یوحنا ۱

۱۔ تمہید:‏خدا کے بیٹے کی پہلی آمد (‏۱:‏۱-‏۱۸)‏

یوحنا اپنی اِنجیل کا آغاز «کلام» کے بیان سے کرتا ہے،‏ لیکن وہ شروع ہی میں وضاحت نہیں کرتا کہ «کلام» کیا یا کون ہے۔ «کلام» یا «کلمہ» کا بنیادی مطلب ہے لفظ۔ اور لفظ بول چال،‏ گفتگو یا تقریر کی وہ اِکائی ہے جس سے ہم
اپنے جذبات و احساسات اور خیالات کا اِظہار دوسروں پر کرتے ہیں۔ لیکن یوحنا تقریر کا نہیں بلکہ ایک شخص کا بیان کر رہا ہے۔ یہ شخص خدا کا بیٹا،‏ خداوند یسوع مسیح ہے۔ خدا نے خداوند یسوع کی ذات میں بنی نوعِ اِنسان پر اپنا کامل
اِظہار کیا ہے۔ دُنیا میں آ کر مسیح نے کامل طور پر ظاہر کر دیا ہے کہ خدا کیسا ہے۔ اور صلیب پر ہماری خاطر مر کر اُس نے ہمیں بتا دیا ہے کہ خدا ہمارے ساتھ کس قدر محبت رکھتا ہے۔ یوں مسیح اِنسان کے لئے خدا کا زندہ کلام اور خدا کی سوچ
کا اِظہار ہے۔

الف۔ کلام:‏ازل و اَبد اور زمانے میں  (‏۱:‏۱-‏۵)‏

۱:‏۱ «اِبتدا میں کلام تھا۔» اُس کا اپنا کوئی آغاز نہیں،‏ وہ ازل سے موجود ہے۔ اِنسانی ذہن جتنا بھی پیچھے کو ماضی میں جائے خداوند یسوع موجود ہے۔ وہ کبھی خلق نہیں کیا گیا۔ اُس کا کوئی
شروع یا آغاز نہیں،‏ (‏اِس اِنجیل میں خدا کے بیٹے کا نسب نامہ بے موقع ہوتا)‏۔ «کلام خدا کے ساتھ تھا۔» اُس کی شخصیت بالکل الگ اور جدا ہے۔ وہ کوئی خیال یا تصور ہی نہیں،‏ نہ کوئی مبہم مثال یا نظیر تھا
بلکہ حقیقی شخص (‏اقنوم)‏ تھا جو «خدا کے ساتھ» رہتا تھا۔ «کلام خدا تھا۔» وہ نہ صرف «خدا کے ساتھ» رہتا تھا بلکہ وہ خود «خدا تھا۔»

بائبل مقدس تعلیم دیتی ہے کہ خدا ایک ہی ہے،‏ لیکن ذاتِ الٰہی میں تین اقنوم ہیں — یعنی باپ،‏ بیٹا اور روح القدس۔ یہ تینوں اقانیم خدا ہیں۔ اِس آیت میں ذاتِ الٰہی کے دو اقانیم یعنی خدا باپ اور خدا بیٹا کا ذکر ہوا ہے۔
اِنجیل میں بہت سے مقامات پر صاف صاف بیان ہوا ہے کہ «یسوع مسیح خدا ہے۔» یہ ایسا پہلا موقع ہے۔ صرف اِتنا کہنا کافی نہیں کہ وہ «ایک خدا» ہے،‏ کہ وہ خدا کی «مانند» ہے،‏ یا وہ الٰہی صفت کا مالک ہے۔ بائبل مقدس سکھاتی ہے
کہ وہ «خدا» ہے۔

۱:‏۲ پہلی نظر میں لگتا ہے کہ یہاں پہلی آیت کو دُہرایا گیا ہے۔ دراصل ایسا نہیں ہے۔ یہاں بتایا گیا ہے کہ مسیح کی شخصیت اور الوہیت دونوں کی کوئی «اِبتدا» نہیں۔ وہ بیت لحم کے بچہ کے طور پر پہلی
دفعہ ایک شخص نہیں بنا تھا۔ اور نہ وہ جی اُٹھنے کے بعد کسی طرح ایک خدا بن گیا،‏ حالانکہ بعض لوگ ایسی تعلیم دیتے ہیں۔ وہ ازل ہی سے خدا ہے۔

