ لڑکا بڑھا تو ایک دن ایسا ہوا کہ وہ اپنے باپ کے پاس کھیت کاٹنے والوں میں چلا گیا ۔
۱۹ اور اُس نے اپنے باپ سے کہا ہائےمیرا سر!ہائے میرا سر! اُس نے اپنے خادم سے کہا اُسے اُس کی ماں کے پاس لے جا ۔
۲۰ جب اُس نے اُسے لیکر اُسکی ماں کے پاس پہنچا دیا تووہ اُس کے گھُٹنوں پر دوپہر تک بیٹھا رہا اِس کے بعد مر گیا
۲۱ تب اُس کی ماں نے اوپر جا کر اُسے مردِ خُدا کے پلنگ پر لٹا دیا اور دروازہ بند کر کے باہر گئی۔
۲۲ اور اُس نے اپنے شوہر سے پُکار کر کہا کہ جلد جوانوں میں سے ایک کو اور گدھوں میں سے ایک کو میرے لیے بھیج دے تاکہ میں مردِ خُدا کے پاس دوڑ جاوں اور پھر لوٹ آنا
۲۳ اُس نے کہا آج تُو اُس کے پاس کیوں جانا چاہتی ہے آج نہ تو نیا چاند ہے نہ سبت۔اُس نے جواب دیا کہ اچھا ہی ہو گا
۲۴ اور اُس نے گدھے پر زین کس کر اپنے خادم سے کہا ہاں ۔آگے بڑھ اور سواری چلانے میں ڈھیل نہ ڈال جب تک میں تُجھ سے نہ کہوں ۔
۲۵ سو وہ چلی اور کوہِ کرمل کو مردِ خُدا کے پاس گئی۔ اُس مردِ خُدا نے دور سے اُسے دیکھ کر اپنے خادم جیحازی سے کہا دیکھ اُدھر وہ شونیمی عورت ہے ۔
۲۶ اب ذرا اُسکے استقبال کو دوڑ جا او ر اُس سے پوچھ کیا تُو خیریت سے ہے ؟ تیرا شوہر خیریت سے ؟ بچہ خیریت سے ہے اُس نے جواب دیا خیریت ہے ۔
۲۷ اور جب وہ اُس پہاڑ پر مردِ خُدا کے پاس آئی اور اُس کے پاوں پکڑ لیے اور جیحازی اُسے ہٹانے کے لیےنزدیک آیا پر مردِ خُدا نے کہا کہ اُسے چھوڑ دے کیونکہ اُس کا جی پریشان ہے اور خُداوند نے یہ بات مجھ سے چھپائی اور مجھے نہ بتائی۔
۲۸ اور وہ کہنے لگی کیا میں نے اپنے مالک سے بیٹے کا سوال کیا تھا؟ کیا میں نے نہ کہا تھا کہ مجھے دھوکہ نہ دے ۔
۲۹ تب اُس نے جیحازی سے کہا کمر باندھ اور میرا عصا ہاتھ میں لے کر اپنی راہ لے اگر کوئی تجھے راہ میں مِلے تو اُسے سلام نہ کرنا اور اگر کوئی تجھے سلام کرے تو جواب نہ دینا اور میرا عصا اُس لڑکے کے منہ پر رکھ دینا ۔
۳۰ اُس لڑکے کی ماں نے کہا خداوند کی حیات کی قسم اور تیری جان کی سوگند میں تجھے نہیں چھوڑوں گی تب وہ اُٹھ کر اُس کے پیچھے پیچھے چلا۔
۳۱ اور جیحازی نے اُس سے پہلے آکر عصا کو اُس لڑکے کے منہ پر رکھا پر نہ تو کچھ آواز ہوئی نہ سُننا اِس لیے وہ اُس سے مِلنے کو لوٹا اور اُسے بتایا کہ لڑکا نہیں جاگا۔
