یوحنا ۱۰

۱۰۔ اِختتامیہ:‏جی اُٹھا بیٹا اپنوں کے ساتھ  (‏باب ۲۱)‏

الف۔ یسوع گلیل میں اپنے شاگردوں پر ظاہر ہوتا ہے  (‏۲۱:‏۱-‏۱۴)‏

۲۱:‏۱ اب منظر بدلتا اور «تبریاس (‏گلیل)‏ کی جھیل» سامنے آتی ہے۔ شاگرد شمال کو سفر کر کے اپنے گھروں کو آ گئے تھے۔ خداوند یسوع وہاں اُن سے ملا۔ «اور اِس طرح ظاہر کیا۔» اِن الفاظ کا مطلب ہے کہ یوحنا وہ طریقہ بیان کرنے کو ہے جس سے مسیح نے خود کو ظاہر کیا۔

۲۱:‏۲ اِس موقعے پر سات شاگرد اِس جگہ «جمع تھے»۔ یعنی «پطرس،‏ توما،‏ نتن ایل،‏ زبدی کے بیٹے» (‏یعقوب اور یوحنا)‏ اور «دو اَور شخص»۔ آخری دو کے نام ہمیں معلوم نہیں۔

۲۱:‏۳ شمعون پطرس نے جھیل پر جا کر «مچھلی کے شکار» کا فیصلہ کیا۔ یہ معقول عمل معلوم ہوتا ہے۔ لیکن بائبل مقدس کے علما سمجھتے ہیں کہ یہ خدا کی مرضی کے مطابق نہیں تھا اور کہ وہ پہلے دعا کئے بغیر چلے گئے تھے۔ مگر اُنہوں نے «اُس رات کچھ نہ پکڑا»۔ یہ پہلی مرتبہ نہیں تھا کہ اُنہوں نے ساری رات مچھلیاں پکڑنے کی کوشش کی اور ناکام رہے! وہ اِنسانی محنت کے بے کار ہونے کی مثال پیش کرتے ہیں کہ اگر خدا کی مدد شاملِ حال نہ ہو تو اِنسان ناکام رہتا ہے۔ یہ مثال اِنسانوں کو جیتنے پر خاص صادق آتی ہے۔

۲۱:‏۴ صبح جب شاگرد کشتی کھیتے ہوئے «کنارے پر» آئے تو یسوع وہاں کھڑا اُن کا اِنتظار کر رہا تھا،‏ لیکن اُنہوں نے اُس کو «نہ پہچانا»۔ شاید ابھی بہت اندھیرا تھا یا خدا کی قدرت نے اُن کو اُسے پہچاننے سے روک دیا تھا۔

۲۱:‏۵ یہ ایسے ہی ہے جیسے خداوند نے کہا ہو کہ «نوجوانو! تمہارے پاس کچھ کھانے کو ہے؟» اُنہوں نے مایوسی سے جواب دیا کہ «نہیں»۔

۲۱:‏۶ جہاں تک شاگردوں کا تعلق تھا وہ اُسے اجنبی ہی سمجھ رہے تھے جو ساحل پر ٹہل رہا تھا۔ تو بھی اُس کی صلاح اور ہدایت کے مطابق اُنہوں نے «کشتی کی دہنی طرف جال» ڈالا اور دیکھو! «مچھلیوں کی کثرت!» اِتنی کہ وہ جال کو کھینچ کر کشتی میں نہ لا سکے۔ اِس سے ثابت ہوتا ہے کہ خداوند یسوع کو پورا پورا علم تھا کہ جھیل میں مچھلیاں کہاں ہیں۔ اور ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ جب یسوع کوئی خدمت کرنے کی ہدایت کرتا ہے تو جال خالی نہیں رہتے۔ وہ جانتا ہے کہ کہاں لوگ نجات پانے کو تیار ہیں۔ اور وہ ہماری اُن کی طرف راہنمائی کرنے کو تیار ہے — بشرط یہ کہ ہم اُسے موقع دیں۔