۱:‏۳ «سب چیزیں اُس کے وسیلہ سے پیدا ہوئیں۔» وہ خود مخلوق نہیں بلکہ سب چیزوں کا خالق ہے۔ اِن میں بنی نوعِ اِنسان،‏ حیوانات،‏ اجرامِ فلک،‏ سیارے،‏ فرشتگان،‏
سب دیکھی اور اَن دیکھی چیزیں شامل ہیں۔ «اور جو کچھ پیدا ہوا ہے اُس میں سے کوئی چیز بھی اُس کے بغیر پیدا نہیں ہوئی۔» یہاں کسی قسم کا اِستثنا ممکن نہیں۔ اگر کوئی چیز پیدا ہوئی ہے تو اُسی نے پیدا کی ہیں۔ اور خالق ہوتے ہوئے وہ
بلاشبہ اپنی تخلیق کردہ ہر چیز سے اعلیٰ و برتر ہے۔ ذاتِ الٰہی کے تینوں اقانیم تخلیق کے کام میں شریک تھے۔ «خدا نے اِبتدا میں زمین و آسمان کو پیدا کیا» (‏پیدائش ۱:‏۱)‏۔ «خدا کی روح پانی کی سطح پر جنبش کرتی تھی»
(‏پیدائش ۱:‏۲)‏۔ «سب چیزیں… اُسی کے وسیلہ سے… پیدا ہوئی ہیں» (‏کلسیوں ۱:‏۱۶ ب)‏۔ «اُسی» سے مراد «مسیح» ہے۔

۱:‏۴ «اُس میں زندگی تھی۔» اِس کا مطلب یہ نہیں کہ اُس «کے پاس» زندگی تھی بلکہ یہ کہ وہ «زندگی» کا منبع تھا اور ہے۔ جو لفظ یہاں استعمال ہوا ہے اُس میں طبعی اور روحانی زندگی دونوں شامل ہیں۔ جب
ہم پیدا ہوئے تو ہمیں طبعی زندگی ملی۔ جب ہم دوبارہ یا نئے سرے سے پیدا ہوتے ہیں تو ہمیں روحانی زندگی ملتی ہے۔ دونوں اُسی سے صادر ہوتی ہیں۔

«وہ زندگی آدمیوں کا نور تھی۔» جس ہستی نے ہم کو زندگی عطا کی وہی «آدمیوں کا نور» بھی ہے۔ وہ اِنسان کو ضروری ہدایت اور راہنمائی مہیا کرتا ہے۔ وجود رکھنا ایک بات ہے مگر یہ علم رکھنا اَور بات ہے کہ زندگی کس طرح بسر کی جائے اور آسمان
کا راستہ کون سا ہے۔ جس ہستی نے ہم کو زندگی عطا کی،‏ وہی ہم کو «نور» مہیا کرتا ہے تاکہ جس راہ پر ہم چل رہے ہیں وہ روشن ہو۔

اِنجیل کے اِس اِفتتاحی باب میں ہمارے خداوند یسوع کے لئے سات عجیب لقب استعمال ہوئے ہیں:‏(‏۱)‏ کلام (‏آیات ۱،‏۱۴)‏،‏ (‏۲)‏ نور (‏آیات
۵،‏۷)‏،‏ (‏۳)‏ خدا کا برّہ (‏آیات ۲۹،‏۳۶)‏،‏ (‏۴)‏ خدا کا بیٹا (‏آیات ۳۴،‏۴۹)‏،‏ (‏۵)‏ خرستس یعنی مسیح
(‏مسیحِ موعود)‏ (‏آیت ۴۱)‏،‏ (‏۶)‏ اسرائیل کا بادشاہ (‏آیت ۴۹)‏ اور (‏۷)‏ ابنِ آدم (‏آیت ۵۱)‏۔ پہلے چار القاب جن میں سے ہر ایک کم سے کم
دو دفعہ استعمال ہوا ہے،‏ وہ اپنے اطلاق میں عالم گیر معلوم ہوتے ہیں۔ اور آخری تین القاب جن میں سے ہر ایک صرف ایک ایک دفعہ استعمال ہوا ہے،‏ اِن کا اوّلین اِطلاق خدا کی قدیم قوم اسرائیل پر ہے۔

۱:‏۵ «نور تاریکی میں چمکتا ہے۔» گناہ داخل ہوا تو اِنسان کی عقل اور سمجھ پر «تاریکی» چھا گئی۔ گناہ نے دُنیا کو تاریکی میں دھکیل دیا۔ مراد یہ ہے کہ اِنسان نہ خدا کو جانتا ہے اور نہ جاننا چاہتا
ہے۔ یہ «تاریکی» ہے جس میں خداوند یسوع آیا۔ اور وہ «نور» ہے جو تاریک جگہ پر چمکتا ہے۔

«تاریکی نے اُسے قبول نہ کیا۔» جب خداوند یسوع دُنیا میں آیا تو تاریکی اُس کو سمجھ نہ سکی۔ اِنسانوں کو احساس تک نہ ہوا کہ وہ حقیقت میں کون ہے یا وہ کیوں آیا۔ اِن الفاظ کا ایک اَور مفہوم یہ ہے کہ «تاریکی نور پر غالب نہ آئی۔» اِس
میں تصور یہ ہے کہ اگرچہ اِنسان نے مخالفت کی اور نور کو ردّ کر دیا،‏ لیکن حقیقی «نور» کو چمکنے سے نہ روک سکا۔

