یوحنا ۷

۷۔ خدا کے بیٹے کی اپنوں کے درمیان خدمت  (‏باب ۱۲-‏۱۷)‏

الف۔ بیت عنیاہ میں یسوع پر عطر ڈالا جانا  (‏۱۲:‏۱-‏۸)‏

۱۲:‏۱ بیت عنیاہ کا یہ گھر وہ جگہ تھی جہاں یسوع آنا بہت پسند کرتا تھا۔ وہاں لعزر،‏ مریم اور مرتھا کے ساتھ بہت خوش گوار رفاقت ہوتی تھی۔ اِنسانی نقطۂ نگاہ سے اِس موقعے پر «بیت عنیاہ» آ کر یسوع خود کو خطرے میں ڈال رہا تھا کیونکہ یروشلیم نزدیک ہی تھا جہاں اُس کی مخالف قوتوں کا ہیڈ کوارٹر تھا۔

۱۲:‏۲ بہت سے لوگ یسوع کے مخالف تھے،‏ مگر پھر بھی کچھ دل ایسے تھے جو سچے طور سے اُس کے لئے دھڑکتے تھے۔ «لعزر اُن میں سے تھا جو اُس (‏خداوند)‏ کے ساتھ کھانا کھانے بیٹھے تھے» اور «مرتھا خدمت کرتی تھی۔» پاک کلام یہ نہیں بتاتا کہ مرنے اور زندہ کئے جانے کے درمیانی عرصے کے دوران لعزر نے کیا دیکھا یا سنا۔ شاید خدا نے اُسے ایسی کوئی معلومات بتانے سے منع کر دیا تھا۔

۱۲:‏۳ اناجیل میں کئی واقعات مرقوم ہیں جب کسی عورت نے خداوند یسوع پر عطر ڈالا۔ کوئی دو واقعات بھی یکساں نہیں۔ لیکن زیرِ نظر واقعے کو مرقس ۱۴:‏۳-‏۹ کے متوازی سمجھا جاتا ہے۔ مریم خداوند سے اِتنی عقیدت رکھتی تھی اور ایسی جاں نثار تھی کہ اُس نے «جٹاماسی کا آدھ سیر خالص اور بیش قیمت عطر لے کر یسوع کے پاؤں پر ڈالا»۔ اِس سے وہ کہہ رہی تھی کہ مسیح اِس لائق ہے کہ اُس پر قیمتی سے قیمتی چیز نثار کر دی جائے۔ وہ ہم اور ہماری ہر چیز کے لائق ہے۔

ہم مریم سے جب بھی ملتے ہیں اُسے یسوع کے پاؤں کے پاس ہی دیکھتے ہیں۔ یہاں وہ «اپنے بالوں سے اُس کے پاؤں پونچھ» رہی ہے۔ چونکہ عورت کے بال اُس کی زینت ہوتے ہیں اِس لئے وہ اپنی زینت خداوند کے پاؤں پر رکھ رہی ہے۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ کچھ دیر تک مریم بھی وہ خوشبو لئے پھرتی رہی۔ چنانچہ جب مسیح کو سجدہ کیا جاتا ہے تو اُس لمحے کی مہک سجدہ کرنے والے کے بھی ساتھ رہتی ہے۔ جس گھر میں یسوع کو اُس کا جائز مقام دیا جاتا ہے،‏ وہ «خوشبو سے مہک» اُٹھتا ہے۔

۱۲:‏۴،‏۵ یہاں ہم دیکھتے ہیں کہ «جسمانیت» اِس نہایت مقدس موقعے پر در آ رہی ہے۔ «یہوداہ اسکریوتی جو اُسے پکڑوانے کو تھا» سے یہ قیمتی عطر یوں اِستعمال ہوتے نہ دیکھا گیا۔

یہوداہ کی نظر میں یسوع «تین سو دِینار» قیمت بھی نہیں رکھتا تھا۔ اُس کا خیال تھا اِس عطر کو «بیچ کر غریبوں کو» دے دینا چاہئے تھا۔ یہ بالکل ریاکاری تھی۔ اُس کو نہ خداوند کی پروا تھی نہ غریبوں کی۔ وہ تو اُسے دھوکے سے پکڑوانے کو تھا،‏ اور وہ بھی «تین سو دِینار» کے لئے نہیں بلکہ اِن کے صرف دسویں حصے کے عوض۔ رائیل (‏Ryle)‏ کیا خوب کہتا ہے:‏

«کوئی شخص مسیح کا شاگرد بن کر تین سال تک اُس کے پیچھے پیچھے چلتا رہے،‏ اُس کے سارے معجزے دیکھے،‏ اُس کی ساری تعلیم سنے،‏ اُس کے ہاتھوں کئی برکتیں حاصل کرے،‏ رسولوں میں شمار کیا جائے،‏ اور پھر باطن میں گلا سڑا نکلے،‏ پہلی نظر میں یہ بات ناقابلِ یقین اور ناممکن نظر آتی ہے! لیکن یہوداہ کا معاملہ بالکل ثابت کر دیتا ہے کہ یہ بات ممکن ہے۔ شاید اَور باتوں کا اندازہ لگایا جا سکے لیکن اِس کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا کہ اِنسان کس حد تک گر سکتا ہے۔»

۱۲:‏۶ یوحنا جلدی سے اضافہ کرتا ہے کہ «یہوداہ نے یہ اِس لئے نہ کہا کہ اُس کو غریبوں کی فکر تھی بلکہ اِس لئے کہ چور تھا۔» وہ لالچی اور خود غرض تھا۔ «یہوداہ کے پاس اُن کی تھیلی رہتی تھی۔ اُس میں جو کچھ پڑتا وہ نکال لیتا تھا۔»

۱۲:‏۷ یسوع کے جواب کا مفہوم یہ تھا کہ «مریم کو ایسا کرنے سے نہ روکو۔» اِس نے «یہ عطر میرے دفن کے دن کے لئے» رکھا ہے۔ اب جو کچھ وہ عقیدت اور عبادت کی روح میں مجھ پر نچھاور کر رہی ہے،‏ «اُسے ایسا کرنے دو۔»

۱۲:‏۸ کبھی ایسا وقت نہیں آئے گا جب «غریب غربا» نہ ہوں گے کہ لوگ اُن پر مہربانی نہ کر سکیں مگر خداوند کی زمینی خدمت تیزی سے اپنے اِختتام کی طرف بڑھ رہی تھی۔ مریم کو «ہمیشہ» موقع نہیں مل سکتا تھا کہ خداوند پر عطر ڈالے۔ اِس سے ہمیں یاد آنا چاہئے کہ روحانی مواقع گزرتے جا رہے ہیں۔ ہم نجات دہندہ کے لئے جو کچھ کر سکتے ہیں اِس کے کرنے میں تاخیر نہیں کرنی چاہئے۔

ب۔ لعزر کے خلاف سازِش  (۲‏۱:‏۹-‏۱۱)‏

۱۲:‏۹ بہت جلد یہ خبر پھیل گئی کہ یسوع یروشلیم کے نزدیک ہے۔ اُس کی موجودگی کو چھپائے رکھنا ممکن نہیں رہا تھا۔ «بہت سے یہودی» اُسے ملنے بیت عنیاہ گئے۔ دوسرے لوگ اِس لئے آئے کہ «لعزر کو دیکھیں جسے اُس نے مُردوں میں سے جلایا تھا۔»

۱۲:‏۱۰،‏۱۱ اِس آیت میں اِنسانی دل کی جنونی نفرت کی تصویر پیش کی گئی ہے۔ «سردار کاہنوں نے مشورہ کیا کہ لعزر کو بھی مار ڈالیں۔» کیا خیال ہے؟ اُس نے بڑی غداری کی تھی کہ مردوں میں سے جلایا گیا تھا! یہ کوئی ایسی بات نہ تھی جس پر اُسے اِختیار تھا۔ توبھی سردار کاہن اُسے واجب القتل سمجھتے تھے۔

«لعزر کے باعث بہت سے یہودی… یسوع پر ایمان لائے۔» چنانچہ لعزر کو یہودی اہلکار دشمن سمجھتے تھے۔ جو لوگ دوسروں کو خداوند کے پاس لاتے ہیں اُن کو ہمیشہ اذیت یہاں تک کہ شہادت کا نشانہ بھی بنایا جاتا رہا ہے۔

بعض مفسرین کا خیال ہے کہ چونکہ سردار کاہن صدوقی تھے جو قیامت کا اِنکار کرتے تھے اِس لئے وہ قیامت کے ثبوت کو ختم کر دینے کی غرض سے لعزر کو مار ڈالنا چاہتے تھے۔

ج۔ یروشلیم میں فاتحانہ داخلہ  (‏۱۲:‏۱۲-‏۱۹)‏

۱۲:‏۱۲،‏۱۳ اب ہم یسوع کے یروشلیم میں فاتحانہ داخلے کے واقعے تک پہنچتے ہیں۔ یہ اُس کے مصلوب کئے جانے سے پہلے کا اتوار تھا۔

یہ جاننا بے حد مشکل ہے کہ یہ «بہت سے لوگ» یسوع کے بارے میں حقیقتاً کیا سوچتے تھے۔ کیا وہ واقعی سمجھ گئے تھے کہ یہ خدا کا بیٹا اور اِسرائیل کا مسیحِ موعود ہے؟ یا اُس کو صرف ایک بادشاہ سمجھتے تھے جو اُن کو رومی جبر و استبداد سے چھڑائے گا؟ یا اُس گھڑی کے جذبات میں بہہ گئے تھے؟ بے شک اِس گروہ میں کچھ سچے ایمان دار بھی تھے۔ لیکن عام تاثر یہی ہے کہ اکثریت کو خداوند کے ساتھ کوئی دلی دلچسپی نہ تھی۔

«کھجور کی ڈالیاں» غم کے بعد آرام اور چین کی علامت ہیں (‏مکاشفہ ۷:‏۹)‏۔ لفظ «ہوشعنا» کا مطلب ہے «ابھی نجات دے،‏ ہم تیری منت کرتے ہیں۔» اِن خیالات کو ایک ساتھ رکھیں تو معلوم ہوتا ہے جیسے لوگ تسلیم کر رہے ہیں کہ یسوع ہی وہ ہستی ہے جس کو خدا نے بھیجا ہے کہ اُنہیں رومیوں کے ظلم سے چھڑائے اور غیر قوموں کے برسوں پر محیط طویل غم کے بعد آرام اور چین دے۔

۱۲:‏۱۴،‏۱۵ یسوع «گدھے کے بچہ» پر سوار ہو کر شہر میں داخل ہوا۔ یہ نقل و حمل کا عام طریقہ تھا۔ علاوہ ازیں اِس طرح سوار ہو کر خداوند نبوت کو پورا کر رہا تھا۔

یہ حوالہ زکریاہ ۹:‏۹ سے لیا گیا ہے۔ وہاں نبی نبوت کرتا ہے کہ جب اِسرائیل کا «بادشاہ» آئے گا تو «جوان گدھے پر سوار» ہو گا۔ «صیون کی بیٹی» (‏دخترِصیون)‏ یہودی قوم کا استعارہ ہے۔ «صیون» یروشلیم شہر میں ایک پہاڑی تھی۔

۱۲:‏۱۶ «اُس کے شاگرد» نہ سمجھے کہ یہ زکریاہ کی نبوت بالکل پوری ہو رہی ہے۔ یسوع اِسرائیل کے جائز بادشاہ کی حیثیت سے یروشلیم میں داخل ہو رہا تھا۔ لیکن جب خداوند واپس آسمان پر جا کر باپ کے دہنے ہاتھ «اپنے جلال کو پہنچا» تو اُس وقت شاگردوں پر روشن ہوا کہ یہ واقعات پاک نوشتوں کی تکمیل تھے۔

۱۲:‏۱۷،‏۱۸ جو بھیڑ یسوع کو یروشلیم میں داخل ہوتے دیکھ رہی تھی،‏ اُن میں ایسے افراد بھی تھے جنہوں نے دیکھا تھا کہ یسوع نے «لعزر کو قبر سے باہر بلایا اور مردوں میں سے جلایا تھا»۔ اُنہوں نے آس پاس کے لوگوں کو بتایا کہ یہ جو جوان گدھے پر سوار چلا آتا ہے وہی ہے جس نے لعزر کو دوبارہ زندہ کیا تھا۔ جب اِس قابلِ توجہ «معجزہ» کی خبر پھیلی تو لوگوں کی ایک بڑی بھیڑ «اُس کے استقبال کو» نکلی۔ بدقسمتی سے اُن کی نیت سچا ایمان لانے کی نہیں بلکہ اپنے تجسس کی تسکین کرنا تھی۔

۱۲:‏۱۹ جب بھیڑ زیادہ ہوتی گئی اور نجات دہندہ میں لوگوں کی دلچسپی بڑھتی گئی تو فریسی آپے سے باہر ہو گئے۔ وہ جو کچھ کہتے اور کرتے تھے اِس کا کچھ اثر نہیں ہوا تھا۔ وہ باؤلا گئے اور مبالغہ آرائی سے کہنے لگے،‏ «دیکھو،‏ جہان اِس کا پیرو ہو چلا۔» اُن کو خیال نہ آیا کہ لوگوں کا یہ جوش اور یہ دلچسپی عارضی ہے اور کہ جو دل سے یسوع کو خدا کا بیٹا مان کر اُس کی پرستش کرنے والے ہیں اُن کی تعداد بہت تھوڑی ہے۔

د۔ بعض یونانی یسوع سے ملنا چاہتے ہیں  (۱۲:‏۲۰-‏۲۶)‏

۱۲:‏۲۰ جو «یونانی» یسوع سے ملنے آئے،‏ وہ غیر قوم تھے،‏ جنہوں نے یہودی مذہب قبول کر لیا تھا۔ وہ «عید میں پرستش کرنے آئے تھے»۔ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب وہ اپنے آبا و اجداد کی مذہبی رسموں پر کاربند نہیں تھے۔ اُن کا اِس موقعے پر یسوع کے پاس آنا اِس بات کی علامت تھا کہ جب یہودیوں نے خداوند یسوع مسیح کو ردّ کر دیا تو غیر قومیں خوش خبری سنیں گی اور اُن میں سے بہتیرے ایمان لائیں گے۔

۱۲:‏۲۱ یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ کیوں «فلپس کے پاس آئے»۔ شاید چونکہ اُس کا نام یونانی تھا اور «بیت صیدای گلیل کا تھا» اِس لئے اُن غیر قوم نومریدوں نے اُس کے لئے کشش محسوس کی۔ اُن کی درخواست واقعی بہت عالی شان تھی کہ «جناب،‏ ہم یسوع کو دیکھنا چاہتے ہیں۔» کوئی ایسا شخص نہیں جس کے دل میں یہ سچی خواہش ہو اور اُسے خالی ہاتھ لوٹا دیا جائے۔

۱۲:‏۲۲ شاید فلپس کو پورا یقین نہیں تھا کہ خداوند اِن یونانیوں سے ملنا پسند کرے گا۔ اِس سے پہلے ایک موقعے پر مسیح نے اُن سے کہا تھا کہ خوش خبری لے کر غیر قوموں کے پاس نہ جانا۔ اِس لئے فلپس نے آ کر «اِندریاس سے کہا»۔ پھر دونوں نے آ کر «یسوع کو خبر دی»۔

۱۲:‏۲۳ یہ یونانی یسوع سے کیوں ملنا چاہتے تھے؟ اگر بین السطور دیکھیں تو ہم اِس نتیجے پر پہنچیں گے کہ اُن کو یسوع کی حکمت بہت پسند آئی تھی۔ شاید وہ اُس کو ایک ہر دل عزیز فلسفی کی حیثیت سے عزت دینا چاہتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ یہودی لیڈروں کے ساتھ اُس کا ٹکراؤ جاری ہے۔ شاید وہ چاہتے تھے کہ اُس کی جان بچ جائے،‏ اِس مقصد کے لئے اگر ممکن ہو تو اُسے اپنے ساتھ یونان لے جائیں۔ اُن کا فلسفہ یہ تھا کہ «خود کو بچائے رکھو۔» لیکن یسوع نے اُن کو بتا دیا کہ وہ پُرآسائش اور آرام دہ زندگی سے نہیں بلکہ قربانی کی موت کے وسیلے سے «جلال» پانے کو تھا۔

۱۲:‏۲۴ بیج اُس وقت تک دانے پیدا نہیں کرتا «جب تک» پہلے «زمین میں گر کر مر نہیں جاتا»۔ یہاں خداوند یسوع نے خود کو «گیہوں کا دانہ» ٹھہرایا ہے۔ اگر وہ مرتا نہیں تو «اکیلا» رہے گا۔ وہ خود ہی آسمان کے جلال سے لطف اندوز ہو گا۔ کوئی نجات یافتہ گنہگار وہاں نہیں ہو گا کہ اُس کے جلال میں شریک ہو۔ لیکن اگر وہ مرتا ہے تو نجات کا ایسا راستہ مہیا کرے گا جس سے بہت سے لوگ مخلصی پائیں گے۔

ہم پر بھی اِسی بات کا اِطلاق ہوتا ہے۔ ٹی۔جی۔ رگلینڈ (‏Ragland)‏ اِس سلسلے میں کہتا ہے:‏

«اگر ہم گندم کی بالیں بننے سے اِنکار کریں،‏ زمین میں گرنے اور مرنے سے اِنکار کریں،‏ اگر ہم نہ تو اپنی متوقع کامیابیوں کی قربانی دیں،‏ نہ اپنے کردار،‏ مال و دولت،‏ جائیداد اور صحت کو خطرے میں ڈالیں اور جب بلاہٹ ہو تو مسیح کی خاطر نہ گھر چھوڑیں،‏ نہ خاندانی رِشتے توڑیں ’تو ہم اکیلے رہیں گے۔‘ لیکن اگر ہم پھل دار بننا چاہتے ہیں،‏ تو ضرور ہے کہ اپنے مبارک خداوند کی پیروی کریں۔ گیہوں کا دانہ بن جائیں اور مر جائیں۔ پھر ہم بہت پھل لائیں گے۔»

۱۲:‏۲۵ بہت سے لوگ سوچتے ہیں کہ زندگی میں اہم چیزیں کھانا،‏ پوشاک اور آرام و آسائش ہیں۔ وہ اِنہی کے لئے جیتے ہیں۔ لیکن اِس انداز سے زندگی بسر کرنے میں وہ یہ شعور حاصل کرنے سے محروم رہتے ہیں کہ روح بدن سے زیادہ اہم ہے۔ وہ اپنی روح کی بھلائی اور فلاح کو نظر انداز کر دیتے ہیں اور یوں جان کھو دیتے ہیں۔ دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو مسیح کی خاطر ساری چیزوں کا نقصان اُٹھاتے ہیں۔ اُس کی خدمت کرنے کی خاطر وہ اُن ساری چیزوں سے ہاتھ کھینچ لیتے ہیں جنہیں اِنسان گراں قدر سمجھتے ہیں۔ یہی ہیں وہ لوگ جو اپنی جانوں کو «ہمیشہ کی زندگی کے لئے محفوظ رکھیں» گے۔ اپنی جان سے عداوت رکھنے کا مطلب ہے کہ اپنے عزیزوں اور اپنے مفادات سے بڑھ کر مسیح سے محبت رکھنا۔

۱۲:‏۲۶ مسیح کی خدمت کرنے کے لئے ضرور ہے کہ اِنسان اُس کے «پیچھے ہو لے»۔ وہ چاہتا ہے کہ میرے خادم میری تعلیمات پر عمل کریں اور اخلاقی لحاظ سے میرے مشابہ ہوں۔ ضرور ہے کہ وہ اُس کی موت کے نمونے کا اطلاق اپنے اُوپر کریں۔ تمام خادموں کے ساتھ وعدہ ہے کہ اُن کا آقا ہمیشہ اُن کے ساتھ ہو گا اور اُن کی حفاظت کرے گا۔ اور اِس کا اِطلاق صرف اِس زندگی پر نہیں بلکہ ابدیت پر بھی ہوتا ہے۔ آج کی خدمت کا کل کو خدا کی طرف سے اَجر ملے گا۔ اِس جہان میں اُس کی خاطر جو دکھ تکلیف اور لعن طعن برداشت کی جاتی ہے،‏ وہ اُس جلال کے پاسنگ بھی نہیں جو آسمان میں خدا باپ سب کے سامنے «عزت» دینے اور تعریف کرنے کے وسیلے سے بخشے گا۔

ہ۔ یسوع قریبی موت کا سامنا کرتا ہے  (‏۱۲:‏۲۷-‏۳۶)‏

۱۲:‏۲۷ خداوند کی سوچ بار بار اُن واقعات کی طرف جاتی تھی جو اُسے عنقریب پیش آنے کو تھے۔ وہ صلیب کے بارے میں سوچ رہا اور اُس گھڑی پر غور کر رہا ہے جب وہ «گناہ بردار» (‏گناہ اُٹھانے والا)‏ بن جائے گا۔ اور ہمارے گناہوں کے بارے میں خدا کا غضب برداشت کرے گا۔ وہ اِس «دل ٹوٹ جانے کی گھڑی» کا سوچتا ہے تو اُس کی «جان گھبراتی ہے»۔ ایسے وقت وہ کیسے دعا مانگے؟ کیا اپنے «باپ» سے کہے کہ «مجھے اِس گھڑی سے بچا؟» وہ یہ دعا نہیں مانگ سکتا تھا کیونکہ اُس کے اِس دُنیا میں آنے کا «سبب» یہی تھا کہ صلیب پر چڑھے۔ وہ مرنے کے لئے پیدا ہوا تھا۔

۱۲:‏۲۸ خداوند نے صلیب سے بچنے کی دعا نہیں مانگی بلکہ یہ کہ اُس کے باپ کے «نام» کو جلال ملے۔ اُس کو اپنے آرام اور حفاظت کا خیال نہیں تھا بلکہ چاہتا تھا کہ خدا کو عزت اور جلال ملے۔ اب خدا آسمان سے بولا کہ «مَیں نے اُس (‏خدا کے نام)‏ کو جلال دیا ہے اور پھر بھی دوں گا۔» یسوع کی زمینی خدمت کے دوران خدا کے نام کو جلال ملا تھا۔ ناصرت میں خاموشی کے تیس سال،‏ علانیہ خدمت کے تین سال،‏ نجات دہندہ کے حیرت افزا کام اور پُر فضل باتیں۔ اِن سب سے باپ کے نام کو بے حد جلال ملا۔ لیکن مسیح کی موت،‏ دفن،‏ قیامت اور صعود سے خدا کو اَور بھی زیادہ جلال ملنے کو تھا۔

۱۲:‏۲۹ جو پاس کھڑے تھے اُنہوں نے خدا کی آواز کو غلطی سے بادل کی گرج سمجھا۔ ایسے لوگ روحانی باتوں کی ہمیشہ کوئی طبعی وضاحت پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جو لوگ معجزوں کی حقیقت کو ماننے پر آمادہ نہیں ہوتے وہ اِن کی وضاحت کسی طبعی اصول یا قانونِ فطرت سے کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دوسرے لوگ جانتے تھے کہ یہ بادل کی گرج کی آواز نہیں،‏ مگر تو بھی پہچان نہ سکے کہ یہ خدا کی آواز ہے۔ وہ صرف اِسی نتیجے پر پہنچے کہ یہ «فرشتہ» کی آواز ہے۔ خدا کی آواز صرف وہی سن اور سمجھ سکتے ہیں جن کی مدد روح القدس کرتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ لوگ اِنجیل کی خوش خبری بار بار سنتے رہیں مگر جب تک روح القدس اُن سے ہم کلام نہ ہو،‏ ساری خوش خبری اُن کے لئے بے معانی رہے۔

۱۲:‏۳۰ خداوند نے اُن کو بتایا کہ یہ آواز اِس لئے بلند نہ تھی کہ وہ خود اُسے سن سکے بلکہ اِس لئے کہ پاس کھڑے لوگ سن سکیں۔

۱۲:‏۳۱ «اب دُنیا کی عدالت کی جاتی ہے۔» دُنیا جلال اور زندگی کے مالک کو مصلوب کرنے کو تھی۔ ایسا کرنے پر دُنیا خود کو ملزم ٹھہرائے گی۔ مسیح کو ایسے ہیبت ناک طریقے سے ردّ کرنے کے باعث دُنیا کو سزا کا حکم ہو جائے گا۔ اِن الفاظ سے نجات دہندہ کا یہی مطلب تھا۔ خطاکار نسلِ اِنسانی پر سزا کا حکم ہونے کو تھا۔ اِس «دُنیا کا سردار» شیطان ہے۔ کلوری پر شیطان کو نہایت حقیقی معنوں میں شکست ہوئی۔ اُس کا خیال تھا کہ مَیں نے ہمیشہ کے لئے خداوند یسوع کا قصہ تمام کر دیا ہے۔ لیکن اِس کے برعکس نجات دہندہ نے اِنسانوں کے لئے نجات کا ایک راستہ مہیا کر دیا،‏ اور ساتھ ہی شیطان اور اُس کے سارے لشکروں کو شکست ِفاش دے دی۔ ابلیس پر سزا کا حکم ہو گیا ہے مگر ابھی تک اِس حکم پر عمل درآمد نہیں ہوا ہے۔ مگر اُس کے انجام پر مہر لگ گئی ہے۔ وہ آج بھی دُنیا میں اپنا بُرا کاروبار کر رہا ہے،‏ مگر صرف وقت کی بات ہے کہ وہ آگ کی جھیل میں ڈالا جائے گا۔