۲۱:‏۷ یوحنا پہلا شخص تھا جس نے «خداوند» کو پہچانا اور بلاتوقف پطرس کو بتایا۔ پطرس نے اپنا «کُرتہ کمر سے باندھا» اور جھیل میں کود کر ساحل کی طرف لپکا۔ یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ تیر رہا تھا یا پایاب پانی میں چل رہا تھا،‏ یا پانی پر چل کر گیا (‏بعض علما یہ رائے بھی رکھتے ہیں)‏۔

۲۱:‏۸ باقی شاگرد بڑی کشتی چھوڑ کر «چھوٹی کشتی پر سوار» ہوئے اور «جال کھینچتے ہوئے» ساحل تک باقی تین سو فٹ کا فاصلہ طے کیا۔

۲۱:‏۹ نجات دہندہ نے اُن کے لئے ناشتہ تیار کر رکھا تھا — بھنی ہوئی مچھلی اور روٹی۔ ہمیں بتایا نہیں گیا کہ خداوند نے یہ مچھلیاں شکار کی تھیں یا معجزانہ حاصل کی تھیں۔ لیکن ہم اِتنا ضرور سیکھتے ہیں کہ وہ ہماری کمزور کوششوں پر اِنحصار نہیں کرتا۔

بے شک ہم آسمان پر پہنچ کر جانیں گے کہ جہاں بہت سے لوگوں نے منادی اور شخصی گواہی سے نجات پائی وہاں بہت سے دوسرے لوگ بھی ہیں جن کو خداوند نے اِنسانی مدد کے بغیر خود ہی نجات بخشی۔

۲۱:‏۱۰ اب خداوند نے ہدایت کی کہ جال کو کھینچ لاؤ تاکہ مچھلیاں گن لی جائیں۔ ایسا کرنے سے شاگرد سیکھ جائیں گے کہ کامیابی کا راز اُس کے حکم کے مطابق عمل کرنے اور بے چوں و چرا اُس کے کلام کی فرماں برداری کرنے میں ہے۔

۲۱:‏۱۱ بائبل مقدس مچھلیوں کی صحیح صحیح تعداد بتاتی ہے — «ایک سو ترپن» — اِس تعداد کے مفہوم کے سلسلے میں کئی دلچسپ تشریحات پیش کی جاتی ہیں۔ (‏۱)‏ اُس زمانے کی دُنیا میں زبانوں کی تعداد! (‏۲)‏ دُنیا میں اُن نسلوں یا قبیلوں کی تعداد جن پر اِنجیل کا جال پھیلایا جائے گا۔ (‏۳)‏ گلیل کی جھیل یا دُنیا میں مچھلیوں کی مختلف اقسام کی تعداد — بے شک اِس میں اُن طرح طرح کے لوگوں کا بیان ہے جو اِنجیل کی منادی سے نجات پائیں گے — ہر قبیلہ اور ہر قوم میں سے بعض ہوں گے۔ ماہی گیر جانتے تھے کہ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ «جال نہ پھٹا»۔ یہ ایک اَور ثبوت ہے کہ «اگر خدا کا کام خدا کے طریقے سے کیا جائے تو خدا کے وسائل کی کبھی کمی نہ ہو گی»۔ وہ خیال رکھے گا کہ جال نہ پھٹے۔

۲۱:‏۱۲ خداوند اُن کو ناشتہ کرنے کی دعوت دیتا ہے «آؤ کھانا کھا لو»۔ اور شاگرد کوئلوں کی آگ کے گرد جمع ہو جاتے ہیں تاکہ اُن اچھی چیزوں میں شریک ہوں جو خداوند نے مہیا کی ہیں۔ پطرس نے کوئلوں کی آگ دیکھی تو اُس کے خیالات اپنی زندگی کی طرف پلٹ گئے ہوں گے۔ کیا اُسے وہ آگ یاد نہ آئی ہو گی جو وہ اُس وقت تاپ رہا تھا جب اپنے خداوند کا اِنکار کیا تھا؟ خداوند کی حضوری میں شاگردوں پر ایک ہیبت،‏ عقیدت اور سنجیدگی کا احساس چھا گیا۔ وہ اپنے جی اُٹھے بدن میں اُن کے سامنے کھڑا تھا۔ وہ خداوند سے کئی سوال پوچھنا چاہ رہے ہوں گے مگر ہمت نہ پڑتی تھی،‏ «وہ جانتے تھے کہ خداوند ہی ہے»۔