ب۔ یوحنا بپتسمہ دینے والے کی خدمت  (‏۱:‏۶-‏۸)‏

۱:‏۶ اِس آیت میں یوحنا اِنجیل نویس کا نہیں بلکہ یوحنا بپتسمہ دینے والے کا بیان ہے۔ «یوحنا» بپتسمہ دینے والا «خدا کی طرف سے بھیجا گیا تھا» تاکہ خداوند یسوع کا نقیب ہو۔ اُس کا مشن یہ تھا کہ
مسیح کی آمد کا اعلان کرے اور لوگوں سے کہے کہ اُس کا اِستقبال کرنے اور اُسے قبول کرنے کو تیار ہو جاؤ۔

۱:‏۷ «یہ گواہی کے لئے آیا۔» یہ شخص یعنی یوحنا یہ گواہی دینے کو آیا کہ یسوع واقعی دُنیا کا «نور» ہے تاکہ سارے اِنسان اُس پر «ایمان لائیں»۔

۱:‏۸ اگر یوحنا لوگوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرانے کی کوشش کرتا تو وہ اپنے مقررہ کام اور ذمہ داری سے بے وفائی کا مرتکب ہوتا۔ اُس نے لوگوں کو اپنی طرف نہیں بلکہ یسوع کی طر ف متوجہ کیا۔

ج۔ خدا کے بیٹے کی پہلی آمد  (‏۱:‏۹-‏۱۸)‏

۱:‏۹ «حقیقی نور…» گذشتہ زمانوں میں دوسرے لوگوں نے راہنما اور نجات دہندہ ہونے کے دعوے کئے مگر جس کی گواہی یوحنا نے دی،‏ وہ «حقیقی نور» ہے یعنی سچا «نور»۔ «حقیقی نور
(‏کے)‏… دُنیا میں آنے» سے ہر آدمی کو نور حاصل ہوا۔ اِس کا یہ مطلب نہیں کہ ہر آدمی کو مسیح کے بارے میں کچھ نہ کچھ باطنی علم دیا گیا ہے،‏ اور نہ یہ مطلب ہے کہ تمام اِنسانوں نے کسی نہ کسی وقت خداوند یسوع کے
بارے میں سنا ہو گا۔ البتہ مطلب یہ ہے کہ «نور» بلا اِمتیازِ رنگ و نسل اور قومیت سارے اِنسانوں پر چمکتا ہے۔ اِس کا مطلب یہ بھی ہے کہ سارے اِنسانوں پر چمکنے سے خداوند یسوع نے اُن کا حقیقی اور اصلی کردار بے نقاب کر دیا ہے۔ وہ بطور
کامل اِنسان اِس دُنیا میں آیا۔ اِس طرح دِکھا دیا ہے کہ دوسرے اِنسان کیسے نامکمل اور ناقص ہیں۔ کمرے میں اَندھیرا ہو تو ساز و سامان پر جمی گرد آپ کو نظر نہیں آتی،‏ مگر جب روشنی (‏نور)‏ کی جائے تو کمرے کی اصلی
حالت ظاہر ہو جاتی ہے۔ اِسی طرح «حقیقی نور» کے چمکنے سے اِنسان کی حقیقت ظاہر ہو جاتی ہے۔

۱:‏۱۰ بیت لحم میں اپنی پیدائش کے وقت سے لے کر آسمان پر واپس جانے کے دن تک وہ اِسی «دُنیا میں تھا» جس میں ہم رہتے بستے ہیں۔ وہی ساری دُنیا کو وجود میں لایا۔ لہٰذا وہی اِس کا جائز اور حقیقی
مالک ہے۔ اُس کو خالق ماننے کی بجائے اِنسانوں نے یہی سمجھا کہ یہ بھی ہماری طرح کا ایک اِنسان ہے۔ اِنسانوں نے اُس کے ساتھ ایسا سلوک کیا جیسا کسی اچھوت اور غیر یا اجنبی سے کیا جاتا ہے۔

۱:‏۱۱ «وہ اپنے گھر آیا» (‏وہ اپنی چیزوں میں آیا۔ ریفرنس بائبل کا حاشیہ)‏۔ وہ کسی دوسرے کے علاقے یا جائیداد میں غیر قانونی طور پر داخل نہیں ہوا بلکہ ایک ایسے سیارے پر رہتا تھا
جسے اُس نے خود بنایا تھا۔ «اُس کے اپنوں نے اُسے قبول نہ کیا۔» عام مفہوم میں اِشارہ تمام بنی نوعِ اِنسان کی طرف ہے۔ اور سچ ہے کہ بنی نوعِ اِنسان کی اکثریت نے اُسے ردّ ہی کیا ہے۔ خاص مفہوم میں یہودی قوم اُس کی چنی ہوئی اور زمینی
قوم تھی۔ وہ دُنیا میں آیا تو یہودیوں کے سامنے اپنے آپ کو اُن کے مسیحِ موعود کے طور پر پیش کیا۔ مگر اُنہوں نے «اُسے قبول نہ کیا»۔

۱:‏۱۲ چنانچہ اب وہ اپنے آپ کو تمام بنی نوعِ اِنسان کے سامنے پیش کرتا ہے۔ اور جتنے اُس کو «قبول» کرتے ہیں،‏ وہ اُن کو «خدا کے فرزند» بننے کا «حق» یا اِختیار دیتا ہے۔