۱۲:‏۳۲ اِس آیت کے پہلے حصے کا تعلق مسیح کی صلیبی موت سے ہے۔ اُسے لکڑی کی صلیب پر کیلوں سے جڑ دیا گیا اور «زمین سے اونچے پر چڑھایا» گیا۔ خداوند نے کہا کہ اگر مَیں اِس طرح صلیب دیا گیا «تو سب کو اپنے پاس کھینچوں گا۔» اِس کی کئی تفسیریں کی جاتی ہیں۔ بعض کا خیال ہے کہ مسیح سب لوگوں کو یا تو نجات کے لئے یا عدالت کے لئے کھینچتا ہے۔ بعض کا خیال ہے کہ اگر اِنجیل کی منادی میں مسیح کو بلند کیا جائے،‏ تو پیغام میں زیادہ قوت ہو گی اور روحیں اُس کے پاس کھینچی جائیں گی۔ لیکن غالباً درست تفسیر یہ ہے کہ خداوند یسوع کے مصلوب ہونے کا نتیجہ یہ ہوا کہ «سب» قسم کے لوگ اُس کے پاس کھنچے چلے آتے ہیں۔ اِس کا یہ مطلب نہیں کہ سب کے سب اِنسان آ جائیں گے،‏ کوئی رہ نہیں جائے گا بلکہ مطلب یہ ہے کہ ہر قوم،‏ ہر قبیلہ اور ہر زبان کے لوگوں میں سے آئیں گے۔

۱۲:‏۳۳ جب خداوند یسوع نے اُونچے پر چڑھائے جانے کی بات کی تو اُس نے واضح کیا کہ «مَیں کس موت سے مرنے کو ہوں» یعنی صلیبی موت۔ یہاں ہمیں پھر ثبوت ملتا ہے کہ یسوع عالمِ کل ہے۔ اُس کو پہلے ہی علم تھا کہ مَیں بستر میں،‏ یا حادثے میں نہیں مروں گا،‏ بلکہ کیل ٹھونک کر صلیب پر لٹکا دیا جاؤں گا اور یوں اپنی جان دوں گا۔

۱۲:‏۳۴ لوگ خداوند کی «اُونچے پر چڑھائے جانے» کی بات نہ سمجھ سکے۔ وہ جانتے تھے کہ یہ مسیحِ موعود ہونے کا دعویٰ کرتا ہے لیکن وہ پرانے عہدنامے سے یہ بھی جانتے تھے کہ «مسیح ابد تک رہے گا» (‏دیکھئے یسعیاہ ۹:‏۷؛  زبور ۱۱۰:‏۴؛  دانی ایل ۷:‏۱۴؛  میکاہ ۴:‏۷)‏۔ غور کریں کہ لوگوں نے یسوع کے الفاظ یوں دُہرائے کہ «ابنِ آدم کا اُونچے پر چڑھایا جانا ضرور ہے» جب کہ دراصل اُس نے کہا تھا کہ «مَیں اگر زمین سے اُونچے پر چڑھایا جاؤں گا…» خداوند یسوع نے بار بار اپنے آپ کو «ابنِ آدم» کہا تھا۔ اور غالباً اِس سے پہلے یہ بھی کہا تھا کہ ابنِ آدم کو اُونچے پر چڑھایا جائے گا۔ چنانچہ لوگوں کے لئے اِن دونوں تصورات کو یکجا کرنا کچھ مشکل نہ تھا۔

۱۲:‏۳۵ جب لوگوں نے یسوع سے پوچھا کہ «یہ ابنِ آدم کون ہے؟» تو اُس نے اپنے آپ کو «نور» کہا اور اُن کو یاد دلایا کہ «نور» اُن کے پاس تھوڑی ہی دیر کے لئے ہے۔ اِس لئے چاہئے کہ وہ نور کے پاس آئیں اور نور میں چلیں۔ ورنہ «تاریکی» بہت جلد اُنہیں «آ پکڑے» گی اور وہ جہالت میں ٹھوکریں کھاتے پھریں گے۔

لگتا ہے کہ خداوند نے اپنے آپ کو سورج اور اُس کی روشنی کے مشابہ ٹھہرایا۔ سورج صبح کو طلوع ہوتا،‏ دوپہر کو اِنتہائی بلندی پر پہنچتا اور شام کو اُفق کے پیچھے اُتر جاتا ہے۔ وہ ہمارے پاس صرف محدود گھڑیوں تک رہتا ہے۔ چنانچہ جب تک وہ ہمارے پاس ہو ہمیں اُس سے فائدہ اُٹھانا چاہئے کیونکہ جب رات ہو جاتی ہے تو پھر ہم اُس سے مستفید نہیں ہو سکتے۔ روحانی اعتبار سے جو شخص خداوند یسوع پر ایمان لاتا ہے وہ نور میں چلتا ہے۔ مگر جو کوئی یسوع کو ردّ کر دیتا ہے،‏ وہ «تاریکی میں چلتا ہے اور نہیں جانتا کہ کدھر جاتا ہے»۔ ایسا شخص الٰہی راہنمائی اور ہدایت سے محروم رہتا اور زندگی بھر ٹھوکریں کھاتا رہتا ہے۔

۱۲:‏۳۶ یسوع نے سننے والوں کو پھر خبردار کیا کہ ابھی موقع ہے،‏ مجھ پر «ایمان لاؤ»۔ ایسا کرنے سے تم «نور کے فرزند» بن جاؤ گے۔ اور تمہیں اِس بات کی تسلی ہو جائے گی کہ تمہیں اِس زندگی اور ابدیت میں ہدایت اور راہنمائی ملے گی۔ یہ باتیں کہنے کے بعد خداوند لوگوں کے پاس سے «چلا گیا» اور کچھ دیر تک اپنے آپ کو چھپائے رکھا۔

و۔ بہت سے یہودی ایمان نہ لائے  (‏۱۲:‏۳۷-‏۴۳)‏

۱۲:‏۳۷ یہاں یوحنا تعجب کا اِظہار کرنے کے لئے رُکتا ہے کہ «اگرچہ اُس نے اُن کے سامنے اِتنے معجزے دِکھائے تو بھی وہ اُس پر ایمان نہ لائے۔» جیسا کہ ہم پہلے بتا چکے ہیں،‏ اُن کے ایمان نہ لانے کی وجہ ثبوتوں کی کمی نہ تھی۔ خداوند نے اپنی الوہیت کے نہایت قائلیت انگیز ثبوت دیئے تھے،‏ لیکن لوگ ایمان لانا نہیں چاہتے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ ایک بادشاہ ہو جو ہم پر حکمرانی کرے۔ لیکن وہ توبہ کرنا نہیں چاہتے تھے۔

۱۲:‏۳۸ یہودیوں کا ایمان نہ لانا یسعیاہ ۵۳:‏۱ کی تکمیل تھی۔ یہ سوال کہ «اے خداوند،‏ ہمارے پیغام کا کس نے یقین کیا ہے؟» اِس جواب کا تقاضا کرتا ہے کہ «یقین کرنے والے کوئی بہت زیادہ نہیں۔» چونکہ پاک نوشتوں میں ہاتھ (‏بازُو)‏ قوت یا طاقت کی نمائندگی کرتا ہے اِس لئے «خداوند کا ہاتھ» کا مطلب ہے خدا کی قدرت۔ خدا کا ہاتھ صرف اُن افراد پر ظاہر ہوتا ہے جو خداوند یسوع مسیح کے بارے میں خبر پر ایمان لے آتے ہیں۔ چونکہ مسیحِ موعود کے بارے میں خبر پر بہت سے لوگ ایمان نہ لائے اِس لئے بہتوں پر خدا کی قدرت ظاہر نہ ہوئی۔

۱۲:‏۳۹ جب خداوند یسوع نے خود کو اِسرائیلی قوم کے سامنے پیش کیا تو اُنہوں نے اُسے ردّ کر دیا۔ وہ نجات کی پیش کش لے کر بار بار اُن کے پاس آیا،‏ لیکن وہ اُسے «نہ» ہی کہتے رہے۔ اِنسان جتنا زیادہ خوش خبری کو ردّ کرتے ہیں،‏ اُس پر ایمان لانا اُتنا ہی مشکل ہو جاتا ہے۔ جب لوگ نور کی طرف سے آنکھیں بند کر لیتے ہیں تو خدا اُن کے لئے نور کو دیکھنا اِتنا ہی مشکل کر دیتا ہے۔ جو آنکھیں اُنہوں نے اپنی طرف سے بند کر لیں،‏ وہ اب خدا کے غضب کے باعث کھول نہیں سکتے۔

۱۲:‏۴۰ یہ اقتباس یسعیاہ ۶:‏۹،‏ ۱۰ سے ہے۔ خدا نے اسرائیلی قوم کی «آنکھوں کو اندھا اور اُن کے دل کو سخت کر دیا»۔ اُس نے پہلے تو ایسا نہیں کیا تھا،‏ بلکہ اُس کے بعد جب اُنہوں نے خود اپنی آنکھیں بند کر لیں اور اپنے دلوں کو سخت کر لیا تھا۔ اسرائیل نے ہٹ دھرمی سے اور جان بوجھ کر مسیحِ موعود کو ردّ کر دیا۔ اِس لئے وہ دیکھنے،‏ سمجھنے،‏ رجوع لانے اور شفا پانے سے کٹ گئے۔

۱۲:‏۴۱ یسعیاہ باب ۶ میں بیان کیا گیا ہے کہ نبی نے خدا کا «جلال» دیکھا۔ یہاں یوحنا اِس وضاحت کا اضافہ کرتا ہے کہ یسعیاہ نے جو «دیکھا» وہ مسیح کا «جلال» تھا اور مسیح ہی کے جلال کے بارے میں «کلام کیا»۔ چنانچہ یہ آیت شہادتوں کے اِس سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے اور یہ سلسلہ ثابت کرتا ہے کہ مسیح خدا ہے۔

۱۲:‏۴۲ یہودیوں کے «سرداروں میں سے بھی بہتیرے» قائل ہو گئے کہ خداوند یسوع مسیحِ موعود ہے۔ لیکن وہ اِس ڈر سے اپنی قائلیت کا اِقرار کرنے کی جرأت نہ کر سکے کہ «عبادت خانہ سے خارج کئے جائیں» گے۔ شاید یہ لوگ خداوند یسوع پر سچا ایمان رکھتے تھے۔ مگر یہ بات مشکوک ہے۔ جہاں سچا ایمان ہوتا ہے وہاں جلد یا بدیر مسیح کا اِقرار بھی ہوتا ہے۔ جب مسیح کو سچے دل سے نجات دہندہ قبول کر لیا جاتا ہے تو اِنسان دوسروں کو بتانے سے نہیں ہچکچاتا۔ پھر وہ نتائج کی پروا نہیں کرتا۔

۱۲:‏۴۳ صاف ظاہر ہے کہ «وہ خدا سے عزت حاصل کرنے کی نسبت اِنسان سے عزت حاصل کرنا زیادہ چاہتے تھے»۔ اُن کو خدا کی نسبت اِنسان کی منظوری کا زیادہ خیال تھا۔ کیا ایسا آدمی مسیح پر سچا ایمان رکھتا ہے؟ جواب کے لئے ملاحظہ کریں ۵:‏۴۴۔

ز۔ ایمان نہ لانے کا خطرہ (‏۱۲:‏۴۴-‏۵۰)‏

۱۲:‏۴۴ اِس آیت کو سلیس زبان میں یوں بیان کیا جا سکتا ہے،‏ «جو مجھ پر ایمان لاتا ہے،‏ دراصل صرف مجھ پر ایمان نہیں لاتا بلکہ میرے باپ پر بھی جس نے مجھے بھیجا ہے»۔ یہاں پھر خداوند اپنے خدا باپ کے ساتھ اپنی کامل یکتائی کی تعلیم دیتا ہے۔ دوسرے پر ایمان لائے بغیر ایک پر ایمان لانا ممکن ہی نہیں۔ مسیح پر ایمان لانا خدا باپ پر ایمان لانا ہے۔ اِنسان اُس وقت تک باپ پر ایمان نہیں لا سکتا جب تک بیٹے کو برابر کی عزت نہ دے۔

۱۲:‏۴۵ ایک لحاظ سے کوئی اِنسان خدا باپ کو دیکھ نہیں سکتا۔ وہ روح ہے،‏ اِس لئے نادیدنی ہے۔ لیکن خداوند یسوع دُنیا میں اِس لئے آیا کہ ہم جانیں کہ خدا کیسا ہے۔ مراد یہ نہیں کہ وہ ہمیں بتاتا ہے کہ خدا جسمانی لحاظ سے کیسا ہے بلکہ یہ کہ اخلاقی لحاظ سے کیسا ہے۔ اُس نے خدا کا کردار ہم کو دکھایا ہے۔ اِس لئے جس نے مسیح کو دیکھا اُس نے خدا باپ کو دیکھا ہے۔

۱۲:‏۴۶ «نور» کی مثال دینا ہمارے خداوند کو غالباً سب سے زیادہ پسند تھا۔ وہ اپنے بارے میں پھر کہتا ہے کہ «مَیں نور ہو کر دُنیا میں آیا ہوں تاکہ جو کوئی مجھ پر ایمان لائے اندھیرے میں نہ رہے۔» مسیح کے بغیر اِنسان گہری تاریکی میں رہتے ہیں۔ اُن کو زندگی،‏ موت اور ابدیت کا صحیح شعور نہیں ہوتا۔ لیکن جو ایمان میں مسیح کے پاس آ جاتے ہیں اُن کو سچائی کے لئے ٹامک ٹوئیاں نہیں مارنی پڑتیں کیونکہ اُنہیں اُس میں سچائی مل جاتی ہے۔

۱۲:‏۴۷ مسیح کی پہلی آمد کا مقصد «دُنیا کو مجرم ٹھہرانا» نہیں،‏ بلکہ «نجات دینا» تھا۔ جن لوگوں نے اُس کی باتوں کا یقین کرنے یا اُس پر ایمان لانے سے اِنکار کیا،‏ وہ اُن کی عدالت کرنے (‏اُن پر فردِ جرم عائد کرنے)‏ نہیں بیٹھا۔ مگر اِس کا مطلب یہ نہیں کہ آنے والے دن میں اِن بے ایمانوں کو مجرم نہیں ٹھہرائے گا۔ البتہ اُس کی پہلی آمد کا مقصد ایسی عدالت کرنا نہیں تھا۔

۱۲:‏۴۸ اب خداوند آنے والے اُس دن کی طرف دیکھتا ہے جب اُس کے کلام کو ردّ کرنے والے خدا کی عدالت کے کٹہرے میں کھڑے ہوں گے۔ اُس وقت اُن کو مجرم ٹھہرانے کے لئے خداوند یسوع کا «کلام» یعنی اُس کی تعلیمات ہی کافی ہوں گی۔

۱۲:‏۴۹ جو باتیں خداوند سکھاتا تھا،‏ وہ اُس نے خود نہیں گھڑی تھیں،‏ نہ اِنسانی مدرسوں میں سیکھی تھیں بلکہ وہ فرماں بردار خادم اور بیٹا تھا۔ اِس لئے صرف وہی باتیں کہتا تھا جن کا «حکم» اُس کے باپ نے دیا تھا۔ یہ حقیقت ہے جو آخری دن اِنسانوں کو مجرم ٹھہرائے گی۔ جو کلام یسوع نے سنایا،‏ وہ خدا کا کلام تھا،‏ مگر لوگوں نے اُس کی سننے سے اِنکار کیا۔ باپ نے اُسے سکھایا تھا کہ کیا ’کہے‘ اور کیا ’بولے‘۔ اِن دونوں میں فرق ہے۔ مَیں «کیا کہوں» پیغام کے ’جوہر‘ کو ظاہر کرتا ہے۔ اور «کیا بولوں» اُن الفاظ کو ظاہر کرتا ہے جو خداوند کو خدا کی سچائی کی تعلیم دینے کے لئے استعمال کرنے تھے۔

۱۲:‏۵۰ یسوع جانتا تھا کہ باپ نے اُسے اُن لوگوں کو «ہمیشہ کی زندگی» دینے کا حکم دیا ہے جو اُس پر ایمان لائیں گے۔ اِس لئے اُس نے پیغام اُسی طرح دیا جس طرح باپ نے اُسے دیا تھا۔

یہاں بیان میں واضح وقفہ ہے۔ اب تک خداوند خود کو اِسرائیل کے سامنے پیش کرتا رہا ہے۔ سات نمایاں نشان یا معجزے درج کئے گئے ہیں۔ ہر معجزہ اُس تجربے کی مثال پیش کرتا ہے،‏ جو اُس وقت پیش آتا ہے جب کوئی گنہگار مسیح پر ایمان لاتا ہے۔ اِن نشانوں کی تفصیل یہ ہے:‏

  1. قانائے گلیل میں پانی کو مے بنانا (‏۲:‏۱-‏۱۲)‏۔ یہ اُس گنہگار کی تصویر ہے جو الٰہی خوشی اور شادمانی سے واقف نہیں ہوتا۔ مسیح کی قدرت اُسے تبدیل کر دیتی ہے۔
  2. بادشاہ کے ملازم کے بیٹے کو شفا دینا (‏۴:‏۴۶-‏۵۴)‏۔ یہ تصویر ہے کہ گنہگار روحانی طور پر بیمار اور صحت پانے کا حاجت مند ہے۔
  3. بیت حسدا کے حوض پر معذور کو شفا دینا (‏باب ۵)‏۔ بے چارہ گنہگار بے بس اور بے یار و مدد گار ہوتا ہے۔ وہ اپنی حالت کو بدلنے کے لئے کچھ نہیں کر سکتا۔ یسوع اُسے اِس «مرض» سے شفا دیتا ہے۔
  4. پانچ ہزار کو کھلانا (‏باب ۶)‏۔ گنہگار بھوکا ہوتا ہے۔ اُس کے پاس کھانے کو کچھ نہیں۔ اُسے کسی ایسی چیز (‏خوراک)‏ کی ضرورت ہے جو طاقت اور قوت دے سکے۔ خداوند روح کے لئے ایسی خوراک مہیا کرتا ہے کہ اُسے دوبارہ بھوک نہ لگے۔
  5. گلیل کی جھیل پر طوفان کو تھما دینا (‏۶:‏۱۶-‏۲۱)‏۔ گنہگار خطرے کی جگہ پر ہے۔ خداوند اُسے طوفان سے بچا لیتا ہے۔
  6. جنم کے اَندھے کو بینائی دینا (‏باب۹)‏۔ یہ آدمی اِنسان کے دل کے اَندھے پن کی تصویر پیش کرتا ہے۔ یہ اندھا پن اُس وقت دُور ہو جاتا ہے جب مسیح کی قدرت اُسے چھوتی ہے۔ اِنسان اپنی گناہ آلودہ حالت کو دیکھ نہیں سکتا،‏ نہ وہ نجات دہندہ کے حسن کو دیکھ سکتا ہے۔ جب روح القدس اُسے بینائی بخشتا ہے تو یہ اندھا پن دُور ہو جاتا ہے۔
  7. لعزر کو مُردوں میں سے جلانا (‏باب ۱۱)‏۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ گنہگار اپنی خطاؤں اور گناہوں میں مُردہ ہوتا ہے۔ اُس کو اُوپر سے زندگی پانے کی ضرورت ہے۔

اِن تمام معجزوں کا مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ یسوع خدا کا بیٹا مسیح ہے۔

ح۔ یسوع اپنے شاگردوں کے پاؤں دھوتا ہے  (‏۱۳:‏۱-‏۱۱)‏

باب ۱۳ میں بالاخانے کی باتیں شروع ہوتی ہیں۔ اب یسوع مخالف یہودیوں کے درمیان نہیں چل پھر رہا۔ وہ اپنے شاگردوں کے ساتھ یروشلیم میں ایک بالا خانے میں چلا گیا تاکہ پیشی اور صلیب دیئے جانے سے پہلے اُن کے ساتھ رفاقت کی آخری گھڑیاں گزارے۔ یوحنا باب ۱۳ سے ۱۷ نئے عہدنامے کے نہایت پسندیدہ حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔

۱۳:‏۱ مصلوب ہونے سے ایک دن پہلے «یسوع نے جان لیا» تھا کہ «میرا وہ وقت آ پہنچا» ہے جب مجھے مرنا،‏ دوبارہ جی اُٹھنا اور آسمان پر واپس جانا ہے۔ وہ «اپنے لوگوں» یعنی سچے ایمان داروں سے محبت رکھتا تھا۔ وہ اپنی زمینی خدمت کے «آخر تک» اُن سے «محبت رکھتا رہا» اور ساری ابدیت میں محبت رکھتا رہے گا۔ مگر اُس کی محبت لامحدود بھی تھی جیسا کہ وہ ثبوت دینے کو تھا۔

۱۳:‏۲ یوحنا نہیں بتاتا کہ یہ کون سا «شام کا کھانا» تھا — فسح کا کھانا،‏ عشائے ربانی یا معمول کا شام کا کھانا — «ابلیس» نے یہوداہ اسکریوتی کے دل میں بیج بو دیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ تُو «اُسے پکڑوائے۔» یہوداہ اِس سے بہت پہلے خداوند کے خلاف سازش کر رہا تھا۔ لیکن اب اُس کو اِشارہ مل گیا کہ اپنے گھنونے منصوبوں کو عملی جامہ پہنائے۔

۱۳:‏۳ آیت ۳ اِس بیان پر زور دیتی ہے کہ کون سی ہستی غلام کا کام کر رہی تھی۔ محض کوئی ربی یا اُستاد نہیں بلکہ یسوع کر رہا تھا جسے حاکمِ کُل ہونے کا پورا شعور تھا۔ وہ جانتا تھا کہ کون سا کام میرے سپرد ہوا ہے۔ وہ جانتا تھا کہ «مَیں خدا کے پاس سے آیا اور خدا ہی کے پاس جاتا ہوں۔» واپسی کا یہ سفر شروع ہو چکا تھا۔

۱۳:‏۴ چونکہ وہ جانتا تھا کہ مَیں کون ہوں،‏ میرا مقصد اور میری منزل کیا ہے۔ اِس لئے وہ اپنے شاگردوں کے پاؤں دھونے کو جھک گیا۔ «دستر خوان سے اُٹھ کر» خداوند نے اپنا اوپر کا لمبا چوغہ اُتارا۔ پھر ایک «رومال» یا تولیہ اَیپرن کے طور پر باندھا اور یوں غلام کا مقام اِختیار کیا۔ ہم توقع کر سکتے تھے کہ یہ بیان مرقس کی اِنجیل میں ہو گا جو یسوع کو کامل خادم کے طور پر پیش کرتی ہے۔ لیکن یہ حقیقت کہ یہ واقعہ اُس اِنجیل میں مرقوم ہے جو اُسے خدا کے بیٹے کے طور پر پیش کرتی ہے اِس کی اہمیت کو اَور بڑھا دیتی ہے۔

یہ ایک علامتی فعل تھا اور ہمیں یاد دلاتا ہے کہ خداوند نے شاندار آسمانی محلات کو چھوڑا اور خادم کی صورت میں اِس دُنیا میں آگیا تاکہ اُن کی خدمت کرے جن کو اُس نے خلق کیا تھا۔

۱۳:‏۵ مشرقی ممالک میں کھلی سینڈلیں پہنی جاتی ہیں۔ اِس لئے پاؤں گردو غبار سے اَٹ جاتے ہیں۔ لہٰذا پاؤں دھونا ضروری ہو جاتا ہے۔ عام ادب آداب میں شامل تھا کہ میزبان بندوبست کرے کہ کوئی غلام مہمانوں کے پاؤں دھوئے۔ یہاں اِلٰہی میزبان نے غلام بن کر یہ حقیر خدمت کی۔ غور کریں «یسوع،‏ غدار کے پاؤں دھوتا ہے۔ یہ کیسا منظر ہے! ہمارے لئے اِس میں کیسے کیسے سبق ہیں!»

