۲سلاطین ۱۵

ف۔ یہوداہ کا بادشاہ عزریاہ (‏عزیاہ)‏ (‏جاری ہے)‏ (‏۱۵:‏ ۱۔۷)‏

مجموعی طور پر عزریاہ ایک اچھا بادشاہ تھا۔ کسی حد تک اُس کی ناکامی کا سبب یہ تھا کہ اُس نے یہوداہ میں اُونچے مقاموں کو قائم رہنے دیا۔ لیکن کاہنوں کے احتجاج کے باوجود جب اُس نے ہیکل میں بخور جلانے سے کہانت کے عہدے میں مداخلت کرنے کی کوشش کی تو اُسے کوڑھ لگ گیا اور وہ مرتے دم تک الگ کوٹھڑی میں رہا (‏بمقابلہ ۲۔تواریخ ۲۶:‏ ۱۶۔۲۱)‏۔ 

عاموس کی خدمت اِس دَور میں ختم ہو گئی۔

ص۔ اِسرائیل کا بادشاہ زکریاہ (‏۱۵:‏ ۸۔۱۲)‏

یربعام دوم کے بیٹے زکریاہ نے اِسرائیل پر چھے ماہ تک سلطنت کی (‏۷۵۳۔۷۵۲ ق م)‏۔ 

اپنے پیش روؤں کی طرح زکریاہ نے یربعام اوّل کی پیروی کرتے ہوئے دان اور بیت ایل میں سونے کے بچھڑوں کی پرستش جاری رکھی۔ چھے ماہ کے مختصر دورِ حکومت کے بعد اُسے سلوم نے قتل کر دیا۔ ہفتادی ترجمے کی پیروی کرتے ہوئے آر۔ ایس۔ وی ترجمے (‏Revised Standard Version)‏ میں بیان کیا گیا ہے کہ اُسے اِبلیم میں قتل کیا گیا‏، جو یزرعیل کی وادی میں ایک قصبہ ہے اور یہ بالکل اُس جگہ کے قریب ہے جہاں یاہو نے اخزیاہ کو قتل کیا تھا (‏۹:‏۲۷)‏۔ اُس کی موت سے یاہو کے شاہی خاندان کا خاتمہ ہو گیا۔ زکریاہ چوتھی پشت تھا جس کا خدا نے یاہو سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اِسرائیل کے تخت اُس پر بیٹھے گا (‏آیت ۱۲ قب ۱۰:‏۳۰)‏۔

ق۔ اِسرائیل کا بادشاہ سلوم (‏۱۵:‏ ۱۳۔۱۵)‏

یبیس کا بیٹا سلوم ایک ماہ تک اِسرائیل کا بادشاہ رہا (‏۷۵۲ ق م)‏۔

اِس بادشاہ کے بارے میں بہت کم لکھا گیا ہے۔ دس قبائل میں سے اُس کا چھٹا شاہی خاندان تھا اور وہ اِس خاندان کا واحد فرد تھا جس نے حکومت کی۔ سلوم نے قتل کر کے تخت حاصل کیا اور اُسی مہینے اُسی طرح سے یہ تخت اُس سے چھن گیا۔ اُسے مناحم نے قتل کیا۔ 

ر۔ اسرائیل کا بادشاہ مناحم (‏۱۵:‏ ۱۶۔۲۲)‏

جادی کا بیٹا مناحم دس برس تک اِسرائیل کا بادشاہ رہا (‏۷۵۲۔۴۱/ ۷۴۲ ق م)‏۔

مناحم نے تفسح پر حملہ کیا۔ یہ وہ شہر نہیں جو دریائے فرات کے کنارے پر ہے‏، بلکہ وہ ہے جو ترضہ کے نزدیک ہے۔ جب اہلِ شہر نے ہتھیار ڈالنے سے اِنکار کر دیا تو اُس نے بڑی بے دردی سے لوگوں کو قتل کیا‏، بلکہ اُس نے حاملہ عورتوں کو بھی ہلاک کر ڈالا۔

