یوحنا ۹

۹۔ خدا کے بیٹے کی فتح  (‏باب ۲۰)‏

الف۔ خالی قبر  (۰‏۲:‏۱-‏۱۰)‏

۲۰:‏۱ «ہفتہ کا پہلا دن» اتوار تھا۔ «مریم مگدلینی» پَو پھٹنے سے پہلے ہی «قبر پر آئی»۔ عین ممکن ہے کہ یہ قبر پہاڑ کے پہلو یا کھڑی چٹان میں کھدا ہوا ایک چھوٹا کمرا (‏کوٹھڑی)‏ تھا۔ «پتھر» بلاشبہ سِکے کی شکل کا تھا یعنی گول اور چپٹا۔ اور یہ قبر کے سامنے ایک جھری یا نالی میں فٹ آتا تھا۔ قبر کا منہ بند کرنے کے لئے اِسے لڑھکایا جا سکتا تھا۔ جب مریم وہاں پہنچی تو «پتھر» پہلے ہی «قبر سے ہٹا ہوا» تھا۔ جیسا کہ متی ۲۸ باب سے پتا چلتا ہے یہ بات مسیح کے جی اُٹھنے کے بعد ہوئی تھی۔

۲۰:‏۲ مریم فوراً بھاگی بھاگی پطرس اور یوحنا کے پاس گئی اور پھولی ہوئی سانس کے ساتھ اُن کو بتایا کہ خداوند کی لاش کو «قبر سے نکال لے گئے»۔ اُس نے یہ نہیں بتایا کہ یہ حرکت کس نے کی ہے۔ اُسے علم نہیں تھا۔ غور کریں کہ ہمارے خداوند کو صلیب دینے کے موقعے پر اور اُس کے جی اُٹھنے پر عورتیں کیسی وفادار اور جاں نثار رہیں۔ شاگرد تو یسوع کو اکیلا چھوڑ کر بھاگ گئے تھے لیکن عورتیں اپنی حفاظت کی پروا کئے بغیر وہاں پاس کھڑی رہی تھیں۔ یہ باتیں بہت پُرمعنی ہیں۔

۲۰:‏۳،‏۴ یہ کہنا مشکل ہے کہ جب پطرس اور یوحنا شہر سے نکل کر کلوری کے نزدیک باغ کی طرف دوڑے جا رہے تھے،‏ تو کیا سوچ رہے تھے۔ یوحنا غالباً پطرس سے جوان تھا۔ اِس لئے «قبر پر پہلے پہنچا»۔

۲۰:‏۵ عین ممکن ہے کہ کسی کو قبر کے اندر داخل ہونے یا جھانکنے کے لئے جھکنا پڑتا تھا۔ یوحنا نے «سوتی کپڑے پڑے ہوئے دیکھے»۔ کیا وہ لاش پر سے کھول دیئے گئے تھے یا اُسی شکل میں تھے جیسے لاش پر لپیٹے گئے تھے؟ ہمارا خیال ہے کہ دوسری بات درست ہے۔ مگر یوحنا قبر کے «اندر نہ گیا»۔

۲۰:‏۶،‏۷ اب تک پطرس وہاں پہنچ گیا۔ اور وہ بلا تامل قبر کے اندر داخل ہو گیا۔ اُس کے اضطراری انداز میں کوئی بات ہے کہ ہم اُس کے ساتھ گہرا تعلق محسوس کرتے ہیں۔ اُس نے بھی «سوتی کپڑے پڑے»ہوئے دیکھے۔ لیکن نجات دہندہ کی لاش وہاں نہ تھی۔

«رُومال» کے بارے میں تفصیل یہ ثابت کرتی ہے کہ خداوند وہاں سے بہت قرینے اور تسلی سے نکلا تھا۔ اگر کسی نے لاش چرائی ہوتی،‏ تو چور احتیاط سے رومال کو نہ لپیٹتا۔

۲۰:‏۸ یوحنا قبر میں داخل ہوا اور اُس نے «دیکھا» کہ سوتی کپڑے اور رومال قرینے اور ترتیب کے ساتھ پڑے ہیں۔ مگر جب یہ کہا گیا ہے کہ «اُس نے دیکھ کر یقین کیا» تو اِس کا مطلب جسمانی منظر اور دیکھنے سے کہیں بڑھ کر ہے۔ مطلب ہے کہ وہ معاملے کی تہہ تک پہنچ گیا۔ اُس کے سامنے مسیح کے جی اُٹھنے کی شہادتیں پڑی تھیں۔ وہ دکھا رہی تھیں کہ کیا ہوا ہے «اور اُس نے… یقین کیا»۔

