حزقی ایل ۳۴

ب۔ جھوٹے چرواہے اور اچھا چرواہا (‏باب ۳۴)‏

۳۴:‏ ۱۔۶ چرواہوں (‏حاکموں)‏ کو بھیڑوں (‏لوگوں)‏ کی فلاح و بہبود کی پروا نہ تھی۔ وہ صرف اپنا ہی پیٹ بھرتے تھے۔ وہ زبردستی اور سختی سے حکومت کرتے تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ بھیڑیں پراگندہ ہو گئیں۔ 

آج کے دن تک بہت سے مذہبی لیڈروں نے بھیڑوں کی خدمت کرنے کا سبق نہیں سیکھا۔ وہ خدمت کو منافعے کا بہانہ اور ذریعہ بنا لیتے ہیں۔ ہم اُن لیڈروں کے لئے خدا کی تعریف کریں جو شوق اور بے لوثی سے خدمت کرتے ہیں۔ وہ گلّے کے لئے نمونہ ہیں۔ خدا نے گلّے کو پہلے پراگندہ ہونے دیا تاکہ مزید نقصان نہ ہو (‏آیت ۱۰)‏۔ ییٹس (‏Yates)‏ صورتِ حالات کی وضاحت کرتا ہے:‏

’’حزقی ایل کے زمانے کے مبلغوں کی ایسی تصویر پیش کی گئی ہے کہ دیکھ کر کلیجہ پھٹ جاتا ہے۔ گلّہ تتر بتر ہے‏، کوئی دیکھنے اور سنبھالنے والا نہیں‏، بھیڑیں بھوکی پیاسی ہیں۔ خود غرض اور حریص چرواہوں کو اپنی ناز برداریوں اور اپنا پیٹ بھرنے سے فرصت نہیں۔ وہ اپنی ذمہ داری کو بھلا کر اپنے آرام اور عیش پرستی کے دلدادہ ہیں۔ وہ اپنے لئے تو خوراک‏، پوشاک اور آسائش حاصل کرنے کا بہت دھیان رکھتے ہیں مگر لمحہ بھر کو بھی کسی دوسرے کی طرف نظر نہیں اُٹھاتے۔‘‘

۳۴:‏ ۷۔۱۰ اِس لئے خدا نے اِرادہ کر لیا ہے کہ اپنی بھیڑوں کو اِن جھوٹے چرواہوں سے چھڑائے گا۔ اُس کے دل میں ہر وقت برکت کا خیال ہے۔ چنانچہ وہ اپنی بھیڑوں کو جمع کرے گا اور ایک ایک کی ضرورت پوری کرے گا۔ سب سے بڑی برکت خداوند اور اُس کی بھیڑوں کے درمیان یگانگی ہو گی۔ خدا اور اِنسان کے درمیان قریبی اور بے تکلف رِشتہ ہو گا۔ 

۳۴:‏ ۱۱۔۱۶ خداوند خود اُن کا چرواہا ہو گا۔ وہ اپنی بھیڑوں کو اُن ہی کے ملک میں پہنچائے گا اور اُن پر بادشاہی کرے گا (‏ہزار سالہ بادشاہی)‏۔ ڈی۔ ایل۔ موڈی نے خدا کی طرف سے اپنی بھیڑوں کی خدمت کا خوبصورت خاکہ پیش کیا ہے:‏

غور کریں کہ خداوند خدا اپنی بھیڑوں کے لئے کتنی فکر رکھتا ہے:‏

آیت ۱۱ __ مَیں اُن کی تلاش کروں گا اور اُن کو ڈھونڈ نکالوں گا۔
آیت ۱۲ __ مَیں اُن کو چھڑا لاؤں گا۔
آیت ۱۳ __ مَیں اُن کو سب ملکوں میں سے فراہم کروں گا۔
آیت ۱۳ __ مَیں اُن کو واپس لاؤں گا۔
آیت ۱۳ __ مَیں اُن کو اُن ہی کے ملک میں پہنچاؤں گا۔
آیت ۱۴ __ مَیں اُن کو چراؤں گا۔
آیت ۱۵ __ مَیں اُن کو لٹاؤں گا۔
آیت ۱۶ __ مَیں شکستہ کو باندھوں گا۔
آیت ۱۶ __ مَیں بیماروں کو تقویت دوں گا۔