۱۳:‏۶ پطرس کو اِس بات سے بہت دھچکا لگا کہ خداوند «میرے پاؤں دھوتا ہے۔» اُس نے ناپسندیدگی کا اِظہار کیا کہ خداوند جیسی عظیم ہستی میرے جیسے نالائق شخص کے لئے یہاں تک جھک جائے۔ «خدا کو خادم کے رُوپ میں دیکھنے سے گھبراہٹ پیدا ہوتی ہے۔»

۱۳:‏۷ اب یسوع نے پطرس کو سکھایا کہ مَیں جو کچھ کر رہا ہوں،‏ اِس میں روحانی معانی ہیں۔ پاؤں دھونا روحانی دُھلائی کی ایک مثال تھا۔ پطرس جان گیا کہ خداوند ایک جسمانی کام کر رہا ہے۔ لیکن وہ روحانی اہمیت اور مفہوم نہ سمجھا۔ مگر بہت جلد «سمجھے گا۔» اِس لئے کہ خداوند خود اِس کی وضاحت کر رہا تھا۔ اور وہ تجربے سے «سمجھے گا» جب بعد میں وہ خداوند کا اِنکار کرنے کے بعد بحال کیا جائے گا۔

۱۳:‏۸ پطرس اِنسانی فطرت کی اِنتہاؤں کی مثال پیش کرتا ہے۔ اُس نے قسم کھائی کہ خداوند «میرے پاؤں ابد تک کبھی دھونے نہ پائے گا»۔ لفظ «ابد تک… نہ» پر غور کریں۔ خداوند نے پطرس کو جواب دیا کہ «اگر مَیں تجھے نہ دھوؤں تو تُو میرے ساتھ شریک نہیں۔» اب پاؤں دھونے کا مطلب واضح ہوتا ہے۔ جب مسیحی اِس دُنیا میں سے گزرتے ہیں تو کسی حد تک ناپاک ہو جاتے ہیں۔ گندی باتیں سنتے ہیں،‏ ناپاک چیزیں دیکھتے ہیں،‏ بے خدا لوگوں کے ساتھ کام کرتے ہیں،‏ ایسے میں ایمان داروں کا ناپاک ہو جانا ناگزیر ہے۔ ضرور ہے کہ وہ مسلسل دھویا جاتا رہے۔

دھونے اور صاف کرنے کا عمل کلام کے پانی سے ہوتا ہے۔ جب ہم بائبل مقدس پڑھتے اور اِس کا مطالعہ کرتے ہیں،‏ جب ہم بائبل مقدس کی تشریح سنتے ہیں،‏ جب ایک دوسرے کے ساتھ اِس کی باتوں پر تبادلۂ خیال کرتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ یہ ہمیں آس پاس کے بُرے اثرات سے صاف کرتی ہے۔ دوسری طرف ہم بائبل مقدس کو جتنا نظر انداز کریں گے،‏ اُتنا ہی یہ بُرے اثرات ہمارے دماغوں اور زندگیوں سے چمٹے رہیں گے اور ہمیں اُن کی کوئی فکر نہ ہو گی۔ جب یسوع نے کہا کہ «تُو میرے ساتھ شریک نہیں» تو اِس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ جب تک خداوند اُسے نہ دھوئے پطرس نجات نہیں پائے گا بلکہ یہ کہ خداوند کے ساتھ رفاقت و شراکت اِسی صورت میں قائم رہ سکتی ہے کہ پاک نوشتوں کے وسیلے سے مسلسل ڈھلتا رہے۔

۱۳:‏۹،‏۱۰ اب پطرس دوسری انتہا پر جا پہنچا۔ ایک منٹ پہلے وہ کہہ رہا تھا «…کبھی… نہ…» اب کہتا ہے کہ «مجھے پوری طرح دھو دے۔»

حمام پر غسل کر کے واپس آتے ہوئے آدمی کے پاؤں دوبارہ گندے ہو جاتے ہیں۔ اُسے دوبارہ نہانے کی نہیں بلکہ پاؤں دھونے کی ضرورت ہوتی ہے۔ «جو نہا چکا ہے اُس کو پاؤں کے سوا اَور کچھ دھونے کی حاجت نہیں۔» حمام اور برتن (‏باسن)‏ میں فرق ہوتا ہے۔ حمام یا نہانا اُس صفائی کا بیان کرتا ہے جو اِنسان کو نجات پاتے وقت ملتی ہے۔ مسیح کے خون کے وسیلے سے گناہ کی سزا سے صفائی صرف ایک دفعہ ہوتی ہے۔ برتن گناہ کی ناپاکی اور پلیدی سے صفائی کا بیان کرتا ہے اور ضرور ہے کہ خدا کے کلام کے وسیلے سے یہ دھونے کا سلسلہ مسلسل جاری رہے۔ غسل ایک ہی ہے،‏ پاؤں دھونا بار بار ہوتا ہے۔ «تم پاک ہو،‏ لیکن سب کے سب نہیں۔» اِس کا مطلب ہے کہ شاگردوں کو نئی پیدائش کا غسل مل چکا تھا — مراد ہے سوائے یہوداہ کے سارے شاگردوں کو۔ یہوداہ کو کبھی نجات کا تجربہ نہیں ہوا تھا۔

۱۳:‏۱۱ خداوند عالمِ کُل ہے۔ وہ جانتا تھا کہ یہوداہ مجھے دھوکے سے پکڑوائے گا۔ اِس لئے اُس نے ایک اُس شخص کو الگ کر دیا جس کو نجات کا غسل کبھی حاصل نہیں ہوا تھا۔

ط۔ یسوع شاگردوں کو اپنے نمونے کی پیروی کرنا سکھاتا ہے  (‏۱۳:‏۱۲-‏۲۰)‏

۱۳:‏۱۲ لگتا ہے کہ مسیح نے اپنے «سارے» شاگردوں کے «پاؤں دھوئے»۔ اِس کے بعد «اپنے کپڑے پہن کر پھر بیٹھ گیا» تاکہ جو کچھ اُس نے کیا تھا اُس کے روحانی معانی اُن کو سمجھائے۔ اُس نے بات کا آغاز ایک سوال سے کیا۔ خداوند کے سوالات کا مطالعہ بھی بہت دلچسپ ہے۔ سوالات تعلیم دینے کا ایک موثر ذریعہ ہیں۔

۱۳:‏۱۳،‏۱۴ شاگردوں نے یسوع کو اپنا «خداوند اور اُستاد» مان لیا تھا اور ایسا کرنے میں حق بجانب تھے۔ مگر اُس کے نمونے نے ثابت کر دیا کہ خدا کی بادشاہی میں سب سے اُونچا رُتبہ خادم کا ہے۔

«اگر اُستاد اور خداوند» نے اپنے شاگردوں کے «پاؤں دھوئے» تو اُن کے پاس کیا عذر رہ جاتا ہے کہ «ایک دوسرے کے پاؤں» نہ دھوئیں۔ کیا خداوند کا مطلب تھا کہ وہ لفظی معنوں میں ایک دوسرے کے پاؤں پانی سے دھویا کریں؟ کیا وہ کلیسیا کے لئے کوئی رسوماتی ضابطہ مقرر کر رہا تھا؟ نہیں،‏ یہاں مطلب روحانی ہے۔ وہ اُن سے کہہ رہا تھا کہ کلام میں ایک دوسرے کے ساتھ متواتر رفاقت کے وسیلے سے ایک دوسرے کو پاک رکھیں۔ اگر کوئی دیکھتا ہے کہ میرا بھائی روحانیت میں ٹھنڈا اور دُنیاداری میں سرگرم ہوتا جا رہا ہے تو لازم ہے کہ وہ بائبل مقدس میں سے اور محبت کی روح میں اُسے نصیحت کرے۔

۱۳:‏۱۵،‏۱۶ خداوند نے اُن کو «ایک نمونہ دِکھایا» تھا کہ وہ روحانی طور پر ایک دوسرے سے کیا سلوک کیا کریں۔ اگر غرور اور ذاتی دشمنیاں ہمیں اپنے بھائیوں کی خدمت کے لئے جھکنے سے روکتی ہیں تو ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ ہم «اپنے مالک سے بڑے» نہیں ہیں۔ اُس نے اِنکساری اِختیار کر کے اُن کے پاؤں دھوئے جو ناشکرے اور نالائق تھے۔ اور وہ یہ بھی جانتا تھا کہ اِن میں سے ایک مجھے دھوکے سے پکڑوائے گا۔ کیا آپ بھی اِنکساری سے کسی ایسے آدمی کی خدمت کریں گے جس کے بارے میں جانتے ہوں کہ روپے پیسے کے معاملے میں آپ کو دھوکا دے گا؟ «بھیجے ہوؤں» کو یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ ہم «بھیجنے والے» سے اِتنے بلند و بالا ہیں کہ وہ کام نہیں کر سکتے جو اُس نے کیا تھا۔

۱۳:‏۱۷ اِنکساری،‏ بے غرضی اور خدمت کے بارے میں جاننا ایک بات ہے،‏ لیکن اِن پر عمل کرنا اَور بات ہے۔ اصل برکت تو «عمل» میں ہے۔

۱۳:‏۱۸ خدمت گزاری کے بارے میں خداوند جو باتیں ابھی ابھی سکھا رہا تھا،‏ اُن کا اِطلاق یہوداہ پر «نہیں» ہوتا تھا۔ وہ اُن میں سے نہیں تھا جن کو خداوند اِنجیل کی خوش خبری سونپ کر ساری دُنیا میں بھیجنے کو تھا۔ یسوع جانتا تھا کہ میرے پکڑوائے جانے کے بارے میں «نوشتہ» کا «پورا ہونا» ضرور ہے مثلاً زبور ۴۱:‏۹۔ یہوداہ وہ شخص تھا جو تین سال سے خداوند کے ساتھ روٹی کھا رہا تھا۔ تو بھی اُس نے خداوند پر «لات اُٹھائی»۔ اِس اِصطلاح کا مطلب ہے اُس نے خداوند کو دھوکے سے پکڑوا دیا۔ زبور ۴۱ میں خداوند نے ایسے دھوکے باز کو «دلی دوست» (‏آیت ۹)‏ کے لقب سے بیان کیا ہے۔

۱۳:‏۱۹ خداوند نے شاگردوں کو پیشتر ہی بتا دیا کہ مجھے پکڑوایا جائے گا تاکہ «جب ہو جائے تو تم ایمان لاؤ»۔ آیت کے آخری حصے میں لفظ «وہی» کو ترجمہ سے حذف کیا جا سکتا ہے۔ پھر یہ نکتہ واضح ہو جاتا ہے «تو تم ایمان لاؤ کہ مَیں ہوں»۔ نئے عہدنامے کا یسوع پرانے عہدنامے کا یہوواہ ہے۔ اِس طرح یہ پوری ہونے والی نبوت مسیح کی الوہیت کا ثبوت ہے اور ساتھ ہی نوشتوں کے الہامی ہونے کا بھی ثبوت ہے۔

۱۳:‏۲۰ مسیح جانتا تھا کہ میرے پکڑوائے جانے سے شاگرد ٹھوکر کھا سکتے یا شک میں پڑ سکتے ہیں۔ اِس لئے اُس نے اُن کی دلجمعی کے لئے یہ بات کہی۔ اُن کو یاد ہونا چاہئے کہ اُنہیں ایک الٰہی مقصد اور کام کے لئے بھیجا جا رہا ہے۔ اُن کو خداوند کے اِتنا مشابہ ہونا چاہئے کہ اُن کو قبول کرنا ایسا ہی ہو جیسے خداوند کو قبول کرنا۔ علاوہ ازیں جو مسیح کو قبول کرتے ہیں،‏ وہ خدا باپ کو قبول کرتے ہیں۔ چنانچہ خدا بیٹے اور خدا باپ کے ساتھ اِس قریبی تعلق کے باعث اُن کو تسلی اور حوصلہ حاصل ہو سکتا تھا۔

ی۔ یسوع اپنے پکڑوائے جانے کی نبوت کرتا ہے  (۱۳:‏۲۱-‏۳۰)‏

۱۳:‏۲۱،‏۲۲ خداوند اِس علم سے گھبرا اُٹھا کہ میرے شاگردوں میں سے «ایک شخص مجھے پکڑوائے گا»۔ لگتا ہے یہاں یسوع اپنے پکڑوانے والے کو ایک آخری موقع دے رہا تھا کہ وہ اپنے گھنونے منصوبے سے باز آ جائے۔ مگر خداوند نے اُسے براہِ راست بے نقاب نہیں کیا۔ لیکن اِتنا ضرور کہہ دیا کہ «مَیں جانتا ہوں» کہ اِن بارہ میں سے «ایک شخص» مجھے دھوکے سے پکڑوائے گا۔ مگر غدار کا اِرادہ نہ بدلا۔

باقی شاگردوں کو یہوداہ پر شک نہ ہوا۔ وہ حیران رہ گئے کہ ہم میں سے ایک ایسا گھنونا کام کرے گا۔ مگر اُن کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ وہ شخص کون ہو سکتا ہے۔

۱۳:‏۲۳ اُس زمانے میں لوگ کھانا کھانے کے لئے میز پر سیدھے نہیں بیٹھا کرتے تھے» بلکہ نیچی چوکیوں پر نِیم دراز ہو کر بیٹھا کرتے تھے۔ وہ شاگرد «جس سے یسوع محبت رکھتا تھا» یوحنا تھا جس نے یہ اِنجیل لکھی ہے۔ وہ اپنا نام نہیں لکھتا۔ لیکن یہ حقیقت بیان کرنے میں تامل نہیں کرتا کہ وہ نجات دہندہ کے دل میں محبت کا خاص مقام رکھتا تھا۔ خداوند اپنے سارے شاگردوں سے محبت رکھتا تھا،‏ لیکن یوحنا کو خاص قربت حاصل تھی۔

۱۳:‏۲۴،‏۲۵ چنانچہ «شمعون پطرس نے اُس سے اِشارہ کر کے کہا» یعنی بولا نہیں،‏ آواز بلند نہیں کی۔ شاید پطرس نے سر کے اشارے سے یوحنا سے کہا کہ غدار کا نام معلوم کرو۔

«یسوع کی چھاتی کا سہارا لے کر» یوحنا نے سرگوشی کر کے وہ منحوس سوال پوچھا۔ اور غالباً ویسی ہی مدھم آواز میں اُسے جواب بھی دیا گیا۔

۱۳:‏۲۶ «یسوع نے جواب دیا کہ جسے مَیں نوالہ ڈبو کر دے دُوں گا،‏ وہی ہے۔» یعنی مے میں یا شوربے میں ڈبو کر دوں گا۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ رواج تھا کہ میزبان کھانے کے وقت معزز مہمان کو روٹی پیش کیا کرتا تھا۔ اور کہ خداوند نے یہوداہ کو معزز مہمان کا رُتبہ دے کر اپنی پُرفضل محبت سے اُسے ترغیب دی کہ توبہ کر لے۔ دوسرے لوگوں کا خیال ہے کہ عیدِ فسح کے موقع پر اِسی طرح روٹی ایک دوسرے کو دی جاتی تھی۔ اگر یہ بات درست ہے تو یہوداہ فسح کے کھانے کے دوران مگر عشائے ربانی کے مقرر کئے جانے سے پہلے باہر نکل گیا۔

۱۳:‏۲۷ ابلیس پہلے ہی یہوداہ کے دل میں ڈال چکا تھا کہ وہ خداوند کو پکڑوائے۔ اب «شیطان اُس میں سما گیا»۔ پہلے یہ بات صرف ایک مشورہ تھی۔ لیکن یہوداہ نے اِسے دل میں چھپائے رکھا،‏ اِسے پسند کیا اور رضامند ہو گیا۔ اب ابلیس نے اُسے اپنے اِختیار میں لے لیا۔ یہ جانتے ہوئے کہ اُس نے پختہ ارادہ کر لیا ہے،‏ خداوند نے اُس سے کہا کہ «جو کچھ تُو کرتا ہے جلد کر لے۔» بے شک وہ بُرائی کرنے میں اُس کی حوصلہ افزائی نہیں کر رہا تھا بلکہ افسوس کے ساتھ ظاہر کر رہا تھا کہ مَیں اِس معاملے میں بے تعلق ہوں۔

۱۳:‏۲۸،‏۲۹ یہاں تصدیق ہوتی ہے کہ نوالہ دینے کے بارے میں یوحنا اور یسوع کے درمیان جو بات چیت پہلے ہوئی تھی وہ کسی دوسرے نے نہیں سنی تھی۔ اُن کو ابھی تک خبر نہ تھی کہ یہوداہ ہمارے خداوند کو پکڑوانے کو ہے۔

«بعض نے سمجھا» کہ یسوع نے یہوداہ سے کہا ہے کہ «عید کے لئے» کچھ «خرید لے»،‏ یا چونکہ یہوداہ خزانچی تھا اِس لئے اُسے ہدایت کی ہے کہ «محتاجوں کو کچھ دے۔»

۱۳:‏۳۰ یہوداہ نے «نوالہ لیا»۔ یہ خصوصی شفقت کی علامت تھی۔ «نوالہ لے کر» وہ خداوند اور دوسرے شاگردوں کی صحبت سے نکل گیا۔ پاک کلام نہایت معانی خیز الفاظ کا اضافہ کرتا ہے کہ «اور رات کا وقت تھا»۔ لفظی معانی ہی میں رات نہ تھی بلکہ یہوداہ کے لئے روحانی لحاظ سے بھی «رات تھی» اور یہ اُداسی اور پچھتاوے کی کبھی نہ ختم ہونے والی رات تھی۔ جب لوگ خداوند سے منہ موڑ لیتے ہیں تو رات ہی رات ہوتی ہے۔

ک۔ نیا حکم دیا جاتا ہے  (۱۳:‏۳۱-‏۳۵)‏

۱۳:‏۳۱ جونہی یہوداہ چلا گیا «یسوع» شاگردوں کے ساتھ زیادہ آزادی اور بے تکلفی سے باتیں کرنے لگا۔ تناؤ ختم ہو چکا تھا۔ اُس نے کہا،‏ «اب ابنِ آدم نے جلال پایا۔» خداوند کفارے کے اُس کام کے بارے میں سوچ رہا تھا جسے وہ پورا کرنے کو تھا۔ اُس کی موت شکست معلوم ہوتی تھی،‏ لیکن یہ موت کھوئے ہوئے گنہگاروں کی نجات کا وسیلہ ہے۔ اِس کے بعد خداوند کی قیامت اور صعود ہوا اور اِن ساری باتوں میں اُس نے بڑی عزت پائی۔ نجات دہندہ کے کام سے «خدا نے… جلال پایا»۔ اِس کام نے ثابت کر دیا کہ وہ پاک خدا ہے جو گناہ سے چشم پوشی نہیں کر سکتا۔ لیکن وہ محبت کرنے والا خدا بھی ہے جو کسی گنہگار کی موت نہیں چاہتا۔ اُس نے ثابت کر دیا کہ وہ کس طرح ایک عادل خدا بھی ہے جو گنہگاروں کو راست باز ٹھہرا سکتا ہے۔ خدا کی ہر صفت کلوری پر اِنتہائی اعلیٰ طور پر سامنے آئی۔

۱۳:‏۳۲ خداوند نے کہا،‏ «اور خدا بھی اُسے (‏یسوع کو)‏ اپنے میں جلال دے گا۔» یعنی اگر «خدا نے اُس میں جلال پایا» (‏آیت ۳۱)‏ تو خدا بھی اُسے اپنے میں جلال دے گا۔ خدا اِس کا خیال کرے گا کہ میرے پیارے بیٹے کو مناسب عزت ملے۔ «بلکہ اُسے فی الفور جلال دے گا۔» کوئی تاخیر نہ ہو گی۔ خدا باپ نے خداوند یسوع کی یہ پیش گوئی اُس کو مُردوں میں سے جلانے اور آسمان پر اُسے اپنے دہنے ہاتھ بٹھانے سے پوری کی۔ خدا اُس وقت تک اِنتظار کرنے کو تیار نہ تھا جب بادشاہی کا آغاز ہو گا۔ وہ اپنے بیٹے کو «فی الفور جلال دے گا»۔

۱۳:‏۳۳ یہ پہلا موقع ہے کہ خداوند یسوع نے اپنے شاگردوں کو «اے (‏چھوٹے)‏ بچو» کہہ کر مخاطب کیا۔ یہ نہایت اُلفت اور پیار کے الفاظ ہیں۔ خداوند نے اِنہیں صرف اُس وقت استعمال کیا جب یہوداہ چلا گیا تھا۔ اُس نے مزید کہا کہ «مَیں اَور تھوڑی دیر تمہارے ساتھ ہوں۔» پھر اُسے صلیب پر مرنا تھا۔ پھر وہ اُس کو «ڈھونڈیں گے» مگر اُس کے پیچھے نہیں جا سکیں گے کیونکہ وہ واپس آسمان پر چلا جائے گا۔ خداوند نے یہی بات یہودیوں سے بھی کہی تھی،‏ مگر اُس وقت مطلب فرق تھا۔ شاگردوں کے لئے اُس کی جدائی عارضی ہو گی۔ وہ اُنہیں لینے کو دوبارہ آئے گا (‏باب ۱۴)‏۔ لیکن «یہودیوں» کے لئے اُس کا جانا حتمی اور ہمیشہ کے لئے ہو گا۔ وہ آسمان پر واپس جا رہا تھا۔ اور یہودی اپنی بے اعتقادی کے باعث اُس کے پیچھے نہ جا سکیں گے۔

۱۳:‏۳۴ اُس کی غیر حاضری میں وہ محبت کے حکم کے ماتحت ہوں گے۔ وقت کے لحاظ سے یہ حکم نیا نہیں کیونکہ دس احکام خدا کی محبت اور اپنے پڑوسی سے محبت رکھنا سکھاتے ہیں۔ لیکن دوسرے لحاظ سے یہ «نیا حکم» تھا۔ یہ اِس لئے «نیا» ہے کہ روح القدس ایمان داروں کو اِس کی تعمیل کرنے کی توفیق دے گا۔ یہ اِس لئے «نیا» ہے کہ یہ پرانے حکم سے اعلیٰ تر ہے۔ پرانا حکم کہتا ہے کہ «اپنے پڑوسی سے محبت رکھ۔» نیا حکم کہتا ہے کہ «اپنے دشمنوں سے محبت رکھ۔»

کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ دوسروں سے محبت کے قانون کی اب صاف صاف وضاحت ہوئی ہے،‏ اب اِس کا نفاذ نئے محرکات اور نئے فرائض کے ساتھ ہوا،‏ اِس کی تشریح نئی مثال سے ہوئی،‏ اور نئے انداز سے اِس کی تعمیل ہوتی ہے۔

اور جیسا کہ آیت میں کہا گیا ہے یہ حکم اِس لئے بھی نیا تھا کہ یہ اعلیٰ درجے کی محبت کا تقاضا کرتا ہے:‏«جیسے مَیں نے تم سے محبت رکھی،‏ تم بھی ایک دوسرے سے محبت رکھو۔»

۱۳:‏۳۵ مسیحی شاگردیت کا نشان وہ صلیب نہیں جو ہم گردن میں لٹکا لیتے یا کالر پر سجا لیتے ہیں۔ نہ مخصوص قسم کی پوشاک ہی شاگردیت کا نشان ہے۔ کوئی شخص بھی اِن علامات سے مسیح کا شاگرد ہونے کا دعویٰ کر سکتا ہے۔ ایک مسیحی کا اصلی اور حقیقی نشان وہ «محبت» ہے جو وہ ساتھی مسیحیوں سے رکھتا ہے۔ اِس کے لئے الٰہی توفیق کی ضرورت ہے۔ اور یہ توفیق صرف اُن کو حاصل ہوتی ہے جن کے اندر روح القدس سکونت کرتا ہے۔

ل۔ یسوع پطرس کے اِنکار کرنے کی پیش گوئی کرتا ہے  (‏۱۳:‏۳۶-‏۳۸)‏

۱۳:‏۳۶ شمعون پطرس نہ سمجھا کہ خداوند یسوع نے اپنی موت کی بات کی ہے۔ وہ سمجھا کہ یسوع کسی زمینی سفر پر جا رہا ہے۔ شمعون پطرس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ ہم ساتھ کیوں نہیں جا سکتے۔ خداوند نے بتایا کہ پطرس،‏ «بعد میں میرے پیچھے آئے گا» یعنی جب مرے گا مگر اب ایسا نہیں کر سکتا۔

۱۳:‏۳۷ مثالی جاں نثاری اور جوش و ولولہ کے ساتھ پطرس نے اِظہار کیا کہ «مَیں تو تیرے لئے اپنی جان دوں گا۔» اُس کا خیال تھا کہ وہ اپنی طاقت سے شہادت برداشت کر سکتا ہے۔ بعد میں وہ خداوند کی خاطر واقعی مرا۔ لیکن اِس کے لئے خدا نے اُسے خصوصی ہمت اور طاقت عطا کی تھی۔

۱۳:‏۳۸ یسوع نے پطرس کو ٹوکا کیونکہ اُس کا جوش اور ولولہ بے جانے بوجھے کا جوش اور ولولہ تھا۔ اُس نے پطرس کو وہ بات بتائی جس کا پطرس کو کچھ علم نہ تھا کہ رات ختم ہونے سے پہلے وہ خداوند کا «تین بار» اِنکار کرے گا۔ یوں پطرس کو اُس کی کمزوری اور بزدلی یاد دلائی گئی۔ اور اُسے بتایا گیا کہ وہ اپنی طاقت سے چند گھڑیاں بھی خداوند کے پیچھے نہیں چل سکتا۔

م۔ یسوع — راہ اور حق اور زندگی  (‏۱۴:‏۱-‏۱۴)‏

۱۴:‏۱ بعض لوگ اِس پہلی آیت کا تعلق باب ۱۳ کی آخری آیت سے قائم کر کے خیال کرتے ہیں کہ یہ الفاظ پطرس سے کہے گئے تھے۔ اگرچہ وہ خداوند کا اِنکار کرے گا،‏ مگر اُس کے لئے تسلی کی بات بھی تھی۔ لیکن یونانی میں اور اُردو ترجمے میں بھی جمع کا صیغہ «تم» استعمال کیا گیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سارے شاگردوں کو مخاطب کیا گیا تھا۔ اِس لئے ہمیں باب ۱۳ کے بعد توقف کرنا ہو گا۔ خیال کچھ یوں معلوم ہوتا ہے کہ «مَیں جا رہا ہوں،‏ تم مجھے دیکھ نہیں سکو گے»۔ مگر «تمہارا دل نہ گھبرائے۔ تم خدا پر ایمان رکھتے ہو» گو اُسے دیکھ نہیں سکتے۔ اب اِسی طرح «مجھ پر بھی ایمان رکھو»۔ یہاں خدا کے برابر ہونے کا ایک اَور زبردست دعویٰ ہے۔