۲۰:‏۹ اب تک شاگرد پرانے عہدنامے کے «نوشتہ» کو پورے طور پر نہیں سمجھتے تھے جس میں بیان ہوا ہے کہ مسیحِ موعود کا «مردوں میں سے جی اُٹھنا ضرور تھا»۔ خداوند نے خود اُن کو بار بار بتایا تھا لیکن وہ نہیں سمجھے تھے۔ یوحنا پہلا شخص تھا جو اِس نوشتے کو سمجھا۔

۲۰:‏۱۰ «پس یہ شاگرد» جہاں ٹھہرے ہوئے تھے اُس جگہ «واپس گئے»۔ غالباً یہ جگہ یروشلیم میں تھی۔ بلاشبہ وہ اِس نتیجے پر پہنچے تھے کہ قبر کے قریب ٹھہرنے اور اِنتظار کرنے کا کچھ فائدہ نہیں۔ بہتر ہے کہ جو کچھ دیکھا ہے جا کر اُس کی خبر دوسرے شاگردوں کو بھی دی جائے۔

ب۔ مریم مگدلینی پر ظاہر ہونا  (۰‏۲:‏۱۱-‏۱۸)‏

۲۰:‏۱۱ اِس آیت کے پہلے دو لفظ بہت عجیب اور جاذبِ توجہ ہیں کہ «لیکن مریم…» دوسرے دونوں شاگرد گھر کو چلے گئے۔ «لیکن مریم…۔» یہاں بھی ہمیں ایک عورت کی محبت اور عقیدت اور جاں نثاری نظر آتی ہے۔ اُس کو بہت سے گناہوں سے معافی ملی تھی۔ وہ بہت محبت رکھتی تھی۔ وہ اکیلی قبر کی نگرانی کرتی رہی اور روتی رہی،‏ کیونکہ اُس کے خیال کے مطابق شاید خداوند کے دشمن اُس کی لاش چرا لے گئے تھے۔

۲۰:‏۱۲ اِس مرتبہ جب اُس نے قبر کے اندر جھانکا «تو دو فرشتوں کو… بیٹھے دیکھا»۔ وہ اُس جگہ تعینات تھے «جہاں یسوع کی لاش پڑی تھی۔» قابلِ غور بات ہے کہ یہ زبردست واقعات اور حقائق کیسے سکون کے ساتھ اور غیر جذباتی انداز میں بیان کئے گئے ہیں۔

۲۰:‏۱۳ لگتا ہے کہ مریم کو کوئی حیرت یا خوف نہیں ہوا۔ اُس نے اُن کے سوالوں کے جواب یوں دیئے جیسے یہ کوئی معمول کا تجربہ ہو۔ اُس کے جواب سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اُس کو ابھی تک احساس اور خیال نہیں کہ یسوع جی اُٹھا ہے۔

۲۰:‏۱۴ اِس موقعے پر وہ کسی وجہ سے «پیچھے پھری»۔ یسوع خود وہاں موجود تھا۔ لیکن مریم نے اُس کو نہ پہچانا۔ ابھی صبح سویرے کا وقت تھا۔ شاید ابھی سپیدۂ سحر نمودار نہیں ہوا تھا۔ وہ مسلسل رو رہی تھی۔ اور بے شک اُس کی نظر دُھندلائی ہوئی ہو گی۔ اور ممکن ہے کہ خدا نے اُسے یسوع کو پہچاننے سے روک دیا ہو تاکہ مناسب وقت پر اُسے پہچانے۔

۲۰:‏۱۵ خداوند اِن سوالوں کے جواب جانتا تھا۔ لیکن وہ مریم کے اپنے منہ سے سننا چاہتا تھا۔ اُس نے یسوع کو «باغبان سمجھا»۔ دُنیا کا نجات دہندہ اِنسانوں کے بہت قریب ہو تو بھی عین ممکن ہے کہ وہ اُس کو نہ پہچانیں۔ وہ اکثر کمتر رُوپ میں آتا ہے۔ دُنیا کے بڑے لوگوں کی طرح نہیں آتا۔ جواب دیتے ہوئے مریم نے خداوند کا نام نہیں لیا۔ تین دفعہ وہ یسوع کے لئے «اُس کو / اُسے» کہتی ہے۔ اُس کا دھیان اور فکر صرف ایک ہستی کی طرف تھی۔ وہ اُس کی مزید شناخت کرنا غیر ضروری سمجھتی ہے۔

