تفسیر
۱۔ نبی کی نافرمانی (باب ۱)
الف۔ یوناہ کو منادی کرنے کی بلاہٹ (۱: ۱،۲)
خدا نے یوناہ کو نینوہ میں منادی کرنے کو بھیجا۔ نینوہ اسرائیل کے سب سے بڑے دشمن اسور کا دارالحکومت تھا۔ اگر طبعی نقطۂ نگاہ سے دیکھیں تو ہم سمجھ سکتے ہیں کہ نبی وہاں جانے سے کیوں ڈرتا تھا (دیکھئے پس منظر اور موضوع)۔
ب۔ یوناہ کا ترسیس کو بھاگنا (۱: ۳)
یوناہ نے نافرمانی کی اور ترسیس (سپین کے جنوبی ساحل پر بندرگاہ) کو جانے والے جہاز پر سوار ہو گیا۔ ایچ۔ سی ووڈرنگ (Woodring) نبی کی سرکشی کی یوں وضاحت کرتا ہے:
’’خدا چاہتا تھا کہ وہ نینوہ میں جائے جو فلستین سے ۵۰۰ میل (تقریباً ۸۰۰ کلومیٹر) شمال مشرق میں واقع تھا۔ مشرق کی طرف جانے کے بجائے یوناہ ۲۰۰۰ میل (۳۲۰۰ کلومیٹر) مغرب کو روانہ ہو گیا۔ خدا چاہتا تھا کہ وہ ہلال زرخیز میں سے ہو کر خشکی کے راستے سفر کرے۔ مگر یوناہ نے سمندر کا بدمزہ (یہودی سمندر سے نفرت کرتے تھے) سفر اِختیار کیا۔ خدا نے اُسے اپنے زمانے کے سب سے بڑے دارالسلطنت کو بھیجا مگر یوناہ دُور دراز کے ایک تجارتی شہر کی طرف بڑھا جو مہذب دُنیا کے کنارے پر واقع تھا۔ خدا اپنے نبی کے ہمراہ جانا چاہتا تھا مگر یوناہ نے خدا کی حضوری اور قدرت سے دُور بھاگنے کی کوشش کی۔‘‘
ج۔ سمندر میں طوفان (۱: ۴۔۱۰)
خداوند نے سمندر پر بڑی آندھی بھیجی (لغوی معنی۔ اچھال کر پھینکی) جس سے جہاز کے ٹوٹنے اور سواروں کی جانیں جانے کا خطرہ لاحق ہو گیا۔ ملاح غالباً فینیکی اور بت پرست تھے۔ اُنہوں نے قرعہ ڈالا تاکہ دیکھیں کہ اِس کا ذمہ دار کون ہے۔ ظاہر ہوا کہ یوناہ جو عبرانی تھا وہ قصوروار ہے۔ وہ خداوند کے حضور سے بھاگ رہا تھا۔
د۔ یوناہ کو سمندر میں پھینکا جاتا ہے اور مچھلی اُسے نگل جاتی ہے (۱: ۱۱۔۱۷)
۱: ۱۱۔۱۶ اہم سوال: ’’ہم تجھ سے کیا کریں کہ سمندر ہمارے لئے ساکن ہو جائے‘‘؟ یہ سوال اِنسان کے طبعی رویے کو ظاہر کرتا ہے کہ ہر قیمت پر اپنی جان بچائی جائے۔ لیکن جہاں تک اِن ہمیشہ کے بت پرست ملاحوں کا تعلق ہے اُنہوں نے بہت اِنصاف پسندی کا مظاہرہ کیا۔ یوناہ نے اُنہیں صلاح دی کہ مجھے سمندر میں پھینک دو۔ وہ ایسا کرنا نہیں چاہتے تھے۔ اِس لئے اُنہوں نے ڈانڈ چلانے میں بڑی محنت کی کہ کنارے پر پہنچ جائیں۔ مگر بالآخر وہ مجبور ہو گئے کہ آخری چارہ کر گزریں اِس لئے کہ ’’سمندر اُن کے خلاف اَور بھی زیادہ موجزن ہوتا جاتا تھا۔‘‘
۱: ۱۷ خداوند نے ایک بڑی مچھلی تیار کر رکھی تھی۔ وہ مچھلی یوناہ کو نگل گئی اور اُس نے تین دن رات تک یوناہ کو اپنے پیٹ میں قیدی بنائے رکھا۔ مچھلی کا ایک آدمی کو نگل جانا معجزہ نہیں تھا، بلکہ معجزہ یہ تھا کہ آدمی ہضم نہ ہوا۔
مقدس کتاب
