۸۔ خدا کے بیٹے کا دُکھ اور موت (ابواب ۱۸،۱۹)
الف۔ یہوداہ خداوند کو پکڑواتا ہے (۱۸:۱-۱۱)
۱۸:۱ ابواب ۱۳ تا ۱۷ کی باتیں یروشلیم میں کہی گئی تھیں۔ اب یسوع یروشلیم شہر سے باہر نکلا اور مشرق کی طرف زیتون کے پہاڑ کی طرف چلا۔ ایسا کرنے میں اُس نے «قدرون کے نالہ» کو پار کیا اور گتسمنی باغ میں آیا۔ یہ باغ زیتون کے پہاڑ کی مغربی ڈھلان پر واقع تھا۔
۱۸:۲،۳ یہوداہ جانتا تھا کہ یسوع اِس باغ میں دعا مانگنے میں بہت وقت گزارا کرتا ہے۔ وہ جانتا تھا کہ غالباً وہ دعا کی جگہ پر مل سکتا ہے۔
«سپاہیوں کی پلٹن» غالباً رومی فوجیوں کا دستہ تھا جب کہ «پیادے» یہودی سردار تھے جو سردار کاہنوں اور فریسیوں کے نمائندے تھے۔ «وہ مشعلوں اور چراغوں اور ہتھیاروں کے ساتھ» وہاں آ پہنچے۔ «وہ مشعلوں کے ساتھ دُنیا کے نور کو ڈھونڈنے نکلے۔»
۱۸:۴ یسوع نے اِنتظار نہیں کیا کہ اُسے تلاش کر لیں بلکہ آگے بڑھ کر اُن سے ملا۔ اِس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ صلیب پر چڑھنے کو آمادہ تھا۔ سپاہی اپنے ہتھیار گھر چھوڑ کر آ سکتے تھے۔ نجات دہندہ اُن کی مزاحمت نہ کرتا۔
«کسے ڈھونڈتے ہو؟» اِس سوال کا مقصد اُن کے منہ سے کہلوانا تھا کہ اُن کے کام اور مقصد کی نوعیت کیا تھی۔
۱۸:۵ وہ «یسوع ناصری کو» ڈھونڈ رہے تھے۔ اُن کو قطعاً احساس نہ تھا کہ وہ اُن کا خالق اور سنبھالنے والا ہے —کہ وہ اُن کا دلی دوست ہے۔ «مَیں ہوں» (اصل زبان میں «ہی» نہیں ہے۔ البتہ اُردو زبان میں اِس کی ضرورت ہے)۔ اُس کا مطلب تھا کہ مَیں صرف یسوع ناصری ہی نہیں بلکہ یہوواہ بھی ہوں۔ جیسا کہ پہلے ذکر ہوا «مَیں ہوں» پرانے عہدنامے میں یہوواہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ کیا اِس سے یہوداہ نئے سرے سے حیران نہ ہوا جب کہ وہ باقی ہجوم «کے ساتھ کھڑا تھا»؟
۱۸:۶ ایک مختصر لمحے کے لئے خداوند یسوع نے اُن پر ظاہر کر دیا کہ مَیں «مَیں ہوں»۔ قادرِ مطلق خدا ہوں۔ یہ اِنکشاف (مکاشفہ) اِتنا زبردست اور غالب تھا کہ «وہ پیچھے ہٹ کر زمین پر گر پڑے»۔
۱۸:۷ خداوند نے اُن سے پھر پوچھا کہ تم کسے ڈھونڈتے ہو؟ پھر وہی جواب ملا، حالانکہ مسیح کے دو لفظوں نے تھوڑی دیر پہلے اُن پر کیا اثر کیا تھا۔
۱۸:۸،۹ «یسوع نے» دوبارہ «جواب دیا کہ… مَیں ہی ہوں» اور کہ مَیں یہوواہ ہوں۔ «مَیں تم سے کہہ تو چکا کہ مَیں ہی ہوں۔» چونکہ وہ اُس کی تلاش میں تھے اِس لئے اُس نے سپاہیوں وغیرہ سے کہا کہ میرے شاگردوں کو «جانے دو»۔ کیسی عجیب اور حیرت ناک بات ہے کہ جس لمحے اُس کی اپنی جان خطرے میں تھی اُس کو دوسروں کا خیال تھا۔ یہ مثالی بے لوثی اور بے غرضی ہے۔ یوں یوحنا ۱۷:۱۲ کی بات بھی پوری ہوئی۔
۱۸:۱۰ شمعون پطرس نے سوچا کہ موقع آ گیا ہے کہ تشدد کا استعمال کر کے مالک کو بھیڑ سے بچایا جائے۔ خداوند سے ہدایت کے بغیر ہی عمل کرتے ہوئے اُس نے «تلوار…کھینچی اور سردار کاہن کے نوکر… کا دہنا کان اُڑا دیا»۔ اِس میں شک نہیں کہ پطرس اُس کو مار ڈالنا چاہتا تھا۔ لیکن ایک اَن دیکھے ہاتھ نے تلوار کا رُخ بدل دیا تو صرف اُس کا کان اُڑ گیا۔
۱۸:۱۱ یسوع نے غلط جوش پر پطرس کو جھڑکا۔ «باپ» نے اُس کو دُکھوں اور موت کا «پیالہ» دیا تھا اور وہ اُس کو پینے کا مصمم ارادہ رکھتا تھا۔ لوقا طبیب لکھتا ہے کہ خداوند نے ملخس کے کان کو چھو کر ٹھیک کر دیا (لوقا ۲۲:۵۱)۔
ب۔ یسوع کا پکڑا اور باندھا جانا (۱۸:۱۲-۱۴)
۱۸:۱۲،۱۳ یہ پہلا موقع ہے کہ شریر اِنسان یسوع کو پکڑ کر اُس کے بازو باندھنے میں کامیاب ہوئے۔
حنا پہلے سردار کاہن تھا۔ یہ بات واضح نہیں ہوتی کہ یسوع کو کائفا کے بجائے پہلے حنا کے پاس کیوں لے گئے، جب کہ اُس کا داماد کائفا اُس وقت سردار کاہن تھا۔ جس بات پر غور کرنا اہم ہے، وہ یہ ہے کہ یسوع کو پہلے یہودیوں کے سامنے پیش کیا گیا۔ یہاں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ وہ بدعت اور کفر کا مجرم ہے۔ اِس کو ہم «مذہبی مقدمہ» کہہ سکتے ہیں۔ اِس کے بعد اُس کا مقدمہ رومی حاکموں کے سامنے پیش کیا گیا۔ یہاں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ وہ قیصر کا دشمن ہے۔ یہ «دیوانی» مقدمہ تھا۔ چونکہ یہودی رومی حکومت کے ماتحت تھے اِس لئے اُن کو رومی عدالتوں سے رجوع کرنا ضرور تھا۔ وہ موت کی سزا پر عمل درآمد نہیں کر سکتے تھے۔ یہ کام رومی حاکم پیلاطس کو کرنا تھا۔
۱۸:۱۴ اِنجیل نویس یوحنا وضاحت کرتا ہے کہ یہ کائفا وہی سردار کاہن تھا جس نے نبوت کی تھی کہ «اُمت کے واسطے ایک آدمی کا مرنا بہتر ہے» (دیکھئے یوحنا ۱۱:۵۰)۔ اب وہ اِس نبوت کے پورا ہونے میں حصہ ادا کرنے والا تھا۔ جیمز سٹوأرٹ (Stewart) لکھتا ہے کہ
«یہ آدمی تھا جو قوم کی روح کا مستند محافظ تھا۔ اُس کو حق تعالیٰ کا اعلیٰ ترین ترجمان اور نمائندہ ہونے کے لئے مخصوص کیا گیا تھا۔ اُس کو سال میں ایک دفعہ پاک ترین مقام میں داخل ہونے کا شاندار اعزاز و استحقاق دیا گیا تھا۔ تو بھی یہی آدمی تھا جس نے خدا کے بیٹے پر سزا کا حکم صادر کیا۔ تاریخ اِس سچائی کی اَور کوئی ایسی چونکا دینے والی مثال پیش نہیں کرتی کہ دُنیا کا بہترین ماحول بھی کسی اِنسان کی نجات کی ضمانت فراہم نہیں کر سکتا۔ جان بنین (John Bunyan) اپنی کتاب کے اِختتام پر کہتا ہے ’پھر مَیں نے دیکھا کہ بہشت کے پھاٹکوں سے نکل کر ایک راستہ دوزخ کو جاتا ہے۔‘»
ج۔ پطرس اپنے خداوند کا اِنکار کرتا ہے (۱۸:۱۵-۱۸)