۲۰:‏۱۶ اب مریم کو ایک مانوس آواز سنائی دی جو اُس کا نام لے کر اُسے بلا رہی تھی۔ اِس حقیقت میں غلط فہمی کی کوئی گنجائش نہ تھی۔ وہ «یسوع» تھا۔ مریم نے اُس کو «ربونی» کہہ کر مخاطب کیا۔ اِس کا مطلب ہے «میرے عظیم اُستاد»۔ دراصل وہ اب بھی اُسے وہی عظیم اُستاد سمجھتی تھی جس کو وہ جانتی تھی۔ اُسے شعور نہ تھا کہ اب وہ میرے اُستاد سے بڑھ کر ہستی ہے۔ کہ اب وہ میرا خداوند اور نجات دہندہ ہے۔ چنانچہ یسوع نے اپنے آپ کو اُس پر واضح کرنے کی تیاری کی تاکہ وہ اُس نئے اور بھرپور طریقے کو سمجھ سکے جس کے مطابق اب سے خداوند کو جانے گی۔

۲۰:‏۱۷ مریم نے اب تک یسوع کو اِنسان جانا تھا۔ اُس نے اُس وقت معجزے ہوتے دیکھے تھے جب وہ بدنی طور پر موجود ہوتا تھا۔ چنانچہ وہ اِس نتیجے پر پہنچی تھی کہ اگر وہ دیدنی طور پر میرے پاس نہیں تو میرے لئے برکت کی کوئی اُمید نہیں۔ ضرور تھا کہ خداوند اُس کی سوچ کو درست کرتا۔ چنانچہ وہ اُس سے کہنے لگا «مجھے نہ چھو۔» یعنی مجھے اُس اِنسان کی مانند نہ چھو جو جسم میں ہے۔ «مَیں اَب تک باپ کے پاس اُوپر نہیں گیا۔» جب مَیں آسمان پر چلا جاؤں گا تو روح القدس زمین پر بھیجا جائے گا۔ جب وہ آئے گا تو مجھ کو تمہارے دل پر اِس طرح ظاہر کرے گا جیسے تُو نے مجھے پہلے کبھی نہیں جانا۔ مَیں تیرے بہت قریب ہوں گا اور تجھے بہت عزیز ہوں گا،‏ اِتنا کہ اِس دُنیا کی زندگی میں کبھی ممکن نہیں ہوا تھا۔

اب خداوند نے اُسے کہا کہ «میرے بھائیوں کے پاس جا کر» اُس نئے نظام کی خبر دے جس کا آغاز ہو چکا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ خداوند نے شاگردوں کو «میرے بھائی» کہا تاکہ وہ جان لیں کہ مسیح کا باپ ہمارا باپ ہے اور اُس کا خدا ہمارا خدا ہے۔ اِس وقت سے پہلے ایمان داروں کو «فرزند» اور «خدا کے وارث» نہیں بنایا گیا تھا۔ اب بن گئے۔

خداوند یسوع نے یہ نہیں کہا کہ «ہمارے باپ…» بلکہ یہ کہا،‏ «اپنے باپ اور تمہارے باپ…» اِس کی وجہ یہ ہے کہ خدا جس مفہوم میں اُس کا باپ ہے،‏ اِس سے فرق مفہوم میں ہمارا باپ ہے۔ خدا ازل سے خداوند یسوع کا «باپ» ہے۔ مسیح ازل سے بیٹا ہے۔ ہم لے پالک ہونے سے خدا کے فرزند ہیں۔ یہ رِشتہ اُس وقت شروع ہوتا ہے جب ہم نجات پاتے ہیں،‏ اور کبھی ختم نہیں ہو گا۔ خدا کے فرزند ہوتے ہوئے ہم خدا کے برابر نہیں،‏ نہ کبھی ہوں گے۔

۲۰:‏۱۸ مریم مگدلینی کو جو ذمہ داری سونپی گئی تھی،‏ اُس نے اُس کو پورا کیا اور بقول کسے «رسولوں کی رسول» بن گئی۔ کیا اِس میں کوئی شک ہے کہ اُس کو یہ بڑا اِعزاز مسیح کے ساتھ اُس کی عقیدت اور جاں نثاری کے اَجر کے طور پر ملا؟

