۵۔ بوعز چھڑاتا ہے (۴: ۱۔۱۲)
۴:۱۔۶ صبح کے وقت بوعز شہر کے پھاٹک پر گیا، جہاں شہر کے بزرگ بیٹھتے تھے، اور قانونی اُمور کا فیصلہ ہوتا تھا۔ خدا کا کرنا تھا کہ عین اُسی وقت نزدیک کا قرابتی وہاں آ نکلا۔ اُس نے اُسے ’’بھائی‘‘ کہہ کر پکارا اور کچھ دیر کے لئے رُکنے کو کہا۔ بوعز نے دس بزرگوں کے سامنے روت اور نعومی کی داستان بیان کی۔ تب اُس نے نزدیک کے قرابتی کو موقع دیا کہ وہ الی مَلِک کی جائیداد کو چھڑا لے، جو غالباً اُس نے موآب جاتے ہوئے گروی رکھی تھی۔ یہاں تک تو یہ نامعلوم رشتہ دار رضامند تھا۔ لیکن جب بوعز نے اُسے یہ بتایا کہ جو شخص اُس کی جائیداد کو خریدے، اُسے موآبی روت سے شادی کرنا ہو گی، تو اُس نے اِنکار کر دیا اور اِس کی یہ وجہ بتائی کہ وہ اپنی میراث کو خراب نہیں کرنا چاہتا۔
اُسے روت کی میراث کی دیکھ بھال کے لئے وقت اور قوت خرچ کرنا ہو گی اور اُس کی اپنی میراث نظر انداز ہو گی۔ متعلقہ میراث اُس کے اپنے وارثوں کو نہیں بلکہ روت کے وارثوں کو ملنے کو تھی۔
نزدیک کے قرابتی کے نام کو نظر انداز کرنے کے بارے میں میتھیو پُول لکھتا ہے:
’’بے شک بوعز اُس کے نام سے واقف تھا، اور اُس کو اُس کا نام لے کر پکارا، لیکن مقدس مصنف نے اِسے نہیں لکھا، ایک تو یہ وجہ تھی کہ اُس کے نام کو جاننا غیر ضروری تھا اور دوسری بڑی وجہ یہ تھی کہ حقارت سے اُس کی سزا کے طور پر اُسے نظر انداز کیا گیا کیونکہ وہ اپنے بھائی کے نام کو زندہ رکھنے کو تیار نہ تھا تو اُس کا اپنا نام بھی کیوں زندہ رہے۔‘‘
نزدیک کا قرابتی شریعت کی مانند ہے۔ دس گواہ (دس احکام) گنہگار کو چھڑانے کے اہل نہیں۔ شریعت جن کو سزا دیتی ہے اُنہیں چھڑا نہیں سکتی۔ یہ اُس کے اپنے مقصد کے خلاف ہو گا۔ شریعت چھڑا نہ سکی کیونکہ یہ جسم کے سبب سے کمزور تھی (رومیوں ۸:۳)۔
نزدیک کے قرابتی کے اِنکار سے بوعز آزاد ہو گیا، اِس کے بعد وہ روت سے شادی کا مستحق تھا۔
۴:۷،۸ اُن ایام میں تبادلے اور چھڑانے کے سلسلے میں تمام معاہدوں کی تصدیق یوں ہوتی تھی کہ ایک فریق اپنی جوتی اُتار کر دوسرے کے حوالے کر دیتا تھا۔ شریعت نے اِس کی یوں تخصیص کی کہ بیوہ، اِنکار کرنے والے قرابتی کی جوتی اُتارے اور اُس کے منہ پر تھوکے (اِستثنا ۲۵:۹)۔ اِس موقعے پر نزدیکی قرابتی نے صرف اپنی جوتی اُتاری اور بوعز کو دے دی۔