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ ہم کس طرح «خدا کے فرزند» بن سکتے ہیں۔ نہ تو نیکیوں سے،‏ نہ چرچ کی رُکنیت سے،‏ نہ اپنی پوری جدوجہد کرنے سے بلکہ صرف «اُس» کو قبول کرنے سے،‏ صرف «اُس کے نام پر ایمان لانے سے۔»

۱:‏۱۳ جسمانی یا طبعی فرزند بننے کے لئے اِنسان کے لئے «پیدا ہوا» ضروری ہے۔ اِسی طرح خدا کا فرزند بننے کے لئے بھی اِنسان کو دوسری پیدائش کی ضرورت ہے۔ اِس کو نئی پیدائش یا نجات پانا کہا جاتا
ہے۔ یہ آیت «تین طریقے» بتاتی ہے جن سے نئی پیدائش حاصل «نہیں»ہوتی۔ نیز ایک وہ «واحد طریقہ» بھی بتاتی ہے جس سے نئی پیدائش حاصل ہوتی ہے۔ اوّل،‏ وہ تین طریقے جن سے اِنسان نئے سرے سے پیدا نہیں ہوتا۔ «نہ خون سے»۔ اِس کا مطلب ہے
کہ اِنسان اِس لئے مسیحی نہیں ہوتا کہ اُس کے والدین مسیحی ہیں۔ والدین سے نجات «خون» کے وسیلے سے اولاد کو منتقل نہیں ہوتی۔ نئی پیدائش «جسم کی خواہش» سے بھی نہیں۔ مراد یہ ہے کہ اِنسان کے جسم میں یہ قدرت نہیں کہ نئی پیدائش حاصل کر
سکے۔ اگرچہ اُس کو نجات پانے کی خواہش بھی ہو مگر صرف «خواہش» ہی نجات کے لئے کافی نہیں۔ تیسری بات ہے «نہ اِنسان کے اِرادہ سے۔» کوئی اِنسان کسی دوسرے اِنسان کو نجات نہیں دے سکتا۔ مثال کے طور پر کوئی مبشر دلی طور سے چاہتا ہے کہ فلاں
شخص کو نئی پیدائش حاصل ہو،‏ لیکن اُسے یہ معجزہ رُونما کرنے کی قدرت حاصل نہیں۔ پھر یہ پیدائش ہوتی کس طرح ہے؟ جواب اِن الفاظ میں موجود ہے کہ «خدا سے۔» اِس کا مطلب یہ ہے کہ نئی پیدائش دینے کی قدرت کسی چیز یا کسی اِنسان کو
حاصل نہیں۔ صرف خدا ہی یہ قدرت رکھتا ہے۔

۱:‏۱۴ «کلام مجسم ہوا۔» جب یسوع ایک بچے کی شکل میں بیت لحم کی چرنی میں پیدا ہوا تو «کلام مجسم ہوا»۔ وہ خدا باپ کے ساتھ آسمان میں خدا کے بیٹے کے طور پر تو ازل سے موجود تھا،‏ مگر اب اُس
نے اِنسانی جسم میں دُنیا میں آنا پسند کیا۔ وہ «ہمارے درمیان رہا»۔ یہ مختصر سی مدت کے لئے ظہور نہ تھا جس کے بارے میں کوئی غلطی یا غلط فہمی کا اِمکان ہو۔ خدا واقعی اِس زمین پر آیا اور اِنسان بن کر اِنسانوں کے درمیان رہا۔ جس لفظ کا
ترجمہ «رہا» کیا گیا ہے،‏ اُس کا مطلب ہے «خیمہ لگایا» یا «مسکن قائم کیا۔» اُس کا بدن وہ خیمہ تھا جس میں وہ تینتیس برس تک آدمیوں کے درمیان رہا۔

«اور ہم نے اُس کا ایسا جلال دیکھا۔» بائبل مقدس میں جلال کا مطلب وہ تیز،‏ چمک دار نور ہے جو اُس وقت دِکھائی دیتا ہے جب خدا موجود ہو۔ اِس کا مطلب خدا کی کاملیت اور فضلیت بھی ہے۔ جب خداوند یسوع اِس زمین پر تھا تو اُس کا جلال
گوشت پوست کے بدن میں چھپا ہوا تھا۔ مگر دو طریقے تھے جن سے یہ جلال ظاہر ہوتا تھا۔ پہلا،‏ اُس کا اخلاقی جلال تھا یعنی اُس کی کامل زندگی اور کامل کردار کی تجلی۔ اُس میں کوئی خامی یا کوئی داغ یا کوئی عیب نہ تھا۔ وہ اپنی ساری
باتوں اور راہوں میں کامل تھا۔ اُس کی زندگی میں ہر خوبی نہایت نفیس توازن کے ساتھ ظاہر ہوتی تھی۔ دوسرا،‏ اُس کے جلال کی دیدنی تجلی ہے۔ یہ واقعہ اُس پہاڑ پر ہوا جہاں اُس کی صورت جلالی ہو گئی تھی (‏متی
۱۷:‏۱،‏۲)‏۔ اُس وقت پطرس،‏ یعقوب اور یوحنا نے اُس کے چہرے کو سورج کی مانند اور اُس کی پوشاک کو تیز روشنی کی طرح چمکتے ہوئے دیکھا۔ اِن تین شاگردوں کو اُس جلال،‏ شان و شوکت اور عظمت کا پیشگی
نظارہ دِکھایا گیا جو خداوند یسوع کو اُس وقت حاصل ہو گی جب وہ ہزار سال تک بادشاہی کرنے کے لئے زمین پر واپس آئے گا۔