خدا کے بھیڑ خانے میں کئی دبلی پتلی بھیڑیں ہیں‏، لیکن اُس کی چراگاہ میں ایک بھی نہیں۔ بعض لوگ جن میں خاص قسم کے مبلغ بھی شامل ہیں کہتے ہیں کہ پرانے عہدنامے کا خدا سخت گیر اور محبت سے خالی ہے جب کہ نئے عہدنامے کا خدا اُس سے بالکل فرق ہے۔ جان ٹیلر نے خدا کے چرواہا ہونے کے بارے میں دونوں عہدناموں کے مکاشفوں کو بڑی خوبصورتی سے یکجا کیا ہے:‏

آیات ۱۱ اور ۱۲ میں چرواہا اپنے بھٹکے اور کھوئے ہوئے گلّے کی تلاش کرتا ہے۔ یہ تصویر کھوئی ہوئی بھیڑ کی تمثیل (‏لوقا ۱۵:‏ ۴ و مابعد)‏ کا پیش عکس ہے اور اِس میں شک نہیں کہ ہمارے خداوند نے اِسی کو بنیاد بنا کر یہ تمثیل سنائی۔ یہ بیان پرانے عہدنامے کے خدا کی شفقت اور محبت کو نہایت واضح طور سے ظاہر کرتا ہے۔ اور اُن لوگوں پر کاری ضرب لگاتا ہے جو اِسرائیل کے خدا یہوواہ اور ہمارے خداوند یسوع کے خدا اور باپ کے درمیان زبردست تفریق پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور صرف یہی ایک حوالہ نہیں جو شفیق اور محبت بھرے خدا کا ذکر کرتا ہے (‏دیکھئے زبور ۷۸:‏ ۵۲ و مابعد ۷۹:‏ ۱۳؛ ۸۰:‏۱ ؛ یسعیاہ ۴۰:‏ ۱۱؛ ۴۹:‏۹ ومابعد؛ یرمیاہ ۳۱:‏۱۰)‏۔

۳۴:‏ ۱۷۔۲۴ خداوند خدا اپنی حقیقی بھیڑوں کو اُن جھوٹے چرواہوں سے بھی بچائے گا جو خود غرض‏، لالچی اور ظالم ہیں۔ آیات ۲۳ اور ۲۴ میں ’’میرا بندہ داؤد‘‘ سے مراد خداوند یسوع ہے جو داؤد کی نسل سے ہے۔ عبرانی مسیحی ڈیوڈ بیرن یوں تفسیر کرتا ہے:‏

یہودی بھی اِن حوالوں میں ’’میرا بندہ داؤد‘‘ کا اطلاق مسیحِ موعود پر کرتے ہیں۔ وہ عظیم ابنِ داؤد ہے اور داؤد کے گھرانے کے سارے وعدے اُسی میں مرکوز ہیں۔ 

۳۴:‏ ۲۵۔۳۱ اِن آیات میں مستقبل میں مسیح کی بادشاہی کے دَور میں خدا کے گلّے کی خوش حالی کا بیان ہے۔ ’’صلح کے عہد‘‘ (‏آیت ۲۵)‏ کے تحت برکت کی بارش ہو گی (‏آیت ۲۶)‏ اور ’’ایک نامور پودا برپا ہو گا‘‘ (‏آیت ۲۹)‏۔ 

حکومت کی مثالی شکل وہ ہے جو مسیح کی فلاحی اور مطلق العنان شہنشاہیت کے تحت قائم ہو گی۔