۱۸:۱۵ بائبل مقدس کے اکثر علما یقین رکھتے ہیں کہ «ایک اَور شاگرد» جس کا یہاں ذکر ہے وہ یوحنا تھا۔ وہ اِنکساری کے باعث اپنا نام نہیں لیتا۔ شاید پطرس کے شرم ناک اِنکار کے باعث بھی وہ اپنا نام لینا پسند نہیں کرتا۔ یہ نہیں بتایا گیا کہ «یوحنا سردار کاہن کا جان پہچان» کیسے تھا۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ اُسی کی وجہ سے اُس کو «سردار کاہن کے دیوان خانہ میں» جانے کی اِجازت مل گئی۔
۱۸:۱۶،۱۷ پطرس اُس وقت تک اندر نہ جا سکا جب تک یوحنا نے باہر جا کر دربان عورت سے بات نہ کی۔ جب ہم پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں تو سوچتے ہیں کہ شاید اچھا ہوتا اگر یوحنا اِس طرح اپنا اثر و رسوخ استعمال نہ کرتا۔ یہ بات اہم ہے کہ پطرس کا پہلا اِنکار کسی طاقتور اور خوف ناک سپاہی کے سامنے نہیں بلکہ ایک سادہ سی «دربان لونڈی» کے سامنے تھا۔ اُس نے اِنکار کرتے ہوئے کہا کہ «مَیں یسوع کے شاگردوں میں سے نہیں ہوں۔»
۱۸:۱۸ اب پطرس خداوند کے دشمنوں میں بیٹھ گیا اور اپنی شناخت کو چھپانے کی کوشش کی۔ کئی دوسرے شاگردوں کی طرح وہ بھی دُنیا کی آگ «تاپ رہا تھا»۔
د۔ سردار کاہن کے سامنے یسوع کی پیشی (۱۸:۱۹-۲۴)
۱۸:۱۹ یہ معلوم نہیں ہوتا کہ یہاں «سردار کاہن» سے مراد حنا تھا یا کائفا۔ زیادہ امکان یہ ہے کہ حنا تھا۔ اگر ایسا ہے تو اُسے محض اخلاقاً سردار کاہن کہا گیا ہے کیونکہ وہ کائفا سے پہلے اِس منصب پر فائز تھا۔ «پھر سردار کاہن نے یسوع سے اُس کے شاگردوں اور اُس کی تعلیم کی بابت پوچھا» گویا شاگردوں اور مسیح کی تعلیم سے موسوی شریعت اور رومی حکومت کو خطرہ تھا۔ صاف ظاہر ہے کہ اُن لوگوں کے پاس خداوند کے خلاف دراصل کوئی مقدمہ تو تھا نہیں، اِس لئے وہ کچھ نہ کچھ بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔
۱۸:۲۰ «یسوع نے اُسے جواب دیا» کہ میری خدمت تو «علانیہ» رہی ہے۔ اُس کے پاس چھپانے کو کچھ نہ تھا۔ وہ یہودیوں کی موجودگی میں تعلیم دیا کرتا تھا۔ وہ اُن کے «عبادت خانوں اور ہیکل میں» بھی سب کے سامنے علانیہ تعلیم دیتا تھا۔ کسی قسم کی کوئی خفیہ بات نہ تھی۔
۱۸:۲۱ یہ چیلنج تھا کہ چند اُن یہودیوں کو لایا جائے جنہوں نے اُس کی تعلیم سنی تھی اور اُن سے یسوع پر الزام لگوایا جائے۔ اگر اُس نے کچھ غلط کہا یا کیا تھا تو گواہوں کو پیش کیا جائے۔
۱۸:۲۲ ظاہر ہے کہ اِس چیلنج سے یہودی چڑ گئے۔ اب اُن کے پاس کوئی مقدمہ ہی نہ رہا تھا۔ چنانچہ وہ بدزبانی پر اُتر آئے۔ ایک پیادے نے «یسوع کے طمانچہ مار کر کہا، تُو سردار کاہن کو ایسا جواب دیتا ہے؟»
۱۸:۲۳ پُروقار انداز میں اور لاجواب منطق کے ساتھ نجات دہندہ اُن کے تعصب اور بے اِنصافی کو سامنے لے آیا۔ وہ اُس پر کچھ بُرا کہنے کا الزام نہیں لگا سکتے تھے۔ تو بھی سچ کہنے پر اُنہوں نے اُسے مارا تھا۔
۱۸:۲۴ گذشتہ آیات حنا کے سامنے اُس کی تفتیش کا بیان کرتی ہیں۔ یوحنا کائفا کے سامنے پیشی کا بیان نہیں کرتا۔ وہ ۱۸:۲۴ اور ۱۸:۲۸ کے درمیان آتی ہیں۔
ہ۔ پطرس کا دوسرا اور تیسرا اِنکار (۱۸:۲۵-۲۷)
۱۸:۲۵ واقعات کا بیان پھر شمعون پطرس کی طرف مڑتا ہے۔ آدھی رات کے بعد کا وقت ہے۔ ٹھنڈ بہت ہو گئی ہے۔ وہ کھڑا آگ «تاپ رہا تھا»۔ بے شک اُس کے لباس اور لب و لہجے سے پتا چلتا تھا کہ وہ گلیلی ہے۔ اُس کے پاس کھڑے ایک شخص نے پوچھا، «کیا تُو بھی اُس کے شاگردوں میں سے ہے؟» لیکن پطرس نے پھر خداوند کا «اِنکار کیا»۔
۱۸:۲۶ اب ملخس کے «ایک رِشتہ دار نے» پطرس کو مخاطب کیا۔ اُس نے پطرس کو اپنے رِشتہ دار کا «کان اُڑاتے» ہوئے دیکھا تھا۔ وہ بولا، «کیا مَیں نے تجھے اُس کے ساتھ باغ میں نہیں دیکھا» تھا؟
۱۸:۲۷ پطرس نے تیسری دفعہ خداوند کا «انکار کیا»۔ اور «فوراً» اُس نے ایک «مرغ» کی بانگ سنی تو اُس کو خداوند کی بات یاد آئی کہ «مرغ بانگ نہ دے گا جب تک تُو تین بار میرا اِنکار نہ کر لے گا۔» دوسری اناجیل سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ اِس موقعے پر پطرس باہر جا کر زار زار رویا۔
و۔ یسوع کی پیلاطُس کے سامنے پیشی (۱۸:۲۸-۴۰)
۱۸:۲۸ مذہبی مقدمہ ختم ہو گیا تو دیوانی مقدمہ شروع ہونے کو تھا۔ منظر عدالت کے ہال یا گورنر کے محل کا ہے۔ یہودی کسی غیر قوم کے محل کے اندر نہیں جانا چاہتے تھے۔ اُن کو احساس تھا کہ ہم «ناپاک» ہو جائیں گے اور «فسح» نہیں کھا سکیں گے۔ اُن کو اِس بات سے ذرا پریشانی نہ تھی کہ خدا کے بیٹے کے قتل کی سازِش کر رہے ہیں۔ اُن کے نزدیک کسی غیر قوم کے گھر میں داخل ہونا سخت گناہ تھا مگر قتل کر دینا بالکل معمولی بات تھی۔ اوگسطین (Augustine) کہتا ہے:
«ہائے بے دینی کا اَندھا پن! وہ کسی دوسرے کے مکان میں داخل ہو کر تو واقعی ناپاک ہو جاتے، مگر اُس جرم سے ناپاک نہ ہوتے جو اُن کا اپنا تھا۔ وہ ایک غیر یہودی جج کی عدالت گاہ میں داخل ہو کر ناپاک ہونے سے تو ڈرتے تھے، لیکن ایک بے گناہ بھائی کے خون سے ناپاک ہونے سے نہیں ڈرتے تھے۔»
ہال (Hall) یوں تبصرہ کرتا ہے:
«اے کاہنو، فقیہو، بزرگو، ریاکارو تم پر افسوس! کیا تمہارے اپنے سینوں سے بڑھ کر کوئی چھت ناپاک ہو سکتی ہے؟ پیلاطُس کے محل کی دیواریں نہیں، بلکہ تمہارے اپنے دل ناپاک ہیں۔ کیا قتل تمہارا مقصد ہے اور تم ایک مقامی چھوت پر رُکتے ہو؟ اے سفید دیوارو، خدا تمہیں مارے گا! کیا تم چاہتے ہو کہ خون سے — خدا کے خون سے داغ دار ہو؟ اور کیا تم ڈرتے ہو کہ پیلاطس کے سنگ ِفرش کے چھونے سے تم ناپاک ہو جاؤ گے؟ کیا اِتنا چھوٹا سا مچھر تمہارے حلق میں پھنس جاتا ہے جب کہ اِتنی بڑی گناہ آلودہ شرارت کو نگل جاتے ہو؟ اے بے اعتقادو اگر ناپاک نہیں ہونا چاہتے تو یروشلیم سے نکل جاؤ! ڈرنا تو پیلاطس کو چاہئے کہ اُس کے محل کی دیواریں تم جیسے مہا پاپی اور مہیب بلاؤں کی بدی سے ناپاک ہو جائیں گی۔»