ج۔ شاگردوں پر ظاہر ہونا  (‏۲۰:‏۱۹-‏۲۳)‏

۲۰:‏۱۹ اب اتوار کی «شام» تھی۔ شاگرد ایک جگہ جمع تھے۔ شاید اُس بالاخانے میں تھے جہاں تین راتیں پیشتر جمع تھے۔ «دروازے… یہودیوں کے ڈر سے بند تھے۔» اچانک اُنہوں نے یسوع کو اپنے «بیچ میں» کھڑا دیکھا اور اُس کی آواز سنی۔ وہ کہہ رہا تھا «تمہاری سلامتی ہو!» صاف معلوم ہوتا ہے کہ خداوند دروازہ کھولے بغیر اندر داخل ہو گیا تھا۔ یاد رکھنا چاہئے کہ خداوند کا جی اُٹھا بدن ہڈیوں اور گوشت کا اصلی بدن تھا۔ لیکن اُس کو رُکاوٹوں میں سے گزر جانے اور طبعی قوانین سے ہٹ کر عمل کرنے کی قدرت تھی۔ «تمہاری سلامتی ہو»! اب یہ الفاظ نئے معانی رکھتے ہیں۔ اِس لئے کہ مسیح نے اپنی صلیبی موت سے اِن الفاظ کو نئے معانی دیئے ہیں۔ جو ایمان سے راست باز ٹھہرائے گئے ہیں،‏ اُن کی خدا کے ساتھ صلح ہے۔

۲۰:‏۲۰ شاگردوں کے لئے سلامتی کا اعلان کرنے کے بعد خداوند نے اپنے دُکھوں کے نشان اُن کو دِکھائے۔ اِن نشانوں کے وسیلے سے «سلامتی» حاصل کی گئی تھی۔ اُنہوں نے کیلوں اور بھالے کے نشان دیکھے۔ یہ جان کر اُن کے دل خوشی سے بھر گئے کہ یہ واقعی «خداوند» ہے۔ اُس نے جیسا کہا تھا ویسا کر دکھایا تھا۔ وہ مُردوں میں سے جی اُٹھا تھا۔ جی اُٹھا خداوند مسیحی خوشی اور شادمانی کا سرچشمہ ہے۔

۲۰:‏۲۱ یہ آیت نہایت ہی خوبصورت اور دلکش ہے۔ ایمان دار اُس کی سلامتی سے خود غرضی کے ساتھ شادمان اور لطف اندوز نہیں ہو سکتے۔ اُنہیں دوسروں کو بھی اِس میں شریک کرنا ہے۔ چنانچہ وہ اُن کو دُنیا میں بھیجتا ہے:‏«جس طرح باپ نے مجھے بھیجا ہے اُسی طرح مَیں بھی تمہیں بھیجتا ہوں۔»

مسیح اِس دُنیا میں ایک غریب شخص بن کر آیا۔
وہ خادم بن کر آیا۔
اُس نے اپنے آپ کو خالی کر دیا۔
وہ خدا کی مرضی پوری کر کے خوش ہوتا تھا۔
اُس نے اپنے آپ کو اِنسان کے مشابہ بنا لیا۔
وہ نیکی اور بھلائی کرتا پھرا۔
وہ ہر کام روح القدس کی قدرت سے کرتا تھا۔
اُس کا نصب العین صلیب تھی۔

اُس نے شاگردوں سے کہا،‏ «مَیں بھی تمہیں بھیجتا ہوں۔»

۲۰:‏۲۲ پوری انجیل میں یہ سب سے مشکل آیت ہے۔ لکھا ہے کہ مسیح نے «اُن پر پھونکا» اور اُن سے کہا،‏ «روح القدس لو۔» مشکل یہ ہے کہ روح القدس تو بعد میں پنتکست کے دن دیا گیا۔ لیکن اِس واقعے کے فوری وقوع پذیر ہوئے بغیر خداوند یہ الفاظ کس طرح کہہ سکتا ہے؟

