تفسیر
۱۔ خدا کا فیصلہ کہ مَیں غضب نازل کروں گا (باب ۱)
الف۔ ساری زمین پر (۱: ۱۔۳)
نبیوں کا عام طریقہ ہے کہ اپنے باپ اور بعض اوقات اپنے دادا کا نام بتاتے ہیں کیونکہ یہودی قوم اپنی جڑوں کو بہت اہمیت دیتی تھی۔ لیکن صفنیاہ بن کوشی اپنی گذشتہ چار پشتوں کا ذکر کرتا ہے۔ اور اِس میں شک نہیں کہ وہ ہمیں بتانا چاہتا ہے کہ مَیں شاہی خاندان سے ہوں اور میرا جداَمجد حزقیاہ بادشاہ تھا۔ پہلا باب مجموعی طور پر ساری زمین کی بربادی کا اور خصوصی طور سے یروشلیم اور یہوداہ کی بربادی کا بیان کرتا ہے۔ خدا ساری زمین کو بالکل ویران کر دے گا۔
ب۔ یہوداہ اور یروشلیم پر __ بت پرستی کے باعث (۱: ۴۔۶)
یہوداہ اور یروشلیم کے سب باشندوں پر بت پرستی کے باعث غضب نازل ہو گا __ وہ بعل اور اجرامِ فلک (سورج، چاند، ستاروں) اور عمونیوں کے دیوتا ملکوم کی پرستش کرتے تھے۔
ج۔ ذبیحہ کی مثال کے تحت خداوند کا دن (۱: ۷۔۱۳)
(۱) مہمان __ یہوداہ کے دشمن (۱:۷)
خداوند نے ذبیحہ تیار کیا ہے۔ اِس میں یہوداہ قربانی ہے اور اہلِ بابل مہمان ہیں۔
(۲) قربانیاں __ یہوداہ کے شریر لوگ (۱: ۸۔۱۳)
یہوداہ کی بت پرستی کی پوشاک اور رسومات کے باعث اور اُس کی ظالمانہ لوٹ مار، قتل و غارت اور دغابازی کے سبب سے خدا اُسے سزا دے گا۔ حملہ آور اُنہیں قتل کریں گے اور اُن کا سارا مال و اسباب لوٹ لیں گے۔ اُس وقت دارالحکومت کے مختلف علاقوں سے چیخ پکار کا شور اُٹھے گا۔ یہاں شہر کے چند علاقوں کے نام دیئے گئے ہیں مثلاً ’’مچھلی پھاٹک، مشنہ اور ٹیلے۔‘‘
د۔ خداوند کے دن کی دہشت (۱: ۱۴۔۱۸)
بائبل مقدس میں خداوند کے دن کی سب سے واضح اور تفصیلی تصویر یہاں دی گئی ہے۔ یہ اِنسانوں پر اور خاص طور سے یہوداہ کے لوگوں پر خدا کے قہر کا دن ہے اور اِس کا سبب اُن کی شرارت اور بدی ہے۔ یہ ’’دن … دُکھ اور رنج … ویرانی اور خرابی … تاریکی اور اُداسی … اور مصیبت‘‘ کا دن ہو گا۔
خدا کو اپنے لوگوں کی آرزوؤں کی غیرت ہے اور وہ سارے دشمنوں کو سزا دے گا۔
مقدس کتاب
۱ خُداوند کا کلام جو شاہ یہُوداہیُوں سیاہ بن آمونکے ایام میں صفنیاہ بن کوشی بن جدلیاہ بن امریاہ بن حزقیاہ پر نازل ہُوا۔
۲ خُداوند فرماتا ہے میں روی زمین سے سب کچھ بالکل نیست کُروں گا۔
۳ انسان اور حیوان کو نیست کُروں گا۔ ہوا کے پرندوں اور سُمندر کی مچھلیوں کو اور شریروں اور اُن کے بُتوں کو نیست کُروں گا اور انسان کو رُوی زمین سے فنا کُروں گا خُداوند فرماتا ہے۔