پُول (Poole) کہتا ہے کہ «اِس سے زیادہ عام بات کوئی نہیں کہ جو افراد شعائر و رسومات میں حد سے زیادہ جوشیلے ہوتے ہیں وہ آداب و اخلاق میں اِتنے ہی ڈھیلے ہوتے ہیں۔» «بلکہ فسح کھا سکیں۔» اِس سے مراد غالباً وہ ضیافت ہے جو فسح کے بعد ہوتی تھی۔ فسح تو گذشتہ رات منائی جا چکی تھی۔
۱۸:۲۹ رومی گورنر پیلاطس نے اُن کے مذہبی عذر کو مان لیا اور اُن کے پاس باہر آ گیا۔ اُس نے مقدمے کا آغاز کرنے کے لئے اُن سے پوچھا کہ قیدی پر «کیا الزام» ہے۔
۱۸:۳۰ اُن کا جواب دلیرانہ اور گستاخانہ تھا۔ گویا وہ کہہ رہے تھے کہ ہم اِس پر مقدمہ چلا چکے اور اُسے قصوروار پا چکے ہیں۔ وہ صرف اِتنا چاہتے تھے کہ پیلاطس سزا سنا دے۔
۱۸:۳۱ پیلاطس نے ذمہ داری سے پہلو بچانے اور اُسے یہودیوں ہی پر ڈالنے کی کوشش کی۔ اگر وہ یسوع پر مقدمہ چلا چکے اور اُس کو قصوروار پا چکے تھے تو کیوں «شریعت کے موافق» فیصلہ نہیں سنایا؟ یہودیوں کا جواب بہت اہم ہے۔ اِتنے لفظوں میں اُنہوں نے کہہ دیا کہ ہم خود مختار قوم نہیں ہیں۔ رومی تسلط نے ہم پر قبضہ کر رکھا ہے۔ دیوانی حکومت ہمارے ہاتھوں سے لے لی گئی ہے۔ اب ہمیں اِختیار نہیں رہا کہ «کسی کو جان سے ماریں»۔ اُن کا جواب غیر قوموں کی غلامی اور ماتحتی میں ہونے کا ثبوت تھا۔ علاوہ ازیں وہ مسیح کی موت کا نفرت انگیز الزام پیلاطس پر ڈالنا چاہتے تھے۔
۱۸:۳۲ اِس آیت کے دو مختلف مطلب ہو سکتے ہیں (۱) متی ۲۰:۱۹ میں یسوع نے پیش گوئی کی تھی کہ مجھے قتل کرنے کے لئے غیر قوموں کے حوالے کیا جائے گا۔ یہاں یہودی بالکل وہی کچھ کر رہے تھے۔ (۲) بہت موقعوں پر خداوند نے کہا کہ مَیں «اُونچے پر چڑھایا جاؤں گا» (یوحنا ۳:۱۴؛ ۸:۲۸؛ ۱۲:۳۲،۳۴)۔ اِس سے مراد صلیبی موت ہے۔ یہودی سزائے موت کی صورت میں مجرموں کو سنگسار کرتے تھے جب کہ رومی طریقہ صلیب دینا تھا۔ اِس لئے سزائے موت پر عمل کرنے سے اِنکار کر کے یہودیوں نے اَنجانے میں مسیحِ موعود کے بارے میں یہ دونوں نبوتیں پوری کر دیں (زبور ۲۲:۱۶ بھی ملاحظہ کریں)۔
۱۸:۳۳ اب ذاتی ملاقات کے لئے پیلاطُس یسوع کو قلعے کے اندر لے گیا۔ اور اُس سے سیدھا سیدھا سوال کیا، «کیا تُو یہودیوں کا بادشاہ ہے؟»
۱۸:۳۴ «یسوع نے جواب دیا» بحیثیت گورنر کیا تُو نے کبھی سنا کہ مَیں نے کبھی رومی حکومت کا تختہ اُلٹنے کی کوشش کی ہے؟ کیا کسی نے تجھے کبھی اِطلاع دی ہے کہ مَیں نے بادشاہ ہونے یا قیصر کی سلطنت کی جڑیں کاٹنے کی کوشش کی ہے؟ کیا یہ الزام ہے جس کو تُو ذاتی تجربے سے جانتا ہے یا صرف اِن یہودیوں سے سنا ہے؟
۱۸:۳۵ پیلاطس کے اگلے سوال میں سخت تحقیر پائی جاتی ہے «کیا مَیں یہودی ہوں؟» مراد یہ تھی کہ مَیں اِتنا اہم اور اُونچا ہوں کہ مجھے اِن یہودیوں کے مقامی مسئلے سے پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ لیکن ساتھ ہی اُس کے جواب میں اِقرار بھی پایا جاتا ہے کہ مجھے تیرے خلاف کسی سچے الزام کا علم نہیں۔ اُسے صرف اُسی بات کا پتا تھا جو یہودی سرداروں نے اُسے بتائی تھی۔
۱۸:۳۶ اِس پر یسوع نے اقرار کیا کہ مَیں واقعی بادشاہ ہوں۔ لیکن اُس قسم کا بادشاہ نہیں جس قسم کا الزام یہودی مجھ پر لگاتے ہیں۔ اور نہ اُس قسم کا بادشاہ ہوں جس سے روم کو خطرہ محسوس ہو۔ مسیح کی «بادشاہی» اِنسانی ہتھیاروں سے فروغ نہیں پاتی، ورنہ اُس کے خادم یہودیوں کے ہاتھوں اُس کی گرفتاری کو روکنے کے لئے لڑتے۔ مسیح کی «بادشاہی یہاں کی نہیں» یعنی اِس دُنیا کی نہیں۔ اُس کو اِختیار یا قوت دُنیا سے نہیں ملتا۔ اُس کے اغراض و مقاصد جسمانی نہیں۔
۱۸:۳۷ جب پیلاطس نے اُس سے پوچھا، «کیا تُو بادشاہ ہے؟» تو «یسوع نے جواب دیا تُو خود کہتا ہے کہ مَیں بادشاہ ہوں۔» لیکن اُس کی بادشاہی کا تعلق «حق» سے ہے، تلواروں اور ڈھالوں سے نہیں۔ یسوع «اِس واسطے دُنیا میں آیا… کہ حق پر گواہی» دے۔ «حق» کا مطلب ہے خدا کے بارے میں، خود مسیح کے بارے میں، روح القدس کے بارے میں اور اِنسان، گناہ، نجات اور مسیحیت کے تمام دوسرے عقائد کے بارے میں سچائی کی گواہی۔ «جو کوئی حق سے ہے میری آواز سنتا ہے۔» اِس طرح اُس کی بادشاہی یا سلطنت فروغ پاتی اور بڑھتی ہے۔
۱۸:۳۸ یہ کہنا مشکل ہے کہ جب پیلاطُس نے کہا کہ «حق کیا ہے؟» تو اُس کا مطلب کیا تھا؟ کیا اُس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا، یا وہ طنز کر رہا تھا، یا دلچسپی کا اِظہار کر رہا تھا۔ ہم تو صرف یہ جانتے ہیں کہ مجسم حق اُس کے سامنے کھڑا تھا، لیکن اُس نے اُسے نہ پہچانا۔ اب پیلاطُس نے جلدی سے یہودیوں کے پاس آ کر اِقرار کیا کہ «مَیں اُس کا کچھ جرم نہیں پاتا۔»
۱۸:۳۹ یہودیوں میں دستور تھا کہ فسح پر درخواست کرتے تھے کہ رومی کسی یہودی قیدی کو چھوڑ دیں۔ پیلاطس نے یہودیوں کو خوش کرنے اور ساتھ ہی یسوع کو چھوڑ دینے کے لئے اِس دستور سے فائدہ اُٹھانے کی کوشش کی۔
۱۸:۴۰ اُس کا منصوبہ ناکام ہو گیا۔ یہودی یسوع کو نہیں چاہتے تھے وہ «براَ بّا» کو چاہتے تھے۔ «براَ بّا ایک ڈاکو تھا۔» اِنسان کے شریر دل نے ایک ڈاکو کو خالق پر ترجیح دی۔