کئی تشریحات پیش کی گئی ہیں:‏(‏۱)‏ بعض علما کہتے ہیں کہ خداوند صرف اُس بات کا وعدہ کر رہا تھا جو بعد میں پنتکست کے دن ہونی تھی۔ یہ کوئی تسلی بخش تشریح نہیں۔ (‏۲)‏ بعض علما کہتے ہیں کہ نجات دہندہ نے دراصل یہ کہا تھا کہ «روح القدس لو»۔ یہ نہیں کہ «وہ خاص روح القدس لو»۔ وہ یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ اُس وقت شاگردوں کو خاص روح القدس پوری بھرپوری سے نہیں ملا تھا بلکہ روح کی کچھ خدمت حاصل ہوئی تھی،‏ مثلاً سچائی کا زیادہ عرفان،‏ یا اپنے مشن کے لئے ہدایت اور راہنمائی۔ وہ کہتے ہیں کہ شاگردوں کو روح القدس کی ضمانت یا کچھ قبل از وقت مزہ حاصل ہوا۔ (‏۳)‏ دوسرے علما کہتے ہیں کہ اُس وقت شاگردوں پر روح القدس پورے طور پر اُنڈیلا گیا۔ یہ بات لوقا ۲۴:‏۴۹ اور اعمال ۱:‏۴،‏۵،‏ ۸ جیسے بیانات کی روشنی میں غیر ممکن معلوم ہوتی ہے۔ اِن بیانات میں روح القدس کا ذکر تاحال مستقبل کے پیرایہ میں کیا گیا ہے۔ یوحنا ۷:‏۳۹ سے صاف ظاہر ہے کہ روح القدس اُس وقت تک اپنی پوری بھرپوری کے ساتھ نہیں آ سکتا تھا جب تک یسوع جلال نہ پا لیتا یعنی آسمان پر واپس نہ چلا جاتا۔

۲۰:‏۲۳ یہ ایک اَور مشکل آیت ہے جس کے متعلق بہت زیادہ اِختلافِ رائے پایا جاتا ہے:‏(‏۱)‏ ایک نظریہ تو یہ ہے کہ یسوع نے اپنے شاگردوں (‏اور اُن کے مفروضہ جانشینوں)‏ کو گناہ معاف کرنے یا قائم رکھنے کا «اِختیار» دیا۔ یہ بات بائبل مقدس کی اِس تعلیم کے قطعی خلاف ہے کہ صرف خدا ہی گناہ معاف کر سکتا ہے (‏لوقا ۵:‏۲۱)‏۔ (‏۲)‏ گیبلین (‏Gaebelein)‏ ایک اَور نظریے کا اِقتباس کرتا ہے:‏«جس طاقت کا وعدہ کیا گیا اور جو اِختیار دیا گیا اُس کا تعلق اِنجیل کی منادی کرنے اور اُن شرائط کا اِعلان کرنے سے ہے جن کے مطابق گناہ معاف کئے جائیں گے۔ اور اگر اِن شرائط کو قبول نہ کیا گیا تو گناہ قائم رہیں گے۔» (‏۳)‏ تیسرا نظریہ (‏جو دوسرے نظریے سے ملتا ہے)‏ جس کو ہم قبول کرتے ہیں،‏ یہ ہے کہ شاگردوں کو حق دیا گیا کہ گناہوں کی معافی کا اِعلان کریں۔

آیئے ہم اِس تیسرے نظریے کی مثال دیں۔ شاگرد باہر جا کر اِنجیل کی منادی کرتے ہیں۔ بعض لوگ اپنے گناہوں سے توبہ کرتے اور خداوند یسوع کو قبول کرتے ہیں۔ شاگردوں کو یہ اِختیار دیا گیا کہ اُن کو بتائیں کہ «تمہارے گناہ بخشے گئے ہیں»۔ دوسرے لوگ توبہ نہیں کریں گے اور مسیح پر ایمان نہیں لائیں گے۔ شاگرد اُن کو بتاتے ہیں کہ تم ابھی تک اپنے گناہوں میں ہو اور اگر ایسی حالت میں مرو گے تو ابدی ہلاکت میں پڑو گے۔

اِس تشریح کے ساتھ ساتھ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ بعض گناہوں کے سلسلے میں خداوند نے شاگردوں کو خصوصی اِختیار دیا۔ مثلاً اعمال ۵:‏۱-‏۱۱ میں پطرس نے اپنے اِس اِختیار کو استعمال کیا جس کے نتیجے میں حننیاہ اور سفیرہ کی موت واقع ہو گئی۔ پولس نے ایک شرارتی کے گناہ قائم رکھے تھے (‏دیکھئے ۱۔کرنتھیوں ۵:‏۳-‏۵،‏ ۱۲،‏ ۱۳)‏ اور ایک آدمی کے گناہ معاف کئے تھے (‏دیکھئے ۲۔کرنتھیوں ۲:‏۴-‏۸)‏۔ اِن واقعات میں اِسی زندگی میں گناہوں کی سزا سے معافی ہے۔

