ب۔ ایلیاہ کا آسمان پر اُٹھایا جانا (۲: ۱۔۱۲ الف)
اِس باب کا آغاز مردِ خدا ایلیاہ کے آسمان پر اُٹھائے جانے (آیات ۱۔۱۱) اور اِختتام بیت ایل کے لڑکوں کے پھاڑے جانے سے ہوتا ہے (آیات ۲۳۔۲۵)۔
۲: ۱۔۶ اب وقت آ چکا تھا کہ ایلیاہ اپنی خدمت کو ختم کرے اور اُس کی جگہ الیشع منظر پر آئے۔ لیکن اِس سے پہلے ایلیاہ کا بیت ایل، یریحو اور یردن کو جانا ضرور تھا۔ الیشع نے بڑی وفاداری سے اِصرار کیا کہ وہ بھی اُن جگہوں میں اُس کے ساتھ جائے گا۔ بیت ایل اور یریحو میں انبیا زادوں نے الیشع کو بتایا کہ خداوند اُس دن ایلیاہ کو ’’اُس کے سر پر سے اُٹھا لے گا۔‘‘ یہ اِس دستور کی نشان دہی کرتا ہے کہ شاگرد اپنے اُستاد کے قدموں میں بیٹھتا تھا۔ الیشع پہلے سے اِس بات کو جانتا تھا اِس لئے اُس نے انبیا کو ’’چپ رہنے‘‘ کے لئے کہا۔ یہ معاملہ اِس قدر افسوس ناک اور مقدس تھا کہ الیشع اِس کے بارے میں بحث نہیں کرنا چاہتا تھا۔
۲: ۷۔۹ یریحو سے ایلیاہ اور الیشع دریائے یردن پر گئے اور اُن کے پیچھے پچاس انبیا زادے تھے۔ جب ایلیاہ نے اپنی چادر کو یردن کے پانی پر مارا تو پانی دو حصے ہو گیا اور دونوں شخص خشک زمین پر سے گزر گئے۔ اخی اَب کے دورِ حکومت میں ایلیاہ یردن کے مشرق میں جلعاد سے اپنی نبوتی خدمت کو شروع کرنے کے لئے آیا تھا (۱۔سلاطین ۱۷:۱)۔ اب اپنی خدمت کے اِختتام پر آسمان پر اُٹھائے جانے کے لئے واپس یردن کے پار گیا۔ الیشع نے ایلیاہ کی روح کا دُونا حصہ مانگا۔ دونا حصہ پہلوٹھے کا حق ہے اور یہاں اِس کا یہ مطلب ہے کہ الیشع اِس کا جائز جانشین بننا چاہتا تھا۔ جارج وِلیمز لکھتا ہے کہ اِس درخواست کی تکمیل اِس بات سے نظر آتی ہے کہ ایلیاہ نے آٹھ معجزات دِکھائے جب کہ الیشع کے سولہ معجزات درج ہیں۔
۲: ۱۰۔۱۲ الف ایلیاہ نے کہا کہ اِس درخواست کو پورا کرنا اُس کے بس میں نہیں۔ تب اُس نے ایک ایسی شرط کا اِضافہ کیا جو اُس کے قابو سے باہر تھی۔ اگر الیشع اُسے جدا ہوتے ہوئے دیکھے، تب اُس کی درخواست پوری ہو گی۔ جب وہ چلتے ہوئے باتیں کرتے جا رہے تھے تو آتشی رتھ اور آتشی گھوڑوں نے اُن کو جدا کر دیا اور الیشع کے دیکھتے دیکھتے ایلیاہ بگولے میں آسمان پر اُٹھایا گیا۔ الیشع چِلّایا، ’’اے میرے باپ! اے میرے باپ! اِسرائیل کے رتھ اور اُس کے سوار۔‘‘ شاید اِس سے یہ ظاہر کرنا مقصود تھا کہ ایلیاہ خدا کی قوت کا سب سے زور آور ہتھیار اور اِسرائیل کا بہترین دفاع تھا۔