۲۱:‏۱۳ اب یسوع نے اُن کو ناشتہ دیا۔ «روٹی لے کر اُنہیں دی۔» غالباً اُن کو اِسی قسم کا ایک اَور موقع یاد آ گیا ہو گا جب اُس نے چند روٹیوں اور مچھلیوں سے پانچ ہزار کو سیر کیا تھا۔

۲۱:‏۱۴ یوحنا بیان کرتا ہے کہ خداوند «یہ تیسری بار اپنے شاگردوں پر ظاہر ہوا»۔ دوسری اِنجیلوں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اَور موقعوں پر بھی ظاہر ہوتا رہا۔ زیر نظر اِنجیل میں وہ جی اُٹھنے کی شام کو،‏ پھر اِس کے ایک ہفتہ بعد اور اب «تیسری بار» گلیل کی نیلگوں جھیل کے ساحل پر۔

ب۔ پطرس کی بحالی  (‏۲۱:‏۱۵-‏۱۷)‏

۲۱:‏۱۵ خداوند نے پہلے شاگردوں کی جسمانی ضروریات کا بندوبست کیا۔ جب وہ کھا پی چکے اور آگ تاپ کر گرم ہو چکے تو وہ پطرس سے مخاطب ہوا اور روحانی معاملات نمٹائے۔ پطرس نے خداوند کا تین بار علانیہ اِنکار کیا تھا۔ اِس کے بعد اُس نے توبہ کی۔ اور خداوند کے ساتھ اُس کی رفاقت بحال ہو گئی تھی۔ اِن آیات میں خداوند اُس کی بحالی کو علانیہ تسلیم کرتا ہے۔

اکثر توجہ دلائی جاتی ہے کہ اِن آیات میں «محبت» کے لئے دو مختلف لفظ استعمال ہوئے ہیں۔ ہم آیت ۱۵ کو آسان زبان میں یوں بیان کر سکتے ہیں:‏«اے شمعون! یوحنا کے بیٹے،‏ کیا تُو اِن سے زیادہ مجھ سے محبت رکھتا ہے؟» یعنی کیا میرے لئے تیری محبت اِن شاگردوں کی میرے لئے محبت سے زیادہ ہے؟» اُس نے اُس سے کہا،‏ «ہاں خداوند… مَیں تجھے عزیز رکھتا ہوں۔» اب پطرس کبھی یہ بڑ نہیں ہانکے گا کہ اگر سارے شاگرد تجھے چھوڑ جائیں تو بھی مَیں کبھی تیرا ساتھ نہیں چھوڑوں گا۔ اُس نے سبق سیکھ لیا ہے۔

«تُو میرے برّے چرا۔» مسیح سے محبت کے اِظہار کا ایک عملی طریقہ یہ ہے کہ اُس کے گلّے میں چھوٹے بچوں کو خوراک کھلائی جائے۔ بہت قابلِ غور اور دلچسپ بات ہے کہ گفتگو ماہی گیری سے گلّہ بانی کے موضوع پر آگئی۔ اوّل الذکر تبلیغی کام کی اور موخرالذکر تعلیم دینے اور پاسبانی کام کی ترجمانی کرتی ہے۔

۲۱:‏۱۶ خداوند نے «دوبارہ» پطرس سے پوچھا «کیا تُو مجھ سے محبت رکھتا ہے؟» پطرس نے دوسری دفعہ جواب دیا تو حقیقتاً اُسے اپنے آپ پر اعتماد کم ہوتا محسوس ہوا۔ «تُو تو جانتا ہی ہے کہ مَیں تجھ کو عزیز رکھتا ہوں۔» اِس دفعہ یسوع نے اُس سے کہا،‏ «تُو میری بھیڑوں کی گلّہ بانی کر»۔ خداوند کے گلے میں برّے بھی ہیں اور بھیڑیں بھی۔ اور اُن کو اُس شخص کی محبت بھری نگہداشت کی ضرورت ہے جو حقیقی چرواہے سے محبت رکھتا ہو۔

