صفنیاہ ۳

۴۔ یروشلیم پر افسوس کا اعلان (‏۳:‏ ۱۔۷)‏

الف۔ نافرمانی‏، بے حسی‏، بے اعتقادی اور توبہ کرنے سے اِنکار(‏۳:‏ ۱‏، ۲)‏

یروشلیم کو ایک عورت کی صورت میں پیش کیا گیا ہے۔ اُس کی مذمت کی گئی ہے اور سزا کا حق دار ٹھہرایا گیا ہے کیونکہ وہ سرکش و ناپاک اور ظالم شہر ہے۔ وہ نافرمان رہا اور اُس نے خداوند پر توکل نہ کیا اور اپنے خدا کے نزدیک آنا نہ چاہا۔

ب۔ اُمرا اور قاضیوں کا لالچ (‏۳:‏۳)‏

اُس کے اُمرا گرجنے والے ببروں کی مانند ہیں اور اُس کے قاضی ایسے بھوکے ہیں جیسے بھیڑیئے جو شام کو نکلتے ہیں۔

ج۔ نبیوں کا چھچھورا پن اور دغابازی اور کاہنوں کی بے دینی(‏۳:‏۴)‏

یروشلیم کے نبی بے وفا اور ایمان سے خالی اور اُس کے کاہن ناپاک ہیں۔ فِین برگ (‏Feinberg)‏نے تشریح کی ہے کہ :‏

’’آیت ۴ میں واحد موقع ہے کہ اِس کتاب میں نبیوں کو ملامت کی گئی ہے۔ اُن کا قصور یہ ہے کہ چھچھورے ہیں اور اہم باتوں کی پروا نہیں کرتے۔ اُن کی زندگی اور تعلیم میں سنجیدگی اور اِستحکام نہیں ہے۔ وہ دغاباز ہیں کیونکہ اُس کی ہستی (‏خدا)‏ کے ساتھ وفادار نہیں جس کے سامنے اپنے دعوے پیش کرتے ہیں اور لوگوں کو خداوند سے برگشتہ ہونے کی ترغیب دیتے ہیں۔ وہ ناپاک کاموں سے مقدِس کو بے حرمت اور ناپاک کرتے ہیں۔ کاہن بھی پاک کو ناپاک ٹھہراتے ہیں۔ وہ شریعت کے سیدھے سادے مقصد اور معانی و مفہوم کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے اور لوگوں کو سکھاتے ہیں۔‘‘

د۔ خداوند کا غضب کے ساتھ موجود ہونا (‏۳:‏ ۵۔۷)‏

اُن کے سارے گناہ اور خطاکاری کے باوجود خدا اُن کے اندر ہو گا تاکہ صداقت سے عدالت کرے۔ اُس نے دوسری قوموں کو اِس خیال سے سزا دی تھی کہ یقیناًیہوداہ دیکھے گا اور مجھ (‏خداوند)‏ سے ڈرے گا مگر ہوا یہ کہ لوگ اَور بھی بگڑ گئے۔ 

۵۔ ایمان دار اور وفادار بقیہ کے لئے تسلی کا پیغام (‏۳:‏ ۸۔۲۰)‏

الف۔ شریر غیر قوموں کی بربادی / ہلاکت (‏۳:‏۸)‏

پرانے عہدنامے میں صفنیاہ ۳:‏۸ واحد آیت ہے جس میں عبرانی کے سارے حروفِ تہجی موجود ہیں۔ 

یہوداہ کے ایمان دار بقیہ کو تلقین کی گئی ہے کہ خدا کے منتظر رہو۔ جب تک کہ وہ اپنے سارے دشمنوں کو اپنی غیرت کی آگ سے فنا نہ کر دے۔ 

ب۔ باقی ماندہ قوموں کا ایمان لانا (‏۳:‏ ۹)‏

ایک دل ہونے کے لئے ضروری نہیں کہ ساری دُنیا کے لوگوں کی زبان ایک ہو۔ البتہ خدا اُن کے ہونٹ ایسے پاک کرے گا کہ اُن کی باتوں میں بت پرستی کی ناپاکی کا نام و نشان نہ رہے گا۔ ساری قومیں پوری پاکیزگی اور یک دلی کے ساتھ یہوواہ کی ستائش کریں گے۔ 