ج۔ الیشع کی خدمت کا آغاز (۲: ۱۲ ب۔۲۵)
۲: ۱۲ ب۔۱۴ غم کی حالت میں اپنے کپڑے پھاڑنے کے بعد الیشع یردن کے مشرقی کنارے پر واپس آیا، اور ایلیاہ کی چادر سے پانی کو مار کر کہا ’’خداوند ایلیاہ کا خدا کہاں ہے؟‘‘ اِس سوال سے کسی طرح کا شک یا بے اعتقادی ظاہر نہیں ہوتی بلکہ یہ اِس حقیقت کو ظاہر کرنے کا موقع تھا کہ خدا جیسے ایلیاہ کے ساتھ تھا، ویسے ہی الیشع کے ساتھ بھی ہے۔ پانی دو حصے ہو گیا اور وہ دریا کے مغربی کنارے پر چلا گیا جہاں پچاس انبیا زادے اُس کی راہ دیکھ رہے تھے۔
۲: ۱۵۔۱۸ جب اُنہوں نے یردن کے پانی کو دو حصے ہوتے ہوئے دیکھا تو اُنہوں نے تسلیم کیا کہ الیشع فی الحقیقت ایلیاہ کا جانشین ہے۔ الیشع کے مشورے کے برعکس اُنہوں نے اِصرار کیا کہ وہ ایلیاہ کی تلاش کے لئے ایک پارٹی کو بھیجیں، لیکن جیسا کہ الیشع نے بتایا تھا اُن کی یہ کوشش بے سود رہی۔ یا تو اُنہوں نے ایلیاہ کے اُٹھائے جانے کو نہیں دیکھا تھا، یا پھر اگر دیکھا بھی تھا تو اُن کا خیال تھا کہ وہ وقتی طور پر غائب ہوا ہے۔
۲: ۱۹۔۲۲ اِس کے بعد ۱۳:۲۰ تک الیشع کی خدمت مسلسل معجزات پر مشتمل ہے جس کا یہ مقصد تھا کہ اِسرائیل بت پرستی کو ترک کر کے سچے اور زندہ خدا کی طرف رجوع لائے۔ ضروری نہیں کہ یہ واقعات تاریخی ترتیب سے درج کئے گئے ہوں۔ پہلا معجزہ یہ تھا کہ اُس نے یریحو کے چشمے کے خراب پانی میں نمک ڈالا۔ پھر کبھی اِس پانی سے نہ تو زمین بنجر ہوئی اور نہ ہی وہ موت کا باعث بنا۔
۲: ۲۳،۲۴ یریحو سے بیت ایل کی راہ پر، بچھڑے کی پرستش کے ایک مرکز پر الیشع کو چند گستاخ لڑکے ملے جنہوں نے اُسے گنجا کہتے ہوئے مذاقاً چیلنج کیا کہ وہ بھی ایلیاہ کی طرح آسمان پر چلا جائے۔ جب اُس نے خداوند کے نام میں اُن پر لعنت کی تو بن میں سے دو ریچھنیاں نکلیں اور اُن میں سے بیالیس بچے پھاڑ ڈالے۔ خدا کے پیغمبر کی بے عزتی خدا کی بے عزتی ہے۔
۲: ۲۵ الیشع، ایلیاہ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے کوہِ کرمل اور سامریہ کو جانے سے پہلے یریحو اور بیت ایل میں انبیا زادوں کے مدرسوں میں گیا۔ یریحو میں اُنہوں نے عزت و احترام سے اُس کا اِستقبال کیا اور اُس نے اُنہیں برکت دی۔ لیکن بیت ایل میں لڑکوں نے یہوواہ کی تعظیم کا اِظہار نہ کیا بلکہ اُس کے ساتھ شرم ناک سلوک کیا جس کے جواب میں اُنہیں لعنت ملی۔
