(۳) ملک کی تقسیم (باب ۴۸)
۴۸: ۱۔۷ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ زمین بحیرۂ روم سے مشرقی سرحد تک متوازی پٹیوں میں تقسیم ہو گی۔ نہایت شمالی پٹی دان کے قبیلے کے لئے ہو گی (آیت ۱)، اُس کے نیچے (جنوب میں) آشر کے لئے (آیت ۲) اور اِسی طرح بالترتیب نفتالی (آیت ۳)، منسی (آیت ۴)، افرائیم (آیت ۵) روبن (آیت ۶) اور یہوداہ (آیت ۷) کے لئے ہو گی۔
۴۸: ۸۔۲۲ یہوداہ کے جنوب میں وہ حصہ ہو گا جو پہلے ہی فرماں روا کے لئے مخصوص ہو چکا ہے۔ اِس میں مَقدِس اور یروشلیم کا شہر شامل ہیں۔ یہ مقدس ہدیہ (مخصوص قطعہ) بہت بڑا مربع قطعہ ہے جس کی سرحد بحیرۂ مردار کے شمالی حصے تک ہے۔ یہ تین متوازی پٹیوں میں تقسیم ہو گا۔ نہایت شمالی پٹی کاہنوں کی ملکیت ہو گی۔ اِس کے وسط میں ہزار سالہ دَور کا مَقدِس ہو گا۔ درمیانی پٹی لاویوں کے لئے اور جنوبی پٹی عام لوگوں کے لئے ہو گی اور یروشلیم اِس کے وسط میں ہو گا۔ اِس مربع قطعہ کا مشرق اور مغرب کا باقی علاقہ فرماں روا کے لئے ہو گا۔
۴۸: ۲۳۔۲۷ اور مقدس علاقے کے جنوب میں بالترتیب اِن قبیلوں کے حصے ہوں گے: بنیمین (آیت ۲۳)، شمعون (آیت ۲۴)، اشکار (آیت ۲۵)، زبولون (آیت ۲۶) اور جد (آیت ۲۷)۔
۴۸: ۲۸۔۳۵ یروشلیم شہر کے بارہ پھاٹک ہوں گے یعنی ہر ایک طرف تین پھاٹک اور اِسرائیل کے بارہ قبیلوں میں سے ہر ایک کے لئے ایک پھاٹک۔ اور شہر کا نام ہو گا یہوواہ شما یعنی خداوند وہاں ہے۔
یہ نام ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہمیشہ سے خدا کے دل میں کیا تھا: وہ اپنی مخلوقات سے اِتنی محبت رکھتا ہے کہ ہمیشہ اِرادہ رکھتا تھا کہ اُنہیں اپنے پاس رکھے۔ وہ ہمیشہ تلاش کرتا اور پوچھتا رہتا ہے تُو کہاں ہے؟ وہ ہمیشہ بلاتا ہے کہ توبہ کرو، باز آؤ اور ایمان لاؤ۔ یہاں تک کہ وہ ابنِ آدم ہو کر زمین پر آیا تاکہ ہماری خاطر اپنی جان دے۔ اُس کی آرزو پوری ہو گی۔ اِنسان اُس کے دل کے قریب رہے گا۔ ہم اب بھی اُس کے ساتھ مل کر کھوئے ہوؤں کی تلاش کر سکتے ہیں اور زمین پر اِس دُنیا میں بھی اُس کے دل کے قریب رہ سکتے ہیں۔ یہ ہے ہمارے لئے خدا کی آرزو!