جب یوحنا کہتا ہے کہ «ہم نے اُس کا جلال دیکھا» تو وہ بنیادی طور پر خداوند یسوع کے اخلاقی جلال کا ذکر کرتا ہے۔ اُس نے اور دوسرے شاگردوں نے ایک مطلقاً کامل زندگی کا عجوبہ دیکھا جو اِس زمین پر بسر کی گئی۔ مگر عین ممکن ہے کہ یوحنا
اِس بیان میں پہاڑ پر مسیح کی صورت کے جلالی ہو جانے کے واقعے کو بھی شامل کرتا ہے۔ جو «جلال» اِن شاگردوں نے دیکھا،‏ وہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ واقعی خدا کا بیٹا ہے۔ یسوع «باپ کا اکلوتا» ہے۔ یعنی مسیح خدا کا یکتا اور بے مثال بیٹا
ہے۔ خدا کا اُس کی طرح کا اَور کوئی بیٹا نہیں۔ ایک مفہوم میں سارے سچے ایمان دار خدا کے بیٹے ہیں۔ لیکن یسوع خدا کا خاص مفہوم میں بیٹا ہے۔ اُس کے ساتھ اَور کوئی شامل یا برابر نہیں۔ اور خدا کا بیٹا ہونے میں وہ خدا کے برابر ہے۔

نجات دہندہ «فضل اور سچائی سے معمور» تھا۔ ایک طرف تو وہ دوسروں کے لئے مہربانی اور بھلائی کے لئے معمور تھا حالانکہ وہ اِس کے حق دار نہ تھے۔ دوسری طرف وہ کاملاً دیانت دار اور راست تھا۔ اُس نے نہ تو گناہ سے کبھی درگزر کیا،‏
نہ برائی کی اِجازت دی۔ کامل طور سے فضل کرنا اور ساتھ ہی کامل طور سے راست ہونا،‏ یہ ایک ایسی بات ہے جو صرف خدا ہی کر سکتا ہے۔

۱:‏۱۵ یوحنا بپتسمہ دینے والے نے «گواہی دی» کہ یسوع خدا کا بیٹا ہے۔ اِس سے پیشتر کہ خداوند نے اپنی عام خدمت کا آغاز کیا یوحنا لوگوں کو اِس کی بابت بتاتا رہا تھا۔ جب یسوع منظر میں آیا تو یوحنا
نے گویا کہا کہ «یہی وہ ہستی ہے جس کے بارے میں مَیں تمہیں بتاتا رہا ہوں۔» جہاں تک پیدائش اور خدمت کا تعلق ہے یسوع یوحنا کے «بعد» آیا تھا۔ وہ یوحنا سے چھے ماہ بعد پیدا ہوا تھا۔ اور اُس نے خود کو لوگوں کے سامنے اُس وقت پیش کیا جب
یوحنا کو منادی کرتے اور بپتسمہ دیتے کچھ عرصہ ہو چکا تھا۔ مگر یسوع یوحنا سے «مقدّم ٹھہرا»۔ وہ یوحنا سے عظیم تر تھا۔ وہ زیادہ عزت و تعظیم کا حق دار تھا۔ اِس کی سیدھی سی وجہ یہ ہے کہ وہ یوحنا سے «پہلے تھا»۔ وہ خدا کا بیٹا — ازل سے
موجود ہے۔

۱:‏۱۶ جتنے لوگ خداوند یسوع پر ایمان رکھتے ہیں،‏ اُن سب کو «اُس کی معموری» میں سے روحانی قوت دست یاب اور مہیا ہوتی ہے۔ «اُس کی معموری» اِتنی بڑی ہے کہ وہ تمام زمانوں میں تمام ملکوں میں
تمام ایمان داروں کو قوت مہیا کر سکتا ہے۔ «فضل پر فضل» کا مطلب ہے «فضل کی کثرت»۔ اور یہاں «فضل» کا مطلب ہے خدا کی پُرفضل عنایت یا شفقت،‏ جو وہ اپنے پیارے فرزندوں پر کثرت سے برساتا ہے۔