۱۴:‏۲ «باپ کے گھر» سے مراد آسمان (‏بہشت)‏ ہے جہاں «بہت سے مکان ہیں»۔ «اگر نہ ہوتے» تو خداوند اپنے شاگردوں سے «کہہ دیتا»۔ وہ اُن کو جھوٹی اُمیدیں نہ دلاتا۔ «مَیں جاتا ہوں تاکہ تمہارے لئے جگہ تیار کروں۔» اِس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ خداوند یسوع اپنے لوگوں کے لئے جگہ تیار کرنے کی خاطر کلوری پر گیا۔ اُس کی فدیے کی موت ہی کے وسیلے سے ایمان داروں کو یقین ہوتا ہے کہ وہاں جگہ ملے گی۔ علاوہ ازیں خداوند جگہ تیار کرنے کے لئے واپس آسمان پر بھی گیا۔ ہمیں اُس جگہ کے بارے میں کوئی خاص علم نہیں۔ لیکن اِتنا ضرور جانتے ہیں کہ خدا کے ہر فرزند کے لئے وہاں بندوبست کیا جا رہا ہے —«تیار لوگوں کے لئے تیار جگہ»۔

۱۴:‏۳ یہ آیت اُس وقت کا پتا دیتی ہے جب خداوند ہوا میں «پھر» یعنی دوسری دفعہ آئے گا۔ اُس وقت وہ جو ایمان میں موئے زندہ کئے جائیں گے،‏ جو زندہ ہوں گے وہ بدل جائیں گے۔ اور ساری خون خریدی بھیڑ آسمانی وطن میں لے جائی جائے گی (‏۱۔تھسلنیکیوں ۴:‏۱۳-‏۱۸؛  ۱۔کرنتھیوں ۱۵:‏۵۱-‏۵۸)‏۔ یہ مسیح کی شخصی اور لغوی معنوں میں آمد ہو گی۔ جیسے وہ گیا تھا،‏ اِسی طرح اُس کا دوبارہ آنا یقینی ہے۔ اُس کی خواہش ہے کہ اپنے لوگوں کو تاابد اپنے ساتھ رکھے۔

۱۴:‏۴،‏۵ خداوند آسمان پر جا رہا تھا اور شاگرد «وہاں کی راہ جانتے» تھے کیونکہ وہ اُن کو کئی دفعہ بتا چکا تھا۔ صاف نظر آتا ہے کہ توما خداوند کی بات نہیں سمجھا۔ پطرس کی طرح غالباً وہ بھی سوچ رہا تھا کہ یہ دُنیا ہی میں کسی جگہ کے سفر کی بات ہے۔

۱۴:‏۶ یہ نہایت خوبصورت آیت ہے۔ یہ واضح کرتی ہے کہ خداوند یسوع مسیح خود آسمان کی «راہ» ہے۔ وہ صرف راہ دکھاتا ہی نہیں وہ خود «راہ» ہے۔ نجات ایک شخص میں ہے۔ اُس شخص کو اپنا مان لو اور تمہیں نجات مل گئی۔ مسیح ہی مسیحیت ہے۔ خداوند یسوع بہت سی راہوں میں سے ایک راہ نہیں ہے بلکہ وہی واحد راہ ہے۔ «کوئی میرے وسیلہ کے بغیر باپ کے پاس نہیں آتا۔» دس حکم خدا کے پاس پہنچنے کی راہ نہیں۔ سنہری اصول،‏ شرعی ضابطے،‏ کلیسیا کی رُکنیت،‏ غرض کوئی اَور چیز وہ راہ نہیں،‏ مسیح اور صرف مسیح ہی وہ وسیلہ ہے جس سے اِنسان باپ کے پاس آ سکتا ہے۔ آج کل بہت سے لوگ کہتے پھرتے ہیں کہ اگر آپ مخلص ہیں تو کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کیا ایمان رکھتے ہیں۔ لیکن یسوع کہتا ہے کہ «کوئی میرے وسیلہ کے بغیر باپ کے پاس نہیں آتا۔»

پھر خداوند «حق» (‏سچائی)‏ ہے۔ وہ صرف ایک شخص نہیں جو سچائی (‏حق)‏ کی تعلیم دیتا ہے،‏ بلکہ وہ خود «حق» ہے۔ وہ مجسم سچائی ہے۔ جن کے پاس مسیح ہے،‏ اُن کے پاس سچائی ہے۔ یہ سچائی کسی اَور جگہ نہیں ملتی۔

یسوع مسیح «زندگی» ہے۔ وہ روحانی اور ابدی زندگی کا منبع ہے۔ جو اُسے قبول کرتا ہے اُس کے پاس ابدی زندگی ہے۔ کیونکہ وہ ہی زندگی ہے۔

۱۴:‏۷ ایک دفعہ پھر خداوند نے اُس پُراسرار یکتائی کی تعلیم دی جو اُس میں اور باپ میں پائی جاتی ہے۔ اگر شاگردوں کو عرفان ہوتا کہ حقیقت میں یسوع کون ہے تو وہ «باپ کو بھی جانتے»کیونکہ خداوند نے باپ کو اِنسانوں پر ظاہر کیا۔ «اب» سے اور خصوصاً مسیح کی قیامت کے بعد سے شاگرد سمجھیں گے کہ یسوع خدا کا بیٹا ہے۔ اُس وقت وہ جانیں گے کہ مسیح کو جاننا «باپ کو جاننا»ہے اور خداوند یسوع کو دیکھنا خدا کو دیکھنا ہے۔ یہ آیت یہ تعلیم نہیں دیتی کہ خداوند یسوع اور خدا ایک ہی اقنوم ہیں۔ ذاتِ الٰہی میں تین الگ الگ شخص (‏اقانیم)‏ ہیں۔ لیکن خدا صرف ایک ہے۔

۱۴:‏۸ فلپس چاہتا تھا کہ خداوند اُن کو باپ کا خاص مکاشفہ دے۔ اُن کے لئے «یہی…کافی» تھا۔ وہ اَور کوئی درخواست نہ کریں گے۔ وہ نہیں سمجھتا تھا کہ جو کچھ خداوند تھا،‏ جو کچھ وہ کرتا اور کہتا تھا،‏ وہ سب باپ کا مکاشفہ تھا۔ یعنی اِس طرح وہ اُن کو «باپ» دکھاتا تھا۔

۱۴:‏۹ یسوع نے بڑے تحمل سے فلپس کی تصحیح کی۔ فلپس ایک طویل عرصے سے خداوند کے ساتھ تھا۔ وہ اُن شاگردوں میں سے تھا جو دوسروں سے پہلے بلائے گئے تھے (‏یوحنا ۱:‏۴۳)‏۔ لیکن مسیح کی اُلوہیت اور باپ کے ساتھ اُس کی یکتائی کی پوری حقیقت ابھی تک اُس پر واضح نہیں ہوئی تھی۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ جب مَیں مسیح پر نظر کرتا ہوں تو اُس ہستی کو دیکھتا ہوں جس نے باپ کو کامل طور پر دِکھا دیا ہے۔

۱۴:‏۱۰،‏۱۱ «مَیں باپ میں ہوں اور باپ مجھ میں ہے۔» یہ الفاظ اُس گہری یکتائی کو بیان کرتے ہیں جو «باپ» اور «بیٹے» میں ہے۔ وہ الگ الگ اقنوم ہیں۔ لیکن صفات اور ارادے میں ایک ہیں۔ اگر ہم اِس بھید کو سمجھ نہیں سکتے تو بے دل نہ ہوں۔ کوئی فانی اور محدود ذہن ذاتِ الٰہی کو سمجھ نہیں سکتا۔ ہمیں خدا کی تعریف کرنی چاہئے کہ وہ،‏ وہ باتیں جانتا ہے جو ہم کبھی نہیں جان سکتے۔ اگر ہم اُس کو سمجھ جائیں تو اُس کی مانند عظیم ہو جائیں گے! یسوع کو کلام کرنے اور معجزے کرنے کی قدرت حاصل تھی لیکن وہ یہوواہ کا خادم بن کر اِس دُنیا میں آ گیا اور باپ کی کامل فرماں برداری میں کلام اور کام کرتا رہا۔ شاگردوں کو «یقین کرنا» چاہئے تھا کہ مسیح «باپ» کے ساتھ ایک ہے کیونکہ وہ خود اِس حقیقت کی گواہی دیتا ہے۔ اگر نہیں تو پھر اُن کو اُن «کاموں» کے سبب سے «یقین کرنا» چاہئے تھا جو خداوند کرتا تھا۔

۱۴:‏۱۲ خداوند نے پیش گوئی کی کہ «جو مجھ پر ایمان رکھتا ہے» وہ اُسی کی طرح معجزے کرے گا،‏ «بلکہ اِن سے بھی بڑے کام کرے گا»۔ اعمال کی کتاب میں ہم پڑھتے ہیں کہ شاگردوں نے جسمانی طور پر شفا دی۔ یہ نجات دہندہ ہی کی طرح کے معجزے تھے۔ لیکن اِن سے بھی بڑے معجزوں کے بارے میں پڑھتے ہیں۔ مثلاً پنتکست کے دن تین ہزار لوگوں کا ایمان لانا۔ جب خداوند نے «اِن سے بھی بڑے کاموں» کی بات کی تو اِشارہ بلاشبہ ساری دُنیا میں اِنجیل کی منادی،‏ بے شمار لوگوں کی نجات اور کلیسیا کی تعمیر کی طرف تھا۔ جب خداوند آسمان پر واپس چلا گیا تو اُس نے جلال پا کر روح القدس کو دُنیا میں بھیجا اور روح کی قدرت سے رسولوں نے یہ زیادہ بڑے معجزے کئے۔

۱۴:‏۱۳ شاگردوں کو یہ جان کر کیسی تسلی ملی ہو گی کہ اگرچہ خداوند اُن کو چھوڑ رہا تھا،‏ مگر وہ اُس کے نام سے باپ سے دعا مانگ سکتے اور اپنی درخواستیں پا سکتے تھے۔ یہ آیت یہ تعلیم نہیں دیتی کہ ایمان دار جو چاہے خدا سے لے سکتا ہے۔ اِس وعدے کو سمجھنے کی کلید «میرے نام سے» کے الفاظ میں ہے۔ «جو کچھ تم میرے نام سے چاہو گے…» یسوع کے نام سے مانگنے کا مطلب یہ نہیں کہ دعا کے آخر میں اُس کا نام لگا دیا جائے بلکہ مطلب ہے اُس کی سوچ اور اِرادے کے مطابق مانگنا۔ وہ چیزیں مانگنا جن سے خدا کا جلال ظاہر ہو۔ وہ چیزیں جن سے بنی نوعِ اِنسان کو برکت ملے اور ہماری اپنی روحانی بہتری ہو۔

مسیح کے نام سے مانگنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اُس کی گہری رفاقت میں زندگی بسر کریں۔ ورنہ ہمیں اُس کے اندازِ فکر کا پتا نہیں لگ سکے گا۔ ہم جتنا اُس کے قریب ہوں گے اِتنی ہی ہماری خواہشات اُس کی خواہشات کی مانند ہوں گی۔ «باپ بیٹے میں جلال پائے۔» باپ بیٹے میں اِس لئے جلال پاتا ہے کہ بیٹا صرف اُن چیزوں کی خواہش کرتا ہے جو باپ کو پسند آتی ہیں۔ جب اِس قسم کی دعائیں مانگی جاتی اور منظور ہوتی ہیں تو اِن سے خدا کو زیادہ جلال ملتا ہے۔

۱۴:‏۱۴ تاکید کی خاطر وعدے کو دہرایا گیا ہے۔ نیز اِس لئے بھی کہ خدا کے لوگوں کی زبردست حوصلہ افزائی ہو۔ آپ اُس کی مرضی کو مرکزیت دیں،‏ خدا کی رفاقت میں چلیں،‏ ہر وہ چیز «مانگیں» جو خداوند چاہتا ہے تو آپ کی دعائیں قبوں ہوں گی۔ اُن کا جواب ملے گا۔

ن۔ دوسرے مددگار کا وعدہ  (‏۱۴:‏۱۵-‏۲۶)‏

۱۴:‏۱۵ خداوند یسوع اپنے شاگردوں کو چھوڑ کر جانے کو تھا۔ اِس کے باعث وہ نہایت غمگین ہوں گے۔ پھر وہ اُس پر اپنی محبت کیسے ظاہر کر سکیں گے؟ جواب ہے کہ اُس کے «حکموں پر عمل» کر کے۔ اِس محبت کا اِظہار آنسوؤں سے نہیں بلکہ فرماں برداری سے ہو گا۔ خداوند کے «حکموں» سے مراد وہ ہدایات ہیں جو اُس نے اناجیل اور بقیہ نئے عہدنامے میں ہمیں دی ہیں۔

۱۴:‏۱۶ یہاں جس لفظ کا ترجمہ «درخواست کروں گا» کیا گیا ہے،‏ وہ لفظ نہیں ہے جو اُس وقت استعمال ہوتا ہے جب کوئی ادنیٰ یا کم درجے کا شخص کسی اعلیٰ یا بلند درجے کے شخص سے عرض کرتا ہے بلکہ وہ لفظ ہے جو برابر کے درجے کے افراد میں استعمال ہوتا ہے۔ خداوند «باپ سے درخواست کرے گا» کہ «دوسرا مددگار» بھیجے۔ لفظ «مددگار» «فارقلیط» کا مطلب ہے جو کسی کی مدد کرنے کے لئے اُس کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔ اِس کا ترجمہ «وکیل» یا «شفیع» بھی ہے۔ خداوند یسوع ہمارا وکیل یا شفیع یا مددگار ہے اور روح القدس «دوسرا مددگار» ہے۔ یہ مطلب نہیں کہ وہ فرق قسم کا کوئی دوسرا ہے بلکہ ایک ہی ذات رکھنے والا دوسرا ہے۔ روح القدس «ابد تک» ایمان داروں کے «ساتھ» رہے گا۔ پرانے عہدنامہ میں مختلف موقعوں پر روح القدس اِنسانوں پر نازل ہو جاتا مگر اکثر اُن کو چھوڑ بھی جاتا تھا۔ مگر اب وہ «ابد تک» ساتھ رہنے کو آئے گا۔

۱۴:‏۱۷ روح القدس کو «سچائی کا روح» کہا گیا ہے۔ اِس لئے کہ اُس کی تعلیم سچی ہے اور وہ مسیح کو،‏ جو سچائی ہے،‏ جلال دیتا ہے۔ اُسے «دُنیا حاصل نہیں کر سکتی»۔ اِس لئے کہ دُنیا روح القدس کو دیکھ نہیں سکتی۔ غیر ایمان دار ایمان لانے سے پہلے دیکھنا چاہتے ہیں حالانکہ وہ ہوا اور بجلی پر ایمان رکھتے ہیں مگر اُن کو دیکھ نہیں سکتے۔ غیر نجات یافتہ روح القدس کو نہیں جانتے یا نہیں سمجھتے۔ وہ اُن کو گناہ کے بارے میں مجرم ٹھہراتا ہے مگر وہ نہیں جانتے کہ یہ روح القدس ہے۔ شاگرد روح القدس کو جانتے تھے۔ وہ اُسے اپنی زندگیوں میں کام کرنے کی وجہ سے جانتے تھے اور اُنہوں نے اُسے خداوند یسوع کی معرفت کام کرتے دیکھا تھا۔

«وہ تمہارے ساتھ رہتا ہے اور تمہارے اندر ہو گا۔» پنتکست سے پہلے روح القدس اِنسانوں پر نازل ہوتا ہے اور اُن کے «ساتھ» رہتا تھا۔ لیکن پنتکست کے دن سے لے کر جب کوئی شخص خداوند یسوع پر ایمان لاتا ہے تو روح القدس ہمیشہ کے لئے اُس کے اندر سکونت کرتا ہے۔ آج داؤد کی یہ دعا مناسب نہیں کہ«اپنی پاک روح کو مجھ سے جدا نہ کر» (‏زبور ۵۱:‏۱۱)‏۔ روح القدس کو ایمان دار سے کبھی جدا نہیں کیا جاتا۔ البتہ اُس کو رنجیدہ کیا جا سکتا ہے،‏ بجھایا جا سکتا ہے اور روکا جا سکتا ہے۔

۱۴:‏۱۸ «مَیں تمہیں یتیم نہ چھوڑوں گا۔» یعنی تمہیں تمہارے حال پر نہیں چھوڑوں گا۔ خداوند اپنے شاگردوں کے «پاس آئے گا۔» ایک لحاظ سے وہ جی اُٹھنے کے بعد اُن کے پاس آیا،‏ مگر غالباً یہاں یہ مراد نہیں۔ دوسرے لحاظ سے وہ پنتکست کے دن روح القدس کی معرفت اُن کے پاس آیا۔ یہاں حقیقی مطلب روحانی آمد ہے۔ «پنتکست میں کوئی بات تھی جس نے اُسے مسیح کی آمد بنا دیا۔» تیسرے لحاظ سے وہ اِس زمانے کے آخر میں لفظی مفہوم میں اُن کے پاس آئے گا،‏ جب وہ اپنے برگزیدوں کو آسمانی وطن میں لے جائے گا۔

۱۴:‏۱۹ خداوند کی تدفین کے بعد کسی غیر ایمان دار نے اُسے نہیں دیکھا۔ اُس کے جلائے جانے کے بعد صرف اُنہوں نے اُسے دیکھا جو اُس سے محبت رکھتے تھے۔ لیکن اُس کے صعود کے بعد بھی اُس کے شاگرد ایمان سے اُسے دیکھتے رہے۔ اور بلاشبہ «مگر تم مجھے دیکھتے رہو گے» کا یہی مطلب ہے۔ جب دُنیا اُسے نہیں دیکھ سکے گی،‏ تب بھی اُس کے شاگرد اُسے دیکھتے رہیں گے۔ «چونکہ مَیں جیتا ہوں،‏ تم بھی جیتے رہو گے۔» یہاں وہ اپنی اُس زندگی کی طرف دیکھ رہا ہے جو مردوں میں سے جی اُٹھنے کے بعد کی زندگی ہے۔ یہ اُن سب کے لئے زندگی کا بیعانہ ہے جو اُس کا یقین کرتے ہیں۔ خواہ وہ مر بھی جائیں،‏ وہ دوبارہ زندہ کئے جائیں گے،‏ اور پھر کبھی نہ مریں گے۔

۱۴:‏۲۰ «اُس روز» غالباً یہاں بھی مراد روح القدس کے نزول سے ہے۔ وہ ایمان داروں کو سچائی کی تعلیم دے گا کہ جس طرح باپ اور بیٹے کے درمیان گہرا تعلق ہے،‏ اِسی طرح مسیح اور اُس کے مقدسین کے درمیان زندگی کی حیرت ناک یگانگت ہو گی۔ اِس بات کی وضاحت کرنا بے حد مشکل ہے کہ مسیح کس طرح ایمان دار «میں» اور ایمان دار اُسی وقت مسیح «میں» ہوتا ہے۔ عام مثال آگ میں سیخ کی ہے۔ نہ صرف سیخ آگ میں ہوتی ہے بلکہ آگ سیخ میں ہوتی ہے۔ لیکن اِس سے مکمل وضاحت نہیں ہوتی۔ ایمان دار اِس طرح مسیح «میں» ہے کہ مسیح کی زندگی ایمان دار کو منتقل ہوتی ہے۔ وہ روح القدس کے وسیلے سے ایمان دار کے اندر سکونت کرتا ہے۔ اور ایمان دار کے مسیح «میں» ہونے کا مطلب ہے کہ وہ مسیح کی ذات اور کام سے ملبس ہو کر خدا کے حضور کھڑا ہوتا ہے۔

۱۴:‏۲۱ خداوند کے ساتھ محبت کا حقیقی ثبوت اُس کے «حکموں» کی فرماں برداری ہے۔ اگر ہم اُس کے حکموں کو ماننا نہیں چاہتے تو اُس کے ساتھ محبت رکھنے کی بات کرنا بے معانی ہے۔ ایک لحاظ سے باپ ساری دُنیا سے محبت رکھتا ہے۔ لیکن اُن سے خاص محبت رکھتا ہے جو اُس کے بیٹے سے محبت رکھتے ہیں۔ مسیح بھی اُن سے محبت رکھتا ہے اور خاص طریقے سے اپنے آپ کو اُن پر ظاہر کرتا ہے۔ ہم نجات دہندہ سے جتنی محبت رکھیں گے اُتنا ہی زیادہ اُس کو جانیں گے۔

۱۴:‏۲۲ جس «یہوداہ» کا یہاں ذکر ہے بدقسمتی سے اُس شخص کا ہم نام تھا جس نے خداوند سے غداری کی تھی۔ مگر خدا کے روح نے بڑے فضل سے اُس کو «اسکریوتی» سے الگ کر دیا ہے۔ وہ سمجھ نہیں سکا تھا کہ خداوند کس طرح شاگردوں پر تو ظاہر ہو گا مگر «دُنیا» پر ظاہر نہیں ہو گا۔ یقینا وہ سوچ رہا تھا کہ نجات دہندہ کسی فاتح بادشاہ،‏ یا ہر دل عزیز ہیرو کے طور پر آئے گا۔ وہ نہیں سمجھتا تھا کہ خداوند روحانی انداز میں اپنے آپ کو اپنے لوگوں پر ظاہر کرے گا۔ وہ ایمان سے خدا کے کلام کے وسیلے سے اُسے دیکھیں گے۔

جب مسیح دُنیا میں تھا تو شاگرد اُس کو جانتے تھے،‏ لیکن آج روح القدس کے وسیلے سے ہم اُسے بہتر طور پر جان سکتے ہیں۔ جب وہ دُنیا میں تھا تو بھیڑ میں سامنے کے لوگ،‏ پیچھے کے لوگوں کی نسبت اُس سے زیادہ قریب ہوتے تھے۔ لیکن آج ایمان کے وسیلے سے ہم میں سے ہر ایک اُس کے ساتھ قریب ترین رفاقت سے محظوظ ہو سکتا ہے۔ مسیح نے یہوداہ کو جو جواب دیا اُس سے واضح ہوتا ہے کہ انفرادی طور پر اُس کے موعودہ اِظہار کا تعلق خدا کے کلام سے ہے۔ کلام کی فرماں برداری کا نتیجہ یہ ہو گا کہ باپ اور بیٹا ایمان دار کے پاس «آئیں گے اور اُس کے ساتھ سکونت کریں گے»۔

۱۴:‏۲۳ اگر کوئی شخص خداوند سے سچی «محبت رکھے» گا تو اُس کی ساری تعلیمات «پر عمل کرے گا»۔ وہ نہیں چاہے گا کہ چیدہ چیدہ حکموں پر تو عمل کرے اور باقی چھوڑ دے۔ باپ اُن لوگوں سے محبت رکھتا ہے جو بے چوں و چرا اور بغیر مجبوری محسوس کئے اُس کے بیٹے کے حکموں کو مانتے ہیں۔ باپ اور بیٹا دونوں ایسے فرماں بردار اور محبت کرنے والے دلوں کے بے حد قریب ہوتے ہیں۔

۱۴:‏۲۴ اِس کے برعکس جو خداوند سے «محبت نہیں رکھتا» وہ اُس کے «کلام پر عمل نہیں کرتا»۔ ایسے لوگ نہ صرف مسیح کے «کلام» کا اِنکار کرتے ہیں بلکہ خدا کے کلام کا بھی۔

۱۴:‏۲۵ جب تک ہمارا خداوند اپنے شاگردوں کے «ساتھ» تھا تو اُس نے اُن کو «یہ باتیں» سکھائیں۔ وہ اِس سے زیادہ سچائی کو اُن پر ظاہر نہیں کر سکتا تھا۔ اِس لئے کہ وہ اِس سے زیادہ سمجھ نہیں سکتے تھے۔

۱۴:‏۲۶ لیکن بعد میں «روح القدس» زیادہ باتوں کو اُن پر کھولے گا۔ پنتکست کے دن «باپ» نے پاک روح کو مسیح کے «نام سے» بھیجا۔ روح اِس مفہوم میں «مسیح کے نام» سے آیا کہ وہ زمین پر مسیح کی نمائندگی کرتا ہے۔ روح اپنے آپ کو جلال دینے نہیں آیا بلکہ اِس لئے کہ تمام مرد و زن کو نجات دہندہ کے پاس کھینچ لائے۔ خداوند نے کہا،‏ «وہی تمہیں سب باتیں سکھائے گا۔» اُس نے یہ کام پہلے تو رسولوں کی اِس خدمت کے وسیلے سے کیا جو وہ زبانی کلام سنانے سے کرتے تھے۔ اِس کے بعد خدا کے تحریری کلام کے وسیلے سے کر رہا ہے۔ اور یہ تحریری کلام آج ہمارے پاس موجود ہے۔ روح القدس وہ ساری «باتیں… یاد دلاتا» ہے جو نجات دہندہ نے سکھائی تھیں۔ فی الواقع یوں لگتا ہے کہ خداوند یسوع نے ساری باتیں گویا ایک بیج کی شکل میں پیش کی تھیں۔ روح القدس نے بقیہ نئے عہدنامے میں اُن کو واضح کیا ہے۔