۴:۹۔۱۲ جونہی بوعز کو جوتی مل گئی تو اُس نے اعلان کیا کہ وہ الی مَلِک کی میراث کو خریدے گا اور موآبی روت سے شادی کرے گا۔ تب لوگوں نے بوعز کو برکت دی اور دعا کی کہ خدا روت کو راخل اور لیاہ کی مانند برکت دے۔ یہوداہ اور تمر سے پیدا ہونے والے بیٹے فارص کے ذکر میں اِس کہانی کے افسوس ناک پہلوؤں کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ یہاں محض اِس حقیقت پر توجہ مرکوز کی گئی ہے کہ یہ بھی ایک اِسرائیلی اور غیر قوم کی مخلوط شادی تھی۔
۶۔ عوبید تک داؤد کا شاہی نسب نامہ (۴: ۱۳۔۲۲)
۴:۱۳۔۱۶ بوعز نے روت سے شادی کی اور اُس سے بیٹا پیدا ہوا جس کا نام عوبید (خادم) رکھا گیا۔ نعومی نے اُس سے بیٹے کا سا سلوک کیا اور اُس کی دایہ بنی۔
۴:۱۷۔۲۲ عوبید بعد ازاں، داؤد کے باپ یسی کا باپ بنا۔ یوں یہ کتاب داؤد (پیارا) کے مختصر سے نسب نامے کے ساتھ اِختتام پذیر ہوتی ہے جو مابعد ایک بہت بڑے نسب نامے کا حصہ بنا، یعنی داؤد کے عظیم بیٹے خداوند یسوع مسیح کا نسب نامہ (متی ۱ باب)۔ یہ نسب نامہ مکمل طور پر نہیں لکھا گیا۔ سلمون کا قاضیوں کے اِبتدائی دَور سے تعلق ہے جب کہ داؤد، سلاطین کے دَور کے آغاز تک پیدا نہیں ہوا تھا، یہ تقریباً ۴۰۰ سال کا وقفہ تھا۔ بعض اوقات بائبل کے نسب ناموں میں قصداً کئی نام نظر انداز کئے جاتے ہیں۔
داؤد کے ساتھ اِختتام پذیر ہونے والے اِس مختصر سے نسب نامے کے ساتھ قاری بادشاہت اور سموئیل کی پہلی اور دوسری کتاب کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔
مقدس کتاب
۱ تب بوعز پھاٹک کے پاس جا کر وہاں بیٹھ گیا اور دیکھو جس نزدیک کے قرابتی کا ذکر بوعز نے کیا تھا وہ آ نکلا ۔ اس نے اس سے کہا ارے بھائی! ادھر آ اور ذرا یہاں بیٹھ جا۔ سو وہ ادھر آ کر بیٹھ گیا۔
۲ پھر اس نے شہر کے بزرگوں میں سے دس آدمیوں کو بلا کر کہا یہاں بیٹھ جاؤ سو وہ بیٹھ گئے۔
۳ تب اس نے اس نزدیک کے قرابتی سے کہا نعومی جو موآب کے ملک سے لوٹ آئی ہے زمین کے اس ٹکڑے کو جو ہمارے بھائی الیملک کا مال تھا بیچتی ہے ۔
۴ سو میں نے سوچا کہ تجھ پر اس بات کو ظاہر کر کے کہونگا کہ تو ان لوگوں کے سامنے جو بیٹھے ہیں اور میری قوم کے لوگوں کے سامنے اسے مول لے ۔ اگر تو اسے چھڑاتا ہے تو چھڑا اگر نہیں چھڑاتا تو مجھے بتا دے تاکہ مجھ کو معلوم ہو جائے کیونکہ تیرے سوا اور کوئی نہیں جو اسے چھڑائے اور تیرے بعد میں ہوں اس نے کہا میں چھڑاونگا۔
۵ تب بوعز نے کہا جس دن تو وہ زمین نعومی کے ہاتھ سے مول لے تو تجھے موآبی روت کے ہاتھ سے بھی جو مردہ کی بیوی ہے مول لینا ہو گا تاکہ اس مردہ کا نام اسکی میراث پر قائم کرے۔
