۲سلاطین ۳

د۔ اِسرائیل کا بادشاہ یہورام (‏یورام)‏ (‏باب ۳)‏

شاہِ اِسرائیل اخی اَب کے بیٹے یہورام نے بارہ سال سلطنت کی (‏۸۵۲۔۸۴۱ ق م؛ ۱۔سلاطین ۳:‏ ۱۔۹:‏۲۹)‏۔

۳:‏ ۱۔۳ جب اخی اَب کا بیٹا یہورام اِسرائیل پر حکومت کرنے لگا تو اُس وقت یہوداہ میں یہوسفط اور اُس کا بیٹا یہورام اکٹھے سلطنت کر رہے تھے۔ اِس سے اِس اَمر کی وضاحت ہو جاتی ہے کہ شاہِ اِسرائیل یہورام کیونکر یہوداہ کے بادشاہ یہوسفط کے اٹھارہویں برس اور یہورام کے دوسرے برس میں سلطنت کرنے لگا (‏۲۔سلاطین ۱:‏۱۷)‏۔

یہورام (‏یورام)‏ اپنے والدین کی بُری راہوں پر نہیں چلتا تھا۔ اُس نے اخی اَب کے بنائے ہوئے بعل کے ستون ڈھا دیئے۔ تاہم وہ نباط کے بیٹے یربعام کی جاری کردہ سنہری بچھڑے کی پرستش کرتا رہا۔ 

۳:‏ ۴۔۹ اخی اَب کے دَورِ حکومت میں موآب کا بادشاہ اِسرائیل کو سالانہ خراج ادا کرتا تھا۔ جب اخی اَب مر گیا تو بادشاہ میسا نے فیصلہ کیا کہ بغاوت کے لئے یہ نہایت موزوں وقت ہے۔ ۱۸۶۸ء میں ایک جرمن مشنری نے ایک مشہور موآبی پتھر دریافت کیا جس میں موآب کے اِسرائیل کے مطیع ہونے اور میسا کی بغاوت کا ذکر ہے۔ 

اخزیاہ نے موآب کی بغاوت کے سلسلے میں کچھ نہیں کیا تھا۔ لیکن جب اُس کے جانشین نے عنانِ حکومت سنبھالی تو اُس نے فوراً کوشش کی کہ موآب کو مطیع کیا جائے کیونکہ وہ کثیر خراج کا نقصان برداشت نہیں کرنا چاہتا تھا۔ یہورام نے یہوسفط سے جنگ میں اُس کے ساتھ شامل ہونے کے لئے کہا‏، اور ایک بار پھر یہوسفط رضامند ہو گیا (‏دیکھیں ۱۔سلاطین ۲۲ باب جہاں اِسرائیل کے ساتھ الحاق کی بنا پر اُس کی جان خطرے میں پڑ گئی تھی)‏۔ اُنہوں نے فیصلہ کیا کہ بحیرۂ مردار کے مغرب کی طرف سے‏، ادوم کے مشرق اور موآب کے شمال کی طرف کوچ کریں۔ چونکہ شاہِ ادوم اُس وقت یہوسفط کا وفادار تھا‏، اِس لئے وہ بھی جنگ میں ساتھ دینے لگا۔ 

۳:‏ ۱۰۔۱۲ جب وہ موآب میں پہنچے تو اُنہیں پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑا۔ یہورام نے خداوند کو موردِ الزام ٹھہرایا لیکن یہوسفط نے مشورہ دیا کہ خداوند کے نبی سے صلاح لی جائے۔ جب پتا چلا کہ ایلیاہ کا خادم الیشع کہیں قریب ہی ہے تو تینوں بادشاہ اُس کے پاس گئے۔ 

۳:‏ ۱۳۔۱۹ پہلے تو الیشع نے اِحتجاج کیا کہ وہ اِسرائیل کے بت پرست بادشاہ سے بات تک کرنے کو تیار نہیں بلکہ اُسے صلاح دی کہ وہ اپنے باپ کے بت پرست نبیوں کے پاس جائے۔ شاید یہورام کے جواب سے یہ ظاہرہو رہا تھا کہ دیوتا نہیں بلکہ خدا یہ مشکل پیدا کر رہا ہے۔ یہوسفط کے مودبانہ انداز سے الیشع راضی ہو گیا کہ خداوند کی مرضی کو معلوم کرے۔ جب ایک سازِندے نے ساز بجایا‏، تو خداوند کی قدرت الیشع پر نازل ہوئی اور اُس نے پیش گوئی کی کہ وادی کی خندقیں بارش کے بغیر پانی سے بھر جائیں گی اور موآبیوں کو شکست ہو جائے گی۔ 