د۔ شک ایمان میں تبدیل ہوتا ہے  (‏۲۰:‏۲۴-‏۲۹)‏

۲۰:‏۲۴ ہمیں یہ نتیجہ اخذ نہیں کرنا چاہئے کہ توما اُس وقت غیر حاضر ہونے کے باعث موردِ الزام ہے۔ اُس کی غیر حاضری کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔

۲۰:‏۲۵ البتہ یقین نہ کرنے کے لئے توما کو الزام دیا جا سکتا ہے۔ وہ خداوند کے جی اُٹھنے کا دیدنی اور ٹھوس ثبوت چاہتا ہے،‏ ورنہ «ہرگز یقین نہ» کرے گا۔ آج بھی بہت سے لوگوں کا رویہ ایسا ہی ہے مگر یہ کوئی معقول بات نہیں۔ سائنس دان بھی بہت سی ایسی چیزوں پر یقین رکھتے ہیں جن کو نہ دیکھ سکتے ہیں نہ چھو سکتے ہیں۔

۲۰:‏۲۶ ایک ہفتہ بعد خداوند اپنے شاگردوں پر دوبارہ ظاہر ہوا۔ اِس دفعہ «توما اُن کے ساتھ تھا»۔ اِس دفعہ بھی یسوع کمرے میں معجزانہ داخل ہوا اور «تمہاری سلامتی ہو» کہتے ہوئے اُن کو سلام کیا۔

۲۰:‏۲۷ خداوند نے بے اعتقاد شاگرد کے ساتھ بہت نرمی اور صبر کے ساتھ سلوک کیا۔ اُس نے توما کو دعوت دی کہ «اپنا ہاتھ… میری پسلی میں ڈال» کر میرے جی اُٹھنے کی حقیقت کی تسلی کر لے۔

۲۰:‏۲۸ توما قائل ہو گیا۔ ہم نہیں جانتے کہ کیا اُس نے اپنا ہاتھ واقعی خداوند کی پسلی میں ڈالا یا نہیں۔ لیکن آخر وہ جان گیا کہ یسوع جی اُٹھا ہے اور کہ وہ «خداوند» اور «خدا» ہے۔ جان بوائز کیا عمدہ بات کہتا ہے کہ «اُس نے زخموں کو دیکھ کر اُس الوہیت کا اقرار کیا جس کو دیکھ نہیں سکتا تھا۔»

۲۰:‏۲۹ یہاں غور کرنے کی اہم بات یہ ہے کہ یسوع نے پرستش کو قبول کیا کہ وہ خدا ہے۔ اگر وہ صرف اِنسان ہوتا تو قبول نہ کرتا۔ لیکن توما کا ایمان اُس قسم کا ایمان نہ تھا جس سے خداوند بہت خوش ہوتا۔ زیادہ «مبارک وہ ہیں جو بغیر دیکھے ایمان لائے»۔

پختہ ترین شہادت خدا کا کلام ہے۔ اگر خدا کچھ کہتا ہے تو ہم اُس کا یقین کر کے خدا کو عزت دیتے ہیں۔ لیکن اگر اضافی شہادت طلب کرتے ہیں تو خدا کی بے عزتی کرتے ہیں۔ ہمیں صرف اِس لئے یقین کر لینا چاہئے کہ یہ بات خدا نے فرمائی ہے۔ وہ جھوٹ نہیں بول سکتا۔ نہ اُس کو غلط فہمی ہو سکتی ہے۔

ہ۔ یوحنا کی انجیل کا مقصد  (‏۲۰:‏۳۰،‏۳۱)‏

خداوند یسوع مسیح نے جتنے معجزے کئے وہ سارے یوحنا کی اِنجیل میں مرقوم نہیں۔ روح القدس نے وہ نشان چن لئے جو اُس کے مقصد کو بہترین طور پر پورا کریں۔

یہاں یوحنا یہ اِنجیل قلم بند کرنے کا مقصد بیان کرتا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اُس کے قارئین «ایمان لائیں کہ یسوع ہی خدا کا بیٹا مسیح ہے» یعنی حقیقی مسیحِ موعود ہے «اور ایمان لا کر اُس کے نام سے زندگی پائیں»۔