۶ تب اسکے نزدیک کے قرابتی نے کہا کہ میں اپنے لئے اسے چھڑا نہیں سکتا تا نہ ہو کہ میں اپنی مراث خراب کر دوں۔ اسکے چھڑانے کا جو میرا حق ہے اسے تو لے لے کیونکہ میں اسے چھڑا نہیں سکتا۔
۸ اور اگلے زمانہ میں اسرائیل میں معاملہ پکا کرنے کے لیے چھڑانے اور بدلنے کے بارے میں یہ معمول تھا کہ مرد اپنی جوتی اتار کر اپنے پڑوسی کو دے دیتا تھا اسرائیل میں تصدیق کرنے کا یہی طریقہ تھا۔
۷ سو اس نزدیک کے قرابتی نے بوعز سے کہا کہ تو آپ ہی اسے مول لے لے۔ پھر اس نے اپنی جوتی اتار ڈالی۔
۹ اور بوعز نے بزرگوں اور سب لوگوں سے کہا تم آج کے دن گواہ ہو کہ میں نے الیملک اور کلیون اور محلون کا سب کچھ نعومی کے ہاتھ سے مول لے لیا ہے۔
۱۰ ماسوا اسکے میں محلون کی بیوی موآبی روت کو بھی اپنی بیوی بنانے کے لیے خرید لیا ہے تاکہ اس مردہ کے نام کو اسکی میراث میں قائم کروں اور اس مردہ کا نام اسکے بھائیوں اور اس کے مکان کے دروازے سے مٹ نہ جائے۔ تم آج کے دن گواہ ہو۔
۱۱ تب سب لوگوں نے جو پھاٹک پر تھے اور ان بزرگوں نے کہا کہ ہم گواہ ہیں۔ خداوند اس عورت کو جو تیرے گھر میں آئی ہے راخل اور لیاہ کی مانند کرے جن دونوں نے اسرائیل کا گھر آباد کیا اور تو افراتہ میں تحسین و آفرین کا کام کرے اور بیت لحم میں تیرا نام ہو۔
۱۲ اور تیرا گھر اس نسل سے جو خداوند تجھے اس عورت سے دے فارص کے گھر کی طرح ہو جو یہوداہ سے تمر کے ہوا۔
۱۳ سو بوعز نے روت کو لیا اور وہ اسکی بیوی بنی اور اس نے اس سے خلوت کی اور خداوند کے فضل سے وہ حاملہ ہوئے اور اسکے بیٹا ہوا۔
۱۴ اور عورتوں نے نعومی سے کہا کہ خداوند مبارک ہو جس نے آج کے دن تجھے نزدیک کے قرابتی کے بغیر نہیں چھوڑا اور اس کا نام اسرائیل میں مشہور ہو۔
۱۵ اور وہ تیرے لئے تیری جان کا بحال کرنے والا اور تیرے بڑھاپے کا پالنے والا ہو گا کیونکہ تیری بہو جو تجھ سے محبت رکھتی ہے اور تیرے لئے ساتھ بیٹوں سے بھی بڑھ کر ہے وہ اسکی ماں ہے۔
۱۶ اور نعومی نے اس لڑکے کو لیکر اپنی چھاتی سے لگایا اور اسکی دایہ بنی۔
۱۸ اور اسکی پڑوسنوں نے اس بچے کو ایک نام دیا اور کہنے لگی کہ نعومی کے لیے ایک بیٹا پیدا ہوا سو انہوں نے اس کا نام عوبید رکھا وہ یسی کا باپ تھا جو داؤد کا باپ ہے۔
۱۷ اور فارص کا نسب نامہ یہ ہے فارص سے حصرون پیدا ہوا۔
۱۹ اور حصرون سے رام پیدا ہوا اور رام سے عمینداب پیدا ہوا۔
۲۰ اور عمینداب سے نحسون پیدا ہوا اور نحسون سے سلمون پیدا ہوا۔
۲۱ اور سلمون سے بوعز پیدا ہوا اور بوعز سے عوبید پیدا ہوا۔
۲۲ اور عوبید سے یسی پیدا ہوا اور یسی سے داؤد پیدا ہوا۔