اُس وقت ارامی سلطنت زوال پذیر تھی اور اسور اسرائیل کا سب سے بڑا دشمن بن گیا تھا۔ مناحم کے دورِ حکومت میں شاہِ اسور پُول نے اِسرائیل پر حملہ کیا۔ مناحم نے اُسے راضی کرنے کے لئے ہزار قنطار چاندی اور اُس سے یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ وہ اُس کے غیر یقینی اِقتدار کے استحکام کے لئے اُس کی حمایت کرے گا۔ شاہِ اِسرائیل نے یہ رقم اکٹھی کرنے کے لئے تمام دولت مندوں پر پچاس پچاس مثقال فی کس ٹیکس عائد کیا (‏آیت ۲۰)‏۔ اُس وقت اسور میں ایک غلام کی قیمت چاندی کی پچاس مثقال تھی۔ مناحم نے اپنے ذاتی مفادات کے لئے رضاکارانہ طور پر اُس کے جوئے کو قبول کیا۔ عموماً یہ خیال کیا جاتا ہے کہ پُول تگلت پلاسر سوم ہی ہے (‏آیت ۲۹)‏۔

ش۔ اِسرائیل کا بادشاہ فقحیاہ (‏۱۵:‏ ۲۳۔۲۶)‏

مناحم کا بیٹا فقحیاہ دو سال تک اسرائیل کا بادشاہ رہا (‏۴۱/ ۷۴۲۔۳۹/ ۷۴۰ ق م)‏۔

اِس بادشاہ کے بارے میں ہم صرف یہ جانتے ہیں کہ اُس کا دورِ حکومت مختصر تھا‏، اُس نے بدی کی اور اُسے سامریہ میں فقح اور پچاس جلعادیوں نے قتل کر دیا۔ اُس کے دَورِ حکومت سے اِسرائیل میں ساتویں شاہی خاندان کا خاتمہ ہوا۔ وہ اِسرائیل کے آخری بادشاہوں میں واحد بادشاہ تھا جس نے جبراً اِقتدار پر قبضہ نہ کیا‏، لیکن بہت جلد اُس کے ایک سردار نے اُس سے اِقتدار چھین لیا۔ 

ت۔ اِسرائیل کا بادشاہ فقح (‏۱۵:‏ ۲۷۔۳۱)‏

رملیاہ کے بیٹے فقح نے بیس برس تک اِسرائیل پر سلطنت کی (‏۷۵۲۔۳۱/ ۷۳۲ ق م)‏۔

فقح فقحیاہ کا ایک سردار تھا۔ فقح نے اُسے قتل کیا تھا۔ ہمیں دوسرے حوالہ جات سے پتا چلتا ہے کہ اُس نے یہوداہ پر حملہ کیا اور پھر یہوداہ کے خلاف ارامی تعاون بھی حاصل کیا۔ شاہِ اسور نے پہلے تو شاہِ ارام رضین کو قتل کیا اور بعد ازاں اِسرائیل پر حملہ کیا۔ اُس نے یردن کے مشرق میں اڑھائی قبیلوں اور گلیل کو فتح کیا‏، اور یہاں کے باشندوں کو اسیری میں لے گیا۔ یہ اسوری اسیری کا پہلا مرحلہ تھا۔ فقح مناحم (‏دس سال)‏ اور فقحیاہ (‏۲ سال)‏ کے دَورِ حکومت میں سردار رہا۔ اسور کے تعاون سے ہوسیع نے فقح کے خلاف سازِش کے تحت اُسے قتل کر کے اِسرائیل کے تخت پر قبضہ کر لیا۔ اِس سے اِسرائیل میں ساتویں شاہی خاندان کا سلسلہ ختم ہو گیا۔ 

