۲۔ یہوداہ کو توبہ کرنے کی تلقین (۲: ۱۔۳)
خدا اِس ناپسندیدہ اور بے حیا قوم کو توبہ کرنے کی تلقین کرتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آیت ۳ یہودیوں کے راست باز بقیہ کی طرف اِشارہ کر رہی ہے۔ اگر وہ خداوند کے طالب ہوں تو اُس کے تند و تیز غضب کے دن سے پناہ مل جائے گی۔
۳۔ غیر اقوام کا انجامِ بد (۲: ۴۔۱۵)
الف۔ فلستی (۲: ۴۔۷)
آیات ۴۔۱۵ مغرب، مشرق، جنوب اور شمال یعنی اِرد گرد کی ساری قوموں پر مستقبل میں نازل ہونے والے غضب کا ذکر کرتی ہیں۔ سب سے پہلے فلستی ہیں۔ اُن کی پہچان اُن کے دوسرے نام کریتیوں سے بھی کرائی گئی ہے۔ اُن کے شہر غزہ، اسقلون، اشدود وغیرہ ویران اور متروک (بے آباد) ہو جائیں گے۔ لوگ ہلاک ہوں گی اور اُن کی زمین کو یہوداہ چراگاہیں بنا لے گا۔
ب۔ موآبی اور عمونی (۲: ۸۔۱۱)
اِس کے بعد موآب اور عمون کی باری آتی ہے۔ وہ خدا کے لوگوں کو ملامت اور لعن طعن کرتے تھے۔ خدا نے اُن کی باتیں سنیں۔ وہ برباد اور ویران کئے جائیں گے اور ابدالآباد برباد رہیں گے۔ اور خدا کے لوگوں میں سے بچ رہنے والے (بقیہ) وہاں آباد ہوں گے۔ آیت ۱۱ میں ہزار سالہ دَور کے حالات کا عکس نظر آتا ہے جب خداوند زمین کے سب معبودوں کو نیست و نابود کر دے گا۔
ج۔ کوشی (اہلِ ایتھوپیا) (۲: ۱۲)
کوش (ایتھوپیا) کو خدا اپنی تلوار (شاہِ بابل) سے سزا دے گا۔ بعض علما مثلاً فِین برگ (Feinberg) کوش کے باشندوں کو مصر سے منسلک کرتے ہیں:
’’کوش (ایتھوپیا) کی قسمت مصر کے ساتھ وابستہ تھی جو کوشی شاہی خاندانوں کے زیر نگین تھا۔ دیکھئے یرمیاہ ۴۶: ۹ اور حزقی ایل ۳۰: ۵،۹ جو اِس بات کا اِشارہ دیتے ہیں کہ یہاں کوشیوں سے مراد مصر ہے۔ ‘‘
د۔ اسوری اور خاص طور پر نینوہ کا شہر (۲: ۱۳۔۱۵)
نبوکدنضر اسور کو بھی برباد کرے گا۔ نینوہ جانوروں اور پرندوں کی آماج گاہ ہو گا اور وہاں سے ہر گزرنے والا اُس کی ویرانی دیکھ کر سسکارے گا اور ہاتھ ہلائے گا۔
مقدس کتاب
۱ اے بے حیا قوم جمع ہو! جمع ہو !۔
۲ اس سے پہلے کے تقدیر الہی ظاہر ہو اور وہ دن بُھس کی مانند جاتا رہے اور اور خُداوند کا قہر شدید تم پر نازل ہو اور اُس کے غضب کا دن تم پر آ پُہنچے۔
۳ اے مُلک کے سب حلیم لوگو جو خُداوند کے احکام پر چلتے ہو اُس کے طالب ہو! راستبازی کو ڈھونڈو۔ فروتنی کی تلاش کرو۔ شاید خُداوند کے غضب کے دن تم کو پناہ ملے۔
۴ کیونکہ غزہ متروک ہو گا اور اسقلون ویران کیا جائے گا اور اشدود دوپہر کو خارج کر دیا جائے گا اور عقرون کی بیخ کنی کی جائے گی۔
۵ سُمندر کے رہنے والوں یعنی کر یتیوں کی قوم پر افسوس ! اے کنعان فلتیوں کی سرزمین ! خُداوند کا کلام تیرے خلاف ہے۔ میں تجھے نیست و نابود کروں گایہاں تک کہ کوئی بسنے والا نہ رہے۔
۶ اور سمندر کے ساحل چراگاہیں ہوں گے جن میں چرواہوں کی جھونپڑیاں اور بھیڑ خانے ہوں گے۔
۷ اور وہی ساحل یہُوداہ کے گھرانے کے بقیہ کے لے ہوں گئے۔ وہ اُن میں چرایا کریں گے۔ وہ شام کے وقت اسقلون کے مکانوں میں لیٹا کریں گے کیونکہ خُداوند اُن کا خُدا اُن پر پھر نظر کرے گا اور اُن کی اسیری کو موقوف کرے گا۔
۸ میں نے موآب کی ملامت اور نبی عمون کی لعن طعن سُنی ہے۔ اُنہوں نے میری قوم کو ملامت کی اور اُن کی حدود کو دبالیا ہے۔
۹ اس لے ربُ الافوج اسرائیل کا خُدا فرماتا ہے مُجھے اپنی حیات کی قسم ! یقینا موآب سدوم کی مانند ہوگا اور نبی عمون عمورہ کی مانند ۔ وہ پُرخار و نمکزار اور ابدالاآباد برباد رہیں گے۔ میرے لوگوں کا بقیہ اُن کو غارت کرے گا اور میری قوم کے باقی لوگ اُن کے وارث ہوں گئے۔
۱۰ یہ سب اُن کے تکبر کے سبب اُن پر آے گا کیونکہ اُنہوں نے ربُ الافواج کے لوگوں کو ملامت کی اور اُن پر زیادتی کی۔
۱۱ خُداوند اُن کے لے ہیبت ناک ہوگا اور زمین کے تمام معبُودوں کو لاغر کر دے گا اور بحری مُمالک کے سب باشندے اپنی اپنی جگہ میں اُس کی پرستش کریں گے۔
۱۲ اے کُوش کے باشندو! تم بھی میری تلوار سے مارے جاؤگے۔
۱۳ اور وہ شمال کی طرف اپنا ہاتھ بڑھائے گا اور اسور کو نیست کرے گا اور نینوہ کو ویران اور بیابان کی مانند خُشک کر دے گا۔
۱۴ اور جنگلی جانور اُس میں لیٹیں گے اور ہر قسم کے حیوان حواصل اور خُارپُشت اُس کے ستونوں کے سروں پر مقام کریں گے۔ اُن کی آواز اس کے جھروکوں میں ہو گی۔ اس کی دہلیز میں ویرانی ہو گی کیونکہ دیوار کا کام کُھلا چھوڑا گیا ہے۔
۱۵ یہ وہ شادمان شہر ہے جو بے فکر تھا۔ جس نے دل میں کہا میں ہُوں اور میرے سوا کوئی دُوسرا نہیں۔ وہ کیسا ویران ہُوا ! حیوانوں کے بٹیھنے کی جگہ! ہر ایک جو اُدھر سے گُزرئے گا سسُکا رئےگا اور ہاتھ ہلائےگا۔