ز۔ پیلاطُس کا فیصلہ:بے گناہ لیکن سزا (۱۹:۱-۱۶)
۱۹:۱ یہ زبردست بے اِنصافی تھی کہ پیلاطُس نے ایک بے گناہ شخص کے کوڑے لگوائے۔ شاید اُسے اُمید تھی کہ اِس طرح یہودیوں کی تسلی ہو جائے گی اور وہ یسوع کی موت کا مطالبہ نہیں کریں گے۔ کوڑے لگانا سزا کا ایک رومی طریقہ تھا۔ قیدی کو چابک یا قمچی سے مارا جاتا تھا۔ چابک میں دھات یا ہڈی کے ٹکڑے لگے ہوتے تھے اور یہ گوشت میں گہرے گھاؤ پیدا کرتے تھے۔
۱۹:۲،۳ سپاہیوں نے یسوع کے بادشاہ ہونے کے دعوے کا مذاق اُڑایا۔ بادشاہ کے لئے تاج! مگر یہ «کانٹوں کا تاج» تھا۔ جب اُسے ماتھے پر رکھ کر دبایا گیا تو سخت درد کا باعث ہوا۔ کانٹے اُس لعنت کی علامت ہیں جو گناہ بنی نوعِ اِنسان کے لئے لایا۔ یہاں ہمارے سامنے خداوند یسوع کی تصویر ہے کہ وہ ہمارے گناہوں کی لعنت اُٹھا رہا ہے تاکہ ہم جلال کا تاج پہن سکیں۔ «ارغوانی پوشاک» بھی اُسے ٹھٹھوں میں اُڑانے کے لئے استعمال کی گئی۔ «ارغوانی» بادشاہوں کا رنگ تھا۔ یہ بھی ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کس طرح ہمارے گناہ یسوع پر لادے گئے تاکہ ہم کو خدا کی راست بازی کی پوشاک پہنائی جائے۔
یہ سوچنا کیسی سنجیدہ بات ہے کہ خدا کے ازلی بیٹے کو اُس کی مخلوق کے ہاتھ «طمانچے» مارتے تھے! وہ منہ جو اُس نے بنائے آج اُسی کو ٹھٹھوں میں اُڑانے کے لئے استعمال کئے جا رہے تھے۔
۱۹:۴ «پیلاطُس نے پھر باہر جا کر لوگوں سے کہا» کہ مَیں اُسے تمہارے پاس «باہر» لانے کو ہوں۔ لیکن وہ ہے بے گناہ۔ اِس طرح پیلاطُس نے اپنے الفاظ سے خود کو قصوروار ٹھہرایا۔ اُس نے مسیح میں کوئی جرم نہ پایا۔ لیکن اُسے آزاد نہیں کیا۔
۱۹:۵ «یسوع کانٹوں کا تاج رکھے اور ارغوانی پوشاک پہنے باہر آیا» تو پیلاطس نے اُس کی طرف توجہ دلانے کے لئے اُسے «یہ آدمی» کہا۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ اُس نے یہ الفاظ ٹھٹھا اُڑانے کے لئے کہے، یا ہمدردی دِکھانے کے لئے یا کسی خاص جذبہ و احساس کے بغیر۔
۱۹:۶ سردار کاہنوں نے دیکھا کہ پیلاطس ہچکچا رہا ہے اِس لئے وہ زور زور سے چِلّانے لگے کہ یسوع کو صلیب دی جائے۔ یہ مذہبی لوگ تھے جو نجات دہندہ کی موت کے لئے آگے لگے ہوئے تھے۔ صدیوں سے اکثر ہوتا آیا ہے کہ کلیسیا کے عہدے داران ہی نے سچے ایمان داروں کو سخت ترین اذیتیں دی ہیں۔ لگتا ہے کہ پیلاطُس یہودیوں سے اور یسوع کے لئے اُن کی غیر معقول نفرت سے تنگ آ گیا تھا۔ اُس نے کہا کہ «اگر تمہارا یہی خیال ہے تو تُم ہی اُسے لے جا کر کیوں صلیب نہیں دیتے؟ جہاں تک میرا تعلق ہے تو یہ بے گناہ ہے۔» تو بھی پیلاطُس جانتا تھا کہ یہودی یسوع کو قتل نہیں کر سکتے کیونکہ اُس وقت یہ اِختیار صرف رومی بروئے کار لا سکتے تھے۔
۱۹:۷ جب یہودیوں نے دیکھا کہ ہم یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں کہ یسوع رومی حکومت کے لئے خطرہ ہے تو اُنہوں نے اُس کے خلاف اپنے مذہبی الزام کو پیش کیا۔ مسیح کہتا تھا کہ مَیں «خدا کا بیٹا» ہوں۔ اور اِس طرح خدا کے برابر ہونے کا دعویٰ کرتا تھا۔ یہودیوں کے نزدیک یہ بات کفر تھی۔ اور اِس کی سزا موت تھی۔
۱۹:۸،۹ پیلاطُس اِس بات کے امکان سے گھبرا گیا کہ یسوع خدا کا بیٹا ہو۔ وہ سارے معاملے سے پہلے ہی پریشان تھا۔ مگر یہ بات سنی تو «اَور بھی ڈرا»۔
پیلاطس یسوع کو پھر قلعہ یا عدالت گاہ میں لے گیا اور پوچھنے لگا، «تُو کہاں کا ہے؟» اِس سارے معاملے میں پیلاطس ایک نہایت افسوس ناک کردار نظر آتا ہے۔ اُس نے اپنی زبان سے اِقرار کیا تھا کہ یسوع نے کوئی جرم نہیں کیا تھا، لیکن اُس میں اِتنی اخلاقی جرأت نہ تھی کہ اُسے چھوڑ دیتا۔ اِس لئے کہ یہودیوں سے ڈرتا تھا۔ یسوع نے پیلاطُس کو کوئی جواب کیوں نہ دیا؟ غالباً اِس لئے کہ وہ جانتا تھا کہ پیلاطُس اُس روشنی کے مطابق قدم اُٹھانے کو تیار نہیں جو اُسے بخشی گئی ہے۔ پیلاطُس کو ایک موقع ملا تھا۔ لیکن اُس نے اُسے گناہ میں گنوا دیا۔ جتنی روشنی اُسے ملی تھی، اگر اُس نے اُس کا جواب نہیں دیا تو اُسے اَور زیادہ روشنی عطا نہیں کی جائے گی۔
۱۹:۱۰ پیلاطس نے خداوند کو ڈرا دھمکا کر جواب دینے پر مجبور کرنے کی کوشش کی۔ اُس نے اُس کو یاد دلایا کہ رومی گورنر کی حیثیت سے «مجھے تجھ کو چھوڑ دینے کا بھی اِختیار ہے اور مصلوب کرنے کا بھی اِختیار ہے»۔
۱۹:۱۱ یسوع کی خود ضبطی حیران کن حد تک نمایاں تھی۔ وہ پیلاطس سے زیادہ پُرسکون تھا۔ اُس نے بڑے اِطمینان سے جواب دیا کہ پیلاطس کو جو «اِختیار» بھی حاصل تھا وہ خدا کا دیا ہوا تھا۔ ساری حکومتیں خدا کی طرف سے مقرر ہوتی ہیں۔ سارا اِختیار خواہ دیوانی ہو خواہ روحانی خدا سے ہے۔
«جس نے مجھے تیرے حوالہ کیا۔» اِس کا اِشارہ (۱) سردار کاہن کائفا (۲) دھوکے سے پکڑوانے والے یہوداہ یا (۳) عام یہودی قوم کی طرف ہو سکتا ہے۔ یہودی قوم کو بہتر علم ہونا چاہئے تھا۔ اُن کے پاس پرانے عہدنامے کے نوشتے تھے جو مسیحِ موعود کے آنے کی خبر دیتے تھے۔ جب وہ آیا تو قوم کو اُسے پہچان لینا چاہئے تھا۔ لیکن اُنہوں نے اُس کو ردّ کر دیا بلکہ اِس وقت اُس کی موت کا مطالبہ کر رہے تھے۔ یہ آیت سکھاتی ہے کہ قصور کے درجے ہیں۔ پیلاطُس قصوروار تھا، لیکن کائفا اور یہوداہ اور شریر یہودی «زیادہ» قصوروار تھے۔