ث۔ یہوداہ کا بادشاہ یوتام (‏۱۵:‏ ۳۲۔۳۸)‏

عزیاہ کا بیٹا یوتام یہوداہ کا کُل بیس برس تک بادشاہ رہا۔ اُس میں وہ چار سالہ دَور بھی شامل ہے جس میں اُس نے عزیاہ کے نائب کی حیثیت سے حکومت کی (‏۷۵۰۔۳۱/ ۷۳۲ ق م؛ بمقابلہ ۲۔تواریخ ۲۷ باب)‏۔ 

یوتام نے اپنے دورِ حکومت کے پہلے حصے میں اپنے باپ عزیاہ اور آخری دَور میں آخز کے ساتھ حکومت کی۔ اُس کی باقاعدہ حکومت کا دَور سولہ سال تک رہا۔ یوتام کا یہوداہ کے اچھے بادشاہوں میں شمار ہوتا ہے‏، گو کہ اُس نے اُونچے مقام نہ ڈھائے۔ خداوند کے گھر کا بالائی دروازہ اُسی نے بنایا اور اُس نے ملک میں دیگر تعمیراتی منصوبوں کو عملی جامہ پہنایا۔ اپنی موت سے کچھ عرصہ پہلے رضین اور فقح نے مل کر یہوداہ پر حملہ کیا۔ میکاہ نبی نے اپنی خدمت کا آغاز یوتام کے دورِ حکومت میں کیا۔ 

۲۔تواریخ ۲۷:‏۶ میں یوتام کی تعریف میں یہ تاثرات دیئے گئے ہیں ’’سو یوتام زبردست ہو گیا کیونکہ اُس نے خداوند اپنے خدا کے آگے اپنی راہیں درست کی تھیں۔‘‘ یہ اِسرائیل کے بادشاہوں کے رویے کے بالکل متضاد ہے جنہوں نے اپنی رَوِشوں میں یربعام کی پیروی کی۔ 