حزقی ایل کی کتاب کی تفسیر کے اِختتام پر ہم پرانے عہدنامے کے ایک عبرانی مسیحی چارلس ایل۔ فِین برگ (Charles L. Feinberg) کا تیار کردہ خلاصہ پیش کرتے ہیں:
’’اِس بے مثال نبوت کا آغاز خدا کے جلال کا رُؤیا ہوا اور اِختتام جلالی شہر یروشلیم میں خداوند کے جلال کے بیان پر ہوتا ہے۔ مکاشفہ کی کتاب میں یوحنا عارف کی طرح حزقی ایل بھی اِسی نتیجے کے ساتھ کتاب بند کرتا ہے کہ خدا تقدس اور جلال کے ساتھ اِنسانوں کے درمیان سکونت کرے گا۔ اِنسانوں کے ساتھ خدا کے سلوک کا اور تاریخ کا اِس سے بڑا اور اِس سے آگے کوئی اَور مقصد نہیں ہے۔‘‘
مقدس کتاب
۱ اور قبیلوں کے نام یہ ہیں ۔انتہلی شمال پر حتلون کے راستہ کے ساتھ ساتھ حمات کے مدخل سے ہو تے ہوئے حصر عینان تک جو دمشق کی شمالی سرحد پر حمات پاس ہے مشرق سے مغرب تک دان کے لئے ایک حصہ ۔
۲ اور دان کی سرحد سے متصل مشرقی سرحدسے مغربی سرحد تک آشر کے لئے ایک حصہ ۔
۳ اور آشر کی سرحد سے متصل مشرقی سرحد سے مغربی سرحد تک نفتالی کے لئے ایک حصہ۔
۴ اور نفتالی کی سرحد سے متصل مشرقی سرحد سے مغربی سرحد تک منسی کے لئے ایک حصہ ۔
۵ اور منسی کی سرحد سے متصل مشرقی سرحد سے مغربی سرحد تک افرائیم کے لئے ایک حصہ ۔
۶ اور افرائیم کی سرحد سے متصل مشرقی سرحد سے مغربی سرحد تک روبن کے لئے ایک حصہ ۔
۷ اور روبن کی سرحد سے متصل مشرقی سرحد سے مغربی سررحد تک یہوداہ کے لئے ایک حصہ ۔
۸ اور یہوداہ کی سرحد سے متصل مشرقی سرحد سے مغربی سرحد تک ہدیہ کا حصہ ہو گا جو تم وقف کرو گے ۔اس کی چو ڑائی پچیس ہزار اور لمبائی باقی حصوں میں سے ایک کے برابر مشرقی سرحد سے مغربی سرحد تک اور مقدس اس کے وسط میں ہو گا ۔
۹ ہدیہ کا حصہ جو تم خداوند کے لئے وقف کرو گے پچیس ہزار لمبا اور دس ہزار چوڑا ہو گا ۔
۱۰ اور یہ مقدس ہدیہ کا حصہ ان کے لئے ہاں کاہنوں کے لئے ہو گا ۔شمال کی طرف پچیس ہزار اس کی لمبائی ہو گی اور دس ہزار اس کی چوڑائی مغرب کی طرف اور دس ہزار اس کی چوڑائی مشرق کی طرف اور پچیس ہزار اس کی لمبائی جنوب کی طرف اور خداوند کا مقدس اس کے وسط میں ہو گا ۔
۱۱ یہ ان کاہنوں کے لئے ہو گا جو صدوق کے بیٹوں میں سے مقدس کئے گئے ہیں ۔جنہوں نے میری مانت داری کی اور گمراہ نہ ہوئے جب بنی اسرائیل گمراہ ہو گئے جےسے بنی لاوی گمراہ ہوئے ۔
۱۲ اور زمین کے ہدیہ میں سے بنی لاوی کے حصہ سے متصل ۔یہ ان کےلئے ہدیہ ہو گا جو نہایت مقدس ٹھہرے گا ۔
۱۳ اور کاہنوں کی سرحد کے مقابل بنی لاوی کے لئے ایک حصہ ہو گا پچیس ہزار لمبا اور دس ہزار چوڑا ۔اس کی کل لمبائی پچیس ہزار اور چوڑائی دس ہزار ہو گی۔
۱۴ اور وہ اس میں سے نہ بیچیں اور نہ بدلیں اور نہ زمین کا پہلا پھل اپنے قبضہ سے نکلنے دیں کیو نکہ وہ خداوند کے لئے مقدس ہے ۔
۱۵ اور وہ پانچ ہزار کی چوڑائی کا باقی حصہ اس پچیس ہزار کے مقابل بستی اور اس کی نواحی کے لئے عام جگہ ہو گی اور شہر اس کے وسط میں ہو گا ۔
