یُوناہ ۴

۴۔ نبی کی ناراضی (‏باب ۴)‏

الف۔ یوناہ کی گستاخی بھری دعا (‏۴:‏ ۱۔۳)‏

یوناہ اِس بات سے ناخوش اور ناراض ہوا کہ اِسرائیل کے غیر قوم دشمنوں کو معاف کر دیا گیا ہے۔ وہ افسردہ اور بے دل ہو کر خدا سے موت مانگنے اور کہنے لگا‏، میرے اِس جینے سے مر جانا بہتر ہے۔ شاید اُسے خدشہ تھا کہ اسور دوبارہ اِسرائیل پر حملہ کرے گا۔ 

خدا نے اِسرائیل کے بہت سے دشمنوں کے ساتھ بے حد سخت سلوک کیا تھا اور اِسرائیل کے لوگ اپنے دشمنوں کی بربادی اور ہلاکت کی توقع رکھتے تھے‏، یہ نہیں کہ وہ بچ جائیں گے۔ اگرچہ مبلغ کی حیثیت سے یوناہ جانتا تھا کہ خدا ’’رحیم و کریم … اور شفقت کرنے میں غنی ہے‘‘۔ لیکن وہ یہ بھی جانتا تھا کہ اسور جیسی قوموں کو خدا نے نیست اور معدوم ہونے کے لئے رکھا ہے۔ عام اِسرائیلی کو یہ بات سراسر غلط اور بے اِنصافی معلوم ہوتی تھی کہ خدا اسور پر رحم کرے جو پرانے عہدنامے کے معاشرے میں اُن کا ایک بدترین دشمن تھا۔ 

ب۔ خدا کا ضمیر کو جھنجھوڑنے والا سوال (‏۴:‏۴)‏

خدا نے اِس سرکش نبی کے لئے چار چیزیں تیار کی تھیں:‏ (‏۱)‏ ایک بڑی مچھلی (‏۱:‏۷)‏‏، ایک بیل (‏۴:‏۶)‏‏، ایک کیڑا (‏۴:‏۷)‏ اور مشرق سے لُو (‏۴:‏۸)‏۔

ج۔ یوناہ ناخوش ہو کر شہر کے باہر جا بیٹھتا ہے (‏۴:‏۵)‏

یوناہ نے اِس طرح جواب دیا کہ شہر میں سے گزر کر ’’باہر مشرق کی طرف جا بیٹھا‘‘ تاکہ دیکھے کہ شہر کا کیا حال ہوتا ہے (‏اُسے اب بھی اُمید ہے کہ شہر برباد ہو جائے گا)‏۔ 

د۔ خدا کی شاہانہ رحمت پر معروضی سبق (‏۴:‏ ۶۔۱۱)‏

وہاں خدا نے ’’کدو‘‘ کی ایک بڑی ’’بیل‘‘ اُگائی تاکہ اُسے دھوپ سے بچائے۔ یوناہ اُس بیل کے سبب سے بہت خوش ہوا۔ لیکن ’’دوسرے دن‘‘ خدا نے ایک ’’کیڑا‘‘ بھیج دیا جس نے بیل کو کاٹ ڈالا اور وہ ’’سوکھ گئی۔‘‘ علاوہ ازیں خدا نے ’’مشرق سے لُو چلائی۔‘‘ جس سے نبی نڈھال اور ’’بے تاب‘‘ ہو گیا اور ایک دفعہ پھر موت مانگنے لگا۔

۴:‏ ۹۔۱۱ اب خدا نے اپنے نبی کو یاد دلایا کہ اگر تجھے اِس بیل کا اِتنا خیال ہے تو مجھے اِس شہر پر رحم کرنے کا خیال کیوں نہ آتا؟ جس میں صرف بچوں کی تعداد ایک لاکھ بیس ہزار ہے۔ مویشیوں کی تعداد کا تو ذکر ہی نہیں کیا گیا!

اِس چھوٹی سی کتاب سے یہ سبق حاصل ہوتا ہے کہ خدا صرف یہودیوں سے نہیں بلکہ غیر قوموں سے اور ساری دُنیا سے محبت رکھتا ہے۔ 

مقدس کتاب

۱ لیکن یُوناہ اس سے نہایت ناخُوش اور ناراض ہُوا۔
۲ اور اُس نے خُداوند سے یُوں دُعا کی کہ اے خُداوند جب میں اپنے وطن ہی میںتھا اور ترسیس کو بھاگنے والا تھا تو کیا میں نے یہی نہ کہا تھا؟ میں جانتا تھا کہ تو رحیم و کریم خُدا ہے جو قیر کرنے میں دھیما اور شفقت میں گنی ہے اور عذاب نازل کرنے سے باز رہتا ہے۔
۳ اب اے خُداوند میں تیری منت کرتا ہوں کہ میری جان لے لے کیونکہ میرے اس کینے سے مر جانا بہتر ہے۔
۴ تب خُداوند نے فرمایا کیا تو ایسا ناراض ہے؟۔
۵ اور یُوناہ شہر سے باہر مشرق کی طرف جا بیٹھا اور وہاں اپنے لئے ایک چھپر بنا کر اُس کے سایہ میں بیٹھ رہا کہ دیکھے شہر کا کیا حال ہوتا ہے۔
۶ تب خُداوند نے کُدو کی بیل اُگائی اور اُسے یُوناہ کے اُوپر پھیلایا کہ اُس کے سر پر سایہ ہو اور وہ تکلیف سے بچے اور یُوناہ اُس بیل کے سبب سے نہایت خُوش ہوا۔
۷ لیکن دُوسرے دن صُبح کے وقت خُداوند نے ایک کیڑا بھیجا جس نے اس بیل کو کاٹ ڈالا اور وہ سُوکھ گئی۔
۸ اور جب آفتاب بُلند ہوا تو خُداوند نے مشرق سے ایک لُو لائی اور آفتاب کی گرمی نے یُوناہ کے سر میں اثر کیا اور وہ بیتاب ہو گیا اور موت کا آرزُو مند ہو کر کہنے لگا کہ میرے اس جینے سے مرجانا بہتر ہے۔
۹ اور خُدا نے یُوناہ سے فرمایا کیا تو اس بیل کے سبب سے ایسا ناراض ہے؟اس نے کہا میں یہاں تک ناراض ہوں کہ مرنا چاہتاہُوں۔
۱۰ تب خُداوند نے فرمایا کہ تجھے اس بیل کا اتنا خیال ہے جس کے لئے تو نے نہ کُچھ محنت کی اور نہ اُسے اُگایا۔ جو ایک ہی رات میں اُگی اور ایک ہی رات میں سُوکھ گی۔
۱۱ اور کیا مُجھے لازم نہ تھا کہ میں اتنے بڑے شہر نینوہ کا خیال کُروں جس میں ایک لاکھ بیس ہزار سے زیادہ ایسے ہیں جو اپنے دہنے اور بائیں ہاتھ میں امتیاز نہیں کر سکتے اور بے شُمار مویشی ہیں؟+