یوسیفس مورِّخ بھی یوتام کی دین داری کا ذکر کرتا ہے۔ 

مقدس کتاب

۱ شاہِ اسرائیل یُربعام کے ستائیسویں برس سے شاہ یہوداہ امصیاہ کا بیٹا عزریا سطلنت کرنے لگا ۔
۲ جب وہ سلطنت کرنے لگا تو سولہ برس کا تھا اور اُس نے یروشلیم میں باون برس سلطنت کی ۔ اُسکی ماں کا نام یکولیاہ تھا جو یروشلیم کی تھی ۔
۳ اور اُس نے جیسا اُسکے باپ امصیاہ نے کیا تھا ٹھیک اُسی طرح وہ کام کیا جو خُداوند کی نظر میں بھلا تھا ۔
۴ تو بھی اونچے مقام ڈھائے نہ گئے اور لوگ اب تک اونچے مقاموں پر قُربانی کرتے اور بخور جلاتے تھے ۔
۵ اور بادشاہ پر خُداوند کی ایسی مار پڑی کہ وہ اپنے مرنے کے دن تک کوڑھی رہا اور الگ ایک گھر میں رہتا تھا اور بادشاہ کا بیٹا یوتام محل کا مالک تھا اور مُلک کے لوگوں کی عدالت کیا کرتا تھا ۔
۶ اور عزریاہ کے باقی کام اور سب کچھ جو اُس نے کیا سو کیا وہ یہوداہ کے بادشاہوں کی تواریخ کی کتاب میں قلمبند نہیں؟
۷ اور عزریاہ اپنے باپ دادا کے ساتھ سو گیا اور اُنہوں نے اُسے داود کے شہر میں اُسکے باپ دادا کے ساتھ دفن کیا اور اُسکا بیٹا یوتام اُسکی جگہ بادشاہ ہوا۔
۸ اور شاہ یہوداہ عزریاہ کے اڑتیسویں سال یُربعام کے بیٹے زکریاہ نے اسرائیل پر سامریہ میں چھ مہینے بادشاہی کی ۔
۹ اور اُس نے خُداوند کی نظر میں بدی کی جس طرح اُسکے باپ دادا نے کی تھی اور نباط کے بیٹے یُربعام کے گناہوں سے جن سے اُس نے اسرائیل سے گناہ کرایا باز نہ آیا ۔
۱۰ اور یبیس کے بیٹے سلوم نے اُسکے خلاف سازش کی اور لوگوں کے سامنے اُسے مارا اور قتل کیا اور اُسکی جگہ بادشاہ ہو گیا ۔
۱۱ اور زکریاہ کے باقی کام اسرائیل کے بادشاہوں کی توایخ کی کتاب میں قلمبند نہیں؟
۱۲ اور خُداوند کا وہ وعدہ جو اُس نے یا ہو سے کیا یہی تھا کہ چوتھی پُشت تک تیرے فرزند اسرائیل کے تخت پر بیٹھیں گے ۔ سو ویسا ہی ہوا۔
۱۳ اور شاہ یہوداہ عزریاہ کے اُنتالیسویں برس یبیس کا بیٹا سلوم بادشاہی کرنے لگا اور اُس نے سامریہ میں مہینہ بھر سلطنت کی۔
۱۴ اور جادی کا بیٹا مناحم ترضہ سے چلا اور سامریہ میں آیا اور یبیس کے بیٹے سلوم کو سامریہ میں مارا اور قتل کیا اور اُسکی جگہ بادشاہ ہو گیا۔
۱۵ اور سلوم کے باقی کام اور جو سازش اُس نے کی سو دیکھو وہ اسرائیل کے بادشاہوں کی تواریخ کی کتاب میں قلمبند ہیں۔
۱۶ پھر مناحم نے ترضہ سے جا کر تفسح کو اور اُن سبھوں کو جو وہاں آئے تھے اور اُسکی حدود کو مارا اور مارنے کا سبب یہ تھا کہ اُنہوں نے اُس کے لیے پھاٹک نہیں کھولے تھے اور اُس نے وہاں کی سب حاملہ عورتوں کو چیر ڈالا ۔
۱۷ اور شاہِ یہوداہ عزریاہ کے اُنتالیسویں برس سے جادی کا بیٹا مناحم اسرائیل پر سلطنت کرنے لگا اور اُس نے سامریہ میں دس برس سلطنت کی ۔
۱۸ اور اُس نے خُداوند کی نظر میں بدی کی اور نباط کے بیٹے یُربعام کے گناہوں سے جن سے اُس نے سرائیل سے گناہ کرایا اپنی ساری عمر باز نہ آیا ۔
۱۹ اور شاہ اسور پُول کو نذر کی تاکہ وہ اُسکی دستگیری کرے اور سلطنت کو اُسکے ہاتھ میں مستحکم کر دے ۔