س۔ یسوع اپنے شاگردوں کو اپنا اِطمینان دیئے جاتا ہے (‏۱۴:‏۲۷-‏۳۱)‏

۱۴:‏۲۷ بعض اوقات جب کوئی شخص مرنے کے قریب ہوتا ہے تو اپنی آخری وصیت لکھتا ہے،‏ جس میں وہ اپنی جائیداد اور ورثہ اپنے عزیزوں کے لئے چھوڑتا ہے۔ یہاں خداوند یسوع بھی یہی کچھ کر رہا ہے۔ البتہ اُس نے مادی چیزیں نہیں دیں بلکہ ایک ایسی چیز وراثت میں دی جو پیسے سے خریدی نہیں جا سکتی — یہ ہے «اِطمینان»۔ ضمیر کا باطنی «اِطمینان» جو اِس شعور سے اُبھرتا ہے کہ میرے گناہ معاف ہوئے اور خدا کے ساتھ میرا میل ملاپ اور صلح ہو گئی ہے۔ مسیح یہ اِس لئے دے سکتا ہے کہ اُس نے اِس کو کلوری پر اپنے خون سے خریدا ہے،‏ «جس طرح دُنیا دیتی ہے مَیں تمہیں اُس طرح نہیں دیتا» — دُنیا تو بے دلی سے،‏ اور خود غرضی سے اور تھوڑی دیر کے لئے دیتی ہے،‏ لیکن مسیح کے «اِطمینان» کا تحفہ ہمیشہ کے لئے ہے۔ پھر ایک مسیحی کیوں «گھبرائے» یا «ڈرے»؟

۱۴:‏۲۸ یسوع نے اُن کو پہلے بھی بتایا تھا کہ مَیں تم کو چھوڑ کر جا رہا ہوں۔ اور یہ بھی کہ تمہیں آسمانی وطن میں لے جانے کے لئے پھر آؤں گا۔ «اگر» شاگرد خداوند سے «محبت رکھتے» تو وہ اِس بات سے «خوش ہوتے»۔ بے شک ایک لحاظ سے وہ خداوند سے محبت رکھتے تھے،‏ لیکن اُن کو پورے طور سے شناسائی نہ تھی کہ وہ کون ہے۔ اِس لئے اُن کی محبت اِتنی زبردست نہ تھی جتنی ہونی چاہئے تھی۔

«تو اِس بات سے کہ مَیں باپ کے پاس جاتا ہوں خوش ہوتے کیونکہ باپ مجھ سے بڑا ہے۔» پہلی نظر میں لگتا ہے کہ یہ آیت اُن ساری باتوں کی تردید کرتی ہے جو یسوع خدا کے ساتھ اپنی برابری کے بارے میں سکھاتا رہا تھا۔ لیکن اصل میں کسی قسم کی تردید یا تضاد نہیں ہے اور کلام کا یہ حصہ اِس کی پوری وضاحت کر دیتا ہے۔ جب یسوع یہاں دُنیا میں تھا تو لوگ اُس سے عداوت رکھتے تھے۔ وہ ہر طرح سے اُس کو اذیت پہنچاتے اور اُس کا پیچھا کرتے رہتے تھے۔ لوگ اُس کے خلاف کفر بکتے،‏ اُسے ٹھٹھوں میں اُڑاتے اور اُس پر تھوکتے تھے۔ اُس نے اپنے مخلوق اِنسانوں کے ہاتھوں ہولناک ذلت برداشت کی۔

خدا باپ نے اِنسانوں کے ہاتھوں کبھی ایسی بدسلوکی اور گستاخانہ برتاؤ برداشت نہیں کیا۔ وہ گنہگاروں کی بدی اور شرارت سے بہت دُور آسمان پر رہتا ہے۔ جب خداوند یسوع واپس آسمان پر گیا تو اُس مقام پر پہنچا جہاں کوئی ذات کبھی پہنچ نہیں سکتی۔ اِس لئے جب اُس نے کہا کہ «مَیں باپ کے پاس جاتا ہوں» تو شاگردوں کو خوش ہونا چاہئے تھا کیونکہ اِس مفہوم میں «باپ» یسوع مسیح سے «بڑا ہے»۔ باپ،‏ خدا ہونے میں بڑا نہیں بلکہ اِس بات میں بڑا ہے کہ وہ اِنسان بن کر اِس دُنیا میں کبھی نہیں آیا۔ اور نہ اُس نے ظلم و ستم اور تذلیل برداشت کی۔ جہاں تک الٰہی صفات کا تعلق ہے،‏ بیٹا اور باپ برابر ہیں۔ لیکن جب ہم اُس پست حالی کو دیکھتے ہیں جو یسوع نے اِنسان بن کر اور دُنیا میں آ کر اِختیار کی تو ہم جان لیتے ہیں کہ اِس مفہوم میں خدا «باپ» یسوع سے «بڑا ہے»۔ وہ اپنی ذات میں نہیں بلکہ مقام میں بڑا ہے۔

۱۴:‏۲۹ شاگرد خوف زدہ تھے۔ یسوع بڑی بے غرضی سے اُن کی فکر کرتا ہے۔ اِس لئے کہ وہ آنے والے واقعات اُن پر ظاہر کرتا ہے تاکہ وہ اُن کو ٹھیس نہ پہنچائیں۔ وہ بے دل نہ ہوں،‏ اور نہ ڈریں بلکہ «یقین کریں۔»

۱۴:‏۳۰ خداوند کو معلوم تھا کہ میرے پکڑوائے جانے کا وقت قریب آ رہا ہے۔ اب میرے پاس اِتنا وقت نہیں ہو گا کہ اپنے شاگردوں کے ساتھ «باتیں» کر سکوں۔ اُس لمحے بھی شیطان آگے بڑھتا آ رہا تھا لیکن خداوند جانتا تھا کہ دشمن مجھ میں گناہ کا شائبہ تک نہیں پا سکتا۔ مسیح میں کوئی ایسی بات نہ تھی جو ابلیس کی بُری آزمائشوں کا جواب دیتی۔ اگر یسوع کے علاوہ کوئی دوسرا یہ بات کہتا کہ «دُنیا کا سردار (‏شیطان)‏ آتا ہے اور مجھ میں اُس کا کچھ نہیں» تو نہایت مضحکہ خیز بات ہوتی۔

۱۴:‏۳۱ ہم اِس آیت کو آسان لفظوں میں یوں بیان کر سکتے ہیں:‏«میرا پکڑوائے جانے کا وقت آ پہنچا۔ مَیں رضاکارانہ صلیب تک جاؤں گا۔ میرے لئے باپ کی یہی مرضی ہے۔ اور میرا یہ کام دُنیا کو بتا دے گا کہ مَیں باپ سے کتنی محبت رکھتا ہوں۔» اِسی لئے مَیں اِس وقت بغیر کوئی مزاحمت کئے جا رہا ہوں۔ اِس کے ساتھ ہی خداوند نے شاگردوں سے کہا،‏ «اُٹھو،‏ یہاں سے چلیں۔» وہ چاہتا تھا کہ شاگرد اُس کے ساتھ چلیں۔ یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ اُسی وقت بالا خانے سے نکل گئے۔ غالباً باقی گفتگو اُس وقت ہوئی جب وہ گتسمنی باغ کے راستے میں تھے۔

ع۔ یسوع،‏ انگور کا حقیقی درخت (‏۱۵:‏۱-‏۱۱)‏

۱۵:‏۱ پرانے عہدنامے میں اِسرائیلی قوم کو اُس تاک سے تشبیہ دی گئی ہے جس کو یہوواہ نے لگایا۔ لیکن قوم بے وفا اور بے پھل ثابت ہوئی۔ اِس لئے خداوند یسوع اب اپنے آپ کو «انگور کا حقیقی درخت» کے طور پر پیش کرتا ہے جو کہ باقی تمام مثیلوں اور عکسوں کی کامل تکمیل ہے۔ خدا «باپ باغبان ہے۔»

۱۵:‏۲ «جو ڈالی مجھ میں ہے اور پھل نہیں لاتی۔» اِس «ڈالی» کے مطلب پر اِختلافِ رائے پایا جاتا ہے۔ بعض علما کا خیال ہے کہ اِس سے مراد وہ شخص ہے جو ایمان دار ہونے کا جھوٹا دعویٰ کرتا ہے۔ وہ مسیحی ہونے کا بہانہ کرتا ہے لیکن وہ ایمان میں مسیح میں کبھی پیوند نہیں ہوا۔ جب کہ بعض علما کی رائے میں اِس سے مراد وہ مسیحی ہے جو پھل نہ لانے کے باعث اپنی نجات کھو دیتا ہے۔ لیکن یہ بات بالکل ناممکن ہے کیونکہ اِس طرح بہت سے ایسے حوالوں کی تردید ہوتی ہے جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایمان دار کی نجات محفوظ ہے۔ کئی علما کہتے ہیں کہ اِس سے مراد وہ مسیحی ہے جو برگشتہ ہو جاتا ہے۔ وہ خداوند سے دُور ہو جاتا اور دُنیا کی باتوں میں دلچسپی لینے لگتا ہے۔ اُس میں روح کا پھل نہیں لگا۔ روح کا پھل محبت،‏ خوشی،‏ اِطمینان،‏ تحمل،‏ مہربانی،‏ نیکی،‏ ایمان داری،‏ حلم،‏ پرہیزگاری ہے (‏گلتیوں ۵:‏۲۲،‏۲۳)‏۔

وہ بے پھل ڈالی کے ساتھ دراصل کیا کرتا ہے؟ اِس کا اِنحصار یونانی فعل «آئرو» (‏airo)‏ کے ترجمے پر ہے۔ اِس کا مطلب «اُٹھا لے جانا» بھی ہو سکتا ہے جیسا کہ یوحنا ۱:‏۲۹ میں ترجمہ ہوا ہے۔ اِس صورت میں اِشارہ جسمانی موت کی تادیب کی طرف ہو گا (‏۱۔کرنتھیوں ۱۱:‏۳۰)‏۔ اِسی لفظ کا ترجمہ «اوپر اُٹھانا» بھی ہو سکتا ہے،‏ جیسا کہ یوحنا ۸:‏۵۹ میں کیا گیا ہے۔ اِس صورت میں اِشارہ حوصلہ افزائی کی «مثبت خدمت» کی طرف ہو گا کہ بے پھل ڈالی کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ اِس کو روشنی اور ہوا حاصل کرنے میں آسانی مہیا کی جائے۔ پھر اُمید ہو سکتی ہے کہ وہ پھل لائے گی۔

«جو ڈالی پھل لاتی ہے۔» اِس سے مراد وہ مسیحی ہے جو زیادہ سے زیادہ خداوند یسوع کے مشابہ ہوتا جاتا ہے۔ لیکن ایسی ڈالیوں کو بھی چھانٹنے اور صاف کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جس طرح انگور کے اصلی درخت کو کیڑوں مکوڑوں،‏ پھپھوندی اور کھمبیوں (‏کھمبی نما چیزیں جو پودے کی موٹی شاخوں پر اُگ آتی ہیں)‏ وغیرہ سے صاف کرنا پڑتا ہے،‏ اِسی طرح ایک مسیحی کو بھی اُن دُنیاوی باتوں سے صاف کرنا پڑتا ہے جو اُسے چمٹ جاتی ہیں۔

۱۵:‏۳ صاف کرنے والی چیز خداوند کا «کلام» ہے۔ شاگرد ایمان لاتے وقت «کلام» کے وسیلے سے پاک کئے گئے تھے۔ جب نجات دہندہ اُن سے باتیں کر رہا تھا تو اُس کا کلام اُن کی زندگیوں کو پاک کر رہا تھا۔ اِس طرح یہ آیت راست باز ٹھہرائے جانے اور پاک ٹھہرائے جانے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

۱۵:‏۴ «قائم» رہنے کا مطلب ہے جہاں تم ہو وہیں رہنا۔ مسیحی کو مسیح میں رکھا جاتا ہے۔ یہ اُس کا مقام ہے۔ روزمرہ کے کاموں میں چاہئے کہ مسیحی خداوند کی گہری رفاقت میں رہے۔ «ڈالی» انگور کے درخت سے اپنی نشو و نما کے لئے خوراک اور زندگی حاصل کر کے اُس میں قائم رہتی ہے۔ اِسی طرح ہم بھی دعا میں وقت گزارنے،‏ اُس کا کلام پڑھنے اور اُس پر عمل کرنے،‏ اُس کے لوگوں کے ساتھ رفاقت رکھنے اور اُس کے ساتھ یگانگت کو مسلسل قائم رکھنے کے وسیلے سے مسیح میں قائم رہ سکتے ہیں۔ جب اِس طرح اُس کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھتے ہیں تو ہمیں شعور ہوتا ہے کہ وہ ہم میں قائم ہے اور ہمیں روحانی قوت اور وسائل عطا کرتا ہے۔ «ڈالی» صرف اِسی صورت میں «پھل لا سکتی ہے» جب وہ «انگور کے درخت میں قائم» رہے۔ اگر مسیحی مسیح کے کردار جیسا پھل لانا چاہتے ہیں تو اِس کا صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ لمحہ بہ لمحہ اُس کے ساتھ تعلق قائم رکھتے ہوئے زندگی بسر کریں۔

۱۵:‏۵ مسیح «انگور کا درخت»ہے۔ ایمان دار «ڈالیاں» ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ ڈالی درخت کے لئے اپنی زندگی بسر کرے،‏ بلکہ یہ کہ ڈالیاں درخت کی زندگی کو اپنے میں سے جاری ہونے دیں۔ بعض اوقات ہم دعا مانگتے ہیں کہ «خداوند،‏ توفیق دے کہ مَیں تیرے لئے زندگی گزاروں۔» مگر یہ دعا مانگنا بہتر ہو گا کہ «خداوند یسوع،‏ تُو مجھ میں ہو کر اپنی زندگی گزار۔» «مسیح سے جدا ہو کر» ہم «کچھ نہیں کر سکتے۔» انگور کی ڈالی کا ایک بڑا مقصد ہوتا ہے کہ پھل لائے۔ یہ لکڑی،‏ فرنیچر یا گھر بنانے کے لئے بے کار ہوتی ہے بلکہ جلانے کے لئے بھی اچھی ثابت نہیں ہوتی،‏ لیکن پھل لانے کے لئے اچھی ہوتی ہے — بشرط یہ کہ درخت میں قائم رہے۔

۱۵:‏۶ اِس آیت میں بھی بہت اِختلافِ رائے ہے۔ بعض یقین رکھتے ہیں کہ یہاں مراد اُس ایمان دار سے ہے جو گناہ میں پڑ جاتا اور ہلاک ہو جاتا ہے۔ یہ تفسیر پاک کلام کی اُن بہت سی آیات کے سراسر خلاف ہے جو تعلیم دیتی ہیں کہ خدا کا سچا فرزند کبھی ہلاک نہ ہو گا۔ بعض علما کا خیال ہے کہ اِس سے مراد وہ شخص ہے جو ایمان دار ہونے کا دعویٰ کرتا ہے،‏ یعنی مسیحی ہونے کا بہانہ کرتا ہے،‏ لیکن نئے سرے سے پیدا نہیں ہوا۔ اِس سلسلے میں اکثر یہوداہ (‏اسکریوتی)‏ کی مثال دی جاتی ہے۔

ہمیں یقین ہے کہ یہاں مراد سچے ایمان دار سے ہے کیونکہ کلام کا یہ حصہ سچے ایمان داروں سے تعلق رکھتا ہے۔ یہاں مضمون «نجات» نہیں بلکہ «قائم رہنا» اور «پھل لانا» ہے۔ لیکن بے پروائی اور دعا مانگنا ترک کر دینے کے باعث ایسا ایمان دار خداوند سے دُور ہو جاتا ہے۔ اِس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ کوئی گناہ کر بیٹھتا ہے اور اُس کی گواہی برباد ہو جاتی ہے۔ مسیح میں قائم نہ رہنے کے باعث وہ «ڈالی کی طرح» پھینک دیا جاتا ہے۔ مسیح اُسے نہیں پھینکتا بلکہ لوگ پھینک دیتے ہیں۔ ڈالیاں اکٹھی کر لی جاتی ہیں اور «آگ میں جھونک» دی جاتی ہیں۔ یہ کام خدا نہیں کرتا بلکہ لوگ کرتے ہیں۔ اِس کا مطلب کیا ہوا؟ یہ کہ لوگ برگشتہ مسیحی کو ٹھٹھوں میں اُڑاتے ہیں۔ وہ اُس کے نام پر کیچڑ اُچھالتے ہیں۔ وہ اُس کی مسیحی گواہی کو آگ میں جھونک دیتے ہیں۔ اِس کی وضاحت داؤد کی زندگی سے ہوتی ہے۔ وہ سچا ایمان دار تھا۔ لیکن جب وہ خداوند سے بے پروائی برتنے لگا تو زِنا اور قتل کا گناہ کیا۔ اُس نے خداوند کے دشمنوں کو کفر بکنے کا موقع دیا۔ آج بھی دہریے داؤد (‏اور داؤد کے خدا)‏ کے نام کو مذاق میں اُڑاتے ہیں۔ گویا وہ اُسے آگ میں جھونکتے ہیں۔

۱۵:‏۷ قائم رہنا کامیاب دعائیہ زندگی کا راز ہے۔ ہم جس قدر خداوند کے نزدیک ہوتے جاتے ہیں،‏ اُتنا ہی اُس کی طرح سوچنا سیکھتے ہیں۔ ہم اُس کے کلام کے وسیلے سے اُس کو جس قدر زیادہ جانتے ہیں اُسی قدر اُس کی مرضی کو سمجھنے لگتے ہیں۔ اور جس قدر ہماری مرضی اُس کی مرضی سے متفق ہوتی جاتی ہے،‏ اُسی قدر ہمیں یقین ہوتا ہے کہ ہماری دعاؤں کا جواب ملے گا۔

۱۵:‏۸ جب خدا کے فرزند دُنیا کے سامنے مسیح کے ساتھ مشابہت دکھاتے ہیں تو «باپ کا جلال… ہوتا ہے»۔ لوگ یہ اِقرار کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ وہ عظیم خدا ہے،‏ کہ وہ ایسے بڑے گنہگار کو بدل کر ایسے خدا پرست مقدسین بنا سکتا ہے۔ اِس باب میں درجہ بدرجہ ترقی پر غور کریں۔ پھل (‏آیت ۲)‏،‏ زیادہ پھل (‏آیت ۲)‏،‏ بہت سا پھل (‏آیت ۸)‏۔

«جب ہی تم میرے شاگرد ٹھہرو گے۔» اِس کا مطلب ہے کہ جب ہم اُس میں قائم رہتے تھے تو ثابت کرتے ہیں کہ ہم اُس کے «شاگرد» ہیں۔ تب دوسرے لوگ دیکھ سکتے ہیں کہ ہم سچے شاگرد ہیں کیونکہ اپنے خداوند سے مشابہت رکھتے ہیں۔

۱۵:‏۹ جو محبت نجات دہندہ ہم سے رکھتا ہے،‏ وہی محبت «باپ» (‏خدا)‏ بیٹے سے رکھتا ہے۔ جب ہم ایسے الفاظ پڑھتے ہیں تو ہمارے دل سجدے میں گر جاتے ہیں۔ یہ محبت معیار اور درجے میں یکساں ہے۔ یہ محبت ناپ تول سے باہر اور سمجھ سے بالاتر ہے۔ اِنسان اِسے کبھی پورے طور پر جان نہیں سکتا۔ یہ محبت ایک سمندر ہے جس میں ہماری ساری سوچ ڈوب جاتی ہے۔ ہمارے خداوند نے کہا،‏ «تم میری محبت میں قائم رہو۔» اِس کا مطلب ہے کہ ہم اپنی زندگی میں اُس کی محبت سے محظوظ ہوتے جائیں۔

۱۵:‏۱۰ اِس آیت کا پہلا حصہ بتاتا ہے کہ ہم کس طرح اُس کی محبت میں قائم رہ سکتے ہیں۔ طریقہ یہ ہے کہ اُس کے «حکموں پر عمل» کریں۔ مسیح میں شادمان رہنے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ اُس پر یقین رکھیں اور فرماں برداری کریں۔ آیت کا دوسرا حصہ ہمارے کامل نمونے کو ہمارے سامنے رکھتا ہے۔ وہ جو کچھ بھی کرتا تھا خدا کی مرضی کی فرماں برداری میں کرتا تھا۔ وہ متواتر باپ کی محبت میں سرشار رہتا اور اُس سے لطف اندوز ہوتا تھا۔ اِس محبت بھری رفاقت کے شیریں احساس میں کبھی کوئی بات مخل نہ ہوتی تھی۔

۱۵:‏۱۱ یسوع کو اپنے باپ خدا کے ساتھ رابطہ رکھنے سے گہری «خوشی» ہوتی تھی۔ وہ چاہتا تھا کہ میرے شاگردوں کو بھی وہی خوشی حاصل ہو جو اُس پر اِنحصار رکھنے سے ملتی ہے۔ وہ چاہتا تھا کہ اُس کی اپنی «خوشی» شاگردوں کی خوشی بن جائے۔ اِنسان کا خوشی کے بارے میں تصور یہ ہے کہ خدا کو اپنی زندگی سے باہر رکھ کر جتنا خوش ہو سکتا ہے ہو لے۔ خداوند نے سکھایا کہ حقیقی خوشی اِس میں ہے کہ اِنسان خدا کو زیادہ سے زیادہ اپنی زندگی میں رکھے۔ «اور تمہاری خوشی پوری ہو جائے» یعنی مکمل ہو جائے۔ اُن کی خوشی اُس میں قائم رہنے اور اُس کے حکموں پر عمل کرنے سے پوری ہو گی۔ بہت سے لوگوں نے یوحنا باب ۱۵ کو استعمال کرتے ہوئے ایمان دار کی نجات کے تحفظ کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنے والی تعلیم دی ہے۔ وہ اِس سے پہلی آیات سے ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ بالآخر مسیح کی بھیڑ ہلاک ہو سکتی ہے۔ لیکن خداوند کا مقصد یہ نہیں تھا کہ «تمہارے شکوک پورے ہو جائیں» بلکہ یہ کہ «تمہاری خوشی پوری ہو جائے»۔

ف۔ ایک دوسرے سے محبت رکھنے کا حکم  (‏۱۵:‏۱۲-‏۱۷)‏

۱۵:‏۱۲ خداوند بہت جلد شاگردوں کو چھوڑ جانے کو ہے۔ وہ ایک مخالف اور دشمن دُنیا میں رہ جائیں گے۔ جب کشیدگی اور کشا کش میں اضافہ ہو گا تو خطرہ ہو گا کہ شاگرد ایک دوسرے کے مدِمقابل آ جائیں اور آپس میں مقابلہ شروع ہو جائے۔ اِس لئے خداوند یہ مستقل حکم دیتا ہے کہ «جیسے مَیں نے تم سے محبت رکھی،‏ تم بھی ایک دوسرے سے محبت رکھو۔»

۱۵:‏۱۳ اُن کی باہمی محبت اِس نوعیت کی ہونی چاہئے کہ وہ ایک دوسرے کے لئے جان دینے کو تیار ہوں۔ جو لوگ ایسا کرنے پر آمادہ ہوتے ہیں،‏ وہ ایک دوسرے سے لڑتے جھگڑتے نہیں۔ اِنسان کے ایثار اور اپنے آپ کو قربان کرنے کی سب سے بڑی مثال یہ ہے کہ «اپنی جان اپنے دوستوں کے لئے دے دے»۔ مسیح کے شاگردوں کو اِسی قسم کی جاں نثاری کی بلاہٹ ہے۔ بعض لوگ لغوی معنوں میں اپنی جان دے دیتے ہیں۔ بعض اپنی ساری زندگی خدا کے لوگوں کی اَن تھک خدمت کرنے میں گزار دیتے ہیں۔ اِس میں خداوند یسوع ہمارا خاص نمونہ ہے۔ اُس نے اپنی جان اپنے دوستوں کے لئے دے دی۔ بیشک جب وہ اُن کے واسطے موا،‏ اُس وقت وہ دشمن تھے۔ مگر جب وہ نجات پاتے ہیں تو اُس کے دوست بن جاتے ہیں۔ اِس لئے یہ کہنا بجا ہے کہ وہ اپنے دوستوں اور دشمنوں،‏ سب کے لئے موا۔

۱۵:‏۱۴ جب ہم اُن باتوں پر عمل کرتے ہیں جن کا اُس نے حکم دیا ہے تو ثابت کرتے ہیں کہ ہم اُس کے «دوست» ہیں۔ اِس طریقے سے ہم اُس کے دوست تو نہیں «بنتے» بلکہ دُنیا کے سامنے دِکھا دیتے ہیں کہ ہم اُس کے دوست ہیں۔

