تفسیر
۱۔ اِسرائیل کا رَدّ کیا جانا جس کی تصویر ہوسیع کے تین بچوںکے ناموں میں پیش کی گئی ہے (۱: ۱۔۹)
۱: ۱۔۵ خدا نے ہوسیع بن بیری کو حکم دیا کہ ایک بے وفا عورت سے شادی کرے (اس قسم کی شادی میں اخلاقی اُلجھن پر بحث کے لئے دیکھئے تعارُف میں مُسلَّمہ کتب میں یکتا مقام)۔ اُس نے جمر بنتِ دِبلائم سے شادی کر لی۔
پہلے بچے کا نام یزرعیل (خدا بکھیرے گا/ پراگندہ کرے گا) رکھا گیا۔ یہ نشان تھا کہ خدا اِسرائیلی قوم کے ساتھ کیا کرنے کو ہے۔ اسوری فوج یزرعیل کی وادی میں اسرائیل کی طاقت کو ملیامیٹ کر دے گی۔
۱: ۶،۷ دوسرے بچے کا نام لورُحامہ (رحم نہ کیا گیا/ جس پر رحم نہ ہوا) رکھا گیا۔ اِس کا مطلب تھا کہ خدا اِسرائیل پر مزید رحم نہ کرے گا۔ اِسرائیل اسیری میں جائے گا جب کہ یہوداہ اسوریوں کی یلغاروں سے بچا رہے گا۔
۱: ۸،۹ تیسرے بچے کا نام لوعمی (میرے لوگ نہیں) رکھا گیا۔ خدا نے اُنہیں اپنے لوگ تسلیم کرنے سے اِنکار کر دیا۔ بعض علما محسوس کرتے ہیں کہ نبی کو شک تھا کہ یہ بچہ میرا ہے بھی یا نہیں۔
۲۔ اسرائیل کی بحالی کا وعدہ (۱: ۱۰۔۲:۱)
۱: ۱۰، ۱۱ لیکن اِسرائیل پر یہ قہر و غضب عارضی تھا۔ خدا اِسرائیل اور یہوداہ کو دوبارہ اکٹھا کرے گا اور اُنہیں اپنے لوگ تسلیم کرے گا۔ یہ مسیح کی دوسری آمد پر ہو گا۔
سیاق و سباق میں آیت ۱۰ کا دوسرا حصہ صاف طور سے اِسرائیل پر اطلاق کرتا ہے۔ لیکن پولس رسول رومیوں ۹: ۲۶ میں یہ الفاظ اِقتباس کرتا اور اِن کا اطلاق غیر قوموں کے بلاوے پر کرتا ہے۔ یہ اِس حقیقت کا اِظہار ہے کہ جب روح القدس پرانے عہدنامے کا نئے عہدنامے میں اِقتباس کرتا ہے تو وہ خود ہی اصول اور ضابطہ ہوتا ہے۔
مقدس کتاب
۱ شاہان یہوداہ عزیاہ اور یوتام اورآخر اور حزقیاہ اور شاہ اسرائیل یرُبعام بن یوآس کے ایام میں خُدا وند کا کلام ہوسیع بن بیری پر نازل ہوا۔
۲ جب خداوند نے شروع میں ہوسیع کی معرفت کلام کیاتو اس کو فرمایا کہ جا کہ ایک بد کار بیوی اور بدکاری کی اولاد اپنے لے کیونکہ مُلک نے خُداوندکو چھوڑ کربڑی بدکاری کی ہے۔
۳ پس اُس نے جا کر جمر بنت دبلائیم کو لیا۔ وہ حاملہ ہوئی اور بیٹا پیدا ہوا۔
۴ اور خُداوند نے کہا اُس کا نام یزرعیل رکھ کیونکہ میں عنۡقریب ہی یاہو کے گھرانے سے یزرعیل کے خُون کا بدلہ لُوں گا اور اسرائیل کے گھرانے کی سلطنت کو تمام کُروں گا۔
۵ اور اُسی وقت یزرعیل کی وادی میں اسرائیل کی کمان توڑوں گا۔
۶ اور پھر وہ حاملہ ہُوئی اور بیٹی پیدا ہوئی اور خُداوند نے اُسے فرمایا کہ اُس کا نام لُورُ حامہ رکھ کیونکہ میں اسرائیل کے گھرانے پر رحم نہ کُروں گاکہ اُن کو معاف کُروں۔
۷ لیکن یہُوداہ کے گھرانے پر رحم کُروں گا اور میں خُداوند اُن کا خُدا اُن کو رہائی دُوں گا اور اُن کو کمان اور تلوار اور لڑائی اور گھوڑوں اور سواروں کے وسیلہ سے نہیں چُھڑوں گا۔
۸ اور لُورحامہ کا دُودھ چُھڑانے کے بعد وہ پھر حاملہ ہُوئی اور بیٹا پیدا ہُوا۔
۹ اور اُس نے فرمایا کہ اُس کا نام لوعمی رکھ کیونکہ تم میرے لوگ نہیں ہو اور میں تمہارا نہیں ہُوں گا۔
۱۰ تو بھی اسرائیل دریا کی ریت کی مانند بے شُمار و بے قیاس ہوں گے اور جہاں اُن سے یہ کہا جاتا تھا کہ تم میرے لوگ نہیں ہو زندہ خُدا کے فرزند کہلائیں گے۔
۱۱ اور بنی یہُوداہ اور بنی اسرائیل باہم فراہم ہوں گے اور اپنے لئے ایک ہی سردار مُقرر کریں گے اور اس مُلک سے خُروج کریں گے کیونکہ یزرعیل کا دن عظیم ہو گا۔