کیا آپ ایمان لائے ہیں؟

مقدس کتاب

۱- پِھر اُس نے جاتے وقت ایک شخص کو دیکھا جو جَنم کا اَندھا تھا۔
۲- اور اُس کے شاگِردوں نے اُس سے پُوچھا کہ اَے ربیّ! کِس نے گُناہ کِیا تھا جو یہ اندھا پَیدا ہُؤا۔ اِس شخص نے یا اِس کے ماں باپ نے؟
۳- یِسُوعؔ نے جواب دِیا کہ نہ اِس نے گُناہ کِیا تھا نہ اِس کے ماں باپ نے بلکہ یہ اِس لِئے ہُؤا کہ خُدا کے کام اُس میں ظاہِر ہوں۔
۴- جِس نے مُجھے بھیجا ہے ہمیں اُس کے کام دِن ہی دِن کو کرنا ضرُور ہے۔ وہ رات آنے والی ہے جِس میں کوئی شخص کام نہیں کر سکتا۔
۵- جب تک مَیں دُنیا میں ہُوں دُنیا کا نُور ہُوں۔
۶- یہ کہہ کر اُس نے زمِین پر تُھوکا اور تُھوک سے مِٹّی سانی اور وہ مِٹّی اندھے کی آنکھوں پر لگا کر۔
۷- اُس سے کہا جا شِیلوؔخ (جِس کا تَرجُمہ ”بھیجا ہُؤا“ ہے) کے حَوض میں دھو لے۔ پس اُس نے جا کر دھویا اور بِینا ہو کر واپس آیا۔
۸- پس پڑوسی اور جِن جِن لوگوں نے پہلے اُس کو بِھیک مانگتے دیکھا تھا کہنے لگے کیا یہ وہ نہیں جو بَیٹھا بِھیک مانگا کرتا تھا؟
۹- بعض نے کہا یہ وُہی ہے اَوروں نے کہا نہیں لیکن کوئی اُس کا ہم شکل ہے۔ اُس نے کہا مَیں وُہی ہُوں۔
۱۰- پس وہ اُس سے کہنے لگے پِھر تیری آنکھیں کیوں کر کُھل گئِیں؟
۱۱- اُس نے جواب دِیا کہ اُس شخص نے جِس کا نام یِسُوعؔ ہے مِٹّی سانی اور میری آنکھوں پر لگا کر مُجھ سے کہا شِیلوؔخ میں جا کر دھو لے۔ پس مَیں گیا اور دھو کر بِینا ہو گیا۔
۱۲- اُنہوں نے اُس سے کہا وہ کہاں ہے؟ اُس نے کہا مَیں نہیں جانتا۔
۱۳- لوگ اُس شخص کو جو پہلے اندھا تھا فرِیسِیوں کے پاس لے گئے۔
۱۴- اور جِس روز یِسُوعؔ نے مِٹّی سان کر اُس کی آنکھیں کھولی تِھیں وہ سَبت کا دِن تھا۔
۱۵- پِھر فرِیسِیوں نے بھی اُس سے پُوچھا تُو کِس طرح بِینا ہُؤا؟ اُس نے اُن سے کہا اُس نے میری آنکھوں پر مِٹّی لگائی۔ پِھر مَیں نے دھو لِیا اور اب بِینا ہُوں۔
۱۶- پس بعض فرِیسی کہنے لگے یہ آدمی خُدا کی طرف سے نہیں کیونکہ سَبت کے دِن کو نہیں مانتا مگر بعض نے کہا کہ گُنہگار آدمی کیونکر اَیسے مُعجِزے دِکھا سکتا ہے؟ پس اُن میں اِختلاف ہُؤا۔
۱۷- اُنہوں نے پِھر اُس اندھے سے کہا کہ اُس نے جو تیری آنکھیں کھولِیں تُو اُس کے حق میں کیا کہتا ہے؟ اُس نے کہا وہ نبی ہے۔
۱۸- لیکن یہُودِیوں کو یقِین نہ آیا کہ یہ اندھا تھا اور بِینا ہو گیا ہے۔ جب تک اُنہوں نے اُس کے ماں باپ کو جو بِینا ہو گیا تھا بُلا کر۔
۱۹- اُن سے نہ پُوچھ لِیا کہ کیا یہ تُمہارا بیٹا ہے جِسے تُم کہتے ہو کہ اندھا پَیدا ہُؤا تھا؟ پِھر وہ اب کیوں کر دیکھتا ہے؟
۲۰- اُس کے ماں باپ نے جواب میں کہا ہم جانتے ہیں کہ یہ ہمارا بیٹا ہے اور اندھا پَیدا ہُؤا تھا۔