۲۱:‏۱۷ جس طرح پطرس نے تین بار خداوند کا اِنکار کیا تھا،‏ اِسی طرح اُس کو اِقرار کرنے کے لئے بھی تین موقعے دیئے گئے۔ اِس دفعہ پطرس نے اِس حقیقت کے سامنے فریاد کی کہ یسوع خدا ہے اور اِس لئے «سب کچھ جانتا ہے»۔ اُس نے تیسری دفعہ کہا،‏ «تجھے معلوم ہی ہے کہ مَیں تجھے عزیز رکھتا ہوں۔» اور اب آخری مرتبہ اُس سے کہا گیا کہ تُو اِس محبت کا ثبوت مسیح کی «بھیڑیں چرا» کر دے سکتا ہے۔ کلام کے اِس حصے میں اہم سبق یہ ہے کہ مسیح کی خدمت کا قابلِ قبول محرک صرف اُس سے محبت ہے۔

ج۔ یسوع پطرس کی موت کی نبوت کرتا ہے  (‏۲۱:‏۱۸-‏۲۳)‏

۲۱:‏۱۸ جب پطرس «جوان» تھا تو اُسے چلنے پھرنے اور حرکت کرنے کی آزادی تھی،‏ یعنی وہ سہولت اور آسانی سے سب کچھ کر سکتا تھا۔ وہ «جہاں چاہتا تھا پھرتا تھا»۔  مگر یہاں خداوند اُس کو بتاتا ہے کہ اپنی زندگی کے آخری ایام میں اُسے گرفتار کیا جائے گا،‏ باندھا جائے گا اور قتل کئے جانے کے لئے لے جایا جائے گا۔

۲۱:‏۱۹ یہاں آیت ۱۸ کی وضاحت کی گئی ہے۔ پطرس شہید کی موت مر کر «خدا کا جلال ظاہر کرے گا»۔ وہ جس نے خداوند کا اِنکار کیا تھا،‏ اُس کو ہمت،‏ جرأت اور توفیق عطا ہو گی کہ اُسی خداوند کے لئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرے۔ یہ آیت یاد دلاتی ہے کہ ہم اپنی زندگی اور موت دونوں سے خدا کا جلال ظاہر کر سکتے ہیں۔ اِس کے بعد یسوع نے کہا،‏ «میرے پیچھے ہو لے۔» معلوم ہوتا ہے کہ خداوند وہاں سے جانے لگا تھا۔

۲۱:‏۲۰ معلوم ہوتا ہے کہ پطرس خداوند کے پیچھے چلنے لگا اور پھر «مڑ کر» یوحنا کو بھی «پیچھے آتے دیکھا»۔یہاں یوحنا ذرا توقف کر کے اپنی شناخت کراتا ہے کہ وہ «شاگرد… جس سے یسوع محبت رکھتا تھا اور جس نے» فسح کے «کھانے کے وقت یسوع کے سینے کا سہارا لے کر پوچھا تھا کہ اے خداوند تیرا پکڑوانے والا کون ہے؟»

۲۱:‏۲۱ جب پطرس نے یوحنا کو دیکھا تو غالباً اُس کو خیال آیا کہ اُس کا «کیا حال ہو گا؟» کیا وہ بھی شہید کی موت مرے گا؟ یا جب خداوند دوبارہ آئے گا تو اُس وقت تک زندہ ہو گا؟ چنانچہ پطرس نے خداوند سے یوحنا کے مستقبل کے بارے میں پوچھا۔

۲۱:‏۲۲ خداوند کا جواب یہ تھا کہ پطرس کو یوحنا کے مستقبل سے واسطہ نہیں رکھنا چاہئے۔ اگر وہ مسیح کی دوسری آمد تک بھی زندہ رہے تو پطرس کو کیا فرق پڑے گا۔ مسیحی خدمت میں بہت سی ناکامیاں اِسی وجہ سے ہوتی ہیں کہ خداوند سے واسطہ رکھنے کے بجائے شاگرد ایک دوسرے کے معاملات سے زیادہ واسطہ رکھنے لگتے ہیں۔