ج۔ پراگندہ اِسرائیل کی بحالی (‏۳:‏ ۱۰۔۱۳)‏

ہزار سالہ بادشاہی کے اُس روز غیر قومیں پراگندہ یہودیوں کو اپنے وطن میں واپس لائیں گی اور بطور ہدیہ خداوند کو پیش کریں گے۔ شریر لوگ جو اپنے تکبر میں خوش ہوتے ہیں‏، وہ یہوداہ میں سے برباد کر دیئے جائیں گے اور آگے کو اِسرائیل کے باقی لوگوں کے لئے ڈر اور خوف کا باعث نہ ہوں گے۔ جو بچ رہیں گے وہ حلیم اور فروتن ہو جائیں گے اور خداوند کے نام پر توکل کریں گے اور راست بازی کی زندگی بسر کریں گے۔ 

د۔ مسیح کی آمدثانی پر شادمانی (‏۳:‏ ۱۴۔۱۷)‏

آیات ۱۴۔۲۰ بحال شدہ اِسرائیل کا گیت ہے جس میں وہ یہوواہ کی ستائش کرتے ہیں کہ اُس نے اپنی بڑی قدرت سے رہائی عطا کی۔ وہ اِس بات پر خوشی مناتے ہیں کہ خدا اپنے لوگوں سے محبت رکھتا ہے۔ بنتِ صیون کے پاس کئی باتیں ہیں جن کے باعث وہ نغمہ سرائی کر سکتی اور خوشی منا سکتی ہے! نہ صرف اُن کے دشمنوں کا صفایا ہو گیا ہے بلکہ مسیحِ موعود بادشاہ‏، خداوند خود اُن کے اندر ہے۔ اب ڈرنے اور کمزور محسوس کرنے کی ضرورت نہ رہے گی کیونکہ قادرِ مطلق خدا اپنی محبت سے اُنہیں تسلی دے گا۔ 

ہ۔ خدا اپنے لوگوں کے لئے جو کچھ کرے گا (‏۳:‏ ۱۸۔۲۰)‏

چونکہ لوگوں پر قہر و غضب جلد نازل ہونے والا ہے اِس لئے خداوند اِس پکے وعدے کے ساتھ نبوت کو ختم کرتا ہے کہ دین دار اور خدا ترس بقیہ کے حالات بالکل بدل جائیں گے۔ اُن کی اسیری موقوف ہو جائے گی اور عیدوں سے محرومی کی بجائے شادمانی ہو گی۔ اور جلاوطنوں کو زمین کی سب قوموں کے درمیان ناموری حاصل ہو گی۔ 