۳۲ جب الیشع اُس گھر میں آیا تو دیکھو وہ لڑکا مرا ہوا اُس کے پلنگ پر پڑا تھا۔
۳۳ سو وہ اکیلا اندر گیا اور دروازہ بند کر کے خُداوند سے دعا کی ۔
۳۴ اور اُوپر چڑھ کر اُس بچے پر لیٹ گیا اور اُس کے منہ پر اپنا منہ اور اُس کی آنکھوں پر اپنی آنکھیں او ر اُس کے ہاتھوں پر اپنے ہاتھ رکھ لیے اور اُس کے اوپر پسر گیا ۔ تب اُس بچے کا جسم گرم ہونے لگا ۔
۳۵ پھر وہ اُٹھ کر اُس گھر میں ایک بار ٹہلا اور اوپر چڑھ کر اُس بچے کے اوپر پسر گیا اور وہ بچہ سات بار چھینکا اور بچے نے آنکھیں کھول دیں ۔
۳۶ تب اُس نے جیحازی کو بُلا کر کہا اُس شونیمی عورت کو بُلا کے سو اُس نے اُسے بُلایا اور جب وہ اُس کے پاس آئی تو اُس نے اُس سے کہا اپنے بیٹے کو اُٹھا لے ۔
۳۷ تب وہ اندر جا کر اُس کے قدموں پر گِری اور زمین پر سر نگوں ہو گئی پھر اپنے بیٹے کو اُٹھا کر باہر چلی گئی۔
۳۸ اور الیشع پر جلجال میں آیا اور مُلک میں کال تھا ۔ اور انبیاء زادے اُس کے حضور بیٹھے ہوئے تھے اور اُس نے اپنے خادم سے کہا بڑی دیگ چڑھا دے اور اِن انبیا زادوں کے لیے لپسی پکا۔
۳۹ اور اُن میں سے ایک کھیت میں گیا تو کچھ ترکاری چُن لائی سو اُسے کوئی جنگلی لتا مل گئی اُس نے اُس میں سے اندر این توڑ کر دامن بھر لیا اور لوٹا اور اُن کو کاٹ کر لپسی کی دیگ میں ڈال دیا کیونکہ وہ اُن کو پہچانتے نہ تھے ۔
۴۰ چنانچہ اُناہوں نے اُن مردوں کے کاکھانے کے لیے اُس میں سے انڈھیلا اور ایسا ہُوا کہ جب وہ اُس لپسی میں سے کھانے لگے تو چِلا ٹھے اور کہا اے مردِ خُداا دیگ میں موت ہے اور وہ اُس میں سے کھا نہ سکے ۔
۴۱ لیکن اُس نے کہا کہ آٹا لاو اور اُس نے اُسے دیگ میں ڈال دیا اور کہا کہ اُن لوگوں کے لیے انڈیلو تاکہ وہ کھائیں ۔ سو دیگ میں کوئی مضر چیز نہ رہی ۔
۴۲ اور بعل سلیسہ سے ایک شخص آیا اور پہلے پھلوں کی روٹیاں یعنی جَو کے بیس گِردے اور اناج کی ہری ہری بالیں مردِ خُدا کے پاس لایا اُس نے کہا اِن لوگوں کو دے دے تاکہ وہ کھائیں
۴۳ اُس کے خادم نے کہا کیا میں اتنے ہی کو سو آدمیوں کے لیے سامنے رکھ دوں ؟ سو اُس نے پھر کہا کہ لوگوں کو دے دے تاکہ وہ کھائیں کیونکہ خُداوند یوں فرماتا ہے کہ وہ کھائیں گے اور اُس میں سے کچھ چھوڑ بھی دیں گے ۔
۴۴ پس اُس نے اُسے اُن کے آگے رکھا اور اُنہوں نے کھایااور جیسا خُدا وند نے فرمایا تھا اُس نے سے کچھ چھوڑ بھی دیا ۔