۲۱- لیکن یہ ہم نہیں جانتے کہ اب وہ کیونکر دیکھتا ہے اور نہ یہ جانتے ہیں کہ کِس نے اُس کی آنکھیں کھولِیں۔ وہ تو بالِغ ہے۔ اُسی سے پُوچھو۔ وہ اپنا حال آپ کہہ دے گا۔
۲۲- یہ اُس کے ماں باپ نے یہُودِیوں کے ڈر سے کہا کیونکہ یہُودی ایکا کر چُکے تھے کہ اگر کوئی اُس کے مسِیح ہونے کا اِقرار کرے تو عِبادت خانہ سے خارِج کِیا جائے۔
۲۳- اِس واسطے اُس کے ماں باپ نے کہا کہ وہ بالِغ ہے اُسی سے پُوچھو۔
۲۴- پس اُنہوں نے اُس شخص کو جو اندھا تھا دوبارہ بُلا کر کہا کہ خُدا کی تمجِید کر۔ ہم تو جانتے ہیں کہ یہ آدمی گُنہگار ہے۔
۲۵- اُس نے جواب دِیا مَیں نہیں جانتا کہ وہ گُنہگار ہے یا نہیں۔ ایک بات جانتا ہُوں کہ مَیں اندھا تھا۔ اب بِینا ہُوں۔
۲۶- پِھر اُنہوں نے اُس سے کہا کہ اُس نے تیرے ساتھ کیا کِیا؟ کِس طرح تیری آنکھیں کھولِیں؟
۲۷- اُس نے اُنہیں جواب دِیا مَیں تو تُم سے کہہ چُکا اور تُم نے نہ سُنا۔ دوبارہ کیوں سُننا چاہتے ہو؟ کیا تُم بھی اُس کے شاگِرد ہونا چاہتے ہو؟
۲۸- وہ اُسے بُرا بھلا کہہ کر کہنے لگے کہ تُو ہی اُس کا شاگِرد ہے۔ ہم تو مُوسیٰ کے شاگِرد ہیں۔
۲۹- ہم جانتے ہیں کہ خُدا نے مُوسیٰ کے ساتھ کلام کِیا ہے مگر اِس شخص کو نہیں جانتے کہ کہاں کا ہے۔
۳۰- اُس آدمی نے جواب میں اُن سے کہا یہ تو تعجُّب کی بات ہے کہ تُم نہیں جانتے کہ وہ کہاں کا ہے حالانکہ اُس نے میری آنکھیں کھولِیں۔
۳۱- ہم جانتے ہیں کہ خُدا گُنہگاروں کی نہیں سُنتا لیکن اگر کوئی خُدا پرست ہو اور اُس کی مرضی پر چلے تو وہ اُس کی سُنتا ہے۔
۳۲- دُنیا کے شرُوع سے کبھی سُننے میں نہیں آیا کہ کِسی نے جَنم کے اَندھے کی آنکھیں کھولی ہوں۔
۳۳- اگر یہ شخص خُدا کی طرف سے نہ ہوتا تو کُچھ نہ کر سکتا۔
۳۴- اُنہوں نے جواب میں اُس نے کہا تُو تو بِالکُل گُناہوں میں پَیدا ہُؤا۔ تُو ہم کو کیا سِکھاتا ہے؟ اور اُنہوں نے اُسے باہر نِکال دِیا۔
۳۵- یِسُوعؔ نے سُنا کہ اُنہوں نے اُسے باہر نِکال دِیا اور جب اُس سے مِلا تو کہا کیا تُو خُدا کے بیٹے پر اِیمان لاتا ہے؟
۳۶- اُس نے جواب میں کہا اَے خُداوند وہ کَون ہے کہ مَیں اُس پر اِیمان لاؤں؟
۳۷- یِسُوعؔ نے اُس سے کہا تُو نے تو اُسے دیکھا ہے اور جو تُجھ سے باتیں کرتا ہے وُہی ہے۔
۳۸- اُس نے کہا اَے خُداوند مَیں اِیمان لاتا ہُوں اور اُسے سِجدہ کِیا۔
۳۹- یِسُوعؔ نے کہا مَیں دُنیا میں عدالت کے لِئے آیا ہُوں تاکہ جو نہیں دیکھتے وہ دیکھیں اور جو دیکھتے ہیں وہ اندھے ہو جائیں۔
۴۰- جو فرِیسی اُس کے ساتھ تھے اُنہوں نے یہ باتیں سُن کر اُس سے کہا کیا ہم بھی اندھے ہیں؟
۴۱- یِسُوعؔ نے اُن سے کہا کہ اگر تُم اندھے ہوتے تو گُنہگار نہ ٹھہرتے۔ مگر اب کہتے ہو کہ ہم دیکھتے ہیں۔ پس تُمہارا گُناہ قائِم رہتا ہے۔