۱۳: ۱ بت پرستی میں پڑنے سے پہلے افرائیم کو اِسرائیل کے درمیان سرفراز کیا گیا تھا اور اُس (افرائیم) کے کلام میں ہیبت تھی۔ لیکن جب وہ بعل کی پرستش کرنے لگا تو فنا ہو گیا۔
۱۳: ۲،۳ اب لوگ بت پرستی میں بڑھتے ہی جاتے ہیں اور سب کہتے ہیں کہ ’’بچھڑوں کو چومو‘‘ اِس وجہ سے وہ ’’صبح کے بادل اور شبنم کی مانند‘‘ بے ثبات ہو جائیں گے۔ وہ ایسے اُڑ جائیں گے جیسے ہوا کھلیان سے بھوسی کو اور دُودکش (چمنی) سے نکلنے والے دھوئیں کو اُڑا لے جاتی ہے۔
۱۳: ۴۔۸ خداوند خدا ہی تھا جو اُن کو مصر سے بچا کر نکال لایا اور بیابان میں اُن کی خبرگیری اور پرورش کرتا رہا۔ لیکن وہ اُسے بھول گئے اور بت پرستی کرنے لگے۔ اب خدا دشتی درندے کی مانند اُن پر حملہ آور ہو گا۔
۱۳: ۹۔۱۳ جب خداوند حملہ آور ہو گا تو اُنہیں کون بچائے گا؟ افرائیم کی بدکاری عدالت کے دن تک کے لئے باندھ رکھی گئی ہے۔ وہ گویا دردِزہ میں مبتلا ہو گا۔ لیکن وہ ولادت گاہ میں یعنی ولادت کے لئے رِحم کے منہ پر نہیں گیا۔ اِس کا مطلب ہے کہ خدا کے قہر و غضب کے باوجود افرائیم نے توبہ نہ کی۔
۱۳: ۱۴ مفہوم کے لحاظ سے اِس آیت کا پہلا حصہ استفہامِ اِنکاری ہے اور مراد یہ ہے کہ خدا اُن کو پاتال کے قابو سے نجات دے گا اور موت سے نہیں چھڑائے گا۔ آیت کا دوسرا حصہ اِسی مفہوم کا تقاضا کرتا ہے۔ خدا موت اور اُس کی وبا کو اور پاتال (قبر) اور اُس کی ہلاکت کو طلب کرتا ہے۔ کیونکہ رحم اُس (خدا) کی آنکھوں سے چھپ گیا ہے۔ البتہ ۱۔کرنتھیوں ۱۵:۵۵ میں اِس آیت کو بالکل فرق معانی کے ساتھ اِقتباس کیا گیا ہے۔
۱۳: ۱۵،۱۶ اِس پیش گوئی میں پوربی (مشرقی) ہوا سے مراد ہے ظالم اسوری۔ وہ چڑھ آئیں گے اور اِسرائیل اور سامریہ کو بے دردی سے ہلاک اور نیست کریں گے۔
مقدس کتاب
۱ افرائیم کے کلام میں ہیبت تھی وہ اسرائیل کے درمیان سرفراز کیا گیا۔ لیکن بعل کے سبب سے گُہنگار ہر کر فنا ہو گیا۔
۲ اور اب وہ گُناہ پر گُناہ کرتے ہیں اُہنوں نے اپنے لے چاندی کی ڈھالی ہُوئی مارتیں بنائیں اور اپنی فہمید کے مُطابق بُت تیار کئے جو سب کے سب کاریگروں کا کام ہیں۔ وہ اُن کی بابت کہتے ہیں جو لوگ قربانی گُزارنتے ہیں بچھڑوں کو چُومیں ۔
۳ اس لے وہ صُبح کے بادل اور شبنم کی مانند جلد جاتے رہیں گے اور بُھوسی کی مانند جس کو بگولا کیھلہان پر سے اُڑا لے جاتا ہے اور اُس دُھوئیں کی مانند جو دُودکش سے نکلتا ہے۔
۴ لیکن میں مُلک مصر ہی سے خُداوند تیرا خُدا ہُوں اور میرے سوا تو کسی معبُود کو نہیں جانتا تھا کیونکہ میرے سوا کوئی اور نجات دینے والا نہیں ہے۔
۵ میں نے بیابان میں یعنی خُشک زمین میں تیری خبر گیری کی۔
۶ وہ اپنی چراگاہوں میں سیر ہُوئے اور سیر ہو کر اُن کے دل میں گمُنڈ سمایا اور مُجھے بُھول گئے۔
۷ اس لئے میں اُن کے لئے شیر ببر کی مانند ہُوا۔ چیتے کی مانند راہ میں اُن کی گھات میں بیٹھوں گا۔
۸ میں اُس ریچھنی کی مانند جس کے بچے چھن گئے ہُوں اُن سے دُوچار ہُوں گا اور اُن کے دل کا پردہ چاک کر کے شیر ببر کی طرح اُن کو وہیں نگل جاوُں گا۔ دشتی درندے اُن کو پھاڑ ڈالیں گے۔
۹ اے اسراٰئیل یہی تیری ہلاکت ہے کہ تو میرا یعنی اپنے مددگار کامُخالف بنا۔
۱۰ اب تیرا بادشاہ کہاں ہےکہ تُجھے تیرے سب شہروں میں بچائے؟ اور تیرے قاضی کہاں ہیں جن کی بابت تو کہتا تھا کہ تُجھے بادشاہ اور اُمرا عنایت کر؟۔
۱۱ میں نے اپنے قہر میں تُجھے بادشاہ دیا اور غضب سے اُسے اُٹھا لیا۔
۱۲ افرائیم کی بدکرداری باندھ رکھی گئی اور اُس کے گُناہ ذخیرہ میں جمع کئے گئے۔
۱۳ وہ گویا دردزہ میں مُبتلا ہو گا۔ وہ بے دانش فرزند ہے۔ اب مُناسب ہے کی ولادت گاہ میں دیر نہ کرے۔
۱۴ میں اُن کو پاتال کے قابُو سے نجات دُوں گا میں اُن کو موت سے چُھڑاوں گا۔ اے موت تیری وبا کہاں ہے؟ اے پاتال تیری ہلاکت کہاں ہے؟ میں ہرگز رحم نہ کُروں گا۔
۱۵ اگرچہ وہ اپنے بھائیوں میں برومند ہو تو بھی پُوربی ہوا آے گے۔ خُداوند کا دم بیابان سے آے گا ار اُس کا سوتا سُوکھ جائے گا اور اُس کا چشمہ خُشک ہو جائے گا۔ وہ سب مرغُوب ظروف کا خزانہ لُوٹ لے گا۔
۱۶ سامریہ اپنے جُرم کی سزا پائے گا کیونکہ اُس نے اپنے خُدا سے بغاوت کی ہے۔ وہ تلوار سے گر جائیں گے۔ اُن کے بچے پارہ پارہ ہوں گے اور بار دار عورتیں کے پیٹ اک کئے جائیں گے۔