۱ خُداوند کا کلام یُوناہ بن امتی پر نازل ہُوا۔
۲ کہ اُٹھ اُس بڑے شہر نینوہ کو جا اور اُس کے خلاف مُنادی کر کیونکہ اُن کی شرارت میرے حُضور پُہنچی ہے۔
۳ لیکن یُوناہ خُداوند کے حضُور سے ترسیس کو بھاگا اور یافا میں پُینچا اور وہاں اُسے ترسیس کو جانے والا جہاز ملا اور وہ کرایہ دے کر اُس میں سوار ہُوا تاکہ خُداوند کے حُضور سے ترسیس کو اہل جہاز کے ساتھ جائے۔
۴ لیکن خُداوند نے سُمندر پر بڑی آندھی بھیجی اور سُمند میں سخت طُوفان برپا ہُوا اور اندیشہ تھا کہ جہاز تباہ ہو جائے ۔
۵ تب ملاح ہراسان ہُوئے اور ہر ایک نے اپنے دیوتا کو پُکارا اور وہ اجناس جو جہاز میں تھیں سُمندر میں ڈال دیں تاکہ اُسے ہلکا کریں لیکن یُوناہ جہاز کے اندر پڑا سو رہا تھا۔
۶ تب نا خُدا اُس کے پاس جا کے کہنے لگا تو کیوں پڑا سو رہا ہے؟ اُٹھ اپنے معبُود کو پکار! شاید وہ ہم کو یاد کرے اور ہم ہلاک نہ ہوں۔
۷ اور اُنہوں نے آپس میں کہا آو ہم قرعہ ڈال کر دیکھیں کہ یہ آفت ہم پر کس کے سبب سے آئی۔ چُنانچہ اُنہوں نے قرعہ ڈالا اور یُوناہ کا نام نکلا۔
۸ تب اُنہوں نے کہا تو ہم کو بتا کہ یہ آفت ہم پر کس کے سبب سے آئی ہے؟ تیرا کیا پیشہ ہے اور تو کہاں سے آیا ہے ؟ تیرا وطن کہاں ہے اور تو کس قوم کا ہے؟۔
۹ اُس نےاُن سے کہا میں عبرانی ہوں اور خُداوند آسمان کے خُدا بحروبر کر خالق سے ڈرتا ہُوں۔
۱۰ تب وُہ خُوف زدہ ہر کر اُس سے کہنے لگے تو نے یہ کیا کیا؟ کیونکہ اُن کو معلوم تھا کہ وہ خُداوند کے حُضور سے بھاگا ہے اس لے کہ اُس نے خُود اُن سے کہا تھا۔
۱۱ تب اُنہوں نے اُس سے پُوچھا ہم تُجھ سے کیا کریں کہ سُمندر ہمارے لئے ساکن ہو جائے؟ کیونکہ سُمندر زیاہ طُوفانی ہوتا جاتا تھا۔
۱۲ تب اُس نے اُن سے کہا مُجھ کو اُٹھا کر سُمندر میں پینک دُو تو تُمہارے لئے سُمندر ساکن ہو جائے گا کیونکہ میں جانتا ہُوں کہ یہ بڑا طُوفان تم پر میرے سبب سے آیا ہے۔
۱۳ تو بھی ملاحوں نے ڈانڈ چلانے میں بڑی محنت کی کہ کنارہ پر پُہنچیں لیکن نہ پُہنچ سکے کیونکہ سُمندر اُن کے خلاف اور بھی زیادہ موجزن ہوتا جاتا تھا۔
۱۴ تب اُنہوں نے خُداوند کے حضُور گڑ گڑا کر کہا اے خداوند ہم تیری منت کرتے ہیں کہ ہم اس آدمی کی جان کے سبب سے ہلاک نہ ہوں اور تو خُون ناحق کو ہماری گردن پر نہ ڈالے کیونکہ اے خُداوند تو نے جو چاہا سو کیا۔
۱۵ اور اُنہوں نے یُوناہ کو اُٹھا کر سُمندر میں پھینک دیا اور سُمندر کا تلاطم موقوف ہوگیا۔
۱۶ تب وہ خُداوند سے بُہت ڈر گے اور اُنہوں نے اُس کے حُضور قُربانی گُزرانی اور نذریں مانیں۔
لیکن خُداوند نے ایک بڑی مچھلی مقرر کر رکھی تھی کہ یُوناہ کو نگل جائے اور یُوناہ تین دن تین رات مچھلی کے پیٹ میں رہا۔