۱:‏۱۷ یوحنا پرانے عہدنامے کے زمانے اور نئے عہدنامے کے زمانے میں تقابل پیش کرتا ہے۔ «شریعت تو موسیٰ کی معرفت دی گئی۔» اِس شریعت سے «فضل» کا اِظہار نہیں ہوتا۔ شریعت اِنسانوں سے حکم ماننے کا
مطالبہ کرتی ہے اور اگر وہ ایسا کرنے سے قاصر رہیں تو اُن پر سزا کا حکم صادر کرتی ہے۔ شریعت اِنسان کو یہ تو بتاتی ہے کہ نیکی یا اچھائی کیا ہے،‏ لیکن نیکی کرنے کی قوت اور طاقت نہیں دیتی۔ یہ اِنسانوں کو یہ دکھانے کے لئے دی
گئی کہ وہ گنہگار ہیں۔ مگر یہ اُنہیں گناہ سے بچا نہیں سکتی،‏ «مگر فضل اور سچائی یسوع مسیح کی معرفت پہنچی»۔ وہ دُنیا پر الزام لگانے نہیں بلکہ نکموں اور نالائقوں کو بچانے آیا تھا جو اپنے آپ کو بچا نہیں سکتے تھے اور جو اُس کے
دشمن تھے۔ یہ ہے «فضل» — دُنیا کے بدترین اِنسانوں کے لئے آسمان کا بہترین تحفہ۔

یسوع مسیح کے وسیلے سے صرف «فضل» ہی نہیں پہنچا بلکہ «سچائی» بھی پہنچی۔ اُس نے اپنے بارے میں کہا کہ «حق (‏سچائی)‏ مَیں ہوں»۔ وہ اپنی ساری باتوں اور سارے کاموں میں بالکل دیانت دار اور وفادار تھا۔ اُس نے «فضل» اِس طرح
نہیں کیا کہ «سچائی» پیچھے رہ جائے یا ختم ہو جائے۔ اگرچہ وہ گنہگاروں سے محبت رکھتا ہے مگر اُن کے گناہ سے محبت نہیں رکھتا۔ وہ جانتا ہے کہ گناہ کی مزدوری موت ہے۔ اِس لئے وہ گناہ کی سزا ادا کرنے کے لئے خود موأ جب کہ یہ سزا ہمارے لئے
تھی۔ اِس طرح اُس نے وہ «فضل»،‏ وہ شفقت دکھائی جس کے ہم کسی طرح حق دار نہ تھے۔ اور ہماری روحوں کو بچا کر ہمیں آسمان میں گھر عطا کیا۔

۱:‏۱۸ «خدا کو کسی نے کبھی نہیں دیکھا۔» خدا روح ہے۔ اِس لئے نادیدنی ہے۔ اُس کا جسم نہیں ہے۔ اگرچہ پرانے عہدنامے میں وہ فرشتہ یا آدم زاد کی شکل میں اِنسانوں پر ظاہر ہوا مگر اِن ظہوروں سے اِس
بات سے پردہ نہ اُٹھ سکا کہ حقیقت میں خدا کیسا ہے۔ وہ عارضی ظہور تھے جن سے اُس نے اپنے لوگوں سے ہم کلام ہونا پسند کیا۔ یسوع «خدا کا اکلوتا بیٹا»ہے۔ وہ خدا کا بے مثال بیٹا ہے۔ کوئی اَور اُس کی مانند بیٹا نہیں ہے۔ اُسے ازل سے خدا
باپ کی قربت میں خاص مقام حاصل ہے۔ جب یسوع اِس دُنیا میں تھا،‏ اُس وقت بھی وہ «باپ کی گود میں» تھا۔ وہ خدا کے ساتھ ایک اور خدا کے برابر ہے۔ اِس مبارک ہستی نے اِنسانوں پر پورے طور سے ظاہر کیا ہے کہ خدا کیسا ہے۔ جب اِنسانوں
نے یسوع کو دیکھا تو خدا کو دیکھا۔ اُنہوں نے خدا کو کلام کرتے سنا۔ اُنہوں نے خدا کی شفقت اور محبت کو محسوس کیا۔ اِنسان کے لئے خدا کے رویے اور خیالات کا کامل اِظہار مسیح سے ہوا۔