۱۹:۱۲ پیلاطُس نے یسوع کو «چھوڑ دینے» کا اِرادہ کر لیا۔ مگر اب یہودیوں نے اپنی سب سے آخری اور موثر دلیل پیش کی کہ «اگر تُو اُس کو چھوڑے دیتا ہے تو قیصر کا خیر خواہ نہیں» (قیصر رومی شہنشاہ کا سرکاری لقب تھا)۔ جیسے اُن کو قیصر کی بڑی فکر ہو! وہ تو اُس سے نفرت رکھتے تھے۔ وہ تو اُس کی تباہی کے خواہاں تھے اور اُس کے قبضہ اور تسلط سے آزاد ہونا چاہتے تھے۔ لیکن یہاں وہ اُس کی سلطنت کو بادشاہ ہونے کا دعویٰ کرنے والے یسوع کے خطرے سے بچانے کا بہانہ کر رہے ہیں۔ اُن کو اُس ہولناک ریاکاری کی فصل کاٹنی پڑی، جب ۷۰ء میں رومی فوجیں یروشلیم پر چڑھ دوڑیں اور شہر کو تباہ اور اُس کے باشندوں کو تہ تیغ کر دیا۔
۱۹:۱۳ «پیلاطُس» گوارا نہیں کر سکتا تھا کہ یہودی مجھ پر قیصر سے بے وفائی کا الزام لگائیں۔ چنانچہ اُس نے کمزوری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھیڑ کے آگے گھٹنے ٹیک دیئے۔ اب وہ یسوع کو اُس جگہ باہر لے آیا جو «چبوترہ» اور عبرانی میں گبتّا کہلاتی ہے۔ یہ عدالت گاہ تھی جہاں اکثر اِس قسم کے معاملے طے کئے جاتے تھے۔
۱۹:۱۴ اصل میں تو عید فسح گذشتہ شام کو منائی جا چکی تھی۔ «فسح کی تیاری کا دن» سے مراد ہے اِس کے بعد کی ضیافت کی تیاری — «چھٹے گھنٹے کے قریب۔» غالباً چھے بجے صبح کا وقت۔ لیکن اناجیل میں وقت کا حساب لگانے میں کئی اَن حل مسائل حائل ہیں۔ «دیکھو یہ ہے تمہارا بادشاہ۔» پیلاطس نے یہ بات یہودیوں کو تنگ کرنے اور اِشتعال دلانے کے لئے کہی۔ بے شک وہ اُن پر الزام لگا رہا تھا کہ تم نے مجھے پھنسا لیا ہے کہ یسوع کو سزا دوں۔
۱۹:۱۵ یہودی اِصرار کرنے لگے کہ یسوع کو صلیب دی جائے۔ پیلاطس نے طنز کرنے کے لئے اُن پر سوال کیا، «تمہارا مطلب ہے کہ تم اپنے ’بادشاہ‘ کو ’صلیب دینا‘ چاہتے ہو؟» اب یہودی بہت کمینگی پر اُتر آئے اور کہنے لگے، «قیصر کے سوا ہمارا کوئی بادشاہ نہیں۔» بے وفا قوم! خدا کا اِنکار کر کے ایک شریر اور بت پرست شخص کو اپنا بادشاہ ماننے لگی۔
۱۹:۱۶ پیلاطس یہودیوں کو راضی رکھنا چاہتا تھا۔ اِس لئے اُس نے یسوع کو سپاہیوں کے «حوالہ کیا تاکہ مصلوب کیا جائے»۔ اُس کو خدا سے تعریف کی بجائے آدمیوں سے تعریف زیادہ مطلوب تھی۔
ح۔ صلیب دیا جانا (۱۹:۱۷-۲۴)
۱۹:۱۷ جس لفظ کا ترجمہ «صلیب» کیا گیا ہے، اُس کا مطلب لکڑی کا ایک واحد ٹکڑا (بَلّی) یا ایک دوسرے پر آڑے لگائے جانے والے دو ٹکڑے بھی ہو سکتا ہے۔ کچھ بھی ہو، اِس کی جسامت ایسی تھی کہ اِسے عام طور پر اُٹھایا جا سکتا تھا۔ یسوع «اپنی صلیب» اُٹھا کر کچھ دُور تک گیا۔ دوسری اناجیل کے مطابق اُس کی صلیب شمعون کرینی نام ایک شخص نے اُٹھائی۔ گُلگُتا یا «کھوپڑی کی جگہ» کا نام دو وجوہات میں سے ایک کی بنا پر پڑ گیا ہو گا۔ (۱) وہ جگہ شکل میں کھوپڑی کے مشابہ ہو گی۔ خصوصاً جب کہ یہ جگہ ایک پہاڑی تھی اور اِس کے کناروں پر غاریں تھیں۔ آج کے اِسرائیل میں ایک ایسی جگہ کو «گورڈن کی کلوری» کہا جاتا ہے۔ (۲) یہ جگہ تھی جہاں مجرموں کی سزائے موت پر عمل درآمد کیا جاتا تھا۔ غالباً وہاں ہڈیاں اور کھوپڑیاں بکھری رہتی تھیں۔ البتہ تدفین کے بارے میں موسوی شریعت کی روشنی میں یہ ناممکن معلوم ہوتا ہے۔
۱۹:۱۸ خداوند یسوع کو ہاتھ اور پاؤں میں کیلیں ٹھونک کر صلیب پر کس دیا گیا۔ پھر صلیب کو سیدھی اُوپر اُٹھا کر ٹھک سے ایک گڑھے میں کھڑا کیا گیا۔ وہ تاریخِ کائنات کا واحد کامل اِنسان تھا۔ اور اُس کے اپنوں نے اُس کے ساتھ یہ سلوک کیا! اگر آپ نے آج تک اُس کو اپنا خداوند اور نجات دہندہ نہیں مانا، اُس پر ایمان نہیں لائے، اور اب جب کہ یہ سادہ سا بیان پڑھیں گے کہ وہ آپ کی خاطر کس طرح موأ تو کیا اب بھی ایمان نہیں لائیں گے؟ یسوع کے ساتھ دو ڈاکوؤں کو بھی صلیب دی گئی «ایک کو اِدھر، ایک کو اُدھر اور یسوع کو بیچ میں»۔ یوں یسعیاہ ۵۳:۱۲ کی پیش گوئی پوری ہوئی کہ «وہ خطاکاروں کے ساتھ شمار کیا گیا۔»
۱۹:۱۹ یہ دستور تھا کہ مصلوب ہونے والے کے اُوپر ایک «کِتابہ» لگایا جاتا تھا جس پر اُس کا جرم لکھا ہوتا تھا۔ پیلاطس نے حکم دیا کہ یسوع کے اوپر جو کِتابہ لگایا جائے اُس پر لکھا ہو:«یسوع ناصری، یہودیوں کا بادشاہ۔»
۱۹:۲۰ الیگزینڈر (Alexander) اِسے نہایت فصیح انداز میں یوں بیان کرتا ہے:
«عبرانی میں، کہ یہ بزرگانِ قوم اور نبیوں کی مقدس زبان ہے۔ یونانی میں، کہ یہ مترنم اور سنہری زبان ہے جس نے محسوسات کی چیزوں کو روح، اور فلسفہ کے دقیق خیالات کو قالب دیا۔ لاطینی میں، کہ یہ اُس قوم کی زبان ہے جو اصل میں نسلِ اِنسانی کی طاقتور ترین قوم ہے — یہ تین زبانیں تینوں نسلوں اور اُن کے تین تصورات کی نمائندگی کرتی ہیں — مکاشفہ، فنون، ادب - ترقی، جنگ اور علمِ قانون — جہاں کہیں نسلِ اِنسانی کی یہ تین خواہشات موجود ہوں، جہاں کہیں اِنسانی زبان میں بشارت دی جا سکتی ہے، جہاں کہیں گناہ کرنے کے لئے دل، بولنے کے لئے زبان اور پڑھنے کے لئے آنکھ ہے، وہاں صلیب — نجات کا پیغام ہے۔»
«وہ مقام… شہر کے نزدیک تھا۔» خداوند یسوع کو شہر کی حدود سے باہر صلیب دی گئی۔ لیکن یقینی طور پر معلوم نہیں کہ وہ جگہ کون سی ہے۔
۱۹:۲۱ سردار کاہنوں کو کتبے کی عبارت پسند نہ آئی۔ وہ چاہتے تھے کہ یہ لکھا جائے کہ یسوع ہی نے ایسا دعویٰ کیا، نہ کہ اِسے حقیقت ِواقعی کے طور پر لکھا جائے۔
۱۹:۲۲ پیلاطس تحریر کو بدلنے پر آمادہ نہ ہوا۔ وہ یہودیوں سے اِنتہائی تنگ آ چکا تھا۔ اُس کا صبر جواب دے گیا تھا۔ اب وہ اُن کی کوئی بات ماننے کو تیار نہ تھا۔ لیکن اُس کو یہ قوتِ ارادی پہلے دِکھانی چاہئے تھی!