۳:‏ ۲۰۔۲۵ اگلی صبح ادوم کی طرف سے پانی بہتا ہوا وادی میں جمع ہو گیا۔ طلوعِ آفتاب کی روشنی میں موآبیوں کو پانی خون سا دِکھائی دیا۔ اُنہوں نے سوچا کہ اِسرائیل یہوداہ اور ادوم کے بادشاہوں کی آپس میں جنگ ہو چکی ہے۔ جب وہ مالِ غنیمت کے لئے اِسرائیل کی لشکرگاہ میں آئے تو اُنہیں تباہ کن حملے کا سامنا کرنا پڑا۔ بعد میں اِسرائیلیوں نے زمین کے ہر ایک اچھے قطعے کو پتھروں سے بھر دیا‏، چشمے بند کر دیئے اور تمام اچھے درخت کاٹ ڈالے۔ 

۳:‏ ۲۶‏،۲۷ شاہِ موآب اپنے سابق اتحادیوں یعنی ادومیوں سے نہایت خفا ہوا۔ اُسے شک تھا کہ اُن کا بادشاہ یہوداہ اور اِسرائیل کی سی جاں فشانی سے نہیں لڑے گا‏، اِس لئے اُس نے ادومیوں کی صفوں کو چیرنے کی کوشش کی۔ جب اُس کی یہ چال ناکام ہو گئی تو اُس نے اپنے دیوتاؤں کی خوشنودی کے لئے شہر کی دیوار پر اپنے بیٹے کو قربان کر دیا۔ اِس کا یہ بھی مقصد تھا کہ اپنے آدمیوں کو تحریک دے کہ وہ جوش سے لڑیں۔ اِسرائیل اِنسانی قربانی کے اِس مکروہ فعل پر ششدر رہ گیا۔ شاید براہِ راست خدا کے کہنے سے یا اپنے ضمیر کی خلش کے تحت وہ موآب کو مطیع کئے بغیر واپس چلے گئے۔ ہیرلڈ سٹائیگرز (‏Harold Stigers)‏ یوں تشریح کرتا ہے:‏

’’یوں محسوس ہوتا ہے کہ گویا مصنف یہ سوال پوچھ رہا ہے:‏ اگر اِسرائیل اِس فعل سے اِتنا ہی متاثر ہوا تو اُس کو اپنی بت پرستی کا دُکھ کیوں نہ ہوا؟ لیکن اِسرائیل اور یہوداہ میں بت پرستی جاری رہی۔‘‘