مقدس کتاب

۱ اس سر کش و ناپاک و ظالم شہر پر افسوس!۔
۲ اس نے کلام کو نہ سُنا۔ وہ ترتیب پزیر نہ ہوا۔ اس نے خُداوند پر توکل نہ کیا اور اپنے خُدا کی قُربت کی آرزو نہ کی۔
۳ اس کے اُمرا اس میں گرجنے والے ببر ہیں۔ اس کے قاضی بھیڑے ہیں جو شام کو نکلتے ہیں اور صبح تک کُچھ نہیں چھوڑتے۔
۴ اُس کے نبی لاف زن اور دغاباز ہیں۔ اس کے کاہنوں نے پاک کو نا پاک ٹھہرایا اور اُنہوں نے شریعت کو مروڑا ہے۔
۵ خُداوند جو صادق ہے اس کے اندر ہے۔ وہ بے انصافی نہ کرے گا۔ وہ ہر صبح بلاناغہ اپنی عدالت ظاہر کرتا ہے مگر بے انصاف آدمی شرم کو نہیں جانتا۔
۶ میں نے قوموں کو کاٹ ڈالا۔ اُن کے برج برباد کئے گئے۔میں نے اُن کے کوچوں کو ویران کیا یہاں تک کہ اُن میں کوئی نہیں چلتا ۔ اُن کے شہراُجاڑ ہوئے اور اُن میں کوئی انسان نہیں ۔ کوئی باشندہ نہیں۔
۷ میں نے کہا کہ فقط مُجھ سے ڈر اور تربیت پزیر ہوتا کہ اس کی بستی کاٹی نہ جائے اُس سب کے مُطابق جو میں نے اس کے حق میں ٹھہرایا تھا لیکن اُنہوں نے عمدا اپنی روش کو بگاڑا۔
۸ پس خُداند فرماتا ہے میرے مُنتظر رہو جب کہ میں لوٹ کے لے نہ اُٹھوں کیونکہ میں نے ٹھان لیا ہے کہ قوموں کو جمع کرو اور مملکتوں کو اکٹھا کُروں تاکہ اپنے غضب یعنی تمام قہر شدید کو اُن پر نازل کُروں کیونکہ میری غیرت کی آگ ساری زمین کو کھا جائے گی۔
۹ اور میں اُس وقت لوگوں کے ہونٹ پاک کر دُوں گا تاکہ وہ سب خُداوند سے دُعا کریں اور ایک دل ہو کر اُس کی عبادت کریں۔
۱۰ کُوش کی نہروں کے پار سے میرے عابد یعنی میری پراگندہ قوم میرے لے ہدیہ لاے گی۔
۱۱ اُسی روز تو اپنے سب اعمال کے سبب سے جن سے تو میری گہنگار ہوئی شرمندہ نہ ہوگئی کیونکہ میں اس وقت تیرے درمیان سے تےرے مُتکبر لوگوں کو نکال دُوں گا اور پھر تو میرے لوہ مُقدس پر تکبر نہ کرے گی۔
۱۲ اور میں تجھ میں ایک مظلوم اور مسکین بقیہ چھوڑ دوں گا اور وہ خُداوند کے نام پر توکل کریں گے۔
۱۳ اسرائیل کے باقی لوگ نہ بدی کریں گے نہ جھوٹ بولیں گے اور نہ اُن کے مُنہ میں دغا کی باتیں پائی جائیں گی بلکہ وہ کھائیں گے اور لیٹ رہیں گے اور کوئی ان کو نہ ڈرائے گا۔
۱۴ اے بنت صیون نغمہ سرائی کر!اے اسرائیل! للکار۔ اے دختر یروشیلم! پُورے دل سے خُوشی منا اور شادمان ہو۔
۱۵ خُداوند نے تیری سزا کو دُور کر دیا اُس نے تیرے دشمنوں کو نکال دیا خُداونداسرائیل کا بادشاہ تیرے اندر ہے۔توپھر مُصیبت کو نہ دیکھے گی۔
۱۶ اس روز یروشیلم سے کہا جاے گا ہراسان نہ ہو! اے صیون تیرے ہاتھ ڈھیلے نہ ہوں۔
۱۷ خُداوند تیرا خُدا جو تُجھ میں ہے قادرہے۔ وہی بچا لے گا۔وہ تیرے سبب سے شادمان ہو کر خُوشی کرے گا۔ وہ اپنی محبت میں مسرور رہے گا۔ وہ گاتے ہوئے تیرے لے شادمانی کرے گا۔
۱۸ میں تیرے لے ان لوگوں کو جوعیدوں سے محروم ہونے کے سبب غمگین اور ملامت سے زیر بار ہیں جمع کروں گا۔
۱۹ دیکھ میں اس وقت تیرے سب ستانے والوں کو سزا دوں گا اور لنگڑوں کو رہائی دوں گا اور جو ہانک دے گئے ان کو اکٹھا کروں گا اور جو تمام جہان میں رسوا ہوئےان کو ستودہ اور نامور کروں گا۔
۲۰ اس وقت میں تم کو جمع کر کے مُلک میں لاوں گا کیونکہ جب تمہارے جین حیات ہی میں تمہاری اسیری کو موقوف کروں گا توتم کو زمین کی سب قوموں کے درمیان نامور اور ستودہ کروں گا خُداوند فرماتا ہے۔