۱۹:۲۳ اِس قسم کی سزائے موت کے موقعے پر سپاہیوں کو اِجازت تھی کہ مرنے والے کی ذاتی چیزوں کے حصے بخرے کر لیں۔ یہاں ہم دیکھتے ہیں کہ وہ مسیح کے کپڑے آپس میں بانٹ رہے ہیں۔ بظاہر پانچ چیزیں تھیں۔ اُنہوں نے چار کو بانٹ لیا لیکن ابھی «کُرتہ» باقی تھا جو کہ «بِن سلا، سراسر بُنا ہوا تھا»۔ اگر اُس کو کاٹتے پھاڑتے تو وہ بالکل بے کار ہو جاتا۔
۱۹:۲۴ چنانچہ سپاہیوں نے کُرتے کے لئے «قرعہ» ڈالا، اور یہ کرتہ جیتنے والے گمنام شخص کو دے دیا گیا۔ اُن کو کیا خبر تھی کہ ایسا کرنے میں وہ ہزار سال پہلے کی گئی نبوت کو پورا کر رہے ہیں (زبور ۲۲:۱۸)۔ یہ نبوتیں جو پوری ہو چکی ہیں ہمیں بار بار یاد دلاتی ہیں کہ یہ کتاب خدا کا اِلہامی کلام ہے اور یسوع مسیح فی الحقیقت مسیحِ موعود ہے۔
ط۔ یسوع اپنی ماں کو یوحنا کے سپرد کرتا ہے (۱۹:۲۵-۲۷)
۱۹:۲۵ بائبل مقدس کے بہت سے علما کا خیال ہے کہ اِس آیت میں چار عورتوں کے نام ہیں (۱) یسوع کی ماں مریم (۲) مریم کی بہن سلومی جو یوحنا کی ماں تھی (۳) «کلوپاس کی بیوی» مریم (۴) مریم مگدلینی۔
۱۹:۲۶،۲۷ اپنے دُکھ کے باوجود خداوند نے دوسروں کے لئے محبت بھری فکر مندی کا اِظہار کیا۔ اُس نے «اپنی ماں» اور اپنے «شاگرد» یوحنا کو دیکھ کر ماں سے کہا کہ اب سے میری جگہ یوحنا تیرا بیٹا ہو گا۔ اپنی ماں کو «اے عورت!» کہہ کر مخاطب کرنے میں یسوع نے ادب آداب کے فقدان کا مظاہرہ نہیں کیا بلکہ قابلِ غور بات یہ ہے کہ اُس نے اُسے «ماں» نہیں کہا۔ کیا اِس بات میں اُن لوگوں کے لئے کوئی سبق ہے جن کو یہ آزمائش آتی ہے کہ مریم کو وہ مقام دیں جہاں اُس کی حمد و ستائش ہوتی ہے؟ یہاں یسوع نے یوحنا کو ہدایت کی کہ مریم کی ایسے نگہداشت کرے جیسے وہ اُس کی «ماں» ہو۔ یوحنا نے تعمیل کی اور مریم کو «اپنے گھر لے گیا»۔
ی۔ مسیح کا کام پورا ہوتا ہے (۱۹:۲۸-۳۰)
۱۹:۲۸ اِس میں شک نہیں کہ آیت ۲۷ اور ۲۸ کے درمیان تین گھنٹوں کی تاریکی کا وقفہ ہے جو دوپہر سے تین بجے بعد دوپہر تک رہا۔ اِسی وقفے کے دوران جب یسوع ہمارے گناہوں کی سزا کا دُکھ اُٹھا رہا تھا تو خدا نے اُس کو چھوڑ دیا۔ اب یسوع نے کہا «مَیں پیاسا ہوں»! یہ پکار حقیقی جسمانی پیاس کو ظاہر کرتی ہے جس نے صلیب کی اذیت کو اَور بڑھا دیا۔ لیکن یہ ہمیں یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ اُس کی جسمانی پیاس سے کہیں بڑھ کر اِنسانوں کی روحوں کی نجات کے لئے اُس کی روحانی پیاس تھی۔
۱۹:۲۹ سپاہیوں نے اُس کو «سرکہ» پینے کو دیا۔ اُنہوں نے «زُوفے کی شاخ» پر ایک «سپنج» کو باندھ کر اور اُسے بلند کر کے یسوع کے ہونٹوں سے لگایا (زُوفہ ایک پودا ہے جو فسح پر بھی استعمال ہوتا ہے۔ خروج ۱۲:۲۲)۔ اِس کو پت ملی ہوئی مَے کے ساتھ گڈ مڈ نہیں کرنا چاہئے جو اُسے پہلے پیش کی گئی تھی (متی ۲۷:۳۴)۔ اُس نے وہ مے نہیں پی تھی کیونکہ یہ درد کے احساس کو مار دیتی تھی۔ ضرور تھا کہ وہ پورے ہوش و حواس کے ساتھ ہمارے گناہوں کو اُٹھاتا۔
۱۹:۳۰ «تمام ہوا!» وہ کام جو باپ نے یسوع کو کرنے کو دیا تھا! گناہ کی قربانی کے لئے اپنی جان کو اُنڈیل دینا۔ مخلصی اور کفارے کا کام! یہ درست ہے کہ ابھی وہ مرا نہیں تھا۔ لیکن اُس کی موت، تدفین اور صعود ایسے یقینی تھے جیسے وہ ہو چکے ہوں۔ چنانچہ خداوند یسوع اعلان کر سکتا تھا کہ وہ راستہ مہیا کیا جا چکا ہے جس سے گنہگار نجات پا سکتے ہیں۔ آج ہم خدا کا شکر ادا کریں کہ خداوند یسوع مسیح نے کلوری کی صلیب پر سارا کام پورا کر دیا۔
«سر جھکا کر۔» بائبل مقدس کے بعض علما کہتے ہیں کہ اِس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اُس نے اپنا سر پیچھے کی طرف صلیب کی لکڑی سے لگا دیا۔ وائین (Vine) کہتا ہے کہ «یہ نہیں کہ موت کے بعد سر بے بسی کے عالم میں گر گیا بلکہ اُس نے عمداً اپنا سر آرام دِہ حالت میں رکھا۔»
«جان دے دی۔» یہ الفاظ اِس حقیقت پر زور دیتے ہیں کہ خداوند کی موت رضاکارانہ تھی۔ اُس نے اپنی موت کے وقت کا خود تعین کیا۔ اُس کو اپنے حواس اور قوا پر پورا کنٹرول تھا۔ اُس نے «اپنی جان» کو «برخاست» کیا — یہ ایسا عمل ہے جو وہ ہستی نہیں کر سکتی جو محض اِنسان ہو۔
ک۔ نجات دہندہ کی پسلی کا چھیدا جانا (۱۹:۳۱-۳۷)
۱۹:۳۱ ایک دفعہ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ جب یہ مذہب پرست یہودی بے دردی سے قتل کرتے ہیں تو تفاصیل کے بارے میں کیسے محتاط ہیں۔ وہ مچھر کو چھانتے مگر اُونٹ کو نگل جاتے تھے۔ اُنہوں نے سوچا کہ مناسب ہے کہ لاشیں «سبت کے دن صلیب پر نہ رہیں۔» آج کے حساب سے «سبت» ہفتہ کا دن تھا۔ شہر میں عید ہو رہی تھی۔ اِس لئے اُنہوں نے پیلاطس سے درخواست کی کہ صلیب پر لٹکے ہوئے تینوں افراد کی «ٹانگیں توڑی جائیں» تاکہ موت جلدی واقع ہو جائے اور «لاشیں اُتار لی جائیں۔»
۱۹:۳۲ پاک کلام بیان نہیں کرتا کہ ٹانگیں کس طرح توڑی جاتی تھیں۔ تاہم وہ کئی مختلف جگہوں پر توڑی جاتی ہوں گی کیونکہ صرف ایک جگہ سے توڑنے سے موت واقع نہیں ہو سکتی۔
۱۹:۳۳ اِن سپاہیوں کو ایسے کاموں کا تجربہ تھا۔ وہ جانتے تھے کہ «یسوع… مر چکا ہے۔» اُس کے بے ہوش ہونے کا کوئی امکان نہیں۔ چنانچہ اُنہوں نے «اُس کی ٹانگیں نہ توڑیں»۔
۱۹:۳۴ «ایک سپاہی نے بھالے سے اُس کی پسلی چھیدی۔» یہ نہیں بتایا گیا کہ اُس نے ایسا کیوں کیا۔ شاید اُس کے دل کی بدی نے جوش مارا۔ «یہ جنگ میں شکست خوردہ دشمن کا آخری تلخ و ترش وار تھا جس سے خدا اور اُس کے مسیح کے خلاف اِنسانی دل کے نہاں خانوں میں بیٹھی ہوئی نفرت کا اِظہار ہوتا ہے۔» «خون اور پانی» کی اہمیت کے بارے میں کوئی اتفاقِ رائے نہیں ملتا۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ نشان ہے کہ یسوع کی موت دل پھٹ جانے سے ہوئی تھی۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ اُس کی موت ایک رضاکارانہ فعل تھا۔ بعض کے مطابق یہ بپتسمہ اور عشائے ربانی کو بیان کرتا ہے۔ لیکن یہ بات بعید از قیاس لگتی ہے۔ «خون»، گناہ سے پاک کرنے کو ظاہر کرتا ہے جب کہ «پانی» پاک کلام کے وسیلے سے گناہ کی ناپاکی کو صاف کرنے کو ظاہر کرتا ہے۔