۱۵:‏۱۵ یہاں خداوند «نوکر» اور «دوست» میں فرق کی وضاحت کرتا ہے۔ «نوکروں» سے صرف یہ توقع کی جاتی ہے کہ جو کام اُن کو بتائے جاتے ہیں وہ کریں۔ مگر «دوستوں» کو اعتماد میں لیا جاتا ہے۔ دوست کو ہم اپنے مستقبل کے منصوبے بتاتے ہیں۔ دوست کو رازوں میں شریک کیا جاتا ہے۔ ایک لحاظ سے شاگرد ہمیشہ خداوند کے نوکر رہیں گے۔ لیکن اِس سے بڑھ کر بھی ہوں گے — وہ دوست ہوں گے۔ اُس وقت بھی خداوند اُن پر وہ «باتیں» ظاہر کر رہا تھا جو اُس نے اپنے «باپ سے سنی تھیں۔» اُس نے اُن کو اپنے جانے کے بارے میں،‏ روح القدس کے آنے کے بارے میں اور اِس اثنا میں اپنے متعلق اُن کی ذمہ داری کے بارے میں بتایا تھا۔ کسی نے بیان کیا ہے کہ ڈالیاں ہونے کے باعث ہم اُس سے «پاتے» ہیں (‏آیت ۵)‏،‏ شاگرد ہونے کے باعث ہم اُس کے پیچھے پیچھے چلتے ہیں (‏آیت ۸)‏ اور دوست ہونے کے باعث ہم اُس کے ساتھ رفاقت رکھتے ہیں (‏آیت ۱۵)‏۔

۱۵:‏۱۶ یسوع نے اُن کو یاد دلایا کہ «مَیں نے تمہیں چن لیا» مبادا اُن میں بے حوصلہ ہونے اور سب کچھ چھوڑ دینے کا رُجحان پیدا ہو جائے۔ اِس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ خداوند نے اُن کو ابدی نجات کے لئے چن لیا،‏ شاگردیت کے لئے چن لیا یا پھل دار بننے کے لئے چن لیا۔ اُسی نے شاگردوں کو اُس کام کے لئے مقرر کیا جو اَب اُن کے سامنے تھا۔ «جا کر پھل لاؤ۔» ضرور ہے کہ ہم پھل لائیں۔ پھل سے مراد مسیحی زندگی کی خوبیاں بھی ہو سکتی ہیں مثلاً محبت،‏ خوشی،‏ اِطمینان وغیرہ۔ اِن سے مراد وہ لوگ بھی ہیں جو ہم خداوند یسوع مسیح کے لئے جیتتے ہیں۔ اِن دونوں کے درمیان گہرا تعلق ہے۔ ہم دوسرا پھل اُسی صورت میں لا سکتے ہیں کہ پہلے،‏ پہلی قسم کا پھل دِکھائیں۔

«اور تمہارا پھل قائم رہے۔» اِن الفاظ سے ہم سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ «پھل» سے مراد لوگوں کی نجات ہے۔ خداوند نے شاگردوں کو چنا کہ جا کر «دائمی /قائم رہنے والا» پھل لائیں۔ اُسے اِس بات سے دلچسپی نہ تھی کہ وہ صرف اُس پر ایمان لانے کا اِقرار کریں بلکہ اصل نجات پانے سے دلچسپی تھی۔ ایل۔ ایس۔ چیفر توجہ دلاتا ہے کہ اِس باب میں موثر دعا (‏آیت ۷)‏،‏ آسمانی خوشی (‏آیت ۱۱)‏ اور دائمی پھل (‏آیت ۱۶)‏ کا بیان ہے۔

«تاکہ میرے نام سے جو کچھ باپ سے مانگو…۔» موثر خدمت کا راز دعا ہے۔ شاگردوں کو اِس ضمانت کے ساتھ بھیجا گیا تھا کہ جو کچھ وہ مسیح کے «نام سے» مانگیں گے «باپ» اُن کو دے گا۔

۱۵:‏۱۷ خداوند شاگردوں کو دُنیا کی دشمنی کے بارے میں خبردار کرنے کو تھا۔ اِس بات کا آغاز اُس نے یہ بتا کر کیا کہ «تم ایک دوسرے سے محبت رکھو۔» ایک دوسرے کا ساتھ دو اور دشمن کے سامنے متحد ہو کر کھڑے ہو۔

ص۔ یسوع دُنیا کی عداوت کی پیش گوئی کرتا ہے  (‏۱۵:‏۱۸-‏۱۶:‏۴)‏

۱۵:‏۱۸،‏۱۹ «اگر دُنیا تم سے عداوت رکھتی ہے۔» شاگردوں کو اِس بات پر حیران یا بے حوصلہ نہیں ہونا چاہئے کہ دُنیا ہم سے عداوت رکھتی ہے،‏ (‏یہاں «اگر» کسی شک یا شرط کا بیان نہیں کرتا بلکہ یقینی بات پیش کرتا ہے)‏۔ دُنیا نے خداوند سے بھی «عداوت رکھی ہے»۔ اور جتنے خداوند سے مشابہ ہیں دُنیا اُن سے بھی عداوت رکھے گی۔

دُنیا کے لوگ اُن سے محبت رکھتے ہیں جو اُنہی کی مانند زندگی گزارتے ہیں — جو گندی اور ذلیل زُبان بولتے اور جسم کی شہوتوں کے پیچھے بھاگتے ہیں یا ایسے لوگ جو مہذب تو ہوں مگر صرف اپنے لئے جیتے ہوں —مسیحی اپنی پاکیزہ زندگیوں سے اُن کو مجرم ٹھہراتے ہیں۔ اِس لئے «دُنیا» اُن سے «عداوت رکھتی ہے»۔

۱۵:‏۲۰ یہاں «نوکر» کا اصل مطلب غلام ہے۔ شاگرد کو دُنیا سے اُس سلوک سے بہتر کی توقع نہیں رکھنی چاہئے جو اُس کے «مالک» سے کیا گیا تھا۔ جس طرح مسیح کو ستایا گیا اُسی طرح شاگردوں کو بھی ستایا جائے گا۔ جس طرح نجات دہندہ کی باتوں کو ٹھکرایا  گیا اُسی طرح شاگردوں کی باتوں کو بھی ردّ کیا جائے گا۔

۱۵:‏۲۱ یہ عداوت اور ستم و اِستبداد «میرے نام کے سبب سے» ہے۔ اِس لئے کہ ایمان دار کا تعلق مسیح سے ہے۔ اِس لئے کہ مسیح نے اُس کو دُنیا سے الگ کر دیا ہے۔ دُنیا خدا کو نہیں جانتی۔ دُنیا نہیں جانتی کہ خداوند کو باپ نے بھیجا تھا کہ دُنیا کا نجات دہندہ ہو۔ لیکن لاعلمی کوئی عذر نہیں ہوتا۔

۱۵:‏۲۲ یہاں خداوند یہ تعلیم نہیں دے رہا کہ اگر مَیں نہ آتا تو اِنسان گنہگار نہ ہوتے۔ آدم سے لے کر سارے اِنسان گنہگار تھے اور ہیں۔ لیکن اُن کا گناہ اِتنا بڑا نہ ہوتا جتنا اب ہو گیا ہے۔ اُن لوگوں نے خدا کے بیٹے کو دیکھا اور اُس کی باتیں سنی ہیں۔ اُن کو اُس میں کوئی خامی نہ مل سکی،‏ تو بھی اُنہوں نے اُس کو ردّ کر دیا۔ اِسی سبب سے اُن کا گناہ اِتنا بڑا ہو گیا ہے۔ یہاں معاملہ مقابلے کا ہے۔ اُنہوں نے جلال کے خداوند کو ردّ کر دیا۔ اِس گناہ کے مقابلے میں دوسرے گناہ کوئی حقیقت نہیں رکھتے۔ «اب اُن کے پاس اُن کے گناہ کا عذر نہیں۔» اُنہوں نے دُنیا کے نور کو ردّ کر دیا ہے۔

۱۵:‏۲۳ مسیح سے عداوت رکھنے میں وہ اُس کے «باپ سے بھی» عداوت رکھتے ہیں۔ یہ دونوں (‏«باپ اور بیٹا»)‏ ایک ہیں۔ دُنیا کے لوگ نہیں کہہ سکتے کہ ہم خدا سے محبت رکھتے ہیں کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو وہ اُس سے بھی محبت رکھتے جس کو خدا نے بھیجا تھا۔

۱۵:‏۲۴ وہ صرف اِس لئے ذمہ دار نہیں تھے کہ اُنہوں نے مسیح کی تعلیمات سنی تھیں بلکہ اُنہوں نے اُس کے معجزے بھی دیکھے تھے۔ یوں اُن کا جرم اَور بڑھ جاتا ہے۔ اُنہوں نے وہ کام دیکھے «جو کسی دوسرے نے نہیں کئے»۔ اِس گواہی کے باوجود مسیح کو ردّ کر دینے کا کوئی عذر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ خداوند اُن کے باقی سارے گناہوں کا مقابلہ اِس ایک گناہ سے کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اِس گناہ کے مقابلے میں وہ سارے گناہ کچھ بھی نہیں۔ چونکہ اُنہوں نے بیٹے سے «عداوت رکھی» اِس لئے اُس کے «باپ» سے عداوت رکھی۔ اور یہی اُن کا ہولناک جرم تھا۔

۱۵:‏۲۵ خداوند جانتا تھا کہ میرے ساتھ اِنسان کا رویہ نبوت کی عین تکمیل ہے۔ زبور ۶۹:‏۴ میں نبوت کی گئی تھی کہ مسیح سے «بے سبب عداوت» رکھی جائے گی۔ اب وہ «قول پورا ہوا۔» ِاس لئے خداوند کہتا ہے کہ وہی پرانا عہدنامہ جس کو یہ لوگ اِتنی قدر کی نگاہ سے سیکھتے ہیں،‏ نبوت کرتا ہے کہ یہ لوگ مجھ سے احمقانہ عداوت رکھیں گے۔ بات یہ نہیں کہ اِس نبوت کی وجہ سے اُن کو ضرور ہی مسیح سے عداوت رکھنی تھی بلکہ یہ اُن کا اپنا شعوری اِنتخاب تھا۔ البتہ خدا نے پہلے ہی دیکھ لیا تھا کہ ایسا ہو گا۔ چنانچہ اُس نے داؤد سے زبور ۶۹ میں یہ بات لکھوا دی۔

۱۵:‏۲۶ اِنسان کے مسیح کو ردّ کرنے کے باوجود اُس کے حق میں گواہی کا سلسلہ جاری رہے گا۔ «مددگار… یعنی سچائی کا روح» گواہی کا یہ سلسلہ جاری رکھے گا۔ یہاں خداوند کہتا ہے کہ روح کو «مَیں… باپ کی طرف سے بھیجوں گا۔» یوحنا ۱۴:‏۱۶ میں روح کو بھیجنے والا «باپ» ہے۔ کیا یہ باپ اور بیٹے کی برابری کا ایک اَور ثبوت نہیں جو خدا ہے،‏ اُس کو سوائے خدا کے کون بھیج سکتا ہے؟ «سچائی کا روح… باپ سے صادر ہوتا ہے۔» اِس کا مطلب ہے کہ وہ باپ کی طرف سے مسلسل بھیجا جاتا رہتا ہے اور پنتکست کے دن اُس کا نزول اِسی کا ایک خاص واقعہ تھا۔ روح القدس مسیح کی گواہی دیتا ہے۔ یہ اُس کا عظیم مشن ہے۔ وہ کوشش نہیں کرتا کہ لوگ میری طرف متوجہ ہوتے رہیں،‏ حالانکہ وہ تثلیث کا ایک اقنوم ہے بلکہ وہ گنہگاروں اور مقدسین سب کی توجہ خداوند کی طرف مبذول کرتا ہے۔

۱۵:‏۲۷ روح القدس شاگردوں کی معرفت براہِ راست گواہی دے گا۔ وہ «شروع سے» خداوند کے «ساتھ» تھے یعنی جب اُس نے علانیہ خدمت کی وہ اُس وقت سے اُس کے ساتھ تھے اور اُس کی ذات اور کاموں کے بارے میں بتانے کے اہل تھے۔ اگر کوئی شخص خداوند میں کوئی خامی یا نقص پا سکتا تو وہی پا سکتے تھے جو اُس کے قریب تھے اور شروع سے ساتھ تھے۔ لیکن اُنہوں نے دیکھا کہ خداوند نے کبھی کوئی گناہ نہیں کیا۔ وہ اِس حقیقت کی گواہی دے سکتے تھے کہ یسوع خدا کا بے گناہ بیٹا اور دُنیا کا نجات دہندہ ہے۔

۱۶:‏۱ غالباً شاگردوں کے دلوں میں بھی وہی اُمید تھی جو عام یہودی قوم میں تھی کہ مسیحِ موعود اپنی دُنیاوی سلطنت قائم کرے گا اور روم کی قوت ریزہ ریزہ ہو جائے گی۔ اِس کے برعکس اُس نے اُن کو بتایا کہ مَیں مروں گا،‏ دوبارہ جی اُٹھوں گا اور پھر آسمان پر واپس جاؤں گا،‏ روح القدس آئے گا اور تم میری گواہی دینے کے لئے دُنیا کے کونے کونے میں جاؤ گے۔ دُنیا اُن سے عداوت رکھے گی اور اُنہیں ستائے گی۔ خداوند نے اُن کو یہ ساری باتیں پیشگی بتا دیں تاکہ وہ یہ نہ کہیں کہ ہم دھوکے میں رہے۔ وہ «ٹھوکر نہ کھائیں» یا اُن کو صدمہ نہ ہو۔

۱۶:‏۲،‏۳ اکثر یہودی سمجھتے تھے کہ «عبادت خانوں سے خارج» کیا جانا سب سے بُری بات ہے جو کسی کو پیش آ سکتی ہے۔ لیکن اُن یہودیوں کو جو اَب یسوع کے شاگرد تھے یہی بات پیش آئے گی۔ مسیحی ایمان سے ایسی نفرت اور دشمنی رکھی جائے گی کہ جو اُس کا نام و نشان مٹانے کی کوشش کریں گے،‏ وہ «گمان» کریں گے کہ ہم خدا کو خوش کر رہے ہیں۔ اِس سے ثابت ہوتا ہے کہ ممکن ہے کہ کوئی شخص بے حد مخلص ہو،‏ بے حد جوشیلا ہو مگر اِس کے ساتھ ہی بے حد غلطی پر ہو۔

اِس سارے معاملے کی جڑ یہ ہے کہ اِنسان مسیح کی الوہیت کو پہچاننے سے قاصر رہتا ہے۔ یہودی اُسے قبول کرنے کو تیار نہ تھے اور اِس طرح «باپ» کو قبول کرنے سے بھی اِنکار کرتے تھے۔

۱۶:‏۴ خداوند نے اپنے شاگردوں کو پھر پیشگی خبردار کیا تاکہ جب تکالیف اور مصائب آئیں تو گھبرا نہ جائیں بلکہ اُن کو «یاد آ جائے» کہ خداوند نے اِس ایذارسانی کے بارے میں پہلے ہی بتا دیا تھا۔ اُن کو معلوم ہو گا کہ یہ سب کچھ خداوند کے ہماری زندگیوں کے لئے منصوبے کا حصہ ہے۔ خداوند نے اُن کو یہ باتیں پہلے اِس لئے نہ بتائی تھیں کہ وہ اُن کے ساتھ تھا۔ اُن کو پریشان کرنے اور اُن کے ذہن کو اُن باتوں سے ہٹانے کی کوئی ضرورت نہ تھی جن کی تعلیم اُن کو دینی تھی۔ لیکن اب جب کہ وہ اُن کو چھوڑ کر جا رہا تھا،‏ ضرور تھا کہ اُن کو اُس راہ کے بارے میں بتائے جو اُن کے سامنے تھی۔

ق۔ سچائی کے روح کا آنا  (‏۱۶:‏۵-‏۱۵)‏

۱۶:‏۵ اِس آیت میں ایک طرح کی مایوسی جھلکتی ہے کہ شاگردوں کو کوئی دلچسپی نہ تھی کہ خداوند کو کیا پیش آنے والا ہے۔ اگرچہ اُنہوں نے عام سے انداز میں پوچھا تھا کہ وہ کہاں جا رہا ہے لیکن لگتا تھا کہ اُنہیں کوئی خاص دلچسپی نہیں۔ وہ خود کو اُس میں شامل نہیں سمجھتے تھے۔

۱۶:‏۶ شاگردوں کو خداوند کے مستقبل کی نسبت اپنے مستقبل کی زیادہ فکر تھی۔ اُس کے سامنے تو صلیب اور قبر تھی اور شاگردوں کے سامنے اُس کی خدمت کے باعث ستایا جانا تھا۔ اُن کا «دل غم سے بھر گیا» تھا۔ اُس کے مصائب کے باعث نہیں بلکہ اپنے مصائب کے باعث۔

۱۶:‏۷ «لیکن» وہ بے یار و مددگار اور بغیر تسلی کے نہیں چھوڑے جائیں گے۔ مسیح روح القدس کو بھیجے گا کہ اُن کا «مددگار» ہو۔ یہ بات شاگردوں کے لئے «فائدہ مند» تھی کہ «مددگار» آ جائے،‏ اُن کی حوصلہ افزائی کرے،‏ اُن کو سکھائے اور مسیح کے علم کو اُن کے لئے پہلے سے کہیں زیادہ ٹھوس بنائے۔ یہ «مددگار» اُس وقت تک نہیں آئے گا جب تک خداوند یسوع واپس آسمان پر جا کر جلال نہ پائے۔ بے شک روح القدس اِس سے پہلے بھی دُنیا میں موجود تھا۔ لیکن اب اُسے ایک نئے انداز میں آنا تھا کہ دُنیا کو مجرم ٹھہرائے اور جن کا کفارہ دیا گیا ہے،‏ جو چھڑائے گئے ہیں،‏ اُن کی خدمت کرے۔

۱۶:‏۸ روح القدس «آ کر دُنیا کو گناہ اور راست بازی اور عدالت کے بارے میں قصووار ٹھہرائے گا»۔ اِس کا اکثر یہ مطلب لیا جاتا ہے کہ روح القدس اِنفرادی طور پر گنہگار کے باطن میں اِن باتوں کا شعور یا آگاہی پیدا کر دیتا ہے۔ یہ بات بے شک درست ہے،‏ مگر یہاں یہ بتانا مقصود نہیں ہے۔ روح القدس «دُنیا کو» اِس حقیقت ہی سے «قصوروار» ٹھہراتا ہے کہ وہ دُنیا میں ہے۔ اُسے یہاں نہیں ہونا چاہئے کیونکہ خداوند یسوع کو یہاں ہونا اور دُنیا پر بادشاہی کرنا چاہئے۔ لیکن دُنیا نے اُسے ردّ کر دیا۔ چنانچہ وہ واپس آسمان پر چلا گیا۔ روح القدس ایک ردّ کئے گئے مسیح کی جگہ پر یہاں ہے۔ اِس سے دُنیا کا قصور ثابت ہوتا ہے۔

۱۶:‏۹ روح القدس دُنیا کو «گناہ کے بارے میں» اِس لئے قصوروار ٹھہراتا ہے کہ وہ مسیح پر ایمان لانے سے قاصر رہے۔ اُس میں کوئی ایسی بات نہ تھی جو اِنسانوں کے لئے اُس پر ایمان لانے کی راہ میں مانع ہوتی۔ لیکن اُنہوں نے اُس کا اِنکار کیا۔ چنانچہ دُنیا میں روح القدس کی موجودگی اُن کے قصور کا ثبوت ہے۔

۱۶:‏۱۰ نجات دہندہ نے دعویٰ کیا کہ مَیں راست باز ہوں۔ مگر لوگ کہتے تھے کہ اُس میں بدروح ہے۔ خدا نے فیصلہ کن بات کر کے گویا کہا کہ «میرا بیٹا راست باز ہے۔ اور اِس بات کو ثابت کرنے کے لئے مَیں اُسے مُردوں میں سے جلاؤں گا اور واپس آسمان پر لے آؤں گا۔» روح القدس اِس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ مسیح دُرست تھا اور دُنیا غلط تھی۔

۱۶:‏۱۱ روح القدس کی موجودگی دُنیا کو آنے والی «عدالت کے بارے» میں بھی قصوروار ٹھہراتی ہے۔ اِس حقیقت کا کہ روح القدس دُنیا میں ہے یہ مطلب ہے کہ صلیب پر ابلیس کو سزا ہو چکی ہے۔ جتنے لوگ نجات دہندہ کو ردّ کرتے ہیں،‏ وہ عدالت کے دن اُس کی دہشت ناک سزا میں شریک ہوں گے۔ یہ عدالت کا دن ابھی آنے والا ہے۔

۱۶:‏۱۲ خداوند کو اپنے شاگردوں سے ابھی «اَور بھی بہت سی باتیں کہنا» تھیں۔ لیکن وہ اُن کو سمجھ نہیں سکتے تھے۔ یہ تعلیم دینے کا ایک اہم اصول ہے۔ پہلے سیکھنے کے عمل میں کچھ ترقی ہو،‏ بعد میں اعلیٰ سچائیاں پیش کی جائیں۔ خداوند نے شاگردوں کو کبھی تعلیمات سے دبایا نہیں بلکہ اُن کو ایک ایک سطر اور ایک ایک تصور کر کے تعلیم دیتا تھا۔

۱۶:‏۱۳ جو کام خداوند نے شروع کیا تھا،‏ «سچائی کا روح» اُسے جاری رکھے گا۔ وہ شاگردوں کو «تمام سچائی کی راہ دِکھائے گا»۔ ایک مفہوم میں «تمام سچائی» رسولوں کی زندگی میں اُن کے سپرد کی گئی اور اُنہوں نے اُسے تحریری شکل دے دی۔ اور نئے عہدنامے میں یہ «تمام سچائی» اب ہمارے پاس ہے اور پرانے عہدنامے کے ساتھ مل کر یہ اِنسان کے لئے خدا کے تحریری مکاشفے کو مکمل کرتی ہے۔ لیکن یہ بات بھی سچ ہے کہ روح تمام زمانوں میں خدا کے لوگوں کو تمام سچائی کی راہ دِکھاتا تھا۔ اور یہ کام وہ نوشتوں کے وسیلے سے کرتا ہے۔ وہ صرف وہی باتیں کہے گا جو باپ اور بیٹا اُسے کہنے کو دے گا۔ وہ «تمہیں آئندہ کی خبریں دے گا»۔ بلاشبہ یہ نئے عہدنامے میں،‏ خصوصاً مکاشفہ کی کتاب میں کیا گیا جس میں مستقبل سے پردہ اُٹھایا گیا ہے۔

۱۶:‏۱۴ روح کا سب سے اہم کام مسیح کو «جلال دینا»ہے۔ اِسی سے ہم تمام تعلیمات اور منادی کو جانچ سکتے ہیں۔ اگر اِس کے اثر سے نجات دہندہ کو عزت اور جلال ملتا ہے تو یہ روح القدس کا کام ہے «اِس لئے کہ مجھ ہی سے حاصل کر کے تمہیں خبریں دے گا»۔ یعنی وہ عظیم سچائیاں حاصل کرے گا جو مسیح سے تعلق رکھتی ہیں۔ اور وہ اُن کو ایمان داروں پر ظاہر کرتا ہے۔ یہ ایسا موضوع ہے جس کی گہرائی بے پایاں ہے۔

۱۶:‏۱۵ «باپ» کی ساری صفات بیٹے کی بھی ہیں۔ یہی کمالات ہیں جن کا ذکر مسیح آیت ۱۴ میں کر رہا تھا۔ روح القدس نے یہ جلالی کمالات،‏ خدمات،‏ مرتبے،‏ فضائل اور مسیح یسوع کی معموری شاگردوں پر ظاہر کر دی۔

ر۔ غم کا خوشی میں بدلنا  (‏۱۶:‏۱۶-‏۲۲)‏

۱۶:۱۶ اِس آیت میں واقعات کے اوقات کا نقشہ معلوم نہیں۔ مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ خداوند اُن سے تین دن دُور رہے گا اور پھر مردوں میں سے جی اُٹھنے کے بعد اُن پر دوبارہ ظاہر ہو گا۔ اور مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ خداوند واپس آسمان پر باپ کے پاس چلا جائے گا۔ «اور پھر تھوڑی دیر میں» (‏موجودہ زمانہ)‏ وہ اُن کے پاس دوبارہ آئے گا (‏اُس کی آمدثانی)‏۔ یا اِس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ «تھوڑی دیر میں» وہ اُسے اپنی جسمانی آنکھوں سے نہیں دیکھیں گے۔ لیکن جب پنتکست کے دن روح القدس بخشا جائے گا تو وہ ایمان سے اُس کو دیکھیں گے یعنی سمجھیں گے۔ اور یہ دیکھنا ایسا ہو گا کہ اُنہوں نے خداوند کو پہلے کبھی ایسے نہ دیکھا تھا۔

۱۶:‏۱۷ اُس کے شاگرد اِس بات کو نہ سمجھے۔ اِس اُلجھن کی وجہ یہ ہے کہ آیت ۱۰ میں نجات دہندہ نے کہا تھا کہ «مَیں باپ کے پاس جاتا ہوں اور تم مجھے پھر نہ دیکھو گے۔» مگر اب وہ کہہ رہا ہے کہ «تھوڑی دیر میں تم مجھے نہ دیکھو گے اور پھر تھوڑی دیر میں مجھے دیکھ لو گے۔» وہ اِن دونوں بیانوں کو مربوط نہ کر سکتے تھے۔