۴ میں یہُوداہ پر اور یروشیلم کے سب باشندوں پر ہاتھ چلاوں گا اور اس مکان میں سے بعل کے بقیہ کو اور کماریم کے نام کو پُجاریوں سمیت نیست کُروں گا۔
۵ اور اُن کو بھی جو کوٹھوں پر چڑھ کر اجرام فلک کی پرستش کرتے ہیں اور اُن کو جو خُداوند کی عبادت کا عہد کرتے ہیں لیکن ملکوں کی قسم کھاتےہیں۔
۶ اور اُن کو بھی جو خُداوند سے برگشتہ ہو کر نہ اُس کے طالب ہوئے اور نہ اُنہوں نے اس سے مشورت لی۔
۷ تم خُدا خُداوند کے حُضرو خاموش رہو کیونکہ خُداوند کا دن نزدیک ہے اور اُس نے ذبیحہ تیار کیا ہے اور اپنے مہمانوں کو مُخصوص کیا ہے۔
۸ اور خُداوند کے ذبیحہ کے دن یُوں ہو گا کہ میں اُمرا اور شاہزادوں کو اور اُن سب کو جو اجنبیوں کی پوشاک پہنتے ہیں سزادُوں گا۔
۹ میں اُسی روز اُن سب کو جو لوگوں کے گھروں میں گھس کر اپنے آقا کے گھر کو لُوٹ اور مُکرسے بھرتے ہیں سزادوں گا۔
۱۰ اورخُداوند فرماتا ہے اُسی روز مچھلی پھاٹک سے رونے کی آواز اور مشنہ سے ماتم کی اور ٹیلوں پر سے بڑے غوغا کی صدا اُٹھے گی۔
۱۱ اے مکتیس کے رہنے والو! ماتم کرو کیونکہ سب سوداگر مارے گئے۔ جوچاندی سے لدے تھے سب ہلاک ہُوئے۔
۱۲ پھر میں چراغ لے کر یروشیلم میں تلاش کُروں گا اور جتنے اپنی تلچھٹ پر جم گئے ہیں اور دل میں کہتے ہیں کہ خُداوند سزا و جزا نہ دے گا اُن کو سزا دُوں گا ۔
۱۳ تب اُن کا مال لُٹ جاے گا اور اُن کے گھر اُجڑ جائیں گے۔ وہ گھر تو بنائیں گے پر اُن میں بودوباش نہ کریں گے اور تاکستان لگائیں گے پر اُن کی مے نہ پیں گے۔
۱۴ خُداوند کا روز عظیم قریب ہے ہاں وہ نزدیک آ گیا۔ وہ آ پُہنچا! سُنو خُداوند کے دن کا شور! زبردست آدمی پُھوٹ پھوٹ کر روئے گا۔
۱۵ وہ دن قہر کا دن ہے ۔ دُکھ اور رنج کا دن۔ ویرانی اور خرابی کا دن۔ تاریکی اور اُداسی کا دن۔ ابر اور تیرگی کا دن ۔
۱۶ حصوںشہر وں اور اُونچے بُرجوں کے خلاف نر سنگے اور جنگی للکار کا دن۔
۱۷ اور میں بنی آدم پر مُصبیت لاوں گا یہاں تک کہ وہ اندھوں کی مانند چلیں گے کیونکہ وہ خُداوند کے گُہنگار ہوئے۔ اُن کا خُون دُھول کی طرح گرایا جائے گا اور اُن کا گوشت نجاست کی مانند۔
۱۸ خُداوند کے قہر کے دن اُن کا سونا چاندی اُن کو بچا نہ سکے گا بلکہ تمام مُلک کو اُس کی غیرت کی آگ کھا جاے گی کیونکہ وہ ایک لخت مُلک کے سب باشندوں کو تمام کر ڈالے گا۔