۱۹:۳۵ یہ آیت کئی حقیقتوں کی طرف اِشارہ کرتی ہے، مثلاً یسوع کی ٹانگوں کا نہ توڑا جانا، یسوع کی پسلی کا چھیدا جانا، یا صلیب دیئے جانے کا پورا منظر۔ «جس نے یہ دیکھا ہے،» بلاشبہ اِس سے مراد یوحنا ہے جس نے یہ سارا بیان قلم بند کیا۔
۱۹:۳۶ صاف ظاہر ہے کہ یہ آیت پیچھے آیت ۳۳ کو ساتھ ملاتے ہوئے خروج ۱۲:۴۶ کی نبوت کی تکمیل کا بیان کرتی ہے کہ «اور تم اُس کی کوئی ہڈی نہ توڑنا۔» یہ آیت فسح کے برّہ کا ذکر کرتی ہے۔ خدا کا حکم تھا کہ ہڈیوں کو بغیر توڑے سلامت رکھا جائے۔ مسیح فسح کا حقیقی برّہ ہے۔ اُس نے مثال کو پوری صحت کے ساتھ پورا کیا ہے۔
۱۹:۳۷ یہ آیت ہمیں پھر آیت ۳۴ کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ اگرچہ سپاہی کو اِس بات کا احساس تک نہیں تھا، لیکن اُس کا فعل ایک اَور عجیب نوشتے کو پورا کر رہا تھا۔ دیکھئے زکریاہ ۱۲:۱۰۔ «وہ اُس پر جس کو اُنہوں نے چھیدا ہے نظر کریں گے۔» زکریاہ کی پیش گوئی اُس آنے والے دن کا بیان کرتی ہے جب ایمان لانے والے یہودی خداوند کو زمین پر واپس آتے ہوئے دیکھیں گے۔ «وہ اُس پر جس کو اُنہوں نے چھیدا ہے نظر کریں گے۔ اور اُس کے لئے ماتم کریں گے جیسا کوئی اپنے اکلوتے کے لئے کرتا ہے۔»
ل۔ یوسف کی قبر میں یسوع کی تدفین (۱۹:۳۸-۴۲)
۱۹:۳۸ یہاں سے یسوع کی تدفین کا بیان شروع ہوتا ہے۔ «ارمتیہ… کا یوسف» خفیہ ایمان دار تھا۔ «یہودیوں کے ڈر سے» اُس نے مسیح پر ایمان لانے کا علانیہ اِقرار نہیں کیا تھا۔ اب وہ بڑی جرأت سے آگے آیا اور جا کر پیلاطس سے «یسوع کی لاش» مانگی تاکہ اُسے دفن کرے۔ ایسا کرنے میں اُس نے عبادت خانے (یا قوم) سے خارج کئے جانے اور ظلم اور ایذا اُٹھانے کا واضح خطرہ مول لیا۔ افسوس کی بات صرف اِتنی ہے کہ اُس نے اُس وقت خداوند کا ساتھ نہ دیا جب اُسے ردّ کیا جا رہا تھا اور جب وہ عام لوگوں کی خدمت کر رہا تھا۔
۱۹:۳۹،۴۰ اب تک یوحنا کی اِنجیل کے قاری «نیکدیمس» سے بخوبی واقف ہو چکے ہیں۔ قارئین کی اُس سے پہلی ملاقات اُس وقت ہوئی تھی جب وہ «یسوع کے پاس رات کو گیا تھا» (باب ۳)۔ دوسری ملاقات اُس وقت ہوئی تھی جب اُس نے سنہیڈرن (یہودی مذہبی عدالت) میں کہا تھا کہ یسوع کو صفائی پیش کرنے کا موقع ملنا چاہئے (یوحنا ۷:۵۰،۵۱)۔ اب وہ یوسف کے ساتھ مل جاتا ہے اور وہ «پچاس سیر (تقریباً ۳۴ کلو گرام) کے قریب مُر اور عود ملا ہوا لایا۔» یہ «خوشبو دار چیزیں» غالباً پسی ہوئی تھیں، اور اِن کو لاش کے اُوپر پھیلا دیا گیا۔ اِس کے بعد لاش کو «سوتی کپڑے» کی پٹیوں میں لپیٹا گیا۔
۱۹:۴۱ کلام کے اِس حصے میں درج تقریباً ہر تفصیل نبوت کی تکمیل ہے۔ یسعیاہ نے نبوت کی تھی کہ مسیحِ موعود کی قبر شریروں کے درمیان ہو گی۔ اور وہ اپنی موت میں دولت مندوں کے ساتھ ہو گا (یسعیاہ ۵۳:۹)۔ «باغ میں ایک نئی قبر» بلاشبہ کسی دولت مند ہی کی ہو گی۔ متی کی اِنجیل میں بیان ہوا ہے کہ یہ قبر ارمتیہ کے یوسف کی تھی۔
۱۹:۴۲ یسوع کی لاش کو قبر میں رکھ دیا گیا۔ یہودی شدت سے چاہتے تھے کہ لاش ٹھکانے لگا دی جائے کیونکہ غروبِ آفتاب کے ساتھ ہی اُن کی عید شروع ہونے کو تھی۔ لیکن یہ سارا کچھ خدا کے پکے ارادے اور منصوبے کے مطابق تھا کہ لاش تین دن اور تین رات زمین کی گہرائی میں رہے۔ اِس سلسلے میں یاد رکھنا چاہئے کہ یہودی شمار کے مطابق دن کا ایک حصہ پورا دن شمار ہوتا تھا۔ چنانچہ یہ حقیقت بھی کہ خداوند تین دنوں کا کچھ حصہ قبر میں رہا اُس کی متی ۱۲:۴۰ والی پیش گوئی کی تکمیل تھی۔
مقدس کتاب
۱- مگر یِسُوعؔ زَیتُوؔن کے پہاڑ کو گیا۔
۲- صُبح سویرے ہی وہ پِھر ہَیکل میں آیا اور سب لوگ اُس کے پاس آئے اور وہ بَیٹھ کر اُنہیں تعلِیم دینے لگا۔
۳- اور فقِیہہ اور فرِیسی ایک عَورت کو لائے جو زِنا میں پکڑی گئی تھی اور اُسے بِیچ میں کھڑا کر کے یِسُوعؔ سے کہا۔
۴- اَے اُستاد! یہ عَورت زِنا میں عَین فِعل کے وقت پکڑی گئی ہے۔
۵- تَورَیت میں مُوسیٰ نے ہم کو حُکم دِیا ہے کہ اَیسی عَورتوں کو سنگسار کریں۔ پس تُو اِس عَورت کی نِسبت کیا کہتا ہے؟
۶- اُنہوں نے اُسے آزمانے کے لِئے یہ کہا تاکہ اُس پر اِلزام لگانے کا کوئی سبب نِکالیں مگر یِسُوعؔ جُھک کر اُنگلی سے زمِین پر لِکھنے لگا۔
۷- جب وہ اُس سے سوال کرتے ہی رہے تو اُس نے سِیدھے ہو کر اُن سے کہا کہ جو تُم میں بے گُناہ ہو وُہی پہلے اُس کے پتّھر مارے۔
۸- اور پِھر جُھک کر زمِین پر اُنگلی سے لِکھنے لگا۔
۹- وہ یہ سُن کر بڑوں سے لے کر چھوٹوں تک ایک ایک کر کے نِکل گئے اور یِسُوعؔ اکیلا رہ گیا اور عَورت وہِیں بِیچ میں رہ گئی۔
۱۰- یِسُوعؔ نے سِیدھے ہو کر اُس سے کہا اَے عَورت یہ لوگ کہاں گئے؟ کیا کِسی نے تُجھ پر حُکم نہیں لگایا؟
۱۱- اُس نے کہا اَے خُداوند کِسی نے نہیں۔ یِسُوعؔ نے کہا مَیں بھی تُجھ پر حُکم نہیں لگاتا۔ جا۔ پِھر گُناہ نہ کرنا]۔
۱۲- یِسُوعؔ نے پِھر اُن سے مُخاطِب ہو کر کہا دُنیا کا نُور مَیں ہُوں۔ جو میری پیرَوی کرے گا وہ اندھیرے میں نہ چلے گا بلکہ زِندگی کا نُور پائے گا۔
۱۳- فرِیسِیوں نے اُس سے کہا تُو اپنی گواہی آپ دیتا ہے۔ تیری گواہی سچّی نہیں۔
۱۴- یِسُوع نے جواب میں اُن سے کہا اگرچہ مَیں اپنی گواہی آپ دیتا ہُوں تَو بھی میری گواہی سچّی ہے کیونکہ مُجھے معلُوم ہے کہ مَیں کہاں سے آیا ہُوں اور کہاں کو جاتا ہُوں لیکن تُم کو معلُوم نہیں کہ مَیں کہاں سے آتا ہُوں یا کہاں کو جاتا ہُوں۔
۱۵- تُم جِسم کے مُطابِق فَیصلہ کرتے ہو۔ مَیں کِسی کا فَیصلہ نہیں کرتا۔
۱۶- اور اگر مَیں فَیصلہ کرُوں بھی تو میرا فَیصلہ سچّا ہے کیونکہ مَیں اکیلا نہیں بلکہ مَیں ہُوں اور باپ ہے جِس نے مُجھے بھیجا ہے۔
۱۷- اور تُمہاری تَورَیت میں بھی لِکھا ہے کہ دو آدمِیوں کی گواہی مِل کر سچّی ہوتی ہے۔
۱۸- ایک تو مَیں خُود اپنی گواہی دیتا ہُوں اور ایک باپ جِس نے مُجھے بھیجا میری گواہی دیتا ہے۔