مقدس کتاب

۱ اور شاہِ یہوداہ یہوسفط کے اٹھاریں برس سے اخی اب کا بیٹا یہورام سامریہ میں اسرائیل پر سلطنت کرنے لگا ۔ اور اُس نے بارہ سال سلطنت کی ۔
۲ اور اُس نے خُداوند کے آگے بدی کی پر اپنے باپ اور اپنی ماں کی طرح نہیں کیونکہ اُس نے بعل کے اُس ستون کو جو اُس کے باپ نے بنایا تھا دور کر دیا ۔
۳ تو بھی وہ نباط کے بیٹے یُربعا م کے گناہوں سے جن سے اُس نے اسرائیل سے گناہ کرایا تھا لکھتا رہا اور اُن سے کنارہ کشی نہ کی
۴ اور موآب کا بادشاہ میِسا بہت بھیڑ بکریاں رکھتا تھا اور اسرائیل کے بادشاہ کو ایک لاکھ بروں اور ایک لاکھ مینڈوں کی اُون دیتا تھا ۔
۵ لیکن جب اخی اب مر گیا تو شاہِ موآب اسرائیل کے بادشاہ سے باغی ہو گیا ۔
۶ اُس وقت یہورام بادشاہ نے سامریہ سے نکل کر سارے اسرائیل کی موجودات لی۔
۷ اور اُس نے جا کر شاہِ یہوداہ یہوسفط سے پچھوا بھیجا کہ شاہِ موآب مجھ سے باغی ہو گیا ہے ۔ سو کیا تُو موآب سے لڑنے کے لیے میرے ساتھ چلے گا ؟ اُس نے جواب دیا کہ میں چلوں گا کیونکہ جیسا میں ہوں ویسا ہی تُو ہے ۔ اور جیسے میرے لوگ ویسے ہی تیرے لوگ ۔ اور جیسے میرے گھوڑے ویسے ہی تیرے گھوڑے ہیں
۸ تب اُس نے پوچھا کہ ہم کس راہ سے جائیں ؟ اُس نے جواب دیا دشتِ ادوم کی راہ سے
۹ چنانچہ شاہِ اسرائیل اور شاہِ یہوداہ اور شاہِ ادوم نکلے اور اُنہوں نے سات دن کی منزل کا چکرکاٹا اور اُن کے لشکر اور چوپایوں کے لیے جو پیچھے پیچھے آتے تھے کہیں پانی نہ تھا ۔
۱۰ اور شاہ اسرائیل نے کہا افسوس ! کہ خُداوند نے اِن تین بادشاہوں کو اکٹھاکیا ہے تاکہ اُن کو شاہِ موآب کے حوالہ کر دے ۔
۱۱ لیکن یہوسفط نے کہا کہا خُداوند کے نبیوں میں سے کوئی یہاں نہیں ہے تاکہ اُس کے وسیلہ سے ہم خُداوند کی مرضی دریافت کریں ؟ اور شاہِ اسرائیل کے خادموں میں سے ایک نے جواب دیا کہ الیشع بن سافط یہاں ہے جو ایلیاہ کے ہاتھ پر پانی ڈالتا تھا
۱۲ یہوسفط نے کہا خُداوند کا کلام اُس کے ساتھ ہے سو شاہِ اسرائیل اور یہوسفط اور شاہِ ادوم اُس کے پاس گئے۔
۱۳ تب الیشع نے شاہِ اسرائیل سےکہا مجھ کو تُجھ سے کیا کام؟ تُو اپنے باپ کے نبیوں اور اپنی ماں کے نبیوں کے پاس جا پر شاہِ اسرائیل نے اُس سے کہا نہیں نہیں کیونکہ خُداوند نے اِن تینوں بادشاہوں کو اکٹھا کیا ہے تاکہ اُن کو موآب کے حوالہ کر دے ۔
۱۴ الیشع نے کہا رب الافواج کی حیات کی قسم جس کے آگے میں کھڑا ہوں اگر مجھے شاہِ یہوداہ یہوسفط کی حضوری کا پاس نہ ہوتا تو میں تیری طرف نظر بھی نہ کرتا اور نہ تجھے دیکھتا ۔
۱۵ لیکن خیر ! کسی بجانے والے کو میرے پاس لاو اور ایسا ہوا کہ جب اُس بجانے والے نے بجایا تو خُداوند کا ہاتھ اُس پر ٹھہرا ۔
۱۶ پس اُس نے کہا خُداوند یوں فرماتا ہے کہ اِس وادی میں خندق ہی خندق کھود ڈالو۔
۱۷ کیونکہ خُداوند یوں فرماتا ہے کہ تُم نہ ہوا آتی دیکھو گے اور نہ مینہ دیکھو گے تو بھی یہ وادی پانی سے بھر جائے گی ۔ اور تُم بھی پیو گے اور تمہارے مویشی اور تمہارے چوپائے بھی ۔
۱۸ اور یہ خُداوند کے لیے ایک ہلکی سی بات ہے وہ موآبیوں کو بھی تمہارے ہاتھ میں کر دے گا ۔
۱۹ تُم ہر فصیل دار شہر اور عمدہ شہر مار لو گے اور ہر اچھے درخت کو کاٹ ڈالو گے اور پانی کے سب چشموں کو بھر دو گے اور ہر اچھے کھیت کو پتھروں سے خراب کر دو گے ۔
۲۰ سو صبح کو قُربانی چڑھانے کے وقت ایسا ہوا کہ ادوم کی راہ سے پانی بہتا آیا اور وہ مُلک پانی سے بھر گیا ۔
۲۱ جب سب موآبیوں نے یہ سُنا کہ بادشاہوں نے اُن سے لڑنے کو چڑھائی کی ہے تو وہ سب جو ہتھیار باندھنے کے قابل تھے اور زیادہ عمر کے بھی اکٹھے ہو کر سرحد پر کھڑے ہو گئے۔
۲۲ اور وہ صبح سویرے اُٹھے اور سورج پانی پر چمک رہا تھا اور موآبیوں کو وہ پانی جو اُن کے مقابل تھا خون کی مانند سُرخ دکھائی دیا ۔
۲۳ سو وہ کہنے لگے یہ تو خُون ہے وہ بادشاہ یقینا ہلاک ہو گئے ہیں اور اُنہوں نے آپس میں ایک دوسرے کو مار لیا ہے سو اب اے موآب لوٹ کر چل ۔
۲۴ اور جب وہ اسرائیل کی لشکر گاہ میں آئے اسرایلیوں نے اُٹھ کر موآبیوں کو ایسا مارا کہ وہ اُن کے آگے سے بھاگے پر وہ آگے بڑھ کر موآبیوں کو مارتے مارتے اُن کے مُلک میں گھُس گئے۔
۲۵ اور اُنہوں نے شہروں کو مسمار کیا اور زمین کےہر اچھے قطعہ پر سبھوں نے ایک ایک پتھر ڈال کر اُسے بھر دیا ۔ اور اُنہوں نے پانی کے سب چشمے بند کر دیے اور سب اچھے درخت کاٹ ڈالے ۔ فقط قیر حراست ہی کے پتھروں کو باقی چھوڑا پر گو پیا چلانے والوں نے اُس کو بھی جا گھیرا اور مار ڈالا ۔
۲۶ جب شاہِ موآب نے دیکھا کہ جنگ اُس کے لیے نہایت سخت ہو گئی تو اُس نے سات سو شمشیر زن مرد اپنے ساتھ لیے تاکہ صف چیر کر شاہِ ادوم تک جا پڑے پر وہ ایسا نہ کر سکے ۔
۲۷ تب اُس نے اپنے پہلوٹھے بیٹے کو لیا جو اُس کی جگہ بادشاہ ہوتا اور اُسے دیوار پر سوختنی قُربانی کے طور پر گزرانا ۔ یوں اسرائیل پر قہرِ شدید ہوا سو وہ اُس کے پاس سے ہٹ گئے اور اپنے مُلک کو لوٹ آئے۔