۲۰ اور مناحم ے یہ نقدی شاہ اسور کو دینے کے لیے اسرائیل سے یعنی سب بڑے بڑے دولتمندوں سے پچاس پچاس مثقال فی کس کے حساب سے جبراً لی ۔ سو اسور کا بادشاہ لوٹ گیا اور اُس ملک میں نہ ٹھہرا ۔
۲۱ اور مناحم کے باقی کام اور سب کچھ جو اُس نے کیا سو کیا وہ اسرائیل کے بادشاہوں کی تواریخ کی کتاب میں قلمبند نہیں ؟
۲۲ اور مناحم اپنے باہ دادا کے ساتھ سو گیا اور اُسکا بیٹا قفیحاہ اُسکی جگہ بادشاہ ہوا ۔
۲۳ اور شاہِ یہوداہ عزریاہ کے پچاسویں سال مناحم کا بیٹا قفیحیاہ سامریہ میں اسرائیل پر سلطنت کرنے لگا اور اُس نے دو برس سلطنت کی ۔
۲۴ اور اُس نے خپداوند کی نظر میں بدی کی ۔ وہ نباط کے بیٹے یُربعام کے گناہوں سے جن سے اُس نے اسرائیل سے گناہ کرایا باز ہ آیا ۔
۲۵ اور فقح بن رملیاہ نے جو اُسکا ایک سردار تھا اُسکے خلاف سازش کی اور اُسکو سامریہ میں بادشاہ کے محل کے محکم حصہ میں ارجوب اور اریہ کے ستاتھ مارا اور جلعادیوں میں سے پچاس مرد اُسکے ہمراہ تھے ۔ سو وہ اُسے قتل کر کے اُسکی جگہ بادشاہ ہو گیا ۔
۲۶ اور فقحیاہ کے باقءیی کام اور سب کچھ جو اُس نے کیا اسرائیل کے بادشاہوں کی تواریخ کی کتاب میں قلمبند ہیں ۔
۲۷ اور شاہ یہوداہ عزریاہ کے بانویں برس سے فقح بن رملیاہ سامریہ میں اسرائیل پر سلطنت کرنے لگا اور اُس نے بیس برس سلطنت کی ۔
۲۸ اور اُس نے خُداوند کی نظر میں بدی کی اور نباط کے بیٹے یُربعام کے گناہوں سے جن سے اُس نے اسرائیل سے گناہ کرایا باز نہ آیا ۔
۲۹ اور شاہِ اسرائیل فقح کے ایام میں شاہِ اسور تگلت پلاسر نے آکر ایون اور ایبل بیت معکہ اور ینوحہ اور قادس اور حصور اور جلعاد اور گلیل اور نفتالی کے سارے مُلک کو لے لیا اور لوگوں کو اسیر کر کے اسور میں لے گیا ۔
۳۰ اور یہوسیع بن ایلہ نے فقح بن رملیاہ کے خلاف سازش کی اور اُسے مارا اورقتل کیا اور اُسکی جگہ عزریاہ کے بیٹے یوتام کے بیسویں برس بادشاہ ہو گیا ۔
۳۱ اور فقح کے باقی کام اور سب کچھ جو اُس نے کیا اسرائیل کے بادشاہوں کی تواریخ کی کتاب میں قلمبند ہیں ۔
۳۲ اور شاہِ اسرائیل رملیاہ کے بیٹے فقح کے دوسرے سال سے شاہ یہوداہ عزریاہ کا بیٹا یوتام سلطنت کرنے لگا۔
۳۳ اور جب وہ سلطنت کرنے لگا تو پچس برس کا تھا ۔ اُس نے سولہ برس یروشلیم میں سلطنت کی اور اُسکی ماں کا نام یروسا تھا جو صندوق کی بیٹی تھی ۔
۳۴ اور اُس نے وہ کام کیا جو خداوند کی نظر میں بھلا ہے ۔ اُس نے سب کچھ ٹھیک ویسے ہی کیا جیسے اُسکے باپ عزریاہ نے کیا تھا ۔
۳۵ تو بھی اونچے مقام ڈھائےنہ گئے ۔ لوگ ہنوز اونچے مقاموں پر قُربانی کرتے اور بخور جلاتے تھے ۔ خُداوند کے گھر کا بالائی دروازہ اِسی نے بنایا ۔
۳۶ اور یوتام کے باقی کام اور سب کچھ جو اُس نے کیا سو کیا وہ یہوداہ کے بادشاہوں کی تواریخ کی کتاب میں قلمبند نہیںَ
۳۷ اُن ہی دنوں میں خُداوند ستا، ارام رضین کو اور فقح بن رملیاہ کو یہوداہ پر چڑھائی کرنے کے لیے بھیجنے لگا ۔
۳۸ اور یوتام اپنے باپ دادا کے ساتھ سو گیا اور اپنے باپ داود کے شہر میں اپنے باپ دادا کے ساتھ دفن ہوا اور اُسکا بیٹا آخز اُسکی جگہ بادشاہ ہوا۔