۲۱:‏۲۳ خداوند کے الفاظ کو غلط انداز سے پیش کیا گیا تھا۔ اُس نے یہ «نہیں» کہا تھا کہ جب مَیں دوبارہ آؤں گا تو یوحنا ابھی زندہ ہو گا۔ اُس نے صرف اِتنا کہا تھا کہ اگر ایسا ہو بھی تو اِس کا پطرس پر کیا اثر پڑے گا؟ بہت سے علما اِس بات کو اہمیت دیتے ہیں کہ یسوع نے یوحنا کو اپنی دوسری آمد کے ساتھ منسلک کیا اور یوحنا کو اعزاز حاصل ہوا کہ اُس نے یسوع مسیح کا مکاشفہ لکھا جس میں آخری ایام کا تفصیل سے بیان ہے۔

د۔ یسوع کے بارے میں یوحنا کی اِختتامی گواہی  (‏۲۱:‏۲۴،‏۲۵)‏

۲۱:‏۲۴ یوحنا نے بہت سی باتیں لکھی ہیں۔ یہاں وہ اُن کی صحت کے بارے میں اپنی شخصی گواہی دیتا ہے۔ بعض علما اِس کو اِفسس کی کلیسیا کے بزرگوں کی طرف سے یوحنا کی اِنجیل کی تصدیق مانتے ہیں۔

۲۱:‏۲۵ ہمیں اِس آیت کو لفظی معنوں میں لینے میں کوئی تامل نہیں! یسوع خدا ہے،‏ اِس لئے لامحدود ہے۔ اُس کی باتوں کے مفہوم اور مطلب کی کوئی اِنتہا نہیں،‏ نہ اُس کے کاموں کی کوئی حد ہے۔ جب وہ اِس دُنیا میں تھا،‏ اُس وقت بھی ساری چیزوں — سورج،‏ چاند،‏ ستاروں کو سنبھالنے والا تھا۔ کون ہے جو اُن ساری باتوں کا بیان کر سکے جن کا تعلق کائنات کو حرکت میں رکھنے سے ہے؟ خداوند نے اِس دُنیا میں جو معجزے کئے،‏ اُن میں بھی صرف معمولی سا بیان موجود ہے۔ شفا دینے کے ایک سادہ سے فعل کو لیجئے۔ اِس میں کتنی نسوں،‏ کتنے رگ پٹھوں اور خون کے کتنے ذرّوں کو اُس نے کنٹرول کیا ہو گا۔ ذرا سوچیں کہ وہ کتنے جراثیم،‏ مچھلیوں اور جانوروں کی زندگی کا اہتمام و انصرام کرتا ہے۔ اِنسانوں کے معاملات میں اُس کی ہدایت و راہنمائی کے بارے میں غور کریں۔ ساری کائنات میں مادے کے ذرا ذرا حصے کی جوہری ساخت پر اُس کے کنٹرول پر غور کریں۔ اگر اِن کی لامحدود تفاصیل لکھی جائیں تو کیا اُن «کتابوں» کے لئے «دُنیا میں گنجائش» ہو گی؟ جواب ہے،‏ نہیں،‏ ہرگز نہیں۔

چنانچہ ہم یوحنا کی اِنجیل کی تفسیر کے اِختتام کو پہنچتے ہیں۔ شاید ہمیں احساس ہونے لگا ہو کہ یہ اِنجیل بائبل مقدس کا محبوب ترین حصہ کیوں ہے۔ یقینا اگر کوئی شخص اِس کو غور،‏ دھیان اور دعا کے ساتھ پڑھے تو ممکن نہیں کہ اُس ہستی کے لئے اُس کی محبت میں تازگی نہ آ جائے جس کا بیان یہ اِنجیل کرتی ہے۔