مقدس کتاب
۱ اور جب خُداوند ایلیاہ کو بگولے میں آسمان پر اُٹھا لینے کو تھا تو ایسا ہوا کہ ایلیاہ الیشع کو ساتھ لیکر جلجال سے چلا
۲ اور ایلیاہ نے الیشع سے کہا تُو ذرا یہیں ٹھہر جا اِس لیے کہ خُداوند نے مُجھے بیت ایل کو بھیجا ہے ۔ الیشع نے کہا خُداوند کی حیات کی قسم اور تیری جان کی سوگند میں تجھے نہیں چھوڑوں گا سو وہ بیت ایل کو چلے گئے۔
۳ اور انبیا ء زادے جو بیت ایل میں تھے الیشع کے پاس آ کر اُس سے کہنے لگے کیا تُجھے معلوم ہے کہ خُداوند آج تیرے سر پر سے تیرے آقا کو اُٹھا لے گا ؟ اُس نے کہا ہاں میں جانتا ہوں تُم چُپ رہو ۔
۴ اور ایلیاہ نے اُس سے کہا الیشع توں ذرا یہیں ٹھہر جا کیونکہ خُداوند نے مجھے یریحو کو بھیجا ہے اُس نے کہا خُداوند کی حیات کی قسم اور تیری جان کی سوگند میں تجھے نہیں چھوڑوں گا سو وہ یریحو میں آئے ۔
۵ اور انبیا زادے یریحو میں تھے الیشع کے پاس آکر اُس سے کہنے لگے کیا تُجھے معلوم ہے کہ خُداوند آج تیرے آقا کو تیرے سر پر سے اُٹھا لے گا ؟ اُس نے کہا ہاں میں جانتا ہوں تُم چُپ رہو۔
۶ اور ایلیاہ نے اُسے کہا تُو ذرا یہیں ٹھہر جا کیونکہ خداوند نے مجھے یردن کو بھیجا ہے ۔ اُس نے کہاخُداوند کی حیات کی قسم اور تیری جان کی سوگند میں تجھے نہیں چھوڑوں گا سو وہ دونوں آگے چلے۔
۷ اور انبیا زادوں میں سے پچاس آدمی جا کر اُن کے مقابل دور کھڑے ہو گئے اور دونوں یردن کے کنارے کھڑے ہوئے ۔
۸ اور ایلیاہ نے اپنی چادر کو لیا او ر اُسے لپیٹ کر پانی پر مارا اور پانی دو حصے کو کر اِدھر اُدھر ہو گیا اور وہ دونوں خُشک زمین پر ہو کر پار گئے ۔
۹ اور جب وہ پار ہو گئے تو ایلیاہ نے الیشع سے کہا کہ اِس سے پیشتر میں تجھ سے لے لیا جاوں بتا کہ میں تیرے لئے کیا کروں ؟ الیشع نے کہا میں تیری مِنت کرتا ہوں کہ تیری روح کا دُگنا حصہ مجھ پر ہو
۱۰ اُس نے کہا تُو نے مُشکل سوال کیا تو بھی اگر تُو مجھے اپنے سے جُدا ہوتے ہوئے دیکھے تو تیرے لیے ایسا ہی ہو گا ۔ اور اگر نہیں تو ایسا نہ ہو گا ۔
۱۱ اور وہ آگے چلتے اور باتیں کرتے جاتے تھے کہ دیکھو ایک آتشی رتھ اور آتشی گھوڑوں نے اُن دونوں کو جُدا کر دیا اور ایلیاہ بگولے میں آسمان پر چلا گیا ۔
۱۲ الیشع یہ دیکھ کر چِلایا اے میرے باپ ! میرے باپ! اِسرائیل کے رتھ اور اُس کے سوار ! اور اُس نے اُسے پھر نہ دیکھا ۔ سو اُس نے اپنے کپڑوں کو پکڑ کر پھاڑ ڈالا اور دو حصے کر دیا ۔
