یُوناہ ۳

۳۔ نبی کی معرفت خدا کے پیغام کا اعلانِ عام (‏باب ۳)‏

الف۔ غضب کی دھمکی (‏۳:‏ ۱۔۴)‏

خداوند نے یوناہ کو دوبارہ حکم دیا کہ بڑے شہر نینوہ کو جا اور اِس دفعہ اُس نے حکم کی تعمیل کی۔ اور شہر میں داخل ہو کر اعلان کیا کہ چالیس روز کے بعد نینوہ برباد کیا جائے گا۔ 

ب۔ شہر بھر کی توبہ (‏۳:‏ ۵۔۹)‏

اُس (‏نینوہ شہر)‏ کی مسافت تین دن کی راہ تھی۔ نینوہ کے قرب و جوار میں متعدد چھوٹے قصبے اور گاؤں آباد تھے۔ چنانچہ دارالسلطنت کے لحاظ سے اِس کا رقبہ اتنا وسیع تھا کہ سارے علاقوں میں گھوم کر منادی کرنے میں تین دن لگ سکتے تھے۔ 

نینوہ کے لوگ دجون دیوتا کی پوجا کرتے تھے۔ معلوم ہوتا ہے کہ وہ جان گئے تھے کہ یوناہ پر کیا واردات گزری ہے۔ دوسرے لوگ جو تاریخ میں ایسے تجربات سے بچ گئے تھے‏، اُن کے جسموں پر رنگ برنگ دھبے پڑ گئے تھے اور وہ لوگوں کے درمیان صاف پہچانے جاتے تھے۔ یوناہ اُن لوگوں کے لئے ایک نشان تھا۔ پورے شہر نے توبہ کی اور خدا پر ایمان لا کر روزے کی منادی کی۔ ادنیٰ و اعلیٰ عام آدمی سے بادشاہ تک سب اِنسانوں اور حیوانوں نے ٹاٹ اوڑھا۔

ج۔ عذاب کا ٹل جانا (‏۳:‏ ۱۰)‏

اِس کے نتیجے میں خدا نے نینوہ پر عذاب نازل نہ کیا۔ مگر ہم تاریخ سے جانتے ہیں کہ اسوریوں نے دوبارہ وہی بُری روشیں اِختیار کر لیں اور فضل کے ۱۵۰ سے زیادہ برسوں کے بعد اُن کا دارالسلطنت برباد کیا گیا۔ 

مقدس کتاب

۱ اور خُداوند کا کلام دُوسری بار یُوناہ پر نازل ہُوا۔
۲ کہ اُٹھ اُس بڑے شہر نینوہ کو جا اور وہاں اُس بات کی مُنادی کر جس کا میں تُجھے حُکم دیتا یُوں۔
۳ تب یُوناہ خُداوند کے کلام کے مُطابق اُٹھ کر نینوہ کو گیا اور نینوہ بُہت بڑا شہر تھا۔ اُس کی مُسافت تین دن کی راہ تھی۔
۴ اور یُوناہ شہر میں داخل ہوا اور ایک دن کی راہ چلا۔ اُس نے مُنادی کی اور کہا چالیس روزے کے بعد نینوہ برباد کیا جائے گا۔
۵ تب نینوہ کے باشندوں نے خُدا پر ایمان لا کر روزہ کی مُنادی کی اور ادنیٰ و اعلیٰ سب ٹاٹ اوڑھا۔
۶ اور یہ خبر نینوہ کے بادشاہ کو پُہنچی اور وہ اپنے تخت پر سے اُٹھا اور بادشاہی لباس کو اُتار ڈالا اور ٹاٹ اوڑھ کر راکھ پر بیٹھ گیا۔
۷ اور بادشاہ اور اُس کے ارکان دولت کے فرمان سے نینوہ میں یہ اعلان کیا گیا اور اس بات کی مُنادی ہوئی کہ کوئی انسان یا حیوان گلہ یا رمہ کُچھ نہ چکھے اور نہ کھائے پئے۔
۸ لیکن انسان اور حیوان ٹاٹ سے مُلبس ہوں اور خُدا کے حُضور گریہ و زاری کریں بلکہ ہر شخص اپنی بُری روش اور اپنے ہاتھ کے ظُلم سے باز آئے ۔
۹ شاید خُدا رحم کرے اور اپنا ارادہ بدلے اور اپنے قہر شدید سے باز آئے اور ہم ہلاک نہ ہوں۔
۱۰ جب خُدا نے اُن کی یہ حالت دیکھی کہ وہ اپنی اپنی بُری روش سے باز آئے تو وہ اُس عذاب سے جو اُس نے اُن پر نازل کرنے کو کہا تھا باز آیا اُسے نازل نہ کیا۔