مقدس کتاب

۱ اور خداوند کا کلام مجھ پر نازل ہوا ۔
۲ کہ اے آدمزاد اسرائیل کے چرواہوں کے خلاف نبوت کر ۔ہاں نبوت کر اور ان سے کہہ خداوند خدا چرواہوں کو یوں فرماتا ہے کہ اسرائیل کے چرواہوں پر افسوس ج اپنا ہی پیٹ بھرتے ہیں ۔کیا چرواہوں کو مناسب نہیں کہ بھےڑوں کو چرائیں؟
۳ تم چکنائی کھاتے اور اون پہنتے ہو اور جو فربہ ہیں ان کو ذبح کرتے ہو لیکن گلہ نہیں چراتے ۔
۴ تم نے کمزوروں کو توانائی اور بیماروں کو شفا نہیں دی اور ٹوٹے ہوئے کو نہیں باندھا اور جو نکال دئے گئے ان کو واپس نہیں لائے اور گمشدہ کی تلاش نہیں کی بلکہ زبردستی اور سختی سے ان پر حکومت کی ۔
۵ اور وہ تتر بتر ہو گئے کیونکہ کوئی پاسبان نہ تھا اور وہ پراگندہ ہو کر میدان کے سب درندوں کی خوراک ہوئے ۔
۶ میری بھیڑےں تمام پہاڑوں پر اور ہر ایک اونچے ٹےلے پر بھٹکتی پھرتی تھیں ۔ہاں میری بھیڑےں تمام رویِ زمین پر تتر بتر ہو گئےں اور کسی نے نہ ان کو ڈھونڈا نہ ان کی تلا ش کی ۔
۷ اسلئے اے پاسبانو خداوند کا کلام سنو ۔
۸ خداوند خدا فرماتا ہے مجھے اپنی حےات کی قسم چونکہ میری بھےڑےں شکار ہو گئےں ہاں میری بھیڑےں ہر ایک دشتی درندہ کی خوراک ہوئیں کیونکہ کوئی پاسبان نہ تھا اور مےرے پاسبانوں نے میری بھےڑوں کی تلاش نہ کی بلکہ انہوں نے اپنا پیٹ بھرا اور میری بھےڑوں کو نہ چراےا ۔
۹ اسلئے اے پاسبانوں خداوند کا کلام سنو ۔
۱۰ خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ دیکھ میں چرواہوں کا مخالف ہوں ساور اپنا گلہ ان کے ہاتھ سے طلب کرونگا اور ان کو گلہ بانی سے معزول کرونگا ۔اور چرواہے آیندہ کو اپنا پیٹ نہ بھر سکینگے کیونکہ میں اپنا گلہ ان کے منہ سے چھڑالونگا تاکہ وہ ان کی خوراک نہ ہو ۔
۱۱ کیونکہ خداوند خدا فرماتا ہے کہ دیکھ میں خود پنی بھےڑوں کی تلاش کرونگا اور ان کو ڈھونڈ نکالونگا ۔
۱۲ جس طرح چرواہا اپنے گلہ کی تلاش کرتا ہے جب کہ وہ اپنی بھےڑوں کے درمیان ہو جو پراگندہ ہو گی ہیں اسی طرح میں اپنی بھےڑوں کو ڈھونڈونگا اور ان کو ہر جگہ سے جہاں وہ ابر اور تارےکی کے دن تتر بتر ہو گئی ہیں چھڑالاﺅنگا ۔
۱۳ اور میں ان کو سب امتوں کے درمیان سے واپس لاﺅنگا اور سب ملکوں کے درمیان سے فراہم کرونگا اور ان ہی کے ملک میں پہنچاﺅنگا اور اسرائیل کے پہاڑوں پر نہروں کے کنارے اور زمین کے تمام آباد مکانوں میں چراﺅنگا ۔
۱۴ اور انکو اچھی چراگاہ میں چراﺅنگااور ان کی آرام گاہ اسرائیل کے اونچے پہاڑ پر ہو گی ۔وہاں وہ عمدہ آرامگاہ میں لیٹینگی اور ہری چراگاہ میں اسرائیل کے پہاڑوں پر چرینگی ۔