۱۶:‏۱۸ وہ ایک دوسرے سے «تھوڑی دیر» کا مطلب پوچھنے لگے۔ عجیب بات ہے کہ آج ہمارے سامنے بھی یہی مسئلہ ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ اِس کا اِشارہ جی اُٹھنے سے پہلے کے تین دِنوں کی طرف ہے،‏ یا پنتکست سے پہلے کے چالیس دنوں کی طرف یا اُس کی دوسری آمد سے پہلے کے ۱۹۰۰ سالوں سے زیادہ عرصے کی طرف۔

۱۶:‏۱۹،‏۲۰ خداوند یسوع اُن کے خیالات کو پڑھ سکتا تھا۔ وہ سوالوں کے ذریعے سے ظاہر کرتا ہے کہ مَیں تمہاری اُلجھن سے پوری طرح واقف ہوں۔

اُس نے اُن کے مسئلے کا براہِ راست جواب نہیں دیا۔ البتہ «تھوڑی دیر» کے بارے میں مزید معلومات فراہم کیں۔ «دُنیا خوش ہو گی» کیونکہ خداوند یسوع کو صلیب پر چڑھانے میں کامیاب ہو جائے گی۔ لیکن شاگرد «روئیں گے اور ماتم کریں گے»۔ مگر یہ صرف تھوڑی دیر کے لئے ہو گا کیونکہ شاگردوں کا «غم ہی خوشی بن جائے گا۔» اور ایسا ہی ہوا۔ پہلے تو مسیح کے جی اُٹھنے کے باعث اور دوسرے روح کے آنے کے باعث۔ پھر جب خداوند یسوع دوبارہ آئے گا تو سارے زمانوں کے سارے شاگردوں کا غم خوشی میں بدل جائے گا۔

۱۶:‏۲۱ اِس سے زیادہ عجیب اور قابلِ غور بات اَور کوئی نہیں کہ جب «بچہ» پیدا ہو چکتا ہے تو ماں جننے کے «درد» کو بہت جلد بھول جاتی ہے۔ شاگردوں کا حال بھی ایسا ہی ہو گا۔ جب وہ اُس کو دوبارہ دیکھیں گے تو اُس کی غیر حاضری یا جدائی کے غم کو بہت جلد بھول جائیں گے۔

۱۶:‏۲۲ ہمیں پھر اِقرار کرنا پڑتا ہے کہ اُن اوقات کا ہمیں کوئی علم نہیں جن کا ذکر خداوند نے کیا ہے۔ «مَیں تم سے پھر ملوں گا۔» کیا اِشارہ اُس کے جی اُٹھنے کی طرف ہے،‏ یا پنتکست پر روح القدس کو بھیجنے کی طرف یا آمدثانی کی طرف؟ تینوں حالتوں میں نتیجہ خوشی ہے۔ اور ایسی «خوشی» جو چھینی نہیں جا سکتی۔

ش۔ یسوع کے نام سے باپ سے مانگنا  (‏۱۶:‏۲۳-‏۲۸)‏

۱۶:‏۲۳ اب تک شاگرد اپنے سارے سوال اور درخواستیں لے کر خداوند کے پاس آتے تھے۔ «اُس دن» (‏وہ زمانہ جس کا آغاز پنتکست پر روح القدس کے نزول سے ہوا)‏ وہ جسمانی طور سے شاگردوں کے ساتھ نہ ہو گا۔ اِس لئے وہ اب اُس سے سوال نہ پوچھ سکیں گے۔ لیکن کیا اِس کا مطلب ہے کہ کوئی ہو گا ہی نہیں جس کے پاس وہ جا سکیں؟ ہرگز نہیں۔ «اُس دن» اُن کو حق ہو گا کہ «باپ» سے «مانگیں۔» وہ یسوع کے نام کی خاطر اُن کی درخواستیں پوری کرے گا۔ درخواستیں اِس لئے پوری نہ ہوں گی کہ ہم اِس لائق ہیں،‏ بلکہ اِس لئے کہ خداوند یسوع اِس لائق ہے۔

۱۶:‏۲۴ اِس سے پہلے شاگردوں نے خدا باپ سے مسیح کے «نام سے» کبھی کچھ نہیں مانگا تھا۔ اب اُن کو مانگنے کی دعوت دی جا رہی ہے۔ دعاؤں کا جواب ملنے سے اُن کی «خوشی پوری ہو جائے» گی۔

۱۶:‏۲۵ خداوند کی بہت سی تعلیمات کا مطلب سطحی طور پر واضح نہیں ہوتا تھا۔ وہ «تمثیلوں» اور مجازی زبان میں کلام کرتا تھا۔ زیرِ نظر باب میں بھی کئی وثوق سے مطلب نہیں بتا سکتے۔ روح القدس کے آنے سے «باپ» کے بارے میں تعلیم بہت واضح ہو گئی۔ اعمال کی کتاب اور خطوط میں سچائی تمثیلوں کے ذریعے سے نہیں بلکہ واضح اور «صاف صاف» بیانات کے وسیلے سے ظاہر کی گئی ہے۔

۱۶:‏۲۶ «اُس دن» — یہاں «اُس دن» سے مراد روح القدس کا زمانہ ہے جس میں اب ہم رہ رہے ہیں۔ ہمیں اعزاز حاصل ہے کہ باپ سے خداوند یسوع «کے نام سے» مانگیں۔ «مَیں تم سے یہ نہیں کہتا کہ باپ سے تمہارے لئے درخواست کروں گا» یعنی باپ کو اُکسانے کی ضرورت نہیں کہ ہماری دعاؤں کا جواب دے۔ بیٹے کو اُس سے منت نہیں کرنی پڑے گی۔ مگر ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ خداوند یسوع خدا اور اِنسان کے بیچ میں درمیانی ہے۔ اور وہ خدا کے تخت کے سامنے اپنے لوگوں کی ضرور شفاعت کرتا ہے۔

۱۶:‏۲۷ «باپ» شاگردوں کو اِس لئے عزیز رکھتا ہے کہ اُنہوں نے مسیح کو قبول کیا،‏ اُسے «عزیز رکھا» اور اُس کی الوہیت پر «ایمان لائے» تھے۔ اور یہی وجہ ہے کہ خداوند کو باپ سے درخواست کرنے کی ضرورت نہیں۔ روح القدس کے آنے سے شاگردوں کو باپ کے ساتھ قربت کا خاص احساس ہوا۔ اب وہ بڑے اعتماد کے ساتھ اُس کے پاس آتے ہیں۔ اور یہ سب کچھ اِس لئے ہے کہ وہ بیٹے کو «عزیز رکھتے ہیں»۔

۱۶:‏۲۸ یہاں خداوند نے خدا باپ کے برابر ہونے کے دعوے کو دُہرایا ہے۔ اُس نے یہ نہیں کہا کہ «مَیں خدا سے آیا ہوں» جیسے کہ وہ خدا کا بھیجا ہوا محض ایک نبی ہو بلکہ یہ کہ «مَیں باپ میں سے نکلا ہوں۔» اِس کا مطلب ہے کہ وہ ازلی خدا کا ازلی بیٹا،‏ خدا باپ کے برابر ہے۔ وہ اُس شخص کی مانند «دُنیا میں» آیا جو آنے سے پہلے کسی اَور جگہ رہتا تھا۔ صعود کے وقت وہ «دُنیا سے رخصت» ہو کر «باپ کے پاس» واپس چلا گیا۔ یہ جلال کے خداوند کے سوانحِ عمری کا مختصر خاکہ ہے۔

ت۔ مصیبت اور اِطمینان  (‏۱۶:‏۲۹-‏۳۳)‏

۱۶:‏۲۹،‏۳۰ یسوع کے شاگردوں نے سوچا کہ اب ہم پہلی دفعہ اُس کی باتیں سمجھ سکے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ اب تُو «کوئی تمثیل نہیں کہتا» یعنی تمثیلوں اور مجازی زُبان میں بات نہیں کرتا۔

اُن کا خیال تھا کہ «اب» ہم اُس کی ذات کے بھید کو پا گئے ہیں۔ «اب» اُن کو یقین ہو گیا کہ یسوع «سب کچھ جانتا ہے» اور کہ وہ «خدا سے نکلا ہے»۔ لیکن اُس نے تو کہا تھا کہ «مَیں باپ میں سے نکلا ہوں۔» کیا وہ اِس بات کا مطلب سمجھتے تھے؟ کیا وہ سمجھ گئے تھے کہ یسوع ذاتِ الٰہی کا ایک اقنوم ہے؟

۱۶:‏۳۱ اِس سوال سے یسوع نے اِشارہ کیا کہ اُن کا ایمان ابھی تک نامکمل تھا۔ وہ جانتا تھا کہ یہ مجھ سے محبت رکھتے اور مجھ پر ایمان رکھتے ہیں۔ لیکن کیا وہ واقعی جانتے تھے کہ مسیح میں خدا جسم میں ظاہر ہوا ہے؟

۱۶:‏۳۲ تھوڑی دیر میں خداوند گرفتار ہو گا،‏ اُس پر مقدمہ چلایا جائے گا اور اُسے مصلوب کر دیا جائے گا۔ تمام شاگرد اُس کا ساتھ چھوڑ دیں گے اور اپنے اپنے گھر کی راہ لیں گے۔ لیکن وہ اکیلا نہیں ہو گا کیونکہ «باپ» اُس کے «ساتھ» ہو گا۔ خدا باپ کے ساتھ یہ یکتائی تھی جس کو شاگرد نہیں سمجھتے تھے۔ اور جب سب اپنی اپنی جانوں کی خاطر بھاگ جائیں گے تو یہی حقیقت خداوند کو سہارا دیئے رکھے گی۔

۱۶:‏۳۳ اِس گفتگو کا مقصد یہ تھا کہ شاگرد «اِطمینان پائیں»۔ جب لوگ اُن سے نفرت اور عداوت رکھیں گے،‏ اُن کا تعاقب کریں گے،‏ اُن پر ظلم و ستم کریں گے،‏ اُن پر جھوٹے الزام لگائیں گے،‏ بلکہ اُن پر تشدد کریں گے تو وہ مسیح میں «اِطمینان» پائیں گے۔ وہ کلوری کی صلیب پر «دُنیا پر غالب آیا»۔ مصیبتوں کے باوجود شاگردوں کو یقین ہونا چاہئے کہ وہ فاتح اُن کے ساتھ ہے۔

روح القدس کے آنے کے ساتھ اُن کو خاطر جمعی اور برداشت کی نئی قوت اور طاقت حاصل ہو گی تاکہ وہ دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کر سکیں۔

ث۔ یسوع اپنی خدمت کے لئے دعا مانگتا ہے  (‏۱۷:‏۱-‏۵)‏

اب ہم اُس حصے پر پہنچتے ہیں جس کو خداوند کی «سردار کاہن» کی دعا کہا جاتا ہے۔ اُس نے اپنے لوگوں کے لئے شفاعت کی۔ یہ خداوند کی اُس خدمت کی تصویر ہے جو وہ اِس وقت آسمان پر کر رہا ہے۔ وہ آسمان پر اپنے لوگوں کی شفاعت کرتا ہے۔ مارکس رینزفورڈ (‏Rainsford)‏نے اِس بات کو نہایت خوبصورت انداز میں پیش کیا ہے:‏

«یہ پوری دعا ہمارے مبارک خداوند کی اُس شفاعت کی خوبصورت تصویر ہے جو وہ خدا کے دہنے ہاتھ کر رہا ہے۔ اپنے لوگوں کے خلاف ایک لفظ نہیں کہتا۔ اُن کی خامیوں اور ناکامیوں کی طرف اِشارہ تک نہیں کرتا… خداوند اپنے لوگوں کے لئے جتنی مناجات کرتا ہے اُن سب کا تعلق روحانی باتوں سے ہے،‏ سب کا حوالہ آسمانی برکات سے ہے۔ خداوند اُن کے لئے مال و دولت،‏ عزت اور ناموری،‏ یا دُنیاوی اثر و رسوخ (‏مراعات)‏ نہیں مانگتا بلکہ پوری دل سوزی کے ساتھ یہ دعا مانگتا ہے کہ وہ بدی سے بچے رہیں،‏ دُنیا سے الگ رہیں،‏ فرض کو ادا کرنے کے لائق ہوں،‏ اور بحفاظت آسمانی وطن میں لائے جائیں۔ اِنسانی روح کی خوش حالی بہترین خوش حالی ہے۔ یہ حقیقی خوش حالی کا نشان ہے۔»

۱۷:‏۱ «وہ گھڑی آ پہنچی۔» بہت دفعہ دشمن اُس پر ہاتھ ڈالنے اور اُسے پکڑنے میں ناکام رہے تھے کیونکہ ابھی اُس کا وقت نہیں آیا تھا۔ لیکن اب وقت آ گیا تھا کہ خداوند مارا جائے۔ «اپنے بیٹے کا جلال ظاہر کر۔» نجات دہندہ نے یہ درخواست کی۔ وہ صلیب پر اپنی موت کی طرف دیکھ رہا تھا۔ اگر وہ قبر میں رہ گیا تو دُنیا جانے گی کہ وہ محض ایک اَور اِنسان تھا۔ لیکن اگر خدا اُسے مُردوں میں سے زندہ کر کے جلال دے تو یہ ثبوت ہو گا کہ وہ خدا کا بیٹا اور دُنیا کو بچانے والا ہے۔ خدا نے اِس دعا کا جواب دیتے ہوئے اُسے تیسرے دن مُردوں میں سے زندہ کیا اور بعد میں اُسے واپس آسمان پر اُٹھایا اور اُس کے سر پر جلال اور عزت کا تاج رکھا۔

«تاکہ بیٹا تیرا جلال ظاہر کرے۔» خداوند نے دعا جاری رکھی۔ اِس کا مطلب اگلی دو آیات میں واضح کیا گیا ہے۔ یسوع باپ کا جلال اِس طرح ظاہر کرتا ہے کہ جو اُس پر ایمان لاتے ہیں،‏ اُن کو ہمیشہ کی زندگی دیتا ہے۔ جب غیر خدا پرست لوگ ایمان لا کر اِس دُنیا میں خداوند یسوع کی زندگی کو ظاہر کرتے ہیں تو خدا کو بہت جلال ملتا ہے۔

۱۷:‏۲ یسوع نے صلیب پر کفارہ دینے کا کام پورا کیا۔ اِس کے نتیجے میں خدا نے اپنے بیٹے کو «ہر بشر پر اِختیار دیا ہے۔» اِس «اِختیار» سے وہ «اُن سب کو… ہمیشہ کی زندگی» دیتا ہے جن کو باپ نے «اُسے بخشا ہے»۔ یہاں بھی ہمیں یاد دلایا گیا ہے کہ دُنیا کی بنیادیں رکھنے سے پہلے خدا نے بعض لوگوں کو الگ کر دیا کہ وہ مسیح کے ہوں۔ تاہم یاد رکھیں کہ خدا ہر ایک شخص کو نجات پیش کرتا ہے۔ کوئی بھی ایسا نہیں جو نجات دہندہ پر ایمان لا کر نجات نہ پا سکے۔

۱۷:‏۳ یہاں بڑی سادگی سے واضح کیا گیا ہے کہ «ہمیشہ کی زندگی» کیسے حاصل ہوتی ہے۔ یہ «خدا اور… یسوع مسیح کو» جاننے سے ملتی ہے۔ صرف خدا ہی «خدائے واحد و برحق» ہے۔ بت ہرگز خدا نہیں۔ اُن میں کوئی حقیقت نہیں۔ اِس آیت کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ یسوع مسیح «برحق» خدا نہیں۔ اُس کا نام خدا باپ کے نام کے ساتھ آیا ہے۔ اور کہا گیا ہے کہ وہ ہمیشہ کی زندگی کا سرچشمہ ہے۔ یہاں خداوند اپنے آپ کو «یسوع مسیح» کہتا ہے۔ مسیح سے مراد مسیحِ موعود ہے۔ یہ آیت اِس دعوے کی تردید کرتی ہے کہ یسوع نے کبھی دعویٰ نہیں کیا کہ مَیں مسیحِ موعود ہوں۔

۱۷:‏۴ خداوند نے یہ الفاظ اِس طرح ادا کئے جیسے وہ مر کر،‏ دفن ہو کر اور دوبارہ زندہ ہو کر سارا کام مکمل کر چکا ہے۔ اُس نے اپنی بے گناہ زندگی سے،‏ معجزات سے،‏ دُکھ اُٹھانے اور مرنے سے اور مُردوں میں سے جی اُٹھنے سے باپ کا «جلال» ظاہر کیا تھا۔ اُس نے نجات کا وہ «کام… تمام» کر دیا تھا جو باپ نے اُسے «کرنے کو دیا تھا»۔ رائیل (‏Ryle)‏ اِسے یوں بیان کرتا ہے:‏

«تصلیب سے باپ کو جلال ملا۔ اِس سے باپ کی حکمت،‏ وفاداری،‏ پاکیزگی اور محبت کو جلال ملا۔ صلیب نے اُس کی حکمت کو ظاہر کیا کہ اُس نے ایک ایسا منصوبہ وضع اور مہیا کیا جس سے وہ عادل ٹھہرا اور ساتھ ہی گنہگاروں کو راست باز ٹھہرانے والا بنا۔ صلیب نے اُس کی وفاداری کو ظاہر کیا کہ اُس نے اپنا وعدہ پورا کیا کہ عورت کی نسل سانپ کے سر کو کچلے گی۔ صلیب نے اُس کی پاکیزگی کو ظاہر کیا کہ مطالبہ کیا کہ ہمارے عظیم عوضی میں اُس کی شریعت کے تمام تقاضے پورے ہوں۔ صلیب نے اُس کی محبت کو ظاہر کیا کہ ایسا درمیانی،‏ ایسا کفارہ دینے والا اور گنہگار اِنسان کا ایسا دوست بھیجا یعنی اپنا بیٹا جو اَزل سے اُس کے ساتھ تھا۔

تصلیب سے بیٹے کو جلال ملا۔ اِس سے اُس کے ترس،‏ اُس کے صبر و برداشت اور اُس کی قدرت کو جلال ملا۔ صلیب نے ظاہر کر دیا کہ وہ سب سے زیادہ ترس کھانے والا ہے کہ اُس نے ہمارے بدلے دُکھ اُٹھایا،‏ ہماری خاطر مر گیا۔ وہ ہماری خاطر گناہ محسوب ہوا،‏ ہماری خاطر لعنتی بنا۔ اور اپنے خون کی قیمت ادا کر کے ہماری نجات مول لی۔ صلیب نے ظاہر کیا کہ وہ سب سے زیادہ صبر اور برداشت کرنے والا ہے،‏ کہ وہ عام آدمیوں کی طرح عام موت نہیں مرا،‏ بلکہ رضاکارانہ خود کو ایسے دُکھوں اور جاں کنی کے حوالے کر دیا جن کا تصور کوئی دماغ نہیں کر سکتا،‏ حالانکہ وہ ایک لفظ سے اپنے باپ کے فرشتوں کو طلب کر کے آزاد ہو سکتا تھا۔ صلیب نے ظاہر کیا کہ وہ سب سے زیادہ قدرت رکھتا ہے،‏ کہ اُس نے دُنیا کی ساری خطاکاریوں کا بوجھ اُٹھا لیا۔ اور شیطان کو شکست دے کر اُس کا شکار چھین لیا۔»

۱۷:‏۵ دُنیا میں آنے سے پیشتر مسیح باپ کے ساتھ آسمان میں رہتا تھا۔ جب فرشتے خداوند پر نظر کرتے تو اُلوہیت کا سارا جلال دیکھتے تھے۔ مگر جب وہ اِنسانوں کے درمیان آیا تو الوہیت کا جلال پردے کے اندر چلا گیا۔ گو وہ اَب بھی خدا تھا مگر اکثر دیکھنے والوں کو وہ خدا نظر نہیں آتا تھا۔ اُن کو وہ صرف بڑھئی کا بیٹا نظر آتا تھا۔ یہاں نجات دہندہ دعا مانگتا ہے کہ اُس کے آسمانی جلال کو دیدنی طور پر بحال اور ظاہر کیا جائے۔ «مجھے اپنے ساتھ جلالی بنا دے۔» اِن الفاظ کا مطلب ہے کہ مجھے آسمان میں اپنی حضوری میں جلال دے۔ وہ جلال جو مَیں اپنے تجسم سے پیشتر تیرے ساتھ رکھتا تھا،‏ اُسے بحال کر دے۔ اِس سے مسیح کے ازل سے ہونے کی واضح تعلیم ملتی ہے۔

خ۔ یسوع اپنے شاگردوں کے لئے دعا مانگتا ہے  (۱۷:‏۶-‏۱۹)‏

۱۷:‏۶ یسوع نے باپ کا «نام» اپنے شاگردوں پر «ظاہر کیا»۔ پاک کلام میں «نام» کا مطلب «شخص»،‏ اُس کی صفات اور سیرت ہوتا ہے۔ مسیح نے باپ کی حقیقی ذات کو پورے طور سے ظاہر کر دیا۔ شاگرد «دُنیا میں سے» بیٹے کو «دیئے گئے» تھے۔ وہ بے ایمان بنی نوعِ اِنسان سے الگ کئے گئے اور مسیح کی ملکیت ہونے کے لئے مخصوص کئے گئے۔ «وہ دُنیا کے وجود میں آنے سے پیشتر چنے جانے کے باعث باپ کے تھے اور خدا کی بخشش سے اور خون سے خریدے جانے کے باعث مسیح کے ہو گئے» (‏جے۔ جی۔ بیلٹ)‏۔

«اُنہوں نے تیرے کلام پر عمل کیا»۔ اُن کی تمام ناکامیوں اور کامیوں کے باوجود یسوع اُن کی تعریف کرتا ہے کہ وہ ایمان لائے اور اُس کی تعلیم پر عمل کیا۔ رینز فورڈ (‏Rainsford)‏ رقم طراز ہے کہ «یسوع اپنے شاگردوں کے خلاف ایک لفظ نہیں کہتا۔ اِشارہ تک نہیں کرتا کہ وہ کیا کرتے رہے اور کیا کرنے کو — اُسے اکیلا چھوڑ جانے کو — تھے۔»

۱۷:‏۷،‏۸ نجات دہندہ نے اپنے باپ کو کامل طور پر پیش اور ظاہر کیا تھا۔ اُس نے شاگردوں پر واضح کر دیا تھا کہ مَیں اپنے اِختیار سے نہ کچھ کہتا اور نہ کچھ کرتا ہوں بلکہ صرف وہی کرتا ہوں جو باپ مجھے کہتا ہے۔ اِس لئے وہ «ایمان لائے» کہ «باپ» ہی نے بیٹے کو «بھیجا» ہے۔

مسیح نے اپنے مشن کو اپنی طرف سے شروع نہیں کیا تھا۔ وہ خدا کی مرضی کی تعمیل کرتے ہوئے اِس دُنیا میں آیا تھا۔ وہ یہوواہ کا کامل خادم تھا۔

۱۷:‏۹ بحیثیت سردار کاہن اُس نے شاگردوں کے لئے دعا مانگی۔ اُس نے «دُنیا کے لئے درخواست نہیں» کی۔ مگر اِس سے یہ نہیں سمجھ لینا چاہئے کہ اُس نے دُنیا کے لئے کبھی درخواست نہیں کی۔ مثلاً صلیب پر اُس نے درخواست کی کہ «اے باپ! اِن کو معاف کر کیونکہ یہ نہیں جانتے کہ کیا کرتے ہیں۔»

مگر یہاں وہ خدا کے تخت کے سامنے ایمان داروں کے نمائندے کے طور پر دعا مانگتا ہے۔ یہاں اُس کی دعا صرف اُنہی کے لئے ہے۔ یہاں اُس کی دعا صرف اپنوں کے لئے ہو سکتی ہے۔

۱۷:‏۱۰ یہاں باپ اور بیٹے کی کامل یکتائی نظر آتی ہے۔ محض اِنسان ایسی بات نہیں کہہ سکتا۔ ہم خدا سے یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ «جو کچھ میرا ہے وہ سب تیرا ہے» لیکن یہ ہرگز نہیں کہہ سکتے کہ «جو تیرا ہے،‏ وہ میرا ہے۔» چونکہ وہ بیٹا ہے اِس لئے وہ یہ بات کہہ سکتا ہے۔ اِن آیات (‏۶-‏۱۹)‏ میں یسوع اپنے پس ماندہ اور کمزور گلّے کو پیش کرتا اور اُس کے ایک ایک برّے کو رنگا رنگ چوغے میں ملبس کر کے کہتا ہے کہ «اِن سے میرا جلال ظاہر» ہوتا ہے۔

۱۷:‏۱۱ خداوند دوبارہ اپنی آسمان کو واپسی پر نظر کرتا ہے۔ «قدوس باپ» کے لقب پر غور کریں۔ «قدوس» کا مطلب ہے لامحدود طور پر اعلیٰ و ارفع۔ اور «باپ» کا مطلب ہے وہ ہستی جو نہایت ہی قریب ہو۔

یسوع نے دعا مانگی:‏«تاکہ وہ ہماری طرح ایک ہوں۔» یہ مسیحی کردار میں ایک ہونے کی طرف اِشارہ ہے۔ جس طرح باپ اور بیٹا اخلاقی مشابہت میں ایک ہیں،‏ اِسی طرح ایمان داروں کو بھی اُس میں ایک ہونا چاہئے کہ وہ خداوند یسوع کی مانند ہوں۔

