ب۔ ہزار سالہ دَور میں عبادت (ابواب ۴۳،۴۴)
۴۳: ۱۔۵ حزقی ایل کی کتاب کے پہلے حصے (۱۱: ۲۳) میں ہم نے دیکھا تھا کہ جلال کا بادل ہیکل کو چھوڑ گیا تھا حالانکہ چھوڑنا چاہتا نہیں تھا۔ لیکن اِسرائیل کے خدا کا جلال خداوند یسوع کی ذات میں واپس آئے گا جب وہ بادشاہی کرنے آئے گا۔
۴۳: ۶۔۹ خداوند وہاں بنی اِسرائیل کے درمیان ابد تک رہے گا۔ اِس کے بعد وہ کبھی مسکن کے سائے میں روحانی بدکاری (زناکاری) اور اِس سے متعلقہ گھنونے کام نہیں کریں گے۔
۴۳: ۱۰۔۱۲ جب بنی اِسرائیل اپنے سب کاموں سے پشیمان ہوں گے تو اُس گھر (نئے مسکن) کا نقشہ اور اُس کی ترتیب اور تمام شکل دیکھیں گے۔ جونہی وہ توبہ کریں گے خدا اُنہیں نئی اُمید عطا کرے گا (جب کوئی توبہ کرے تو ہمارا ردِّعمل بھی یہی ہونا چاہئے)۔ نبی کو حکم ہوا کہ لوگوں کو بتا دے کہ مسکن کی تمام سرحدیں اور اُس کے گردا گرد کا سارا علاقہ اور وہ پہاڑ جس پر مسکن واقع ہے نہایت مقدس ہو گا۔
خداوند کے جلال کو واقعتا دیکھیں تو ہم اپنی ساری بدیوں اور خطاؤں پر شرمندہ اور پشیمان ہوں گے (آیت ۱۰)۔
۴۳: ۱۳۔۱۷ اِس کے بعد مذبح کی پیمائش دی گئی ہے۔ یہ مذبح زینہ دار چبوترہ نظر آتا ہے۔ مذبح کے بالکل اُوپر کا حصہ آتش دان ہے جہاں آگ جلتی ہے۔ اِس کے اُوپر چار سینگ ہوں گے۔ اِس مذبح کی غیر معمولی خصوصیت یہ ہے کہ اِس تک پہنچنے کے لئے زِینے بنے ہوئے ہیں۔ پہلی ہیکل میں اِس کی اجازت نہیں تھی۔ یہ مذبح اِتنا اُونچا ہو گا کہ اُوپر تک جانے کے لئے زِینوں کی ضرورت ہو گی۔
۴۳: ۱۸۔۲۷ اِس کے بعد خون کے ساتھ مذبح کی تقدیس کرنے کا طریقہ بتایا گیا ہے۔ تقدیس کرنے میں سات دن لگیں گے۔ اسرائیل کی جماعتی عبادت میں اِس تقدیس کی بہت اہمیت تھی۔ پرانے عہد نامے کے بہت سے حوالے اِس کا بیان کرتے ہیں۔ دیکھئے خروج ۲۹: ۳۷؛ احبار ۸: ۱۱، ۱۵،۱۹،۳۳؛ ۱۔سلاطین ۸: ۶۲۔۶۵ اور ۲۔تواریخ ۷: ۴۔۱۰۔ یہ سارا عمل کرنے کے بعد آٹھویں دن قربانیاں چڑھانے کا باقاعدہ سلسلہ شروع ہو گا۔
یہ باب بہت حوصلہ افزائی کے الفاظ کے ساتھ ختم ہوتا ہے۔ خدا لوگوں کی نہ صرف قربانیاں اور نذریں قبول کرے گا بلکہ خداوند خدا فرماتا ہے، ’’ مَیں اُن کو قبول کروں گا۔‘‘
غور کریں کہ اُن دنوں میں کاہن صدوق کی نسل سے ہوں گے (آیت ۱۹)۔ اِس اعزاز کی وجہ غالباً یہ ہے کہ صدوق پورے دل سے داؤد اور سلیمان کا وفادار رہا تھا۔
مقدس کتاب
۱ پھر وہ مجھے پھا ٹک پر لے آیا یعنی اس پاٹک پر جس کا رخ مشرق کی طرف ہے۔
۲ یا وہ دیکھتا ہوں کہا اسرائیل کے خدا کا جلال مشرق کی طرف سے آیا اور اس کی آوازسیلاب کے شور کی سی تھی اور اس کے جلال سے منور ہو گئی ۔
۳ اور یہ اس رویا کی نما ئش کے مطابق تھا جو میں نے دیکھی تھی ۔ہاں اس رویا کے مطا بق جو میں نے دیکھی تھی جب میں شہر کو بر باد کرنے آیا تھااور یہ رویتیں اس رویا کی مانند تھی جو میں نے نہر کبار کے کنار ہ پر دےکھی تھی۔
۴ اور خداوندکا جلال اس پھاٹک کی راہ سے جس کا رخ مشرق کی طرف ہے ہیکل میں داخل ہوا۔
۵ اور روح نے مجھے اٹھا کراندرونی صحن میں پہنچا دےا ا ور کیا د یکھتا ہوںکہ ہیکل خدا وند کے جلال سے معمور ہے۔
۶ اور میں نے لسی کی آواز سنی جو ہیکل میں سے میرے سا تھ با کرتا تھااور ایک شخص میرے پاس کھڑا تھا ۔
۷ اور اس نے مجھے فرماےا اے آدمزاد یہ میری تختتےں گاہ اور میرے پاوں کی کرسی ہے جہاں میں بنی اسرائیل کے درمےان ابد تک رہوں گااور بنی اسرائیل اور ا پان کے بادشاہ پھر کبھی میرے مقدس نام کو اپنی بدکاری اور اپنے باد شاہوں کی لاشوں سےان کے مرنے پر ناپاک نہ کر ینگے۔