مقدس کتاب

۱- اِبتدا میں کلام تھا اور کلام خُدا کے ساتھ تھا اور کلام خُدا تھا۔
۲- یہی اِبتدا میں خُدا کے ساتھ تھا۔
۳- سب چِیزیں اُس کے وسِیلہ سے پَیدا ہُوئِیں اور جو کُچھ پَیدا ہُؤا ہے اُس میں سے کوئی چِیز بھی اُس کے بغَیر پَیدا نہیں ہُوئی۔
۴- اُس میں زِندگی تھی اور وہ زِندگی آدمِیوں کا نُور تھی۔
۵- اور نُور تارِیکی میں چمکتا ہے اور تارِیکی نے اُسے قبُول نہ کِیا۔
۶- ایک آدمی یُوحنّا نام آ مَوجُود ہُؤا جو خُدا کی طرف سے بھیجا گیا تھا۔
۷- یہ گواہی کے لِئے آیا کہ نُور کی گواہی دے تاکہ سب اُس کے وسِیلہ سے اِیمان لائیں۔
۸- وہ خُود تو نُور نہ تھا مگر نُور کی گواہی دینے کو آیا تھا۔
۹- حقِیقی نُور جو ہر ایک آدمی کو رَوشن کرتا ہے دُنیا میں آنے کو تھا۔
۱۰- وہ دُنیا میں تھا اور دُنیا اُس کے وسِیلہ سے پَیدا ہُوئی اور دُنیا نے اُسے نہ پہچانا۔
۱۱- وہ اپنے گھر آیا اور اُس کے اپنوں نے اُسے قبُول نہ کِیا۔
۱۲- لیکن جِتنوں نے اُسے قبُول کِیا اُس نے اُنہیں خُدا کے فرزند بننے کا حق بخشا یعنی اُنہیں جو اُس کے نام پر اِیمان لاتے ہیں۔
۱۳- وہ نہ خُون سے نہ جِسم کی خواہِش سے نہ اِنسان کے اِرادہ سے بلکہ خُدا سے پَیدا ہُوئے۔
۱۴- ور کلام مُجسّم ہُؤا اور فضل اور سچّائی سے معمُور ہو کر ہمارے درمِیان رہا اور ہم نے اُس کا اَیسا جلال دیکھا جَیسا باپ کے اِکلَوتے کا جلال۔
۱۵- یُوحنّا نے اُس کی بابت گواہی دی اور پُکار کر کہا ہے کہ یہ وُہی ہے جِس کا مَیں نے ذِکر کِیا کہ جو میرے بعد آتا ہے وہ مُجھ سے مُقدّم ٹھہرا کیونکہ وہ مُجھ سے پہلے تھا۔
۱۶-کیونکہ اُس کی معمُوری میں سے ہم سب نے پایا یعنی فضل پر فضل۔
۱۷- اِس لِئے کہ شرِیعت تو مُوسیٰ کی معرفت دی گئی مگر فضل اور سچّائی یِسُوعؔ مسِیح کی معرفت پُہنچی۔
۱۸- خُدا کو کِسی نے کبھی نہیں دیکھا۔ اِکلَوتا بیٹا جو باپ کی گود میں ہے اُسی نے ظاہِر کِیا۔
۱۹- اور یُوحنّا کی گواہی یہ ہے کہ جب یہُودِیوں نے یروشلِیم سے کاہِن اور لاوی یہ پُوچھنے کو اُس کے پاس بھیجے کہ تُو کَون ہے؟
۲۰- تو اُس نے اِقرار کِیا اور اِنکار نہ کِیا بلکہ اِقرار کِیا کہ مَیں تو مسِیح نہیں ہُوں۔
۲۱- اُنہوں نے اُس سے پُوچھا پِھر کَون ہے؟ کیا تُو ایلیّاہؔ ہے؟ اُس نے کہا مَیں نہیں ہُوں۔ کیا تُو وہ نبی ہے؟ اُس نے جواب دِیا کہ نہیں۔
۲۲- پس اُنہوں نے اُس سے کہا پِھر تُو ہے کَون؟ تاکہ ہم اپنے بھیجنے والوں کو جواب دیں۔ تُو اپنے حق میں کیا کہتا ہے؟
۲۳- اُس نے کہا مَیں جَیسا یسعیاہ نبی نے کہا ہے بیابان میں ایک پُکارنے والے کی آواز ہُوں کہ تُم خُداوند کی راہ کو سِیدھا کرو۔
۲۴- یہ فرِیسِیوں کی طرف سے بھیجے گئے تھے۔
۲۵- اُنہوں نے اُس سے یہ سوال کِیا کہ اگر تُو نہ مسِیح ہے نہ ایلیّاہؔ نہ وہ نبی تو پِھر بپتِسمہ کیوں دیتا ہے؟
۲۶- یُوحنّا نے جواب میں اُن سے کہا کہ مَیں پانی سے بپتِسمہ دیتا ہُوں تُمہارے درمِیان ایک شخص کھڑا ہے جِسے تُم نہیں جانتے۔
۲۷- یعنی میرے بعد کا آنے والا جِس کی جُوتی کا تَسمہ مَیں کھولنے کے لائِق نہیں۔
۲۸- یہ باتیں یَردؔن کے پار بَیت عَنِیّاؔہ میں واقِع ہُوئِیں جہاں یُوحنّا بپتِسمہ دیتا تھا۔
