ز۔ اِسرائیل سے توبہ کرنے کی اپیل (۶: ۱۔۳)
۵: ۱۵ میں خدا اِسرائیل کو توبہ کرنے کو کہتا ہے۔ ۶: ۱۔۳ اِسرائیل کی طرف سے جواب ہے۔ شروع میں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ جواب سچا اور دلی احساس کے ساتھ ہے، لیکن غور سے دیکھنے پر پتا چلتا ہے کہ کسی خاص گناہ کا صاف طور سے اِقرار نہیں کیا گیا۔ یہ توبہ سطحی ہے اور خالص نیت سے نہیں کی گئی ہے۔ یہ حقیقت اِس طرح واضح ہوتی ہے کہ باب کے باقی حصے میں خدا قوم سے شکایت جاری رکھتا ہے۔ سچی توبہ کہیں آخری باب میں سامنے آتی ہے۔ وہاں قوم بت پرستی کو ترک کرتی ہے اور تسلیم کرتی ہے کہ ہمیں خدا کے فضل کی ضرورت ہے۔
آیت ۲ میں مسیح کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کا اِشارہ ہو سکتا ہے۔ یہ واقعہ دو روز کے بعد اور تیسرے روز ہوا۔ اگر ایسا ہے تو مسیح کا جی اُٹھنا اسرائیلی قوم کی بحالی کا پتا دیتا ہے اور اِس بحالی کی بنیاد ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ بڑی مصیبت کے آخری تین دِنوں کا اِشارہ ہے۔ اِسرائیل کی توبہ اور ماتم پہلے دو دنوں سے آگے تک جاری رہتا ہے۔ پھر تیسرے دن قوم نئے سرے سے پیدا ہوتی ہے اور مسایاح __ مسیحِ موعود __ ظاہر ہوتا ہے۔
ح۔ اِسرائیل اور یہوداہ دونوں کی گناہ آلودگی (۶: ۴۔۱۱)
۶: ۴۔۶ چونکہ اِسرائیل اور یہوداہ بے وفا (بے ایمان) ہو گئے ہیں اِس لئے خدا نے اُن کو نبیوں کے وسیلے سے کاٹ ڈالا ہے۔ خدا قربانی نہیں بلکہ محبت چاہتا ہے اور سوختنی قربانیاں نہیں بلکہ خدا شناسی پسند کرتا ہے۔
۶: ۷۔۱۱ وہ بھی آدم (عبرانی میں آدم اور آدمی کے حروفِ تہجی ایک سے ہیں) کی طرح عہد شکن بن گئے۔ اِسرائیل کی بدی کی تصویر پیش کرنے کے لئے آیات ۷۔۱۰ میں بدکرداری کی بستی اور راہزنوں کا غول اور قتل کرنے والا کاہنوں کا گروہ کی تشبیہات استعمال کی گئی ہیں۔ خدا نے ٹھہرا دیا کہ اِس سے پیشتر کہ وہ اپنے لوگوں کی خوش حالی بحال کرے یہوداہ کو بھی دُکھ اور اذیت کی فصل کاٹنی ہو گی (آیت ۱۱) (بعض علما کا خیال ہے کہ یہ قہر و غضب کی نہیں بلکہ برکت / مبارک حالی کی فصل ہو گی)۔
مقدس کتاب
۱ آو ہم خُداوند کی طرف رجوع کریں کیونکہ اُسی نے پھاڑا ہے اور وہی ہم کو شفا بخشے گا۔ اُسی نے مارا ہے اور وہی ہماری مرہم پٹی کرے گا۔
۲ وہ دوروز کے بعد ہم کو حیات تازہ بخشے گا اور تیسرے روز اُٹھا کھڑا کرے گا اور ہم اُسکے حُضور زندگی بسر کریں گے۔
۳ آو ہم دریافت کریں اور خُداوند کے عرفان میں ترقی کریں ۔ اُس کا ظُہور صُبح کی مانند یقننی ہے اور وہ ہمارے پاس برسات کی مانند یعنی آخری برسات کی مانند جو زمین کو سیراب کرتی ہے آئے گا۔
۴ اے افرائیم میں تجھ سے کیا کُروں؟ اے یہُوداہ میں تجھ سے کیا کُروں؟ کیونکہ تمہاری نیکی صُبح کے بادل اور شبنم کی مانند جلد جاتی رہتی ہے۔
۵ اس لے میں نے ان کو نبیوں کے وسیلہ سے کاٹ ڈالا اور اپنے کلام سے قتل کیا ہےاور میرا عدل نور کی مانند چمکتا ہے۔
۶ کیونکہ میں قربانی نہیں بلکہ رحم پسند کرتا ہُوں اور خُدا شناسی کو سو ختنی قربانیوں سے زیادہ چاہتا ہوں ۔
۷ لیکن وہ عہد شکن آدمیوں کی مانند ہیں۔ اُنہوں نے وہاں مجھ سے بےوفائی کی ہے۔
۸ جلعاد بد کرداری کی بستی ہے۔ وہ خُون آلودہ ہے۔
۹ جس طرح سے رہزنوں کے غول کسی آدمی کی گھات میں بیھٹے ہیں اُسی طرح کاہنوں کے گروہ سکم کی راہ میں قتل کرتی ہے ہاں اُنہوں نے بدکاری کی ہے۔
۱۰ میں نے اسرائیل کے گھرانے میں ایک ہولناک چیز دیکھی۔ افرائیم میں بدکاری پائی جاتی ہے اور اسرائیل نجس ہو گیا۔
۱۱ اے یہُوداہ تیرے لے بھی کٹائی کا وقت مُقرر ہے جب میں اپنے لوگوں کو اسیری سے واپس لاوں گا۔