۱۷:‏۱۲ «جب تک» یسوع اپنے شاگردوں کے «ساتھ رہا» اُس نے باپ کے «نام» سے اُن کی «حفاظت کی» یعنی اُس کی قدرت اور اِختیار سے اُن کی حفاظت کرتا رہا اور اُن کو باپ کا وفادار رکھا۔ یسوع نے کہا «ہلاکت کے فرزند کے سوا اُن میں سے کوئی ہلاک نہ ہوا۔» ہم جانتے ہیں کہ «ہلاکت کا فرزند» یہوداہ اسکریوتی تھا۔ لیکن اِس کا مطلب یہ نہیں کہ یہوداہ بھی وہ تھا جسے باپ نے بیٹے کو بخشا تھا (‏آیت ۲)‏ یا وہ کبھی سچے دل سے ایمان لایا تھا۔ اِس جملے کا مطلب یہ ہے کہ «جن کو تُو نے مجھے بخشا مَیں نے اُن کی حفاظت کی۔ اور سوائے ہلاکت کے فرزند کے اُن میں سے کوئی ہلاک نہ ہوا تاکہ کتابِ مقدس کا لکھا پورا ہو»۔ «ہلاکت کا فرزند۔» اِس لقب کا مطلب ہے کہ یہوداہ کو ابدی تباہی یا سزا کے حوالے کیا گیا تھا۔ یہوداہ کو مجبور نہیں کیا گیا تھا کہ مسیح کو پکڑوائے تاکہ نبوت پوری ہو جائے بلکہ اُس نے نجات دہندہ کو پکڑوانے کا اِنتخاب خود کیا۔ اور یوں «کتابِ مقدس کا لکھا» پورا ہوا۔

۱۷:‏۱۳ خداوند نے بتایا کہ وہ شاگردوں کے سامنے کیوں دعا مانگ رہا تھا۔ گویا وہ اُن سے کہہ رہا تھا کہ «یہ وہ شفاعت ہے جو مَیں آسمان میں خدا کے سامنے پیش کرنے سے کبھی نہیں رُکوں گا۔ لیکن اب یہ شفاعت ’دُنیا میں‘ اور تمہارے سنتے ہوئے اِس لئے کر رہا ہوں کہ تم زیادہ صفائی سے جان لو کہ مَیں وہاں تمہاری بہتری کے فروغ کے لئے کیسے مصروف رہوں گا تاکہ تم ’میری خوشی‘ میں زیادہ سے زیادہ شریک ہو جاؤ»۔

۱۷:‏۱۴ خداوند نے «خدا کا کلام» شاگردوں کو پہنچا دیا اور اُنہوں نے اُسے قبول کر لیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ «دُنیا» اُن کے خلاف ہو گئی اور اُن سے «عداوت» رکھنے لگی۔ اُن میں خداوند یسوع کی خصوصیات تھیں اِس لئے «دُنیا» اُن کو حقیر جانتی تھی۔ وہ دُنیا کے نظام میں موزوں نہیں بیٹھتے تھے۔

۱۷:‏۱۵ خداوند نے «یہ درخواست نہیں» کی کہ باپ ایمان داروں کو فی الفور آسمانی وطن میں واپس بلا لے۔ اُن کو اِس دُنیا میں رہ کر فضل میں بڑھنا اور مسیح کی گواہی دینا ضرور تھا۔ بلکہ مسیح نے یہ دعا مانگی کہ باپ «اُس شریر سے اُن کی حفاظت» کرے۔ فرار نہیں بلکہ تحفظ کی دعا۔

۱۷:‏۱۶ جیسے مسیح «دُنیا کا نہیں» تھا ویسے ہی مسیحی بھی «دُنیا کے نہیں» ہوتے۔ جب ہمیں دُنیوی عیش و عشرت کی آزمائش آئے،‏ یا دُنیاوی تعلقات میں پڑیں جہاں یسوع کے نام کو ناپسند کیا جاتا ہے تو لازم ہے کہ ہم اِس بات کو یاد رکھیں۔

۱۷:‏۱۷ «مقدس کر۔» اِس کا مطلب ہے الگ رکھنا،‏ مخصوص کرنا۔ خدا کا کلام ایمان داروں کی تقدیس کرنے کی تاثیر رکھتا ہے۔ جب ایمان دار اِسے پڑھتے اور اِس پر عمل کرتے ہیں تو وہ اُن برتنوں کی طرح الگ اور مخصوص کئے جاتے ہیں جو مالک کے استعمال کے لائق ہیں۔ خداوند یسوع یہاں بالکل اِسی بات کے لئے دعا مانگ رہا تھا۔ وہ ایسے لوگ چاہتا تھا جو دُنیا سے نکال کر خدا کے لئے الگ رکھے گئے ہوں اور اِس لائق ہوں کہ خدا اُن کو استعمال کرے۔ «تیرا کلام سچائی ہے۔» الفاظ پر غور کریں۔ اُس نے یہ نہیں کہا کہ «تیرے کلام میں سچائی ہے» جیسا کہ آج کل بہت سے لوگ کہتے ہیں بلکہ یہ کہ «تیرا کلام سچائی ہے»۔

۱۷:‏۱۸ باپ نے خداوند یسوع کو «دُنیا میں بھیجا» تاکہ خدا کی ذات کو اِنسان پر ظاہر کرے۔ جب خداوند دعا مانگ رہا تھا تو اُسے احساس ہوا کہ مَیں تو بہت جلد واپس آسمان پر چلا جاؤں گا لیکن آنے والی نسلوں کو تو خدا کے بارے میں گواہی کی پھر بھی ضرورت رہے گی۔ ضرور ہے کہ ایمان دار روح القدس کی قوت سے اِس کام کو سر انجام دیں۔ بے شک مسیحی خدا کی نمائندگی مسیح کی طرح کاملیت سے نہیں کر سکتے۔ لیکن ایمان دار خدا کو دُنیا کے سامنے پیش کرنے کے لئے ہی تو یہاں موجود ہیں۔ اور اِسی سبب سے یسوع نے «اُنہیں دُنیا میں بھیجا»۔

۱۷:‏۱۹ «مقدس کرنا» کا لازمی مطلب «پاک کرنا» نہیں۔ مسیح تو اپنی ذات میں پاک ہے بلکہ یہاں تصور یہ ہے کہ خداوند خود کو اُس کام کے لئے الگ یا مخصوص (‏دیکھئے ریفرنس بائبل کا حاشیہ)‏ کرتا ہے جسے کرنے کے لئے باپ نے اُسے بھیجا تھا۔ اور وہ کام ہے فدیہ یا قربانی کی موت۔ وائین کہتا ہے کہ «اُس کی تقدیس ہماری تقدیس کے لئے نمونہ اور قوت ہے۔» ضرور ہے کہ ہم دُنیا سے الگ کئے جائیں اور اُس (‏مسیح)‏ میں اپنا حصہ پائیں۔

ذ۔ یسوع تمام ایمان داروں کے لئے دعا مانگتا ہے  (‏۱۷:‏۲۰-‏۲۶)‏

۱۷:‏۲۰ اب ہمارا سردار کاہن دعا کو شاگردوں سے آگے بڑھاتا ہے۔ اُس نے اُن نسلوں کے لئے دعا کی جن کو ابھی پیدا ہونا تھا۔ درحقیقت اِس آیت کو پڑھنے والا ہر ایمان دار کہہ سکتا ہے کہ «یسوع نے تقریباً دو ہزار سال پہلے میرے لئے دعا مانگی۔»

۱۷:‏۲۱ یہ دعا ایمان داروں میں اِتحاد اور یگانگت کے لئے تھی۔لیکن اِس دفعہ گنہگاروں کی نجات بھی نظر میں تھی۔ جس یگانگت کے لئے مسیح نے دعا مانگی،‏ وہ کلیسیا کا خارجی اتحاد نہیں،‏ بلکہ وہ یگانگت ہے جس کی بنیاد مشترکہ اخلاقی مشابہت ہے۔ اُس نے دعا مانگی کہ خدا اور مسیح کی ذات (‏سیرت /کردار)‏ کا اظہار کرنے میں ایمان دار «ایک ہوں۔» اِس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ «دُنیا ایمان لائے» گی کہ مسیح کو خدا نے «بھیجا» تھا۔ یہ ایسی یگانگت اور اِتحاد ہے جس کے باعث دُنیا قائل ہو جاتی ہے کہ «اِن مسیحیوں میں مسیح اُسی طرح نظر آتا ہے جیسے باپ مسیح میں نظر آتا تھا۔»

۱۷:‏۲۲ آیت ۱۱ میں مسیح نے رفاقت میں یگانگت کی دعا مانگی تھی۔ آیت ۲۱ میں گواہی دینے میں یگانگت اور اتحاد کی دعا تھی۔ یہاں «جلال» میں یکتائی ہے۔ یہاں اُس وقت کی طرف نظریں لگی ہوئی ہیں جب مقدسین کو جلالی بدن ملیں گے۔ «وہ جلال جو تُو نے مجھے دیا ہے۔» یہ قیامت اور صعود کا جلال ہے۔

ابھی ہم کو یہ جلال نہیں ملا۔ جہاں تک خدا کے مقاصد کا تعلق ہے یہ جلال ہم کو دیا گیا ہے۔ لیکن یہ حقیقت میں اُس وقت ملے گا جب نجات دہندہ ہمیں آسمان پر لے جانے کو دوبارہ آئے گا۔ جب مسیح اپنی بادشاہی قائم کرنے کو دُنیا میں دوبارہ آئے گا اُس وقت یہ جلال ظاہر ہو گا۔ اُس وقت دُنیا باپ اور بیٹے کے درمیان جو یکتائی ہے اور بیٹے اور اُس کے لوگوں میں جو یکتائی ہے،‏ اُس کو سمجھے گی اور ایمان لائے گی (‏جو بعد از وقت ہو گا)‏ کہ یسوع وہ ہستی ہے جس کو خدا نے بھیجا تھا۔

۱۷:‏۲۳ «دُنیا» نہ صرف یہ جانے گی کہ یسوع خدا کا بیٹا ہے بلکہ یہ بھی جانے گی کہ خدا ایمان داروں سے ویسے ہی محبت رکھتا ہے جیسے مسیح سے رکھتا ہے۔ یہ بات ناقابلِ یقین لگتی ہے کہ ہم سے ایسی محبت رکھی جائے۔ مگر یہ حقیقت ہے۔

۱۷:‏۲۴ بیٹا چاہتا ہے کہ اُس کے لوگ جلال میں اُس کے ساتھ ہوں۔ جب بھی کوئی ایمان دار مرتا ہے تو ایک لحاظ سے وہ اِس دعا کا ایک جواب ہوتا ہے۔ اگر ہم اِس حقیقت کو جانیں تو غم میں بہت تسلی ہو گی۔ مرنے کا مطلب ہے مسیح کے ساتھ جا رہنا اور اُس کا «جلال دیکھنا»۔ یہ «جلال» صرف اُس کی الوہیت کا جلال نہیں جو وہ بنائے عالم سے پیشتر خدا کے ساتھ رکھتا تھا بلکہ وہ جلال بھی ہے جو اُس کو بحیثیت نجات دہندہ اور فدیہ دینے والا حاصل ہوا۔ یہ «جلال» ثبوت ہے کہ خدا نے «بنائے عالم سے پیشتر مسیح سے محبت رکھی۔»

۱۷:‏۲۵ «دُنیا» یہ دیکھنے سے قاصر رہی کہ خدا یسوع میں ظاہر ہوا ہے۔ لیکن چند شاگردوں نے اِس ظہور کو دیکھا اور ایمان لائے کہ خدا نے یسوع کو بھیجا تھا۔ مسیح کے صلیب دیئے جانے سے ایک رات پہلے سارے بنی نوعِ اِنسان میں صرف معدودے چند وفادار دل تھے — اور وہ بھی بہت جلد اُسے چھوڑ جانے کو تھے۔

۱۷:‏۲۶ خداوند یسوع نے اپنے شاگردوں کو باپ کے «نام سے واقف کیا» تھا۔ وہ اُن کے ساتھ تھا۔ مطلب یہ ہے کہ اُس نے باپ کو اُن پر ظاہر کیا۔ اُس کے کام اور باتیں باپ کے کام اور باتیں تھیں۔ اُنہوں نے مسیح میں باپ کا کامل نقش دیکھا۔ یسوع روح القدس کی خدمت کی معرفت باپ کے نام سے «واقف» کرانے کا عمل مسلسل جاری رکھے ہوئے ہے۔ پنتکست کے دن سے روح ایمان داروں کو خدا باپ کے بارے میں سکھا رہا ہے۔ خاص کر خدا کے کلام کے وسیلے سے ہم جان سکتے ہیں کہ خدا کیسا ہے۔ جب لوگ باپ کو جیسا کہ خداوند یسوع نے اُسے ظاہر کیا ہے قبول کرتے ہیں تو خدا اُن سے خاص محبت رکھتا ہے۔ چونکہ خداوند یسوع سارے ایمان داروں کے اندر سکونت کرتا ہے تو باپ اُن کو بھی اُسی نظر سے دیکھتا اور اُن سے بھی وہی سلوک کرتا ہے جیسا اپنے اکلوتے بیٹے سے کرتا ہے۔ ریوس (‏Reuss)‏ کہتا ہے:‏

«اِس طبعی دُنیا کی تخلیق سے پیشتر خدا کی محبت بیٹے پر مرکوز تھی (‏آیت ۲۴)‏۔ اب نئی روحانی دُنیا کی تخلیق کے بعد یہ محبت اُن سب پر مرکوز ہے جو بیٹے کے ساتھ ایک ہیں۔»

اور گوڈٹ (‏Godet)‏ اِس میں یوں اضافہ کرتا ہے:‏

«اپنے بیٹے کو اِس دُنیا میں بھیجنے میں خدا کا خاص مقصد یہ تھا کہ وہ بنی نوعِ اِنسان میں اپنے لئے فرزندوں کا ایک ایسا خاندان بنائے جو اُس (‏بیٹے)‏ کے مشابہ ہو۔»

چونکہ خداوند یسوع ایمان دار کے اندر ہوتا ہے اِس لئے خدا اُس (‏ایمان دار)‏ سے ویسی محبت رکھ سکتا ہے جیسی مسیح سے۔

رینز فورڈ (‏Rainsford)‏ کے مطابق جو عرضیں اور درخواستیں مسیح اپنے لوگوں کے لئے  کرتا ہے:‏

«اِن کا تعلق روحانی باتوں،‏ آسمانی برکتوں سے ہے۔ وہ مال و دولت یا عزت اور نام یا دُنیوی اثر و رسوخ کے لئے درخواست نہیں کرتا بلکہ بدی سے چھٹکارے،‏ دُنیا سے علیٰحدگی،‏ فرض کی ادائیگی کے لئے توفیق اور آسمان پر بحفاظت پہنچنے کے لئے درخواست کرتا ہے۔»

مقدس کتاب

۱- اِن باتوں کے بعد یِسُوعؔ گلِیل میں پِھرتا رہا کیونکہ یہُودیہ میں پِھرنا نہ چاہتا تھا۔ اِس لِئے کہ یہُودی اُس کے قتل کی کوشِش میں تھے۔
۲- اور یہُودِیوں کی عِیدِ خیام نزدِیک تھی۔
۳- پس اُس کے بھائِیوں نے اُس سے کہا یہاں سے روانہ ہو کر یہُودیہ کو چلا جا تاکہ جو کام تُو کرتا ہے اُنہیں تیرے شاگِرد بھی دیکھیں۔
۴ کیونکہ اَیسا کوئی نہیں جو مشہُور ہونا چاہے اور چُھپ کر کام کرے۔ اگر تُو یہ کام کرتا ہے تو اپنے آپ کو دُنیا پر ظاہِر کر۔
۵ کیونکہ اُس کے بھائی بھی اُس پر اِیمان نہ لائے تھے۔
۶- پس یِسُوعؔ نے اُن سے کہا کہ میرا تو ابھی وقت نہیں آیا مگر تُمہارے لِئے سب وقت ہیں۔
۷- دُنیا تُم سے عداوت نہیں رکھ سکتی لیکن مُجھ سے رکھتی ہے کیونکہ مَیں اُس پر گواہی دیتا ہُوں کہ اُس کے کام بُرے ہیں۔
۸- تُم عِید میں جاؤ۔ مَیں ابھی اِس عِید میں نہیں جاتا کیونکہ ابھی تک میرا وقت پُورا نہیں ہُؤا۔
۹- یہ باتیں اُن سے کہہ کر وہ گلِیل ہی میں رہا۔
۱۰- لیکن جب اُس کے بھائی عِید میں چلے گئے اُس وقت وہ بھی گیا۔ ظاہِراً نہیں بلکہ گویا پوشِیدہ۔
۱۱- پس یہُودی اُسے عِید میں یہ کہہ کر ڈُھونڈنے لگے کہ وہ کہاں ہے؟
۱۲- اور لوگوں میں اُس کی بابت چُپکے چُپکے بُہت سی گُفتگُو ہُوئی۔ بعض کہتے تھے وہ نیک ہے اور بعض کہتے تھے نہیں بلکہ وہ لوگوں کو گُمراہ کرتا ہے۔
۱۳- تَو بھی یہُودِیوں کے ڈر سے کوئی شخص اُس کی بابت صاف صاف نہ کہتا تھا۔
۱۴- اور جب عِید کے آدھے دِن گُزر گئے تو یِسُوعؔ ہَیکل میں جا کر تعلِیم دینے لگا۔
۱۵- پس یہُودِیوں نے تعجُّب کر کے کہا کہ اِس کو بغَیر پڑھے کیوں کر عِلم آ گیا؟
۱۶- یِسُوع نے جواب میں اُن سے کہا کہ میری تعلِیم میری نہیں بلکہ میرے بھیجنے والے کی ہے۔
۱۷- اگر کوئی اُس کی مرضی پر چلنا چاہے تو وہ اِس تعلِیم کی بابت جان جائے گا کہ خُدا کی طرف سے ہے یا مَیں اپنی طرف سے کہتا ہُوں۔
۱۸- جو اپنی طرف سے کُچھ کہتا ہے وہ اپنی عِزّت چاہتا ہے لیکن جو اپنے بھیجنے والے کی عِزّت چاہتا ہے وہ سچّا ہے اور اُس میں ناراستی نہیں۔
۱۹- کیا مُوسیٰ نے تُمہیں شرِیعت نہیں دی؟ تَو بھی تُم میں سے شرِیعت پر کوئی عمل نہیں کرتا۔ تُم کیوں میرے قتل کی کوشِش میں ہو؟
۲۰- لوگوں نے جواب دِیا تُجھ میں تو بدرُوح ہے۔ کَون تیرے قتل کی کوشِش میں ہے؟
۲۱- یِسُوعؔ نے جواب میں اُن سے کہا مَیں نے ایک کام کِیا اور تُم سب تعجُّب کرتے ہو۔
۲۲- اِس سبب سے مُوسیٰ نے تُمہیں خَتنہ کا حُکم دِیا ہے (حالانکہ وہ مُوسیٰ کی طرف سے نہیں بلکہ باپ دادا سے چلا آیا ہے) اور تُم سَبت کے دِن آدمی کا خَتنہ کرتے ہو۔
۲۳- جب سَبت کو آدمی کا خَتنہ کِیا جاتا تاکہ مُوسیٰ کی شرِیعت کا حُکم نہ ٹُوٹے تو کیا مُجھ سے اِس لِئے ناراض ہو کہ مَیں نے سَبت کے دِن ایک آدمی کو بِالکُل تندرُست کر دِیا؟
۲۴- ظاہِر کے مَوافِق فَیصلہ نہ کرو بلکہ اِنصاف سے فَیصلہ کرو۔
۲۵- تب بعض یروشلِیمی کہنے لگے کیا یہ وُہی نہیں جِس کے قتل کی کوشِش ہو رہی ہے؟
۲۶- لیکن دیکھو یہ صاف صاف کہتا ہے اور وہ اِس سے کُچھ نہیں کہتے۔ کیا ہو سکتا ہے کہ سرداروں نے سچ جان لِیا کہ مسِیح یِہی ہے؟
۲۷- اِس کو تو ہم جانتے ہیں کہ کہاں کا ہے مگر مسِیح جب آئے گا تو کوئی نہ جانے گا کہ وہ کہاں کا ہے۔
۲۸ -پس یِسُوع نے ہَیکل میں تعلِیم دیتے وقت پُکار کر کہا کہ تُم مُجھے بھی جانتے ہو اور یہ بھی جانتے ہو کہ مَیں کہاں کا ہُوں اور مَیں آپ سے نہیں آیا مگر جِس نے مُجھے بھیجا ہے وہ سچّا ہے۔ اُس کو تُم نہیں جانتے۔
۲۹- مَیں اُسے جانتا ہُوں اِس لِئے کہ مَیں اُس کی طرف سے ہُوں اور اُسی نے مُجھے بھیجا ہے۔
۳۰- پس وہ اُسے پکڑنے کی کوشِش کرنے لگے لیکن اِس لِئے کہ اُس کا وقت ابھی نہ آیا تھا کِسی نے اُس پر ہاتھ نہ ڈالا۔
۳۱- مگر بِھیڑ میں سے بُہتیرے اُس پر اِیمان لائے اور کہنے لگے کہ مسِیح جب آئے گا تو کیا اِن سے زِیادہ مُعجِزے دِکھائے گا جو اِس نے دِکھائے؟
۳۲- فرِیسِیوں نے لوگوں کو سُنا کہ اُس کی بابت چُپکے چُپکے یہ گُفتگُو کرتے ہیں۔ پس سردار کاہِنوں اور فرِیسِیوں نے اُسے پکڑنے کو پیادے بھیجے۔
۳۳- یِسُوعؔ نے کہا مَیں اَور تھوڑے دِنوں تک تُمہارے پاس ہُوں۔ پِھر اپنے بھیجنے والے کے پاس چلا جاؤں گا۔
۳۴- تُم مُجھے ڈُھونڈو گے مگر نہ پاؤ گے اور جہاں مَیں ہُوں تُم نہیں آ سکتے۔
۳۵- یہُودِیوں نے آپس میں کہا یہ کہاں جائے گا کہ ہم اِسے نہ پائیں گے؟ کیا اُن کے پاس جائے گا جو یُونانِیوں میں جابجا رہتے ہیں اور یُونانِیوں کو تعلِیم دے گا؟
۳۶- یہ کیا بات ہے جو اُس نے کہی کہ تُم مُجھے ڈُھونڈو گے مگر نہ پاؤ گے اور جہاں مَیں ہُوں تُم نہیں آ سکتے؟
۳۷- پِھر عِید کے آخِری دِن جو خاص دِن ہے یِسُوعؔ کھڑا ہُؤا اور پُکار کر کہا اگر کوئی پِیاسا ہو تو میرے پاس آ کر پِئے۔
۳۸- جو مُجھ پر اِیمان لائے گا اُس کے اندر سے جَیسا کہ کِتابِ مُقدّس میں آیا ہے زِندگی کے پانی کی ندِیاں جاری ہوں گی۔
۳۹- اُس نے یہ بات اُس رُوح کی بابت کہی جِسے وہ پانے کو تھے جو اُس پر اِیمان لائے کیونکہ رُوح اب تک نازِل نہ ہُؤا تھا اِس لِئے کہ یِسُوعؔ ابھی اپنے جلال کو نہ پُہنچا تھا۔
۴۰- پس بِھیڑ میں سے بعض نے یہ باتیں سُن کر کہا بیشک یِہی وہ نبی ہے۔
۴۱- اَوروں نے کہا یہ مسِیح ہے اور بعض نے کہا کیوں؟ کیا مسِیح گلِیل سے آئے گا؟
۴۲- کیا کِتابِ مُقدّس میں یہ نہیں آیا کہ مسِیح داؤُد کی نسل اور بَیت لحم کے گاؤں سے آئے گا جہاں کا داؤُد تھا؟
۴۳- پس لوگوں میں اُس کے سبب سے اِختلاف ہُؤا۔
۴۴- اور اُن میں سے بعض اُس کو پکڑنا چاہتے تھے مگر کِسی نے اُس پر ہاتھ نہ ڈالا۔
۴۵- پس پیادے سردار کاہِنوں اور فرِیسِیوں کے پاس آئے اور اُنہوں نے اُن سے کہا تُم اُسے کیوں نہ لائے؟
۴۶- پِیادوں نے جواب دِیا کہ اِنسان نے کبھی اَیسا کلام نہیں کِیا۔
۴۷- فرِیسِیوں نے اُنہیں جواب دِیا کیا تُم بھی گُمراہ ہو گئے؟
۴۸- بھلا سرداروں یا فرِیسِیوں میں سے بھی کوئی اُس پر اِیمان لایا؟
۴۹- مگر یہ عام لوگ جو شرِیعت سے واقِف نہیں لَعنتی ہیں۔
۵۰- نِیکُدِؔیمُس نے جو پہلے اُس کے پاس آیا تھا اور اُن ہی میں سے تھا اُن سے کہا۔
۵۱- کیا ہماری شرِیعت کِسی شخص کو مُجرِم ٹھہراتی ہے جب تک پہلے اُس کی سُن کر جان نہ لے کہ وہ کیا کرتا ہے؟
۵۲- اُنہوں نے اُس کے جواب میں کہا کیا تُو بھی گلِیل کا ہے؟ تلاش کر اور دیکھ کہ گلِیل میں سے کوئی نبی برپا نہیں ہونے کا۔
۵۳- [پِھر اُن میں سے ہر ایک اپنے گھر چلا گیا۔