۱۶ اور اس کی پیمایش یہ ہو گی شمال کی طرف چار ہزار پانچ سو اور جنوب کی طرف چار ہزار پانچ سو اور مشرق کی طرف چار ہزار پانچ سو اور مغرب کی طرف چار ہزار پانچ سو ۔
۱۷ اور شہر کی نواحی شمال کی طرف دو سو پچاس اور جنوب کی طرف دوسو پچاس اور مشرق کی طرف دو سو پچاس اور مغرب کی طرف دو سو پچاس۔
۱۸ اور مقدس ہدیہ کے مقابل باقی لمبائی مشرق کی طرف دس ہزار اور مغرب کی طرف دس ہزار ہو گیاور وہ مقدس ہدیہ کے مقابل ہو گی اور اس کا حاصل ان کی خوراک کے لئے ہو گا جو شہر میں کام کرتے ہیں ۔
۱۹ اور شہر میں کام کرنے والے اسرائیل کے سب قبیلوں میں سے اس میں کاشت کاری کریں گے ۔
۲۰ ہدیہ کے تمام حصہ کی لمبائی پچیس ہزار اور چوڑائی پچیس ہزار ہو گی ۔تم مقدس ہدیہ کے حصہ کو مربع شکل میں شہر کی ملکیت کے ساتھ وقف کرو گے ۔
۲۱ اور باقی جو مقدس ہدیہ کا حصہ اور شہر کی ملکیت کی دونوں طرف جو ہدیہ کے حصہ کے پچیس ہزار کے مقابل مشرق کی طرف اور پچیس ہزار کے مقابل مغرب کی طرف فرمانروا کے حصوں کے مقابل ہے وہ فرمانروا کے لئے ہو گا اور وہ مقدس ہدیہ کا حصہ ہو گا اور مقدس مسکن اس کے وسط میں ہو گا۔
۲۲ اور بنی لاوی کی ملکیت سے اور شہر کی ملکیت سے جو فرمانروا کی ملکیت کے وسط میں ہے یہوداہ کی سرحد اور بینیمین کی سرحد کے درمیان فرمانروا کے لئے ہو گی ۔
۲۳ اور باقی قبائل کے لئے یوں ہو گا کہ مشرقی سرحد سے مغربی سرحد تک بینیمین کے لئے ایک حصہ ۔
۲۴ اور بینیمین کی سرحد سے متصل مشرقی سرحد سے مغربی سرحد تک شمعون کے لئے ایک حصہ ۔
۲۵ اور شمعون کی سرحد سے متصل مشرقی سرحدسے مغربی سرحد تک اشکار کے لئے ایک حصہ ۔
۲۶ اور اشکار کی سرحد سے متصل مشرقی سرحد سے مغربی سرحد تک زبولون کے لئے ایک حصہ ۔
۲۷ اور زبولون کی سرحد سے متصل مشرقی سرحد سے مغربی سرحد تک جد کے لئے ایک حصہ۔
۲۸ اور جد کی سرحد سے متصل جنوب کی طرف جنوبی کنارے کی سرحد تمر سے لے کر مریبوت قادس کے پانی سے نہر مصر سے ہو کر بڑے سمندر تک ہو گی ۔
۲۹ یہ وہ سرزمین ہے جس کو تو میراث کے لئے قرعہ ڈال کر قبائل اسرائیل میں تقسیم کرو گے اور یہ ان کے حصے ہیں خداوند خدا یوں فرماتا ہے ۔
۳۰ اور شہر کے مخارج یہ ہیں شمال کی طرف کی پیمایش چار ہزار پانچ سو۔
۳۱ اور شہر کے پھاٹک قبائل اسرائیل سے نامزد ہو ں گے ۔تین پھاٹک شمال کی طرف ایک پھاٹک روبن کا ۔ایک یہوداہ کا ۔ایک لاوی کا ۔
۳۲ اور مشرق کی طرف کی پیمایش چارہزار پانچ سو اور تےن پھاٹھ ایک یوسف کا ایک بنیمین کا اور ایک دان کا ۔
۳۳ اور جنوب کی طرف کی پیمایش چار ہزار پانچ سو اور تین پھاٹک ایک شمعون کا ۔ ایک اشکار کا اور زبولون کا۔
۳۴ اور مغرب کی طرف کی پیمایش چار ہزار پانچ سو اور تین پھاٹک ۔ ایک جد کا ۔ایک اشر کا اور ایک نفتالی کا ۔
۳۵ اس کا محیط اٹھارہ ہزار اور شہر کا نام اسی دن سے یہ ہو گا کہ خداوند وہاں ہے۔