مقدس کتاب

۱- مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ جو کوئی دروازہ سے بھیڑ خانہ میں داخِل نہیں ہوتا بلکہ اَور کِسی طرف سے چڑھ جاتا ہے وہ چور اور ڈاکُو ہے۔
۲- لیکن جو دروازہ سے داخِل ہوتا ہے وہ بھیڑوں کا چَرواہا ہے۔
۳- اُس کے لِئے دربان دروازہ کھول دیتا ہے اور بھیڑیں اُس کی آواز سُنتی ہیں اور وہ اپنی بھیڑوں کو نام بنام بُلا کر باہر لے جاتا ہے۔
۴- جب وہ اپنی سب بھیڑوں کو باہر نِکال چُکتا ہے تو اُن کے آگے آگے چلتا ہے اور بھیڑیں اُس کے پِیچھے پِیچھے ہو لیتی ہیں کیونکہ وہ اُس کی آواز پہچانتی ہیں۔
۵- مگر وہ غَیر شخص کے پِیچھے نہ جائیں گی بلکہ اُس سے بھاگیں گی کیونکہ غَیروں کی آواز نہیں پہچانتِیں۔
۶- یِسُوعؔ نے اُن سے یہ تمثِیل کہی لیکن وہ نہ سمجھے کہ یہ کیا باتیں ہیں جو ہم سے کہتا ہے۔
۷- پس یِسُوعؔ نے اُن سے پِھر کہا مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ بھیڑوں کا دروازہ مَیں ہُوں۔
۸- جِتنے مُجھ سے پہلے آئے سب چور اور ڈاکُو ہیں مگر بھیڑوں نے اُن کی نہ سُنی۔
۹- دروازہ مَیں ہُوں۔ اگر کوئی مُجھ سے داخِل ہو تو نجات پائے گا اور اندر باہر آیا جایا کرے گا اور چارا پائے گا۔
۱۰- چور نہیں آتا مگر چُرانے اور مار ڈالنے اور ہلاک کرنے کو۔ مَیں اِس لِئے آیا کہ وہ زِندگی پائیں اور کثرت سے پائیں۔
۱۱- اچھّا چَرواہا مَیں ہُوں۔ اچھّا چَرواہا بھیڑوں کے لِئے اپنی جان دیتا ہے۔
۱۲- مزدُور جو نہ چَرواہا ہے نہ بھیڑوں کا مالِک۔ بھیڑئے کو آتے دیکھ کر بھیڑوں کو چھوڑ کر بھاگ جاتا ہے اور بھیڑیا اُن کو پکڑتا اور پراگندہ کرتا ہے۔
۱۳- وہ اِس لِئے بھاگ جاتا ہے کہ مزدُور ہے اور اُس کو بھیڑوں کی فِکر نہیں۔
۱۴- اچھّا چَرواہا مَیں ہُوں۔ جِس طرح باپ مُجھے جانتا ہے اور مَیں باپ کو جانتا ہُوں۔
۱۵- اِسی طرح مَیں اپنی بھیڑوں کو جانتا ہُوں اور میری بھیڑیں مُجھے جانتی ہیں اور مَیں بھیڑوں کے لِئے اپنی جان دیتا ہُوں۔
۱۶- اور میری اَور بھی بھیڑیں ہیں جو اِس بھیڑ خانہ کی نہیں۔ مُجھے اُن کو بھی لانا ضرُور ہے اور وہ میری آواز سُنیں گی۔ پِھر ایک ہی گلّہ اور ایک ہی چَرواہا ہو گا۔
۱۷- باپ مُجھ سے اِس لِئے مُحبّت رکھتا ہے کہ مَیں اپنی جان دیتا ہُوں تاکہ اُسے پِھر لے لُوں۔
۱۸- کوئی اُسے مُجھ سے چِھینتا نہیں بلکہ مَیں اُسے آپ ہی دیتا ہُوں۔ مُجھے اُس کے دینے کا بھی اِختیار ہے اور اُسے پِھر لینے کا بھی اِختیار ہے۔ یہ حُکم میرے باپ سے مُجھے مِلا۔
۱۹- اِن باتوں کے سَبَب سے یہُودِیوں میں پِھر اِختلاف ہُؤا۔
۲۰- اُن میں سے بُہتیرے تو کہنے لگے کہ اُس میں بدرُوح ہے اور وہ دِیوانہ ہے۔ تُم اُس کی کیوں سُنتے ہو؟