۱۳ اور اُس نے ایلیاہ کی چادر کو بھی جو اُس پر سے گِر پڑی تھی اُٹھا لیا اور اُلٹا پھرا اور یردن کے کنارے کھڑا ہوا ۔
۱۴ اور اُس نے ایلیاہ کی چادر کو جو اُس پر سے گِر پڑی تھی لیکر پانی پر مارا اور کہا کہ خُداوند ایلیاہ کا خُدا کہاں ہے ؟ اور جب اُس نے بھی پانی پر مارا تو وہ اِدھر اُدھر دو حصے ہو گیا اور الیشع پار ہُوا
۱۵ جب انبیا زادوں نے جو یریحو میں اُس کے مقابل تھے اُسے دیکھا تو وہ کہنے لگے ایلیاہ کی روح الیشع پر ٹھہری ہوئی ہے اور وہ اُس کے استقبال کو آئے اور اُس کے آگے زمین تک جھُک کر اُسے سجدہ کیا۔
۱۶ اور اُنہوں نے اُس سے کہا اب دیکھ تیرے خادموںکے ساتھ پچاس زور آور جوان ہیں ذرا اُن کو جانے دے کہ وہ تیرے آقا کو ڈھونڈیں کہیں ایسا نہ ہو کہ خُداوند کی روح نے اُسے اُٹھا کر کسی پہاڑ پر پر کسی وادی میں ڈال دیا ہو ۔ اُس نے کہا مت بھیجو ۔
۱۷ اور جب اُنہوں نے اُس سے بہت زد کی یہاں تک کہ وہ شرما بھی گیا تو اُس نے کہا بھیج دو ۔ اِس لیے اُنہوں نے پچاس آدمیوں کو بھیجا اور اُنہو ں نے تین دن ڈھونڈا پر اُسے نہ پایا ۔
۱۸ اور وہ ہنوز یریحو میں ٹھہرا ہوا تھا جب وہ اُس کے پاس لوٹے تب اُس نے اُن سے کہا میں نے تُم سے نہ کہا تھا کہ نہ جاو؟
۱۹ پھر اُس شہر کے لوگوں نے الیشع سے کہا ذرا دیکھ یہ شہر کیا اچھے موقع پر ہے جیسا ہمارا خُداوند خود دیکھتا ہے لیکن پانی خراب اور زمین بنجر ہے ۔
۲۰ اُس نے کہا مجھے ایک نیا پیالہ لا دو اور اُس میں نمک ڈال دو ۔ وہ اُسے اُس کے پاس لے آئے
۲۱ اور وہ نکل کر پانی کے چشمہ پر گیا اور وہ نمک اُس میں ڈال کر کہنے لگا خُداوند یوں فرماتا ہے کہ میں نے اِس پانی کو ٹھیک کر دیا ہے اب آگے کو اِس سے موت یا بنجر پانی نہ ہو گا ۔
۲۲ سو الیشع کے کلام کے مطابق جو اُس نے فرمایا وہ پانی آج تک ٹھیک ہے ۔
۲۳ اور وہاں سے وہ بیت ایل کو چلا اور جب وہ راہ میں جا رہا تھا تو اُس شہر کے چھوٹے لڑکے نکلے اور اُسے چِڑا کر کہنے لگے چڑھا چلا جا اے گنجے سر والے ! چلا چڑھا جا اے گنجے سر والے !
۲۴ اور اُس نے اپنے پیچھے نظر کی اور اُن کو دیکھا اور خُداوند کا نام لےکر اُن پر لعنت کی سو بن میں سے دو ریچھنیاں نکلیں اور اُنہوں نے اُن میں سے بیالیس بچے پھاڑ ڈالے ۔
۲۵ وہاں سے وہ کوہِ کرمل کو گیا اور پھر وہاں سے سامریہ کو لوٹ گیا ۔