۸ کیونکہ و ہاں ا پنے آستانے میرے آستانوں کےس اور اپنی چوکھٹیں مےری چوکھٹوں کے پاس لگاتے تھے اور میرے اور ان کے درمیان اپنے ان صرف ایک دیوار تھی انہوں نے گھنو نے کاموں سے جوا نہوں نے کئے میرے مقدس نام کونا پاک کیا اس لئے میں نے اپنے قہر میں ان کو ہلاک کیا ۔
۹ پس اب وہ اپنی بد کاری اور اپنے بادشاہوں کی لاشیں مجھ سے دور کردےں تو میں ابد تک ان کے درمیان رہونگا۔
۱۰ اے آدمزاد توبنی اسرائیل کو یہ گھر دکھاتاکہ وہ اپنی بدکرد اری سے شرمندہ ہو جائیں اور اس نمونہ کو نا پیں۔
۱۱ اور اگر وہ اپنے سب کاموں سے پشیمان ہوں تو اس گھر کا نقشہ اور اس کی ترتےب اور اسکے مخارج و داخل اور اسکی تمام شکل اور اس کے کل احکام اور اسکی پوری وضع اور تمام قوانین انکو دکھا اور انکی آنکھوں کے سامنے اسکو لکھ تاکہ وہ اس کا کل نقشہ اور اس کے تمام حکام کو مان کر ان پر عمل کریں ۔
۱۲ اس گھر کا قانون یہ ہے کہ اسکی تمام سرحدیں پہاڑ کی چوٹی پر اسکے گردا گرد نہاےت مقدس ہو نگی ۔ دیکھ یہی اس گھر کا قانون ہے ۔
۱۳ اور ہاتھ کے ناپ سے مذبح کے یہ ناپ ہیں اور اس ہاتھ کی لمبائی ایک ہاتھ چار انگل ہے ۔پایہ ایک ہاتھ کا ہو گا اور چوڑائی ایک ہاتھ اور اس کے گردا گرد بالشت بھر چوڑا حاشیہ اور مذبح کا پایہ یہی ہے ۔
۱۴ اور زمین پر کے اس پایہ سے لے کر نیچے کی کرسی تک دو ہاتھ اور اسکی چوڑائی ایک ہاتھ اور چھوٹی کرسی سے بڑی کرسی تک چار ہاتھاور چوڑائی ایک ہاتھ ۔
۱۵ اور اوپر کا مذبح چار ہاتھ ہو گا اور مذبح کے اوپر چار سینگ ہو ں گے ۔
۱۶ اور مذبح بارہ ہاتھ لمبا ہو گا اور بارہ ہاتھ چوڑا مربع ۔
۱۷ اور کرسی چودہ ہاتھ لمبی اور چودہ ہاتھ چوڑی مربع اور گردا گرد اسکا کنارہ آدھا ہاتھ اور اسکا پایہ گرداگرد ایک ہاتھ اور اس کا زینہ مشرق رو ہو گا ۔
۱۸ اور اس نے مجھ سے کہا اے آدمزاد خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ مذبح کے یہ احکام اس روز جاری ہونگے جب وہ اسے بنائیں گے تاکہ اس پر سوختنی قربانی چڑھائیں اور اس پر لہو چھڑکیں ۔
۱۹ اور تو لاوی کاہنوں کو جو صدوق کی نسل سے ہیں جو میری خدمت کے لئے میرے حضور آتے ہیں خطا کی قربانی کے لئے بچھڑا دینا خداوند خدا فرماتا ہے ۔
۲۰ اور تو اسکے خون میں سے لینا اور مذبح کے چاروں سینگوں پو اسکی کرسی کے چاروں کونوں پر اور اس اسکے گرد چوگرد کے حاشیہپر لگانا اسی طرح کفارہ دیکر اسے پاک و صاف کرنا ۔
۲۱ اور خطا کی قربانی کے لئے بچھڑا لینا اور وہ گھر کی مقرر جگہ میں مقدس کے باہر جلایا جائے گا ۔
۲۲ اور تو دوسرے دن ایک بے عےب بکرا خطا کی قربانی کے لئے چھڑھانا اور وہ مذبح کو کفارہ دیکر اسی طرح پاک کر ےنگے جس طرح بچھڑے سے پاک کیا تھا ۔
۲۳ اور جب تو اسے پاک کر چکے گا تو ایک بے عےب مینڈھا چڑھانا ۔
۲۴ اور تو انکو خداوند خداکے حضور ؛انا اور کاہن ان پر نمک چھڑکیں گے اور ان کو سوختنی قربانی کے لئے خداوند کے حضور چھڑائیں ۔
۲۵ اور تو سات دن تک ہر روز ایک بکرا خطا کی قربانی کے لئے تیار رکھنا ۔اور وہ ایک بچھڑا اور گلہ کا ایک مینڈھا بھی جو بے عےب ہوں تےار کر رکھیں ۔
۲۶ سات دن کو کفارہ دے کر پاک صاف کریں گے اور اس کو مخصوص کریں گے ۔
۲۷ اور جب یہ دن پورے ہو ں گے تو یوں ہو گا کہ آٹھویں دن اور آئیندہ کاہن تمہاری سوختنی قربانیوں کو مذبح پر گزرانیں گے اور میں تم کو قبول کرونگا خداوند خدا فرماتا ہے ۔