۱۹- اُنہوں نے اُس سے کہا تیرا باپ کہاں ہے؟ یِسُوعؔ نے جواب دِیا نہ تُم مُجھے جانتے ہو نہ میرے باپ کو۔ اگر مُجھے جانتے تو میرے باپ کو بھی جانتے۔
۲۰- اُس نے ہَیکل میں تعلِیم دیتے وقت یہ باتیں بیت المال میں کہِیں اور کِسی نے اُس کو نہ پکڑا کیونکہ ابھی تک اُس کا وقت نہ آیا تھا۔
۲۱- اُس نے پِھر اُن سے کہا مَیں جاتا ہُوں اور تُم مُجھے ڈُھونڈو گے اور اپنے گُناہ میں مَرو گے۔ جہاں مَیں جاتا ہُوں تُم نہیں آ سکتے۔
۲۲- پس یہُودِیوں نے کہا کیا وہ اپنے آپ کو مار ڈالے گا جو کہتا ہے جہاں مَیں جاتا ہُوں تُم نہیں آ سکتے؟
۲۳- اُس نے اُن سے کہا تُم نِیچے کے ہو۔ مَیں اُوپر کا ہُوں۔ تُم دُنیا کے ہو۔ مَیں دُنیا کا نہیں ہُوں۔
۲۴- اِس لِئے مَیں نے تُم سے یہ کہا کہ اپنے گُناہوں میں مَرو گے کیونکہ اگر تُم اِیمان نہ لاؤ گے کہ مَیں وُہی ہُوں تو اپنے گُناہوں میں مَرو گے۔
۲۵- اُنہوں نے اُس سے کہا تُو کَون ہے؟ یِسُوعؔ نے اُن سے کہا وُہی ہُوں جو شرُوع سے تُم سے کہتا آیا ہُوں۔
۲۶- مُجھے تُمہاری نِسبت بُہت کُچھ کہنا اور فَیصلہ کرنا ہے لیکن جِس نے مُجھے بھیجا وہ سچّا ہے اور جو مَیں نے اُس سے سُنا وُہی دُنیا سے کہتا ہُوں۔
۲۷- وہ نہ سمجھے کہ ہم سے باپ کی نِسبت کہتا ہے۔
۲۸- پس یِسُوعؔ نے کہا کہ جب تُم اِبنِ آدمؔ کو اُونچے پر چڑھاؤ گے تو جانو گے کہ مَیں وُہی ہُوں اور اپنی طرف سے کُچھ نہیں کرتا بلکہ جِس طرح باپ نے مُجھے سِکھایا اُسی طرح یہ باتیں کہتا ہُوں۔
۲۹-اور جِس نے مُجھے بھیجا وہ میرے ساتھ ہے۔ اُس نے مُجھے اکیلا نہیں چھوڑا کیونکہ مَیں ہمیشہ وُہی کام کرتا ہُوں جو اُسے پسند آتے ہیں۔
۳۰- جب وہ یہ باتیں کہہ رہا تھا تو بُہتیرے اُس پر اِیمان لائے۔
۳۱- پس یِسُوعؔ نے اُن یہُودِیوں سے کہا جِنہوں نے اُس کا یقِین کِیا تھا کہ اگر تُم میرے کلام پر قائِم رہو گے تو حقِیقت میں میرے شاگِرد ٹھہرو گے۔
۳۲- اور سچّائی سے واقِف ہو گے اور سچّائی تُم کو آزاد کرے گی۔
۳۳- اُنہوں نے اُسے جواب دِیا ہم تو ابرہامؔ کی نسل سے ہیں اور کبھی کِسی کی غُلامی میں نہیں رہے۔ تُو کیوں کر کہتا ہے کہ تُم آزاد کِئے جاؤ گے؟
۳۴- یِسُوعؔ نے اُنہیں جواب دِیا مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ جو کوئی گُناہ کرتا ہے گُناہ کا غُلام ہے۔
۳۵- اور غُلام ابد تک گھر میں نہیں رہتا بیٹا ابد تک رہتا ہے۔
۳۶- پس اگر بیٹا تُمہیں آزاد کرے گا تو تُم واقِعی آزاد ہو گے۔
۳۷- مَیں جانتا ہُوں کہ تُم ابرہامؔ کی نسل سے ہو تَو بھی میرے قتل کی کوشِش میں ہو کیونکہ میرا کلام تُمہارے دِل میں جگہ نہیں پاتا۔
۳۸- مَیں نے جو اپنے باپ کے ہاں دیکھا ہے وہ کہتا ہُوں اور تُم نے جو اپنے باپ سے سُنا ہے وہ کرتے ہو۔
۳۹- اُنہوں نے جواب میں اُس سے کہا ہمارا باپ تو ابرہامؔ ہے۔ یِسُوعؔ نے اُن سے کہا اگر تُم ابرہامؔ کے فرزند ہوتے تو ابرہامؔ کے سے کام کرتے۔
۴۰- لیکن اب تُم مُجھ جَیسے شخص کے قتل کی کوشِش میں ہو جِس نے تُم کو وُہی حق بات بتائی جو خُدا سے سُنی۔ ابرہامؔ نے تو یہ نہیں کِیا تھا۔
۴۱- تُم اپنے باپ کے سے کام کرتے ہو۔ اُنہوں نے اُس سے کہا۔ ہم حرام سے پَیدا نہیں ہُوئے۔ ہمارا ایک باپ ہے یعنی خُدا۔
۴۲- یِسُوعؔ نے اُن سے کہا اگر خُدا تُمہارا باپ ہوتا تو تُم مُجھ سے مُحبّت رکھتے اِس لِئے کہ مَیں خُدا میں سے نِکلا اور آیا ہُوں کیونکہ مَیں آپ سے نہیں آیا بلکہ اُسی نے مُجھے بھیجا۔
۴۳- تُم میری باتیں کیوں نہیں سمجھتے؟ اِس لِئے کہ میرا کلام سُن نہیں سکتے۔
۴۴- تُم اپنے باپ اِبلِیس سے ہو اور اپنے باپ کی خواہِشوں کو پُورا کرنا چاہتے ہو۔ وہ شرُوع ہی سے خُونی ہے اور سچّائی پر قائِم نہیں رہا کیونکہ اُس میں سچّائی ہے نہیں۔ جب وہ جُھوٹ بولتا ہے تو اپنی ہی سی کہتا ہے کیونکہ وہ جُھوٹا ہے بلکہ جُھوٹ کا باپ ہے۔
۴۵- لیکن مَیں جو سچ بولتا ہُوں اِسی لِئے تُم میرا یقِین نہیں کرتے۔
۴۶- تُم میں کَون مُجھ پر گُناہ ثابت کرتا ہے؟ اگر مَیں سچ بولتا ہُوں تو میرا یقِین کیوں نہیں کرتے؟
۴۷- جو خُدا سے ہوتا ہے وہ خُدا کی باتیں سُنتا ہے۔ تُم اِس لِئے نہیں سُنتے کہ خُدا سے نہیں ہو ہے۔
۴۸- یہُودِیوں نے جواب میں اُس سے کہا کیا ہم خُوب نہیں کہتے کہ تُو سامری ہے اور تُجھ میں بدرُوح ہے؟
۴۹- یِسُوعؔ نے جواب دِیا کہ مُجھ میں بدرُوح نہیں مگر مَیں اپنے باپ کی عِزّت کرتا ہُوں اور تُم میری بے عِزّتی کرتے ہو۔
۵۰- لیکن مَیں اپنی بزُرگی نہیں چاہتا۔ ہاں۔ ایک ہے جو اُسے چاہتا اور فَیصلہ کرتا ہے۔
۵۱- مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ اگر کوئی شخص میرے کلام پر عمل کرے گا تو ابد تک کبھی مَوت کو نہ دیکھے گا۔
۵۲- یہُودِیوں نے اُس سے کہا کہ اب ہم نے جان لِیا کہ تُجھ میں بدرُوح ہے ابرہامؔ مَر گیا اور نبی مَر گئے مگر تُو کہتا ہے کہ اگر کوئی میرے کلام پر عمل کرے گا تو ابد تک کبھی مَوت کا مزہ نہ چکّھے گا۔
۵۳- ہمارا باپ ابرہامؔ جو مَر گیا کیا تُو اُس سے بڑا ہے؟ اور نبی بھی مَر گئے۔ تُو اپنے آپ کو کیا ٹھہراتا ہے؟
۵۴- یِسُوعؔ نے جواب دِیا اگر مَیں آپ اپنی بڑائی کرُوں تو میری بڑائی کُچھ نہیں لیکن میری بڑائی میرا باپ کرتا ہے جِسے تُم کہتے ہو کہ ہمارا خُدا ہے۔
۵۵- تُم نے اُسے نہیں جانا لیکن مَیں اُسے جانتا ہُوں اور اگر کہُوں کہ اُسے نہیں جانتا تو تُمہاری طرح جُھوٹا بنُوں گا مگر مَیں اُسے جانتا اور اُس کے کلام پر عمل کرتا ہُوں۔
۵۶- تُمہارا باپ ابرہامؔ میرا دِن دیکھنے کی اُمید پر بُہت خُوش تھا چُنانچہ اُس نے دیکھا اور خُوش ہُؤا۔
۵۷- یہُودِیوں نے اُس سے کہا تیری عُمر تو ابھی پچاس بَرس کی نہیں پِھر کیا تُو نے ابرہامؔ کو دیکھا ہے؟
۵۸- یِسُوعؔ نے اُن سے کہا مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ پیشتر اُس سے کہ ابرہامؔ پَیدا ہُؤا مَیں ہُوں۔
۵۹- پس اُنہوں نے اُسے مارنے کو پتّھر اُٹھائے مگر یِسُوعؔ چِھپ کر ہَیکل سے نِکل گیا۔