۲۹- دُوسرے دِن اُس نے یِسُوعؔ کو اپنی طرف آتے دیکھ کر کہا دیکھو یہ خُدا کا برّہ ہے جو دُنیا کا گُناہ اُٹھا لے جاتا ہے۔
۳۰- یہ وُہی ہے جِس کی بابت مَیں نے کہا تھا کہ ایک شخص میرے بعد آتا ہے جو مُجھ سے مُقدّم ٹھہرا ہے کیونکہ وہ مُجھ سے پہلے تھا۔
۳۱- اور مَیں تو اُسے پہچانتا نہ تھا مگر اِس لِئے پانی سے بپتِسمہ دیتا ہُؤا آیا کہ وہ اِسرائیلؔ پر ظاہِر ہو جائے۔
۳۲- اور یُوحنّا نے یہ گواہی دی کہ مَیں نے رُوح کو کبُوتر کی طرح آسمان سے اُترتے دیکھا ہے اور وہ اُس پر ٹھہر گیا۔
۳۳- اور مَیں تو اُسے پہچانتا نہ تھا مگر جِس نے مُجھے پانی سے بپتِسمہ دینے کو بھیجا اُسی نے مُجھ سے کہا کہ جِس پر تُو رُوح کو اُترتے اور ٹھہرتے دیکھے وُہی رُوحُ القُدس سے بپتِسمہ دینے والا ہے۔
۳۴- چُنانچہ مَیں نے دیکھا اور گواہی دی ہے کہ یہ خُدا کا بیٹا ہے۔
۳۵- دُوسرے دِن پِھر یُوحنّا اور اُس کے شاگِردوں میں سے دو شخص کھڑے تھے۔
۳۶- اُس نے یِسُوعؔ پر جو جا رہا تھا نِگاہ کر کے کہا دیکھو یہ خُدا کا برّہ ہے!
۳۷- وہ دونوں شاگِرد اُس کو یہ کہتے سُن کر یِسُوعؔ کے پِیچھے ہو لِئے۔
۳۸- یِسُوعؔ نے پِھر کر اور اُنہیں پِیچھے آتے دیکھ کر اُن سے کہا تُم کیا ڈُھونڈتے ہو؟ اُنہوں نے اُس سے کہا اَے ربّی (یعنی اَے اُستاد) تُو کہاں رہتا ہے؟
۳۹- اُس نے اُن سے کہا چلو دیکھ لو گے۔ پس اُنہوں نے آ کر اُس کے رہنے کی جگہ دیکھی اور اُس روز اُس کے ساتھ رہے اور یہ دسویں گھنٹے کے قرِیب تھا۔
۴۰- اُن دونوں میں سے جو یُوحنّا کی بات سُن کر یِسُوعؔ کے پِیچھے ہو لِئے تھے ایک شمعُون پطرس کا بھائی اندرؔیاس تھا۔
۴۱- اُس نے پہلے اپنے سگے بھائی شمعُوؔن سے مِل کر اُس سے کہا کہ ہم کو خرِؔستُس یعنی مسِیح مِل گیا۔
۴۲- وہ اُسے یِسُوعؔ کے پاس لایا۔ یِسُوعؔ نے اُس پر نِگاہ کر کے کہا کہ تُو یُوحنّا کا بیٹا شمعُوؔن ہے۔ تُو کیفا یعنی پطرؔس کہلائے گا۔
۴۳- دُوسرے دِن یِسُوع نے گلِیل میں جانا چاہا اور فِلپُّس سے مِل کر کہا میرے پِیچھے ہو لے۔
۴۴- فِلپُّس اندرؔیاس اور پطرؔس کے شہر بَیت صَیدا کا باشِندہ تھا۔
۴۵- فِلپُّس نے نتن ایل سے مِل کر اُس سے کہا کہ جِس کا ذِکر مُوسیٰ نے تَورَیت میں اور نبِیوں نے کِیا ہے وہ ہم کو مِل گیا۔ وہ یُوسفؔ کا بیٹا یِسُوعؔ ناصری ہے۔
۴۶- نتن ایل نے اُس سے کہا کیا ناصرۃ سے کوئی اچھّی چِیز نِکل سکتی ہے؟ فِلپُّس نے کہا چل کر دیکھ لے۔
۴۷- یِسُوعؔ نے نتن ایل کو اپنی طرف آتے دیکھ کر اُس کے حق میں کہا دیکھو! یہ فی الحقِیقت اِسرائیلی ہے۔ اِس میں مکر نہیں۔
۴۸- نتن ایل نے اُس سے کہا تُو مُجھے کہاں سے جانتا ہے؟ یِسُوعؔ نے اُس کے جواب میں کہا اِس سے پہلے کہ فِلپُّس نے تُجھے بُلایا جب تُو انجِیر کے درخت کے نِیچے تھا مَیں نے تُجھے دیکھا۔
۴۹- نتن ایل نے اُس کو جواب دِیا اَے ربیّ! تُو خُدا کا بیٹا ہے۔ تُو اِسرائیلؔ کا بادشاہ ہے۔
۵۰- یِسُوعؔ نے جواب میں اُس سے کہا مَیں نے جو تُجھ سے کہا کہ تُجھ کو انجِیر کے درخت کے نِیچے دیکھا کیا تُو اِسی لِئے اِیمان لایا ہے؟ تُو اِن سے بھی بڑے بڑے ماجرے دیکھے گا۔
۵۱- پِھر اُس سے کہا مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ تُم آسمان کو کُھلا اور خُدا کے فرِشتوں کو اُوپر جاتے اور اِبنِ آدمؔ پر اُترتے دیکھو گے۔