۲۱- اَوروں نے کہا یہ اَیسے شخص کی باتیں نہیں جِس میں بدرُوح ہو۔ کیا بدرُوح اندھوں کی آنکھیں کھول سکتی ہے؟
۲۲- یروشلِیم میں عِیدِ تجدِید ہُوئی اور جاڑے کا مَوسم تھا۔
۲۳- اور یِسُوعؔ ہَیکل کے اندر سُلیمؔانی برآمدہ میں ٹہل رہا تھا۔
۲۴- پس یہُودِیوں نے اُس کے گِرد جمع ہو کر اُس سے کہا تُو کب تک ہمارے دِل کو ڈانوانڈول رکھّے گا؟ اگر تُو مسِیح ہے تو ہم سے صاف کہہ دے۔
۲۵- یِسُوعؔ نے اُنہیں جواب دِیا کہ مَیں نے تو تُم سے کہہ دِیا مگر تُم یقِین نہیں کرتے۔ جو کام مَیں اپنے باپ کے نام سے کرتا ہُوں وُہی میرے گواہ ہیں۔
۲۶- لیکن تُم اِس لِئے یقِین نہیں کرتے کہ میری بھیڑوں میں سے نہیں ہو۔
۲۷- میری بھیڑیں میری آواز سُنتی ہیں اور مَیں اُنہیں جانتا ہُوں اور وہ میرے پِیچھے پِیچھے چلتی ہیں۔
۲۸- اور مَیں اُنہیں ہمیشہ کی زِندگی بخشتا ہُوں اور وہ ابد تک کبھی ہلاک نہ ہوں گی اور کوئی اُنہیں میرے ہاتھ سے چِھین نہ لے گا۔
۲۹- میرا باپ جِس نے مُجھے وہ دی ہیں سب سے بڑا ہے اور کوئی اُنہیں باپ کے ہاتھ سے نہیں چِھین سکتا۔
۳۰- مَیں اور باپ ایک ہیں۔
۳۱- یہُودِیوں نے اُسے سنگسار کرنے کے لِئے پِھر پتّھر اُٹھائے۔
۳۲- یِسُوعؔ نے اُنہیں جواب دِیا کہ مَیں نے تُم کو باپ کی طرف سے بُہتیرے اچھّے کام دِکھائے ہیں۔ اُن میں سے کِس کام کے سبب سے مُجھے سنگسار کرتے ہو؟
۳۳- یہُودِیوں نے اُسے جواب دِیا کہ اچھّے کام کے سبب سے نہیں بلکہ کُفر کے سبب سے تُجھے سنگسار کرتے ہیں اور اِس لِئے کہ تُو آدمی ہو کر اپنے آپ کو خُدا بناتا ہے۔
۳۴- یِسُوعؔ نے اُنہیں جواب دِیا کیا تُمہاری شرِیعت میں یہ نہیں لِکھا ہے کہ مَیں نے کہا تُم خُدا ہو؟
۳۵- جب کہ اُس نے اُنہیں خُدا کہا جِن کے پاس خُدا کا کلام آیا (اور کِتابِ مُقدّس کا باطِل ہونا مُمکِن نہیں)۔
۳۶- آیا تُم اُس شخص سے جِسے باپ نے مُقدّس کر کے دُنیا میں بھیجا کہتے ہو کہ تُو کُفر بکتا ہے اِس لِئے کہ مَیں نے کہا مَیں خُدا کا بیٹا ہُوں؟
۳۷- اگر مَیں اپنے باپ کے کام نہیں کرتا تو میرا یقِین نہ کرو۔
۳۸- لیکن اگر مَیں کرتا ہُوں تو گو میرا یقِین نہ کرو مگر اُن کاموں کا تو یقِین کرو تاکہ تُم جانو اور سمجھو کہ باپ مُجھ میں ہے اور مَیں باپ میں۔
۳۹- اُنہوں نے پِھر اُسے پکڑنے کی کوشِش کی لیکن وہ اُن کے ہاتھ سے نِکل گیا۔
۴۰- وہ پِھر یَردؔن کے پار اُس جگہ چلا گیا جہاں یُوحنّا پہلے بپتِسمہ دِیا کرتا تھا اور وہِیں رہا۔
۴۱- اور بُہتیرے اُس کے پاس آئے اور کہتے تھے کہ یُوحنّا نے کوئی مُعجِزہ نہیں دِکھایا مگر جو کُچھ یُوحنّا نے اِس کے حق میں کہا تھا وہ سچ تھا۔
۴۲- اور وہاں بُہتیرے اُس پر اِیمان لائے۔