۱۵ میں ہی اپنے گلہ کو چراﺅنگا اور ان کو لٹاﺅنگا خداوند خدا فرماتا ہے ۔
۱۶ میں گمشدہ کی تلاش کرونگااور خارج شدہ کو واپس لاﺅنگا اور شکستہ کو باندھونگا اور بےماروں کو تقوےت دونگا لیکن موٹوں اور زبردستوں کو ہلاک کرونگا ۔ میںان کو سیاست کا کھانا کھلاﺅنگا ۔
۱۷ اور تمہارے حق میں خداوند خدا یوں فرماتا ہے اے میری بھےڑو دیکھو میں بھےڑ بکریوں اور مینڈھوں اور بکروں کے درمیان امتےاز کرکے انصاف کرونگا ۔
۱۸ کیا تم کو یہ ہلکی سی بات معلوم ہوئی کہ تم اچھا سبزہ زار کھا جاﺅ اور باقی ماندہ کو پاﺅں سے گدلا کرو ؟
۱۹ اور جو تم نے پاﺅں سے لتاڑا ہے وہ میری بھیڑیں کھاتی ہیں اور جو تم نے پاﺅں ے گدلا کی پیتی ہیں ۔
۲۰ اسلئے خداوند خدا نکو یوں فرماتا ہے کہ دیکھو میں ہاں میں موٹی اورر دبلی بھےڑوں کے درمیان انساف کرونگا ۔
۲۱ چونکہ تم نے پہلو اور کندھے سے دھکیلا ہے اور تمام بیماروں کو اپنے سینگوں سے رےلا ہے یہاں تک کہ وہ تتر بتر ہوئے ۔اسلئے میں اپنے گلہ کو بچاﺅنگا ۔
۲۲ وہ پھر کبھی شکار نہ ہو نگے اور میں بھےڑ بکرےوں کے درمیان انساف کرونگا ۔
۲۳ اور میں ان کے لئے ایک چوپان مقرر کرونگا اور وہ ان کو چرائےگا یعنی میرا بندہ داﺅد ۔وہ ان کو چرائےگا اور وہی ان کا چوپان ہو گا ۔
۲۴ اور میں خداوند انکا خدا ہونگا اور میر ا بندہ داﺅد ان کے درمیان فرمانروا ہو گا ۔میں خداوند نے یوں فرمایا ہے ۔
۲۵ اور میں ان کے ساتھ صلح کا عہد باندھوگا اور سب برے درندو کو ملک سے نابود کرونگا اور وہ بیابان میں سلامتی سے رہا کرینگے اور جنگلوں میں سوئےنگے ۔
۲۶ اور میں ان کو اور ان جگہوں کو جو مےرے پہاڑ کے آس پاس ہیں برکت کا باعث بناﺅ نگا اور میں بروقت مینہ برساﺅں گا ۔ برکت کی بارش ہو گی ۔
۲۷ اور میدان کے درخت اپنا میوہ دےنگے اور زمین اپنا حاصل دےگی اور وہ سلامتی کے ساتھ اپنے ملک میں بسےنگے اور جب میں ان کے جوئے کا بندھن توڑ ونگا اور ان کے ہاتھ سے جو ان سے خدمت کرواتے ہیں چھاڑﺅنگا تو وہ جانےنگے کہ میں خداند ہوں ۔
۲۸ اور وہ آگے کو قوموں کا شکار نہ ہو نگے اور زمین کے درندے انکو نگل نہ سکینگے بلکہ وہ امن سے بسےنگے اور ان کو کوئی نہ ڈرائےگا ۔
۲۹ اور میں ان کے لئے ایک نامور پودا برپا کرونگا اور وہ پھر کبھی اپنے ملک میں قحط سے ہلاک نہ ہو نگے اور آگے کو قوموں کا طعنہ نہ اٹھائےنگے ۔
۳۰ اور وہ جانےنگے کہ میں خداوند انکا خدا انکے ساتھ ہوں اور وہ یعنی بنی اسرائیل مےرے لوگ ہیں خداوند خدا فرماتا ہے ۔
۳۱ اور تم اے میری بھےڑو میری چراہ گاہ کی بھےڑ و ہو اور میں تمہارا خدا ہوں خداوند خدا فرماتا ہے۔